22 April, 2024

اردو کے قدیم ادبی رسالہ شاعر کے مدیر ناظر نعمان صدیقی کا انتقال

ممبئی:(ایس ٹی بیورو)اردو کے سب سے قدیم ادبی رسالہ شاعر کے مدیر ناظر نعمان صدیقی کا انتقال کرگئے ،79 سالہ نعمان صدیقی اپنے بھائی اور مدیر اعلی افتخار امام صدیقی کے انتقال کے بعد ادارت سنبھال رہے تھے ۔
فی الحال ممبئی سے جاری اس قدیم ادبی رسالہ ماہنامہ شاعر کے ناشر اور نائب مدیر ناظر نعمان صدیقی اپنی اہلیہ کے ساتھ ج۔وبی ممبئی میں رہائش پذیر تھے ۔ آج بروز جمعہ یکم مارچ ۴۲۰۲ کی صبح نو بجے اپنے گھر اور شاعر کے دفتر دیناتھ بلڈنگ، گرانٹ روڈ میں آخری سانس لی۔و طویل علالت کے بعدان کا انتقال ہوا۔
نعمان امام کے پسماندگان میں اہلیہ، ایک بیٹی اور تین بھائی ہیں۔ناظر نعمان صدیقی (مانی بھائی)کے نام سے مشہور تھے ۔ سیماب اکبرآبادی کے پوتے ، اعجاز صدیقی کے بڑے بیٹے تھے ۔ خیال رہے کہ ناظر نعمان صدیقی نے تقریباً ۰۶ برسوں تک شاعر کے لیے اپنی خدمات انجام دیں جو اپنے آپ میں ایک بڑا ریکارڈ ہے ۔آپ کی پیدائش 25 نومبر 1945 کو آگرہ میں ہوئی تھی۔
اس موقع پر ایک ریسرچ اسکالر اور اردو اخبارات پر تحقیق کررہے دیورا،اترپردیش کے ذاکر حسین نے ردعمل میں کہاکہ آج ماہنامہ شاعر ممبئی کے آخری ستون ناظر نعمان صدیقی کے انتقال سے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا. لوگ اُنہیں مانی کے نام سے یاد کرتے تھے .اُن کی ولادت 25 نومبر 1945 کو آگرہ میں ہوئی تھی. ناظر نعمان صاحب اعجاز صدیقی کے منجھلے فرزند تھے . ناظر نعمان کے کل 9 بھائی بہن تھے ۔ ناظر صاحب نے 50 سال تک شاعر کی ادارت نظم و نسق اور پی آر میں تعاون کیا. 2021 میں اُنہوں نے اپنے چھوٹے بھائی اور شاعر کے مدیر افتخار امام صدیقی کی وفات کے بعد شاعر کو ہمیشہ کے لئے بند کر دیا. اُن کی عمر 78 سال سے تجاوز کر چکی تھی اور عارضہ قلب کی وجہ سے وہ شاعر کے دینا ناتھ بلڈنگ کی تیسری منزل پر چڑھنے اترنے سے بھی قاصر تھے . لیکن اگر اُنکے 35 سالہ نوجوان بیٹے واصف نعمان صدیقی کا حرکت قلب بند ہونے سے انتقال نہیں ہو گیا ہوتا تو وہ شاید اتنی جلدی ہار ماننے والے نہیں تھے –
ذاکر حسین کے مطابق ناظر نعمان کی تعلیم و تربیت واجبی ہو سکی تھی.انہوں نے مالی دشواریوں کے دوران صرف انٹر پاس کیا تھااور چند ایک چھوٹی موٹی ملازمتیں کر نے کے بعد آپنے والد اعجاز اور بڑے بھائی تاجدار کے ساتھ شاعر کی ذمہ داریوں میں خود کو بھلا دیا. شاعر کی اشاعتِ اور ترویج میں اُن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں.
اگر جائزہ لیا جائے تو اس بات کا علم ہوگا کہ اُنہوں نے کتابت پریس کاغذ، بائنڈنگ، پوسٹنگ ،حساب کتاب اور بینک سب کی ذمہ داری قبول کر لی.
ناظر کے الفاظ میں کہا جائے تو وہ کوئی ادیب اور شاعر نہیں تھے بلکہ وہ فخریہ طور پر کہتے تھے کہ وہ ماہنامہ شاعر کے مزدور ہیں. جس زمانے میں ناظر نعمان اپنے بھائی تاجدار اور والد اعجاز کے معاون کی حیثیت سے شاعر کی خدمت کر رہے تھے اُن کے چھوٹے بھائی افتخار فلموں میں قسمت آزمائی کے ساتھ ساتھ مشاعروں میں شرکت کر رہے تھے .
ذاکر حسین نے کہا کہ ناظر نعمان کی وفات سے صحافت اور خصوصی طور پر ادبی صحافت میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے .ہم سب اللہ تعالیٰ سے اُن کی روح کے سکوں اور اُن کی مغفرت کے لیے دعا گو ہیں.

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *