22 April, 2024

سی اے اے،شہریت چھیننے کا نہیں بلکہ شہریت دینے کا قانون ہے

کوثر جہاں

چیئرپرسن ،دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی

مرکز کی مودی حکومت کے ذریعہ ترمیم شدہ شہریت ترمیمی قانون ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ سی اے اے کو پارلیمنٹ نے 11 دسمبر 2019 کو نافذ کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں نے مسلمانوں کو یہ کہہ کر گمراہ کیا کہ سی اے اے سے ان کی شہریت کو خطرہ ہے۔ جبکہ اس صریح جھوٹ کا سچ سے کوئی تعلق نہیں۔ سی اے اے کے ذریعے کسی سے شہریت نہیں چھینی جا سکتی، بلکہ یہ توشہریت دینے کا قانون ہے۔ چونکہ اپوزیشن نے بارہا مودی حکومت کو مسلم مخالف حکومت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے،یہی وجہ ہے کہ مودی کے خلاف احتجاج میں سی اے اے کے خلاف مختلف مقامات پر مسلمانوں کو الجھا کر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اگر کورونا کی وبا نہ آتی تو ممکن تھا کہ سی اے اے مخالف مظاہرے مزید طول پکڑتے۔

ٹھیک ہے! اب تو مرکزی حکومت نے  سی اے اے کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، لیکن ایک بار پھر سی اے اے کے خلاف مسلمانوں کو اکٹھا کرنے کی اپوزیشن کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ جہاں ایس پی ترجمان نے سی اے اے کے خلاف احتجاج میں شاہین باغ کو دہرانے کا انتباہ دیا، وہیں کئی دیگر تنظیمیں/ افراد سی اے اے کے خلاف احتجاج کا انتباہ دے رہے ہیں۔ یہاں سے سوال پیدا ہوتا ہے؟ جب سی اے اے کی وجہ سے کسی کی شہریت کھونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو پھر اس کی مخالفت کیوں؟ جب مرکزی وزیر داخلہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ”ہمارے مسلمان بھائیوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور اکسایا جا رہا ہے۔ سی اے اے صرف ان ممالک کے اقلیتی لوگوں کو شہریت دینا ہے جو پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں ظلم و ستم کا سامنا کرنے کے بعد ہندوستان آئے ہیں۔ ’’یہ کسی کی ہندوستانی شہریت چھیننے کے لیے نہیں ہے۔‘‘

مرکزی وزیر داخلہ کی اس یقین دہانی کے باوجود سی اے اے کے خلاف لوگوں کو گمراہ کرنے کی سازش رچی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ایشو کو اپوزیشن اور وہ لیڈر جو اب تک مودی کو شکست دینے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، مسلمانوں کی لڑائی میں مسلمانوں کے کندھوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کو اس سازش کو پہچاننا ہوگا اور ایک بار پھر اپنے آپ سے سوال کرنا ہوگا کہ کیا مودی حکومت کی اب تک لائی گئی تمام اسکیموں میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے؟ نہیں، لیکن اس کے باوجود کچھ سیاسی جماعتیں اپنے ذاتی مفادات کے لیے مودی سرکار کو مسلم دشمن ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ جہاں تک سی اے اے کا تعلق ہے، یہ شہریت دینے کا قانون ہے، کسی کی شہریت چھیننے کا نہیں۔ کیا ہم اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہبی اقلیتوں پر ظلم نہیں ہوا؟ اپنی جان بچانے کے لیے ان تین پڑوسی ممالک سے ظلم و ستم کا شکار ہو کر ہندوستان آنے والے مہاجرین کو ہندوستانی شہریت دی جارہی ہے، تو اس میں غلط کیا ہے؟

پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کی زمینیں مذہبی اقلیتوں کے لیے ہمیشہ مشکل رہی ہیں، حکومت ہند نے ان ستائے ہوئے لوگوں کو ہندوستانی شہریت دینے کے لیے سی اے اے لایا تھا۔ ظاہر ہے کہ مسلمان ان مذہبی اقلیتوں میں شامل نہیں ہیں، اس لیے مسلمانوں کو سی اے اے سے باہر رکھا گیا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کے لیے ہندوستانی شہریت کے دروازے بند ہیں، ان کے لیے بھی قانون میں کوئی بندوبست ہے۔ جبکہ CAA کے تحت 31 دسمبر 2014 سے پہلے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے چھ غیر مسلم کمیونٹیز کو شہریت دینے کا انتظام ہے۔ وزارت داخلہ کی سالانہ رپورٹ برائے 2021-22 کے مطابق یکم اپریل 2021 سے 31 دسمبر 2021 تک ان غیر مسلم اقلیتی برادریوں کے کل 1414 غیر ملکیوں کو ہندوستانی شہریت دی گئی ہے۔ جن 9 ریاستوں میں شہریت دی گئی ہے ان میں گجرات، راجستھان، چھتیس گڑھ، ہریانہ، پنجاب، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، دہلی اور مہاراشٹر شامل ہیں۔اب حکومت  نے باضابطہ طور پر سی اے اے کوقانونی شکل  دے کر نافذ کردیاہے، تاکہ ظلم و ستم کا شکار ہو کر بھارت میں پناہ لینے والے غیر مسلموں کو بھارتی شہریت دے کر قومی دھارے میں لائے۔ ہندوستان کی ثقافت وسودھیوا کٹمبکم کی رہی ہے، آج دنیا ہندوستان کی طرف تڑپتی نظروں سے دیکھ رہی ہے، شاید اسی لیے ہندو، سکھ، بدھ اور عیسائی، جو پڑوسی ممالک میں ظلم و ستم کا شکار تھے، پناہ لینے کے لیے ہندوستان کا انتخاب کیا۔ اگر واسودھیوا کٹمبکم جیسی عظیم ثقافت والا ملک بھی ان کی امیدوں پر پورا نہیں اترے گا تو پھر کون اترے گا؟

اس سوال کے ساتھ یہاں یہ بات بھی دہرانا ضروری ہو گیا ہے کہ کسی بھی مسلمان کو سی اے اے کی مخالفت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ شہریت دینے کا قانون ہے، شہریت چھیننے کے لیے نہیں، اس لیے بچھائے جانے والے کنفیوژن کے جال سے بچنا ضروری ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے یہ ملک کے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔

(نوٹ: مضمون میں ظاہر کئے گئے خیالات مضمون نگارکے ذاتی ہیں، ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں ہے)

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *