
دہلی کے رام لیلا میدان نے ایسی تاریخ ساز ریلی شاذ و نادر ہی دیکھی ہوگی۔ ابھی تک 25 جون 1975 کی جے پرکاش نرائن کی ریلی کی مثال دی جا رہی تھی۔ لیکن اب ماہرین کا خیال ہے کہ یکم نومبر 2026 کی اپوزیشن کی ریلی کی مثال دی جائے گی جس میں کانگریس کے مطابق کئی لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ اس ریلی کی کال سینئر کانگریس رہنما راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف دی تھی۔ انھوں نے اسے عوامی ریلی بنانے کے لیے بار بار اعلان کیا کہ یہ کسی سیاسی پارٹی کی ریلی نہیں بلکہ عوام کی ریلی ہے۔ اس کا مقصد جمہوریت اور ملک کو بچانا ہے۔ موسم کی خرابی اور بارش کی وجہ سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ایک تو بدانتظامی پیدا ہوگی اور دوسرے لوگوں کی شرکت کم رہے گی۔ لیکن یہ دونوں اندیشے غلط ثابت ہوئے۔ ریلی میں کی جانے والی تقریروں اور رام لیلا میدان کے اندر اور اس کے گرد و نواح کی سڑکوں پر انسانوں کے سیلاب کے بارے میں میڈیا میں کافی تفصیل سے آچکا ہے۔ لہٰذا اس پر زیادہ گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ ریلی میں جس انداز میں عوام کا جوش و خروش دیکھا گیا کیا اس کا تسلسل برقرار رہے گا اور کیا مرکزی حکومت اور چیف الیکشن کمشنر اس عدیم المثال ریلی کو دیکھ کر گھبرائے ہوئے ہیں۔ بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کمان سنبھال لی ہے۔ ریلی کے ایک روز بعد انھوں نے حیدرآباد میں ایک جلسہ کیا جس میں اپوزیشن کو بنگلہ دیشی دراندازوں کا حمایتی بتایا۔ اس معاملے پر گفتگو آگے چل کر کریں گے۔ بی جے پی پر گھبراہٹ کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنے متعدد ترجمان میدان میں اتار دیے جو یہ بتانے میں پورا زور صرف کرنے لگے کہ ریلی ناکام رہی۔ جبکہ آزاد صحافیوں نے جو منظرکشی کی ہے وہ اس بات کی شاہد ہے کہ ریلی بڑے پیمانے پر کامیاب رہی۔ متعدد سینئر صحافی بھی جو کسی خیمے میں نہیں ہیں اسے جے پرکاش نرائن کے بعد کی سب سے بڑی ریلی قرار دے رہے ہیں۔
اس ریلی میں اپوزیشن کے اتحاد کا بھی مظاہرہ ہوا۔ اس میں حزب اختلاف کی 19 جماعتوں نے حصہ لیا اور ان کے رہنماوں نے اپنی تقریروں میں چیف الیکشن کمشنر کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے مرکز کی مودی حکومت کو ہٹائے جانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ راہل گاندھی نے حکومت کی ممکنہ تبدیلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بدلنے کے بعد کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ لیکن کیا اس اتحاد سے کوئی سیاسی یا انتخابی فائدہ بھی ہوگا، اس کا مشاہدہ ابھی باقی ہے۔ اس اتحاد کا سب سے بڑا امتحان اترپردیش میں ہوگا جہاں اگلے سال فروری مارچ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ سردست راہل گاندھی ہوں یا اکھلیش دونوں ایک دوسرے کے تئیں نرم روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جہاں تک راہل گاندھی کا سوال ہے تو فی الحال ان کی ساری توجہ ووٹ چوری کے خلاف ملک گیر ماحول بنانے پر ہے۔ ان کا مقصد پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینا ہے۔ لیکن ابھی انتخابات کافی دور ہیں اور اس وقت تک جوش و خروش کے اس ماحول کو قائم رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ راہل گاندھی سیکنڈ اور تھرڈ لائن بھی بنائیں۔ وہ نہ تو پورے ملک کا تسلسل کے ساتھ دورہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی بہت زیادہ تقریریں ہی کر سکتے ہیں۔ ایک ہی بات بار بار دوہرانے سے عوام بور بھی ہو جائیں گے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ کانگریس کے دیگر رہنما بھی الگ الگ علاقوں کے دورے کریں اور ووٹ چوری کے خلاف عوام کو بیدار کرنے کی مہم کو جاری رکھیں۔ ریلی میں پورے ملک کے کانگریسی کارکنوں میں جو نیا جوش دیکھنے کو ملا وہ مرکز میں مودی حکومت قائم ہونے کے بعد کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ اگر راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے اور دیگر سینئر رہنما اس جوش کو برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو پارٹی کا بڑا نقصان ہوگا۔ دوسری بات یہ کہ جس طرح مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والوں نے ریلی میں شرکت کی وہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ایس آئی آرسے کوئی خوش نہیں ہے۔ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ موجودہ حکومت انتخابی عمل میں خردبرد کرکے ہی اقتدار میں آئی ہے اور یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ انتخابی عمل میں شفافیت ہونی چاہیے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان کا جواب دیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ ہندوستان کے انتخابی عمل کی شفافیت کی پوری دنیا میں ستائش ہوتی تھی اور دنیا بھر سے مشاہدین انتخابی عمل کا جائزہ لینے کے لیے ہندوستان آتے تھے۔ لیکن ایس آئی آر کے خلاف مظاہروں اور احتجاج کی عالمی کوریج نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے وقار کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔ اس کوریج کا لب لباب یہ ہے کہ ہندوستان کے انتخابی عمل میں پہلے جیسی ایمانداری نہیں رہ گئی۔ عالمی میڈیا کی کوریج سے پیدا ہونے والا یہ تاثر ہندوستانی الیکشن کمیشن کے وقار کے لیے کوئی اچھی بات نہیں ہے۔
ادھر امت شاہ نے ریلی کے ایک روز بعد یعنی دو نومبر کو حیدرآباد میں ایک جلسے میں الزام عاید کیا کہ انڈیا بلاک کی رام لیلا ریلی ووٹ بچانے کے لیے نہیں بلکہ بنگلہ دیشی دراندازوں کو بچانے کے لیے تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن نے جن 13 کروڑ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے ہیں ان میں سے تین کروڑ بنگلہ دیشی درانداز ہیں اور وہ ’کانگریس اینڈ کمپنی‘ کا ووٹ بینک ہیں۔ کانگریس انہی کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امت شاہ 2014 سے ہی بنگلہ دیشی دراندازوں کا راگ الاپ رہے ہیں لیکن ان کو نکالنے کے جتن نہیں کرتے۔ بنگال کے انتخابات میں انھوں نے کہا تھا کہ ایک ایک بنگلہ دیشی گھس پیٹھیا کو چن چن کر نکال باہر کیا جائے گا۔ بہار میں بھی انھوں نے یہی بات کہی تھی۔وہ تمام جگہوں پر بنگلہ دیشی گھس پیٹھیا کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے کہ ملک میں تین کروڑ درانداز ہیں تو انھیں نکالا کیوں نہیں جاتا اور یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ بی جے پی مرکز میں بارہ سال سے برسراقتدار ہے اس کے باوجود بنگلہ دیشی درانداز گھس آتے ہیں، نہ تو سرحدی محافظ ان کو پکڑ نہیں پاتے ہیں اور نہ ہی حکومت ان کو نکال پاتی ہے۔ جہاں تک بنگلہ دیشی دراندازوں کی تعداد کی بات ہے تو مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے آٹھ جون کو ایک بیان میں کہا تھا کہ جب سے نریندر مودی وزیر اعظم ہوئے ہیں پانچ ہزار بنگلہ دیشیوں کو واپس بھیجا گیا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ جب تین کروڑ بنگلہ دیشی ہیں تو صرف پانچ ہزار کو ہی کیوں واپس کیا گیا سب کو کیوں نہیں کیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ بنگال اور آسام سے جن لوگوں کو واپس کیا گیا ان میں سے متعدد ہندوستانی شہری نکلے اور عدالتوں کے حکم سے انھیں واپس لینا پڑا۔ دراصل جب بنگلہ دیشی درانداز کہا جاتا ہے تو اشارہ مسلمانوں کی جانب ہوتا ہے۔ جہاں تک بنگلہ دیشیوں کی موجودگی کی بات ہے تو 2014 سے 2024 کے درمیان ساڑھے تین ہزار سے پانچ ہزار تک بنگلہ دیشی واپس کیے گئے۔ جبکہ 2009 سے 2011 کے درمیان 23ہزار سے زائد بنگلہ دیشی واپس کیے گئے تھے۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بی جے پی حکومت کے قول و فعل میں کتنا تضاد ہے۔ بہرحال اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ راہل گاندھی نے عدیم المثال ریلی کرکے تاریخ میں اپنا نام تو درج کرا لیا لیکن کیا وہ ایس آئی آر کے خلاف موجودہ مہم کو لوک سبھا انتخابات تک برقرار رکھ سکیں گے اور کیا اس کا کوئی نتیجہ برآمد ہوگا یا پھر ساری کوششں ٹائیں ٹائیں فش ہو جائیںگی۔
No Comments: