23 July, 2024

اہمیت روزہ واستقبال رمضان

عبدالمبین ندوی دہلی
صبح وشام میں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے جو نیکیوں کا عالمی موسم بہار ہے ، جس کی رونق ہر کاخ وکوخ اور پوری دنیا کے شہر ودیہات میں دیکھی جاسکتی ہے، اس لئے اس کا ہم سب کو نہایت خوش دلی سے خیر مقدم کرنا چاہئے،”روزہ اہمیت کیا ہے ؟استقبال رمضان ” کیسے کریں؟ اس سلسلہ میں چند مختصرگذارشات پیش خدمت ہیں، امید کہ روزہ دار اس کا اہتمام کریں گے، اور ماہ رمضان کی اہمیت کے پیش نظر اسے اپنے لئے مفید تر بنائیں گے، بلاشبہ ہم ایک عظیم الشان بابرکت مہینے کے دروازے پر کھڑے ہیں،اللہ کی طرف سے ایک بڑی نعمت سمجھ کر ہمیں آنے والے مہینے کا جو نیکیوں کا موسم بہار ہے اور اللہ کی جانب سے جشن عام ہے اور اہل اللہ کی لئے بہت بڑی سعادت ہے کا استقبال ہمیں اس طر ح کرنا چاہئے، کہ ہما را زیادہ سے زیادہ وقت ذکر و تلاوت،سجدہ و عبادت میں گذرے، لہو لعب اور شیطانی کاموں سے دور رہیں،اس عظیم الشان مہینے کا پانا یقینا اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، کتنے ہمارے اعزہ و اقارب ہیں جورمضان کی آمد سے پہلے ہمارا ساتھ چھوڑ چکے ہیں،اس کی قدرومنزلت کا اندازہ اس بات سے کرسکتے ہیں کہ سلف صالحین چھ ماہ تک اس بات کی دعا کرتے تھے کہ اللہم بلغنا رمضان، اللہ ہمیں رمضان المبارک کا مہینہ نصیب فرما، اور جب رمضان کا مہینہ گذر جاتا تو اس بات کی دعا کرتے کہ اللہ ہم نے اس ماہ میں جو عبادتیں کی ہیں تو انہیں شرف قبولیت عطافرما،نیز ذہن میں یہ بھی مستحضر رہنا چاہئے کہ یہ مہینہ صبر وغمخواری، احتساب نفس اور تقوی شعاری کا ہے جس میں اللہ مومن کی روزی بڑھا دیتاہے، اپنے بندوں کو بہت سے ایسے حسین او قیمتی لمحات عنایت کرتا ہے جس میں کی ہوئی نیکی رب کی رضاوبخشش کا سبب بنتی ہے، حضرت ابو ہریرہؓ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اتاکم رمضان شہر مبارک فرض الله عزوجل عليكم صيامه، تفتح فيه أبواب الجنة وتغلق فيه ابواب الجحيم، وتغل فيه مردة الشياطين ،لله فيه ليلة خير من الف شهر من حرم خيرها فقد حرم (رواه النسائي وصححہ الالبانی) لوگو! تم پر رمضان کا مہینہ سایہ فگن ہے جو بابرکت مہینہ ہے جس کا روزہ اللہ سبحانہ نے تم پر فرض قرار دیا ہے، جس میں جنت کی دروازے کھول دئیےجاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں، اور سرکش شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں، اللہ کی قسم اس ماہ میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے، جواس ماہ کی خیر وبرکات سے محروم رہا وہ درحقیقت نیکیوں سے محروم کردیا گیا، ایک اور روایت حضرت ابو ہریرہؓ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کے ہم معنی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اذاكان أول ليلة من شہررمضان صفدت الشياطين ومردة الجن وغلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب وفتحت أبواب الجنة ولم يغلق منها باب وينادي منادي ياباغي الخير أقبل وياباغي الشرأقصر(رواه الترمذى وابن ماجه ) رسول گرامی قدر نے فرمایا:جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو سرکش شیاطین قید کردئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ نہیں کھلتا ہے،اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ہے، اور ایک فرشتہ آسمان دنیا سے ندا دیتا ہے کہ اے نیکی کے طلبگار! آگے بڑھ اور اے برائی کے طلبگار باز آجا، اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیکی کے کام کو زیادہ سے زیادہ بڑھ چڑھ کر کرنے کی ترغیب دی ہے، دوسری جگہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: “کل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة بعشر أمثالهاالى سبع مأيةضعف، قال الله تعالى الا الصوم فانه لي وانا اجزي به (متفق عليه) ابن آدم کی ہر نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سوگنا تک بڑھادیا جاتا ہے، اللہ نے حدیث قدسی میں فرمایا سوائے روزہ کے کہ بندہ میرے لئے رکھتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، چونکہ روزہ کاتعلق صرف بندہ اور اللہ کے درمیان ہوتا ہے اس لئے اللہ نے فرمایا کہ اس کابدلہ میں ہی بے حد وحساب دوں گا، ایک اور موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من صام رمضان إیمانا واحتسابا غفر له ماتقدم من ذنبه ( متفق علیہ) جس نے رمضان کا روزہ ایمان اور نیکی کی نیت سے رکھا تو اس کے اگلے گناہ بخش دئے جائیں گے ، الغرض روزہ تمام عبادتوں میں بہت اہم عبادت ہے، جو سال میں ایک ماہ لوگوں کے اخلاق کو سنوارنے اور ایمان کی بجھی ہوئی بیٹری کو چارج کرنے کے لئے اللہ نے اپنے بندوں کو عنایت فرمایا ہے، جو اس کی قدر کرلے گا وہ جنت کا مستحق ہوگا اور جو اسے پاکر اس کی ناقدری کرے گا وہ جہنم میں ڈالاجائے گا، ایک اورموقع پر رسول اللہ نے فرمایا :من لم يدع قول الزور والعمل به فليس للله حاجة أن يدع طعامه وشرابه،(بخارى ج ١ ص: ٢٥٥) یعنی جو روزہ کے دنوں میں جھوٹ اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑ ے گا تو اللہ کو اس کا بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں، لہذا ہم سب کو اس مہینہ کو غنیمت سمجھتےہوئے اس کی برکات سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے، نیز اس کے لئے کمربستہ ہوکر خوب محنت سے عبادت میں مصروف رہنا چاہئے،رمضان کے پانے کی اہمیت کااندازہ اس واقعہ سے لگا یا جاسکتا ہے جیساکہ صحابی رسول حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی خدمت رسول میں حاضر ہوئے دونوں نے بیک وقت اسلام قبول کیا، ان میں سے ایک آدمی زیادہ عبادت گذار تھا وہ اللہ کی راہ میں شہید ہوگیا، جبکہ دوسرا پہلے کی بہ نسبت کم عبادت گذار تھا، اس کی شہادت کے ایک سال بعد طبعی طور پر فوت ہوا، حضرت طلحہ رض فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ یہ دوسرا آدمی شہادت پانے والے آدمی سے پہلے جنت میں داخل ہوا، جب صبح ہوئی تو میں نے یہ خواب لوگوں کو سنایا جس پر انہوں نے تعجب کیا ، جب رسول اللہ کو یہ خبر ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا :”أليس قد مكث هذا بعده سنة فأدرك رمضان فصام. وصلى كذاوكذاسجدة في السنة، فلما بينهما أبعد مما بين السماء والارض “( ابن ماجه ٣٩٢٥ وصحیح ابن حبان ۲۹۸۲) کیا یہ (دوسرا آدمی) پہلے کے بعد ایک سال تک زندہ نہیں رہا؟ جس میں اس نے رمضان کا مہینہ پایا، اس کے روزے رکھے اور سال بھر اتنی نمازیں پڑھیں؟ تو ان دونوں کے درمیان (جنت میں) اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان ہے،( زاد الخطیب ج 1 ص:389) اس حدیث پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے کتنے عزیز ورشتہ دار واحباب پچھلے رمضان میں ہمارے ساتھ تھے اور روزہ رکھا تھا عید کی خوشیاں منائی تھیں، لیکن اس رمضان کے آنے سے پہلے ہمارا ساتھ چھوڑ چکے ہیں، انہیں یہ ماہ مبارک نصیب نہیں ہوا، جبکہ اللہ نے ہمیں صحت و تندرستی کے ساتھ یہ مہینہ نصیب فرما کر ایک بار پھر قیمتی موقع عنایت فرمایا کہ ہم تمام گناہوں سے سچی توبہ کرلیں اور خالق حقیقی کو راضی کرلیں، تو کیا یہ بہت بڑی نعمت نہیں جس کا ہمیں فراخدلی سے استقبال کرنا چاہئے، اور روزوں کو جھوٹ مکر وفریب سے بچانا چاہئے، زیادہ اوقات تلاوت قرآن مجید میں صرف کرنا چاہئے جس کا نزول اللہ نے اسی ماہ مبارک میں پوری انسانیت کی ہدایت کے لئے فرمایا، شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس وبینات من الہدی (البقرہ: ۱۸۵) یہی نزول قرآن اس ماہ کی سب سے بڑی خصوصیت ہے، روزہ کے مخاطب تمام اہل ایمان ہیں، جیسا کہ اللہ نے فرمایا :کتب علیکم الصیام الخ ایے ایمان والو! روزہ تم ہر فرض کیا گیا ہے جیساکہ تم سے پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تھاتاکہ تم متقی بن جاؤ، ان تمام مخاطبین میں تین مخاطب خاص ہیں جو یہ ہیں۔ (۱) مقیم وتندرست ہر روزہ فرض ہے، (۲) مسافر ومریض اور دودھ پلانے والی عورت وحاملہ روزہ توڑ کر دوسرے دنوں میں اس کی قضا ان پرواجب ہے، (۳) وہ مریض جس کی بیماری لا علاج ہو یا بہت زیادہ بوڑھا ہوجو بھوک برداشت نہ کرسکے یاکینسرزدہ وغیرہ ہوں توایک مسکین کو مہینہ بھر کھانا کھلائیں گے، افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر سنت ہے، افطار کھجور یا پانی سے کرنااور یہ دعا پڑھنا مسنون ہے: اللہم لک صمت وعلی رزقک أفطرت، اور بعد افطار یہ دعا پڑھیں:ذهب الظمأ و ابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله، ترجمہ: پیاس چلی گئی، رگیں تر ہوگئیں، اوراجر و ثواب ثابت ہوگیا ان شاء اللہ اللہ ہم سب کو اس بات کی توفیق بخشے کہ ہم رمضان کا استقبال کرتے ہوئے روزہ کی کماحقہ قدر کریں اور اجروثواب سے اپنا جیب ودامن بھر لیں اور اپنی بخشش کرالیں، آمین

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *