
جمہوریت کی اصل خوب صورتی اس بات میں نہیں کہ اقتدار کس جماعت یا نظریے کے پاس ہے، بلکہ اس بات میں ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو مذہب، نسل، زبان اور نظریاتی اختلاف سے بالاتر ہوکر سیاسی نمائندگی کا حق کس حد تک فراہم کرتی ہے۔ دنیا کے نقشے پر شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جس کی خارجہ پالیسی، سیاسی بالادستی اور عالمی اثر و رسوخ پر امریکہ جتنی بحث ہوتی ہو۔ امریکہ کی حکومتیں بدلتی رہی ہیں، صدور آتے اور جاتے رہے ہیں، ڈیموکریٹک اور ریپبلکن جماعتیں اقتدار کی ذمہ داریاں سنبھالتی رہی ہیں، لیکن اسرائیل کے ساتھ امریکہ کی غیر معمولی قربت اور فلسطین کے معاملے پر اس کی پالیسی میں تسلسل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران امریکی حمایت، فوجی امداد اور سفارتی پشت پناہی نے واشنگٹن کو عالمی سطح پر مسلسل تنقید کا سامنا بھی کروایا ہے۔
اس تمام سیاسی پس منظر کے باوجود امریکہ کے جمہوری نظام کا ایک دوسرا پہلو بھی سامنے آتا ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ پہلو اس کے انتخابی نظام، عوامی نمائندگی اور سیاسی اختلاف کو جگہ دینے کی صلاحیت سے تعلق رکھتا ہے۔ 3 نومبر 2026 کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریاست مشی گن سے مصری نژاد امریکی سیاست دان اور ڈاکٹر عبدالسید کی کامیابی اسی تناظر میں ایک تاریخی واقعہ ہے۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی نشست حاصل کی۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ امریکی تاریخ میں سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے ہیں۔
یہ کامیابی محض ایک امیدوار کی انتخابی فتح نہیں بلکہ امریکی معاشرے میں مذہبی تنوع اور سیاسی شمولیت کی ایک اہم مثال بھی ہے۔ عبدالسید 1984 میں ریاست مشی گن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین کا تعلق مصر سے تھا، جو بہتر مستقبل کی تلاش میں امریکہ منتقل ہوئے تھے۔ ایک تارکِ وطن خاندان میں پرورش پانے والے عبدالسید نے اپنی تعلیم، محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے امریکی معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور وبائی امراض کے ماہر ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف مشی گن اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ڈیٹرائٹ کے محکمہ صحت کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 2018 میں انہوں نے مشی گن کے گورنر کا انتخاب بھی لڑا تھا، اگرچہ اس وقت انہیں کامیابی نہیں ملی۔
ان کی سیاسی جدوجہد کا ایک اہم پہلو یہ رہا ہے کہ وہ صحت، تعلیم، معاشی مساوات اور عام شہریوں کے بنیادی حقوق کو سیاست کا مرکزی موضوع بنانے کے حامی رہے ہیں۔ 2026 کے انتخاب میں ان کا منشور بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔ انہوں نے سب کے لیے صحت کی سہولت، بڑے کاروباری اداروں اور ارب پتی طبقے کے سیاسی اثر و رسوخ میں کمی اور عام امریکی شہریوں کے معاشی مسائل کو اپنی انتخابی مہم کا بنیادی حصہ بنایا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اگست 2026 کے پرائمری انتخاب میں انہوں نے ہیلی اسٹیونز کو شکست دے کر اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد عام انتخابات میں مائیک راجرز کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنا ان کی سیاسی جدوجہد کا ایک اہم مرحلہ ثابت ہوا۔
اس انتخاب کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مذہب اور شناخت کو بعض اوقات سیاسی بحث کا حصہ بنایا جاتا ہے، وہاں ووٹروں نے ایک مسلمان امیدوار کو ملک کے اعلیٰ ترین قانون ساز اداروں میں سے ایک کے لیے منتخب کیا۔ امریکہ کی جمہوری تاریخ میں نسلی امتیاز، غلامی، شہری حقوق کی جدوجہد اور مذہبی تعصب جیسے کئی تلخ ابواب موجود ہیں۔ لیکن اسی تاریخ میں ایسے جمہوری مراحل بھی آئے جنہوں نے معاشرے میں تبدیلی اور سیاسی شمولیت کے نئے راستے کھولے۔ انتخابی مہم کے دوران عبدالسید کو ان کے مذہبی پس منظر کی بنیاد پر تنقید اور الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان کے مخالفین نے ان کی شناخت اور نظریاتی موقف کو انتخابی بحث کا حصہ بنایا، جبکہ عبدالسید نے ان الزامات کی تردید کی۔ اس کے باوجود انتخابی عمل جاری رہا اور ووٹروں نے اپنا فیصلہ سنایا۔
یہاں امریکی جمہوریت کا ایک اہم اصول نمایاں ہوتا ہے کہ کسی شہری کی مذہبی شناخت اس کے سیاسی حقوق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ کسی امیدوار کی اہلیت اور عوامی قبولیت کا فیصلہ اس کے مذہب یا خاندانی پس منظر کے بجائے اس کے خیالات، منشور اور عوامی اعتماد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ تاہم امریکہ کے جمہوری نظام کی خوبیوں کے ساتھ اس کی تاریخی ناانصافیوں اور موجودہ سیاسی کمزوریوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
عبدالسید کی کامیابی کا ایک نہایت اہم اور قابلِ غور پہلو امریکہ کی خارجہ پالیسی سے متعلق ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے مضبوط سیاسی، عسکری اور سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ مختلف امریکی صدور نے ان تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔ اسرائیل کو امریکی فوجی امداد، دفاعی تعاون اور عالمی سفارتی حمایت حاصل رہی ہے۔ فلسطین کے مسئلے پر امریکی حکومتوں کی پالیسی بھی اکثر اسرائیل کے مفادات سے قریب رہی ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ کو عرب دنیا اور عالمی رائے عامہ کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے بھی امریکی پالیسی پر شدید سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، عالمی اداروں اور مختلف ملکوں نے فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں، تباہی اور انسانی بحران پر تشویش ظاہر کی ہے۔ عبدالسید اس امریکی پالیسی کے ناقد رہے ہیں۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا اور اسرائیل کو امریکی فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا یہ موقف امریکی سیاست کے اس روایتی دھارے سے مختلف ہے جس میں اسرائیل کی حمایت کو طویل عرصے سے دونوں بڑی جماعتوں کے متعدد بااثر سیاست دانوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔
اس صورت حال میں ایک اہم جمہوری حقیقت سامنے آتی ہے۔ امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی اور امریکی عوام کے اندر موجود مختلف سیاسی خیالات ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ حکومت کسی ملک کی حمایت کرسکتی ہے، لیکن اس ملک کے شہریوں کو اپنی حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھانے، اس کی مخالفت کرنے اور متبادل سیاسی موقف اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ عبدالسید کی کامیابی اسی فرق کو نمایاں کرتی ہے۔ امریکہ کی اسرائیل نواز پالیسی کے ناقد ایک امیدوار کو عوامی ووٹوں کے ذریعے سینیٹ تک پہنچنے کا موقع ملا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی فوری طور پر تبدیل ہوگئی ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اس پالیسی سے اختلاف رکھنے والی آواز بھی انتخابی سیاست میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔
عبدالسید کی کامیابی مسلم دنیا کے لیے بھی ایک اہم پیغام رکھتی ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں میں مذہب، نسل اور شناخت کی بنیاد پر سیاسی تقسیم پیدا کی جاتی ہے۔ بعض اوقات شہریوں کی صلاحیت اور خدمات کے بجائے ان کے مذہبی پس منظر کو ان کی سیاسی اہلیت کا پیمانہ بنا دیا جاتا ہے۔ امریکی انتخابی نتائج نے یہ مثال پیش کی ہے کہ ایک تارکِ وطن خاندان سے تعلق رکھنے والا مسلمان بھی اپنی صلاحیت، سیاسی موقف اور عوامی حمایت کے ذریعے اعلیٰ ترین سیاسی ایوان تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ واقعہ مذہبی تنوع اور سیاسی شمولیت کے امکانات کو سمجھنے کے لیے بھی اہم ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کرانے کا نام نہیں۔ اس کا تعلق آزاد اظہار، آزاد صحافت، قانون کی بالادستی، شہری حقوق، اداروں کی خودمختاری اور اقتدار کے احتساب سے بھی ہے۔ انتخابات جمہوریت کا دروازہ ضرور ہیں، لیکن جمہوری نظام کی مضبوطی کا انحصار ان تمام اداروں اور روایات پر ہوتا ہے جو انتخابات کے بعد بھی شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرتے ہیں۔ امریکہ کو بھی ان معاملات میں مسلسل آزمائشوں کا سامنا ہے۔ اس کے سیاسی نظام میں دولت مند طبقے کا اثر و رسوخ، انتخابی مہمات پر بڑے سرمایہ داروں کے اخراجات، نسلی تعصبات اور سیاسی تقسیم ایسے مسائل ہیں جن پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ اس لیے کسی ایک انتخابی کامیابی کو امریکی جمہوریت کی تمام خامیوں کا خاتمہ سمجھنا درست نہیں ہوگا، تاہم اسے جمہوری نمائندگی کی ایک اہم پیش رفت ضرور قرار دیا جاسکتا ہے۔
آج دنیا کے کئی ممالک میں جمہوری نظام مختلف نوعیت کے دباؤ سے گزر رہے ہیں۔ کہیں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ رہی ہے، کہیں میڈیا کی آزادی زیرِ بحث ہے اور کہیں سیاسی مخالفین کو ریاستی طاقت کے ذریعے دبانے کے الزامات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں امریکی انتخابات کا یہ واقعہ ایک اہم سوال اٹھاتا ہے کہ کیا کسی جمہوری معاشرے کی اصل طاقت اسی میں نہیں کہ وہ اپنے اختلافات کو دبانے کے بجائے انتخابی عمل کے ذریعے انہیں نمائندگی کا موقع دے؟
امریکہ کی خارجہ پالیسی پر تنقید اپنی جگہ، اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات پر اختلاف اپنی جگہ، لیکن عبدالسید کی کامیابی اس بات کی مثال ہے کہ حکومتی پالیسی سے اختلاف رکھنے والا امیدوار بھی عوامی حمایت حاصل کرکے قانون سازی کے اعلیٰ ایوان تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وہ جمہوری روایت ہے جس کی حفاظت ہر ملک اور ہر معاشرے کے لیے ضروری ہے۔
عبدالسید کی کامیابی کو صرف ایک مسلمان امیدوار کی تاریخی فتح کے طور پر دیکھنا اس واقعے کی وسعت کو محدود کردینا ہوگا۔ اس کا اصل پیغام یہ ہے کہ جمہوریت میں کسی شہری کی شناخت اس کے سیاسی مستقبل کا آخری فیصلہ نہیں کرتی۔ عوام کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے نمائندے کا انتخاب خود کریں، اس کی پالیسیوں سے اتفاق یا اختلاف کریں اور اپنے ووٹ کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں تک اپنی آواز پہنچائیں۔
امریکہ کی اسرائیل نواز پالیسی پر سوال اٹھانا بھی جمہوری حق ہے اور اس پالیسی کے ناقد کسی امیدوار کا انتخاب جیتنا بھی اسی جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ دنیا کی ہر جمہوریت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوریت کی خوب صورتی صرف اس وقت نہیں ہوتی جب عوام حکمرانوں کے حق میں فیصلہ دیں، بلکہ اس وقت بھی ہوتی ہے جب عوام ایسا فیصلہ کریں جو حکمرانوں کی پسند اور پالیسیوں سے مختلف ہو۔
عبدالسید کی کامیابی کا سب سے بڑا جمہوری سبق یہی ہے کہ اقتدار کی اصل طاقت کسی ایک مذہب، نسل، جماعت یا نظریے کی اجارہ داری میں نہیں، بلکہ عوام کے اس حق میں ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرسکیں۔
No Comments: