Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:20 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

Sub Item 2.1.4

ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کی سیاسی قیادت اور قوم کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے قومی تاریخ کے اس اہم موڑ پر ان پر اعتماد کیا لیکن وہ اس عمومی رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’ادارے اور روایات افراد سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور انہیں ہی فوقیت دی جانی چاہیے۔‘
بیان کے مطابق جنرل کیانی نے کہا ہے کہ انہیں چھ برس تک دنیا کی بہترین فوج کی قیادت کا موقع ملا اور اب یہ دوسروں کی باری ہے کہ وہ پاکستان کو ایک حقیقی طور پر جمہوری، خوشحال اور پرامن ملک بنانے کا مشن آگے بڑھائیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب جبکہ ان کی مدتِ ملازمت پوری ہو رہی ہے ملک میں جمہوری عمل جڑ پکڑ چکا ہے اور فوج اس جمہوری نظام کی مکمل طور پر حامی ہے اور اسے مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آئی تھیں جن میں جنرل کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع یا انہیں حکومت کی جانب سے کوئی اور اہم عہدہ دینے کے ام
 
ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کی سیاسی قیادت اور قوم کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے قومی تاریخ کے اس اہم موڑ پر ان پر اعتماد کیا لیکن وہ اس عمومی رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’ادارے اور روایات افراد سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور انہیں ہی فوقیت دی جانی چاہیے۔‘
بیان کے مطابق جنرل کیانی نے کہا ہے کہ انہیں چھ برس تک دنیا کی بہترین فوج کی قیادت کا موقع ملا اور اب یہ دوسروں کی باری ہے کہ وہ پاکستان کو ایک حقیقی طور پر جمہوری، خوشحال اور پرامن ملک بنانے کا مشن آگے بڑھائیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب جبکہ ان کی مدتِ ملازمت پوری ہو رہی ہے ملک میں جمہوری عمل جڑ پکڑ چکا ہے اور فوج اس جمہوری نظام کی مکمل طور پر حامی ہے اور اسے مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آئی تھیں جن میں جنرل کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع یا انہیں حکومت کی جانب سے کوئی اور اہم عہدہ دینے کے ام
 
ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کی سیاسی قیادت اور قوم کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے قومی تاریخ کے اس اہم موڑ پر ان پر اعتماد کیا لیکن وہ اس عمومی رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’ادارے اور روایات افراد سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور انہیں ہی فوقیت دی جانی چاہیے۔‘
بیان کے مطابق جنرل کیانی نے کہا ہے کہ انہیں چھ برس تک دنیا کی بہترین فوج کی قیادت کا موقع ملا اور اب یہ دوسروں کی باری ہے کہ وہ پاکستان کو ایک حقیقی طور پر جمہوری، خوشحال اور پرامن ملک بنانے کا مشن آگے بڑھائیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب جبکہ ان کی مدتِ ملازمت پوری ہو رہی ہے ملک میں جمہوری عمل جڑ پکڑ چکا ہے اور فوج اس جمہوری نظام کی مکمل طور پر حامی ہے اور اسے مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آئی تھیں جن میں جنرل کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع یا انہیں حکومت کی جانب سے کوئی اور اہم عہدہ دینے کے ام
 
ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کی سیاسی قیادت اور قوم کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے قومی تاریخ کے اس اہم موڑ پر ان پر اعتماد کیا لیکن وہ اس عمومی رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’ادارے اور روایات افراد سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور انہیں ہی فوقیت دی جانی چاہیے۔‘
بیان کے مطابق جنرل کیانی نے کہا ہے کہ انہیں چھ برس تک دنیا کی بہترین فوج کی قیادت کا موقع ملا اور اب یہ دوسروں کی باری ہے کہ وہ پاکستان کو ایک حقیقی طور پر جمہوری، خوشحال اور پرامن ملک بنانے کا مشن آگے بڑھائیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب جبکہ ان کی مدتِ ملازمت پوری ہو رہی ہے ملک میں جمہوری عمل جڑ پکڑ چکا ہے اور فوج اس جمہوری نظام کی مکمل طور پر حامی ہے اور اسے مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آئی تھیں جن میں جنرل کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع یا انہیں حکومت کی جانب سے کوئی اور اہم عہدہ دینے کے ام
...


Advertisment

Advertisment