22 April, 2024

’میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ‘موبائل فون مینوفیکچرنگ نے ایک بے مثال کامیابی کی کہانی رقم کی

• ہندوستان میں فروخت ہونے والے تمام موبائل فون میں سے 97 فیصد ہندوستان میں بنائے جاتے ہیں۔
• پیداوار کا 30 فیصد حصہ اب برآمدات کے لیے ہے ۔
• پی ایل آئی اسکیم عالمی کھلاڑیوں کو راغب کرتی ہے ، پیداوار میں اضافہ کرتی ہے ۔

نئی دہلی:گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان میں موبائل فون کی پیداوار میں اضافے کو مینوفیکچرنگ سیکٹر میں کامیابی کی ایک بے مثال کہانی کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے ۔ جب کہ 2014 میں ملک میں فروخت ہونے والے تمام موبائل فون میں سے 78 فیصد کو درآمد کیا جاتا تھا، آج 97 فیصد موبائل فون ہندوستان میں تیار کیے جاتے ہیں۔صنعتی تنظیم، انڈیا سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن، آئی سی ای اے کے مطابق، مالیت کے لحاظ سے موبائل فون کی پیداوار 2014-15 میں 18,900 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2024 میں 4.10 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے ، جس میں 20 گنا سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ مجموعی طور پر، گزشتہ 10 سالوں میں ہندوستان میں 245 کروڑ سے زیادہ موبائل فون سیٹ تیار کیے گئے ہیں۔ 2014-15 میں ہندوستان سے موبائل فون کی برآمدات محض 1,556 کروڑ روپے تھیں۔ صنعت کو مالی سال 2024 کے اختتام تک 1,20,000 کروڑ روپے کی تخمینی برآمد کی توقع ہے ۔ اس برآمدی نمو کی وجہ سے ، موبائل فون اب انفرادی شے کے طور پر ہندوستان کی 5ویں سب سے بڑی برآمدات بن گئے ہیں۔پیداوار، برآمدات اور خود کفالت میں یہ غیرمعمولی ترقی ایک سازگار پالیسی ماحول، اور صنعت اور اہم سرکاری وزارتوں جیسے کہ الیکٹرانکس اور آئی ٹی، ڈی پی آئی آئی ٹی، وزارت تجارت، وزارت خزانہ، نیتی آیوگ اور پی ایم او کے درمیان کام کاج کے مضبوط تعلقات سے ممکن ہوئی ہے ۔ مئی 2017 میں، ہندوستانی حکومت نے موبائل ہینڈ سیٹ کی گھریلو پیداوار کو فروغ دینے کے لیے مرحلہ وار مینوفیکچرنگ پروگرام (پی ایم پی) کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام نے ہندوستان میں ایک مضبوط دیسی موبائل مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کی تعمیر میں مدد کی اور بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کو ترغیب دی۔ 2014 میں صرف 2 موبائل فون فیکٹریوں سے ، ہندوستان اب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون تیار کرنے والا ملک بن گیا ہے ۔بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ (ایل ایس ای ایم) اور آئی ٹی ہارڈ ویئر کے لیے پروڈکشن سے منسلک ترغیبی اسکیم ہندوستان کو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے ایک مسابقتی منزل بنانے کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے ۔ پی ایل آئی اسکیم اہل کھلاڑیوں کو ایک مقررہ مدت کے لیے اضافی فروخت کی قیمت کا 3 فیصد سے 5 فیصد تک فراہم کرتی ہے ۔پی ایل آئی اسکیم نے معروف عالمی کنٹریکٹ مینوفیکچرر بشمول فاکس کون، پیگاٹرون، رائزنگ اسٹار اور وسٹرون کو ہندوستان میں پیداواری بنیاد قائم کرنے کے لیے راغب کیا ہے ۔ دوسری طرف سام سنگ نوئیڈا میں دنیا کی سب سے بڑی موبائل فون فیکٹری چلاتا ہے ۔اسمارٹ فون کے شعبے میں ایپل اور سام سنگ نے ملک سے موبائل فون کی برآمدات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ہندوستان کے تیار کردہ آلات بڑی مقدار میں برطانیہ، نیدرلینڈ، آسٹریا اور اٹلی کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ اور جنوبی امریکی بازاروں میں برآمد کیے جا رہے ہیں۔ایک بڑی گھریلو مارکیٹ اور بڑھتی ہوئی برآمدی منڈی کے ساتھ، ہندوستان میں موبائل فون اور الیکٹرانکس کی تیاری کا نقطہ نظر حوصلہ افزا ہے ۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *