05 October, 2026

الیکشن کمیشن پر سوال:جمہوریت کے اعتماد کا امتحان

Questions for the Election Commission: A Test of Confidence in Democracy

سپریم کورٹ کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے طرزِ عمل پر اٹھائے گئے سوالات محض ایک آئینی ادارے کی معمول کی عدالتی جانچ نہیں، بلکہ یہ اس بنیادی سوال سے جڑے ہیں کہ ملک کا انتخابی نظام آخر کس اصول پر چل رہا ہے۔ انتخابات جمہوریت کا سب سے اہم ستون ہیں، اور الیکشن کمیشن اس ستون کا نگہبان۔ اگر نگہبان ہی کے فیصلوں پر انگلیاں اٹھنے لگیں تو معاملہ کسی ایک افسر یا فیصلے تک محدود نہیں رہتا، پورا نظامِ انتخاب کٹہرے میں آ کھڑا ہوتا ہے۔سپریم کورٹ کا یہ کہنا کہ اگر کمیشن کے فیصلے قانون کے مطابق نہیں ہوئے تو انہیں کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے، ایک غیر معمولی تنبیہ ہے۔ عدالت نے فوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کی معطلی کا حکم نہیں دیا، لیکن جس انداز میں کمیشن اور مرکز سے جواب طلب کیا گیا، اس سے واضح ہے کہ عدالت اس معاملے کو معمولی انتظامی اختلاف سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔اصل تشویش یہی ہے کہ الیکشن کمیشن ایک اجتماعی آئینی ادارہ ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو وسیع اختیارات ضرور حاصل ہیں، مگر وہ کمیشن کے دوسرے ارکان سے بالاتر کوئی شخصی اتھارٹی نہیں۔ اگر اہم فیصلے اجتماعی مشاورت، قانونی تقاضوں اور مقررہ طریقۂ کار کے بجائے یک طرفہ انداز میں ہونے لگیں تو سوال اٹھنا لازمی ہے کہ پھر آئینی ادارے کی اجتماعی ذمہ داری کہاں گئی؟
انتخابی فہرستوں کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ کسی شہری کا نام ووٹر لسٹ میں ہونا صرف ایک انتظامی اندراج نہیں بلکہ اس کے جمہوری حق کی ضمانت ہے۔ ایک نام کا غلط طور پر خارج ہونا کسی فرد کو محض ایک فہرست سے نہیں نکالتا، اسے اپنے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم کر سکتا ہے۔ اسی لیے ووٹر لسٹ میں تبدیلی کے ہر عمل میں شفافیت، قانونی جواز اور عوامی اعتماد بنیادی شرائط ہیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن کسی حکومت کا محکمہ نہیں۔ حکومتیں بدلتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی ہیں، مگر انتخابی ادارہ اپنی غیر جانب داری کے باعث مستقل اہمیت رکھتا ہے۔ اس ادارے پر کسی ایک جماعت، حکومت یا سیاسی گروہ کا اعتماد ہونا کافی نہیں؛ ضروری یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یقین ہو کہ انتخابی میدان سب کے لیے برابر ہے۔اسی مقام پر سپریم کورٹ کی مداخلت اہم ہوجاتی ہے۔ عدلیہ کا کام انتخابات چلانا نہیں، لیکن جب کسی آئینی ادارے کے اختیارات، طریقۂ کار یا فیصلوں کی قانونی حیثیت پر سنجیدہ سوال اٹھیں تو آئینی نگرانی سے گریز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے فی الحال کسی حتمی نتیجے کا اعلان نہیں کیا؛ اس نے جواب مانگا ہے۔ یہی قانونی عمل کا تقاضا بھی ہے۔البتہ الیکشن کمیشن کو بھی محض عدالتی حکم کا انتظار کرنے کے بجائے خود آگے بڑھ کر شفافیت دکھانی چاہیے۔ اگر اس کے فیصلے قانون کے مطابق ہیں تو مکمل ریکارڈ سامنے لانے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ اختلافی نوٹس، فیصلہ سازی کا طریقہ، متعلقہ قانونی دفعات اور کمیشن کے ارکان کی آراء عوام کے سامنے ہوں گی تو بہت سے شبہات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔
جمہوریت صرف یہ نہیں کہ مقررہ دن ووٹ ڈال دیے جائیں۔ جمہوریت کا اصل حسن یہ ہے کہ ووٹر کو یقین ہو کہ اس کا ووٹ محفوظ ہے، اس کا نام بلاجواز فہرست سے خارج نہیں ہوگا، انتخابی قواعد سب کے لیے یکساں ہیں اور انتخابی ادارہ کسی سیاسی دباؤ یا مصلحت سے آزاد ہو کر کام کر رہا ہے۔چیف الیکشن کمشنر کے لیے موجودہ صورتِ حال ایک مشکل ضرور ہے، مگر اسے ادارے کی ساکھ مضبوط کرنے کے موقع میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ دفاعی انداز اختیار کرنے کے بجائے شفافیت، قانونی وضاحت اور اجتماعی فیصلہ سازی کا راستہ اختیار کیا جائے تو اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔کیونکہ انتخابات کا سب سے بڑا سرمایہ بیلٹ پیپر نہیں، عوام کا اعتماد ہے۔ اور جب اعتماد متزلزل ہو جائے تو صرف نتائج کا اعلان جمہوریت کو مضبوط نہیں کر سکتا۔سپریم کورٹ کی موجودہ کارروائی اسی بنیادی اصول کی یاد دہانی ہے کہ ملک کا کوئی بھی آئینی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں۔ الیکشن کمیشن کی آزادی ضروری ہے، مگر آزادی کے ساتھ جواب دہی بھی لازم ہے۔ یہی توازن جمہوریت کو اداروں کی جنگ بننے سے بچاتا اور اسے آئین کی حکمرانی میں تبدیل کرتا ہے۔

Next Post

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *