Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:20 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

Breaking News

موجودہ صورتحال میں دلت ،مسلم، عیسائی‘ اتحاد اب نا گزیر مولانا ارشد مدنی

نوئیڈا کے رام لیلاگراو¿نڈ میں صدائے احتجاج بلندکرنے کےلئے ماہ اکتوبرمیں ایک مشترکہ ریلی کا انعقادکیاجائے گا:   نئی دہلی ،2اگست ( ایس ٹی بیورو) ملک میں آج جوحالات ہیں اور جس طرح سے فرقہ پرست طاقتیںنفرت و تشددکا بازار گرم کر رہی ہیں، اس کے پیش نظر یہ اب یہ نا گزیر ہوگیا ہے کہ دلت،مسلمان ، عیسائی اور سماج کے کمزور طبقات ایک پلیٹ فارم پر آجائیں۔جمعیة علما ءہندہر طرح کے ظلم، نا انصافی، سماجی نابرابری اور شدت پسندی کے سخت خلاف ہے ،بھلے ہی وہ کسی بھی مذہب یا فرقہ کی ہو یا کسی بھی فرقہ اور طبقہ کے خلاف کی جا رہی ہو۔حال ہی میں گجرات کے احمد آباد میں منعقد ہونے والی احتجاجی ریلی میں جمعیة علما ہند کی شرکت اس بات کا تازہ ثبوت ہے۔ملک میں مذہبی شدت پسندی کے سبب اقلیتوں خصوصا مسلمانوں دلتوں اور پسماندہ کمزورطبقات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں زبردست اضافہ کے باعث جمعیة علما ہند نے آئندہ ماہ اکتوبر میں رام لیلا میدان نوئیڈہ میں ایک ”دلت مسلم مشترکہ ریلی‘ ‘ کے انعقاد کافیصلہ کیاہے، جس میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں، عیسائیوں ، دلتوں اور سماج کے کمزور طبقات کے خلاف جاری مظالم کے خلاف نہ صرف احتجاج کیا جائے گا بلکہ آئندہ کے لئے ایک مشترکہ حکمت عملی بھی مرتب کی جائے گی ۔ یہ بات آج جمعیة علماہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے بیان میں کہی۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیة علما ہند بلا امتیاز مذہب و ملت مظلوم طبقات پر کئے جانے والے مظالم کے خلاف نہ صرف صدائے احتجاج بلند کرتی آئی ہے بلکہ بہت سے معاملات میں انہیں قانونی امداد بھی فراہم کراتی رہی ہے۔ حال ہی میں گجرات میں شدت پسند ہندو تنظیموں کے کارکنان کے ذریعے دلتوں پر مظالم کا معاملہ سامنے آیا اور وہاں بے قصور دلتوں کو عتاب کا نشانہ بنایا گیا توجمعیة علماہند نے ان کے حق میں ہونے والے احتجاج اور ریلی میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیة ملک کی جمہوریت ، سیکولرازم اور گنگا جمنی تہذیب کونقصان پہنچانے والی کسی بھی کوشش کوکامیاب نہیں ہونے دے گی انشاءاللہ۔مولانا مدنی نے کہاکہ ملک میں اس وقت جوسنگین صورتحال ہے وہ ا س سے قبل کبھی نہیں تھی ۔ فرقہ پرست تنظیم آر ایس ایس اوراس کی حواری تنظیمیں سیکولرو جمہوری ہندوستان کو ’ ہندوراشٹر‘ میں تبدیل کرنے کے اپنے ایجنڈہ کوعملی جامہ پہنانے کے لئے اب کھل کر باہر آ چکی ہیں اور انہیںمرکزی حکومت کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔آج کہیں تبدیلی ¿ مذہب ، گﺅکشی، لوجہاد جیسے معاملے اٹھا کر مسلمانوں کونشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں مختلف حیلوں اور بہانوں سے کبھی دلتوں توکبھی عیسائیوں کو نشانہ بنایاجا رہا ہے ۔ ان تمام حرکتوں کامقصد اقلیتوں اوردلتوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور انہیں احساس کمتری میں مبتلا کرنے کی کوشش کرنا ہے تاکہ ان فرقہ پرست قوتوں کی منمانیاں جاری رہیں اور پورا ملک بدامنی کاشکارہوجائے۔ ان حالات میں اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ تمام اقلیتیں خصوصا مسلمان ، دلت اورسماج کے کمزور طبقات متحد ہو کر ان فرقہ پرست اور فسطائی قوتوں کے خلاف صف آرا ہوجائیں تاکہ جمہوریت،سیکولرازم اور گنگا جمنی تہذیب کے خلاف جاری سازشوں کوناکام بنایا جا سکے ۔    


Advertisment

Advertisment