Today: Thursday, November, 23, 2017 Last Update: 03:48 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

Sub Item 2.1

عالمِ اسلام میں بڑھتی مسلکی خلیج

مولانااسرارالحق قاسمی

اس وقت عالمِ اسلام عدیم المثال ابتلاء و آزمایش کے دور سے گزر رہاہے۔چند سال پہلے تک دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل اس وقت تڑپ اٹھتے تھے جب ارضِ فلسطین سے معصوم فلسطینیوں پر صہیونی ریاست اسرائیل کے مظالم کی خبریں آتی تھیں۔لیکن اب انتہا یہ ہے کہ عالم اسلام کے بیشتر حصو ں میں خود مسلمان ہی مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں،کہیں دہشت گردی کے نام پر تو کہیں مذہب کے نام پر اور کہیں مسلک کے نام پر۔خون مسلم کی اس ارزانی کے لیے آخر کون ذمہ دار ہے؟کیا یہ اسرائیل کی سازش ہے کہ مسلمان مسلک کے خانوں میں منقسم ہوکر آپس میں خون خرابہ پرآمادہ ہوگئے ہیں؟کیا یہ مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے امریکہ اور مغربی ملکوں کی سازش ہے؟اگر واقعی یہ اغیار کی اسلام اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کی سازش ہے تو آخر مسلمان اتنے معصوم کیوں ہیں کہ وہ سازش کا شکار ہوجاتے ہیں؟دراصل اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا ٹھیکراکسی اورکے سرپھوڑنا بھی بذات خود نہ صرف ایک سنگین نوعیت کی غلطی بلکہ حقیقت سے منہ موڑنے اوراپنی ذمہ داریوں سے راہِ فراراختیار کرنے کی ایک کوشش ہے۔آج آخرکیا وجہ ہے کہ دنیا کی دوسری قومیں اسباب،وسائل اور تعدادکی کمی کے باوجودسرخ روہورہی ہیں اور مسلمان تعداد، قدرتی وسائل کی کثرت کے باوجودنہ تعلیم و ترقی کی دوڑمیں آگے ہیں اور نہ ہی دنیا کو امن و سکون فراہم کررہے ہیں،بلکہ اس کے برعکس آج لفظ’ مسلمان‘ ہی دہشت گردی،قتل و غارت گری،بدامنی و انتشار کی علامت بن کر رہ گیاہے اور اس کا خمیازہ گیہوں کے ساتھ گھن پسنے کے مترادف ان مسلمانوں کوبھی بھگتنا پڑتا ہے جو ان لعنتوں سے کوسوں دور ہیں۔
ابھی سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک شیعہ باغیوں کو کچلنے کے نام پر یمن میں ان کے ٹھکانوں پر بم برسارہے ہیں۔یمن میں باغیوں کے خلاف اس فوجی کارروائی کے لیے امریکہ فوجی سازوسامان اور انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کر رہاہے۔اس حملے میں بھی مسلمان کے ہاتھوں مسلمان ہی قتل و غارت گری کا شکار ہورہے ہیں۔ابھی تک زائد از۱۰۰؍لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔حملوں کے باوجودشیعہ باغیوں کی پیش قدمی نہیں رکی ہے اورسعودی عرب کے کئی شہران کے اسکڈمیزائیلوں کے نشانہ پر ہیں۔سعودی عرب نے کہا ہے کہ یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک کہ باغی ہتھیار نہ ڈال دیں۔فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ علاقائی عرب فوجی فورس بنانے اور یمن میں زمینی کارروائی شروع کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جنگ کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔اگر شیعہ باغیوں نے جو تمام تر فوجی سازو سامان سے لیس ہیں،جوابی طور پر سعودی مشیروں پر میزائیل داغے تو امکان ہے کہ پاکستان بھی اس جنگ میں کود پڑے کیوں کہ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی خطرہ نظرآیا تو وہ اسے نظرانداز نہیں کر سکیں گے۔
اس سے بھی اندازہ کیا جاسکتاہے کہ یہ لڑائی نہ صرف طویل ہوگی بلکہ اس کا دائرہ بھی بڑھے گا۔یمن کے صدر عبد ربہ منصورہادی جنھیں شیعہ باغیوں نے ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیاہے واضح طورپر کہاہے کہ شیعہ باغی ایران کے آلۂ کارہیں۔مصر کے صدر السیسی نے بھی شرم الشیخ میں عرب قائدین سے خطاب کرتے ہوئے ایران کا نام لیے بغیر کہاکہ یمن میں بیرونی مداخلت(ایران)کی وجہ سے عرب ممالک کے استحکام کو زبردست خطرہ لاحق ہوگیاتھا لہذافوجی کارروائی ناگزیرہوگئی تھی۔لیکن ایران نے اس الزام کو لغوقراردیتے ہوئے سعودی کے زیر قیادت فوجی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ان الزامات اور جوابی الزامات کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس وقت پورا عرب علاقہ شیعہ،سنی کے مسلکی خانوں میں منقسم ہوگیاہے اور یہ لڑائی سعودی عرب بنام حوثی باغی نہیں بلکہ سنی بنام شیعہ ہے۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان رقابت کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اس بار یہ رقابت جنگ میں تبدیل ہوگئی ہے جس کے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
یمن کے شیعہ باغی اس ملک کی آبادی کا کم و بیش ایک تہائی حصہ ہیں۔اگر چہ یمن کے باغی اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انھیں ایران سے کوئی مدد مل رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران ان کی حمایت کرتا رہاہے۔دوسری طرف یمن کے صدر عبدربہ منصورہادی کو سعودی عرب،کویت،بحرین،متحدہ عرب امارات ،قطر،عمان پر مشتمل خلیج تعاون کونسل کی حمایت حاصل ہے۔اب یہ ممالک باغیوں کے خلاف فضائی حملے کر رہے ہیں اور ضرورت پڑی تو زمینی حملے بھی شروع کریں گے۔اس طرح یہ جنگ واضح طورپر شیعہ اور سنی کے درمیان جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔دوسری طرف داعش جو سنیوں کی جماعت ہے،شیعہ باغیوں کے خلاف اس جنگ میں اپنی شمولیت کے لیے زمین تلاش کر چکی ہے اور اس نے گزشتہ ہفتہ ہی شیعوں کی دو مساجد پرخود کش حملہ کرکے ۱۳۰؍سے زائد لوگوں کوہلاک کر دیاہے۔سعودی حملے کے ساتھ اس قسم کے حملے یقینی طورسے شیعہ سنی خلیج کو وسیع کریں گے۔عراق اورشام میں شیعہ سنیوں کے درمیان کھلی لڑائی اب تک ہزارہامسلمانوں کا خون بہا چکی ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ دنیا کے جس خطے میں قرآن نازل ہوا اور جہاں سے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺکونبی آخر الزماں کے طورپرمنتخب فرمایا،آج وہ علاقہ مسلمانوں کے مابین نفاق اور تقسیم کی علامت بنتاہوا نظرآرہاہے۔نسل،مسلک،ثقافت،سیاسی نظریات کے نام پر مسلمان باہم برسرِ پیکار ہیں جبکہ اسلام کی تعلیمات صرف مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کے مابین اتحاد و یکجہتی اور بھائی چارہ قائم کرنے پر زور دیتی ہیں۔عالم اسلام کے ان حالات پر نظرڈالیں تو اس لحاظ سے ہندوستانی مسلمان قابلِ تعریف ہیں کہ وہ کم ازکم ان لعنتوں سے دور ہیں،جن کی گرفت میں آج دنیاکے تقریباً سبھی ۵۷؍ مسلم ممالک نظر آتے ہیں۔خواہ فلسطینی مسلمانوں پراسرائیل کے مظالم ہوںیاآرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکرکے خلاف داعش کی دھمکیاں ؛تمام موقعوں پرہندوستان کے شیعہ سنی طبقات نے اتحاد کا ثبوت دیاہے اور یہی مسلمان ہونے کا تقاضہ بھی ہے۔کاش کہ آج دنیا بھر کے مسلمان قرآن کریم کی اس دعوت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے،جس میں اللہ نے ملت اور امت کی حیثیت سے تمام مسلمانوں کو ایک اور متحد ہونے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایاہے کہ’’تم آپس میں مت جھگڑو کہ تم ناکام ہوجاؤاور تمھاری ہوا اُکھڑجائے‘‘ (الانفال)آج عالمی سطح پر مسلمانوں کی ہوایقیناً اکھڑچکی ہے اور قرآن نے جس خطرسے انھیں پندرہ سو سال پہلے آگاہ کردیاتھا،ان کی غفلت،بے شعوری اور دین بیزاری کی وجہ سے وہ حقیقت بن کر ان سے چمٹ گیاہے۔دنیابھر میں مسلمان ذلت و خواری کی علامت اور نشانی بنے ہوئے ہیں،کہیں بھی نہ تو مسلمانوں کی جانیں محفوظ ہیں ،نہ مال اور نہ ہی عزت و آبرو۔کسی ملک میں ان کے پیچھے یہودونصاریٰ اور ہنودپڑے ہوئے ہیں،توکہیں وہ خود ہی اپنے بھائی کی گردن مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ایسی سنگین صورتِ حال میں اتحاد و اتفاق کے بغیرکسی بھی خیراورمثبت تبدیلی کی توقع فضول ہے۔
مضمون نگار ممبر پارلیمنٹ اور آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن کے صدرہیں۔
 

 

سوچ سے کافی دور ہیں!

مدثر احمد

مسلمانوں کی پسماندگی کے اسباب کیا ہیں یہ ہم اور آپ بخوبی جانتے ہیں اور ان اسباب کودرست کرنے کے لئے بھی وقتََا فوقتََا کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن ان کوششوں کو کامیابی نہ ملنے کی اہم وجہ یہ ہے کہ جب کوئی ادارہ یا تنظیم یا فرد اس کام کو انجام دینے کے لئے آگے بڑھتاہے تو وہ جوش سے کام لیتے ہیں اور ہوش سے کام لینے کا ہوش بھی ان میں نہیں رہتا اور انکے پاس کوئی ایسی مستقل پلاننگ بھی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں۔یہودیوں کی قوم جودنیا کی جملہ آبادی میں سے صرف 1.39کروڑ ہے وہ اس دنیا پر اپنے ایجنڈے میں کامیابی حاصل کرچکی ہے اور اس قوم نے دنیا کی دوسری قوموں کو اپنے سامنے سر جھکانے کے لئے مجبور کردیا ہے۔یہودیوں نے دنیا کو اپنے ماتحت کرنے کے لئے جو طریقہ کار اپنایا ہے وہ دنیا کے سامنے پوشیدہ ہے یہی وہ قوم ہے جس نے دنیا کے پورے فائنانشیل سسٹم کو اپنے قبضے میں کررکھا ہے، دنیا کے بڑے بڑے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں اسی قوم کے ماتحت کام کرتے ہیں اور یہی وہ قوم ہے جو میڈیا کو اپنا غلام بنائی ہوئی ہے اور دوسری قوموں جس میں سب سے زیادہ مسلمانوں کو میڈیا کے ذریعے سے نقصان پہنچایا ہے ۔ آج صرف ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد 20؍ کروڑ کے قریب قریب ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان بیس کروڑ مسلمانوں میں نہ اتحاد ہے ، نہ سیاسی شعور ہے ، نہ سیاسی قائدین ہیں ، نہ ملّی قائدین ہیں اور نہ ہی انکا کوئی میڈیا ہے ۔ محض 1.39؍ کروڑ یہودیوں نے اپنی مستقل مزاجی اور پلاننگ کے ذریعے دنیا پر اپنی گرفت رکھی ہے لیکن ہم بیس کروڑ مسلمان ہوکر بھی اس ملک میں بے بس و لاچار ہوگئے ہیں اسکی وجہ کچھ ہے تو وہ پلاننگ کی کمی ہے !۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی مالی اور تعلیمی حالت بھلے ہی دوسرے طبقوں سے کمزور ہے لیکن انہیں مسلمانوں کا بڑا طبقہ بھی ملک کے مالداروں میں شمار ہوتاہے۔ رئیل اسٹیٹ ، ادویات کے کارخانے ، انڈسٹریس ، سافٹ ویئر کمپنیاں آج مسلمانوں کی مٹھی میں ہیں ۔ اسکے علاوہ بیرونی ممالک میں مقیم مسلمان بھی مالی حالت سے کمزور نہیں ہیں لیکن ان مسلمانوں کا مال سہی سمت میں نہیں لگ رہاہے اور وہ پیسہ ڈال کر پیسہ نکالنے کی کوشش میں ہیں جبکہ یہودیوں کا سوچنا ہے کہ پیسہ ڈال کر کام لیا جائے اور کام جب شروع ہوگا تو خود بخود پیسہ آنے لگے گا۔ مسلمانوں کو آج میڈیا کی اشد ضرورت ہے اور یہ وقتی ضرورت نہیں ہے بلکہ مستقل ضرورت ہے ۔ اس مستقل ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہمیں مستقل منصوبے کی ضرورت ہے اور یہ منصوبہ ہم اور آپ ہی تیار کرسکتے ہیں ۔ ہندوستان بھر کے جتنے بھی مسلم مالدار لوگ ہیں وہ اگر قومی میڈیا کے قیام کے لئے ایک ایک فیصد بھی سرمایہ لگاتے ہیں تو یقیناًہندوستان کا سب سے بڑا میڈیا ہاؤز بن سکے گا۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح سے میڈیا نے ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنایا ہے ۔ ہم نے حال ہی میںیہ بھی دیکھا کہ کس طرح سے بے قصور مسلمانوں کو قصوروار ٹہرانے میں میڈیا نے اہم رول ادا کیا ہے اور کس طرح سے ہماری آواز کو دبانے میں میڈیا نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ہمارے پاس ڈاکٹرس ، انجنیئرس، کارپوریٹ سیکٹر کے بزنس مین ، انڈسٹریلیسٹس کی کمی نہیں ہے اگر کمی ہے تو میڈیا کی جو آج کے دور کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اسی طرح سے کئی مسلم سیاستدان جومسلمانوں کی رہبری کے دعویدار ہیں انہوں نے مسلمانوں کے نام پر اپنی تجوریاں بھری ہیں انہوں نے بھی کبھی اس جانب غور و فکر نہیں کی کہ مسلمانوں کا کوئی میڈیا ہو ۔ ملک کے بڑے بڑے سیاستدان و وزراء سیاست میں رہتے ہوئے بھی صحافت کادامن نہیں چھوڑا ہے کوئی صحافت میںآنے کے بعد سیاست کررہاہے تو کوئی سیاست میں آنے کے بعد صحافت میں ہاتھ ڈال رہاہے اور وہ جانتے ہیں کہ صحافت ہی بچاؤ کا واحد ہتھیار ہے ۔ مگر ہمارے سیاستدان اقتدار میں آنے کے بعد گاڑی بنگلے کی فکر کرتے ہیں یا اپناکالا دھن ریئل اسٹیٹ میں لگاتے ہیں اگر وہی کام وہ میڈیا کے لئے کرتے ہیں تو وہ اس سے انکی دفاع بھی ہوگی اور قوم کی ترجمانی بھی ممکن ہے ۔ اس لئے عزم کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان میڈیا کے قیام کے لئے لائحہ عمل تیار کریں اور باقاعدہ اپنی دفاع کے لئے ہتھیار بنائیں ۔مسلمانوں کے لئے میڈیا کی ضرورت اور اسکی اہمیت کے تعلق سے کافی چرچے ہوئے ہیں اور ان چرچوں کے درمیان وقتََا فوقتََا ایسے لوگ بھی سامنے آتے رہے ہیں جو مسلمانوں کی میڈیا کے ذریعے سے نمائندگی کرسکیں لیکن ان کی بروقت تائید و مدد نہ ملنے کی وجہ سے وہ پست ہمّت ہوکر رہ جاتے ہیں۔ دراصل آج مسلمانوں کی شبیہہ کا تحفظ ہونا ہے تو وہ نہ مسجدوں کے منبر سے ممکن ہے نہ ہی چار دیواری میں بیٹھ کر گھنٹوں چرچے کرنے سے ۔مسجدوں سے مسلمانوں کی شبہیہ درست کرنے کے کام اس لیے ناممکن ہے کیونکہ آج مسلمانو ں کو مسجد کے اندر والے نشانہ نہیں بنارہے ہیں بلکہ مسجدوں کو ختم کرنے والے نشانہ بنارہے ہیں اور وہ مسجدوں میں بیٹھ کر ہمارے علماء کرام کے بیانات سننے سے قاصر ہیں۔ مسلمانوں کے تئیں اٹھنے والے سوالات کے جوابات دینے کے لئے آئے دن جلسے و اجلاس کا بھی خوب اہتمام کیا جارہاہے لیکن ان جلسوں میں پیش کیا جانے والا پیغام عام لوگوں تک پہنچ نہیں پارہاہے کیونکہ اس پیغام کو پہنچانے والا میڈیا ہمارے ساتھ نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی ایسا میڈیا ہے جو ان جلسوں کی تشہیر کرسکے اس وجہ سے ہمارے علماء،اکابرین اور مقررین جو کچھ کہتے ہیں وہ جلسہ گاہ تک ہی محدود ہوکر رہ جاتاہے اور ان جلسوں کے ذریعے سے عام لوگوں کے لئے جو پیغام ہوتاہے وہ پیغام عام نہیں ہوتا۔ حال ہی میں مہاراشٹر کے ناگپور میں راشٹریہ سویم سیوکھ سنگھ کا قومی جلسہ منعقد کیا گیا تھا جس میں ہزاروں کی تعداد میں سنگھ کے کارکنوں نے شرکت کی تھی اس جلسے کی سرخیاں ملک کی کم وبیش میڈیا چینلس راست نشریات کرنے کے پابند تھے اور کئی چینلوں میں اس جلسے کو لے کر بریکنگ نیوز بھی دکھائے تھے مانو کہ راشٹریہ سویم سنگھ ایک سرکاری ادارہ ہے اور اسی کی وجہ سے ملک چل رہاہے وہی دوسری جانب جمعیت العلماء ہند ، جماعت اسلامی کے بھی ملکی سطح پر پچھلے مہینوں میں ہی اجلاس کااہتمام کیا گیاتھا لیکن اسکی نشریات نہ سہی کم ازکم اسکرال یعنی مختصر خبروں میں بھی اسے ظاہر نہیں کیا گیا اسی طرح سے پچھلے دنوں ہی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا قومی اجلاس کااہتمام ہواجس میں ملک بھر کے قانون دان ، علماء اور عمائدین کی شرکت ہوئی تھی اس پر بھی ہمارے قومی میڈیا کی نظریں نہیں جمی اور نہ ہی کسی ٹی وی چینل نے یہ گنوارا سمجھا کہ پرسنل لاء بورڈ میں منظور ہونے والی قرار داتوں کی مختصر جھلکیاں پیش کی جائیں۔ اسی طرح سے منگلور میں دو ہفتے قبل ایک مسلم بچی کی آبروریزی کی گئی تھی اس آبروریزی کے خلاف ساحلی علاقے کے مسلمانوں نے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوکر زانی کو گرفتار کرنے کے لئے ریالی نکالتے ہوئے حکومت کی کمزوریوں کے خلاف احتجاج کیا لیکن میڈیا کی کم ظرفی دیکھئے کہ مسلمانوں کی اس ریالی کو انہوں نے بنگلور میں خود کشی کرنے والے آئی اے یس افسر کی موت کے خلاف احتجاج سے جوڑ دیا ۔ اسی طرح سے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پچھلے کئی سالوں سے ملک گیر سطح پر مسلمانوں میں کیڈر بیس کام کررہی ہے مگر کبھی بھی میڈیا نے اس تنظیم کو فروغ دینے کی ذمہ داری نہیں لی لیکن جب بھی اس تنظیم کے اجلاس کے دوران گڑبڑی پیدا ہوئی تو ہمارا میڈیا اس تنظیم کو منفی طور پر پیش کرتارہاہے۔ درحقیقت یہ سب محض اس وجہ سے ہورہاہے کہ ہم مسلمانوں کے پاس فرقہ پرست اور زہریلے میڈیا کا جواب دینے کے لئے متبادل میڈیا نہیں ہے ۔ جب کبھی میڈیا مسلمانوں کے خلاف زہرفشانی کرتاہے تو اسکے جواب میں ہم سڑکوں پراتر کر احتجاج کرتے ہیں ، نعرے بلند کرتے ہیں، توڑ پھوڑ کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ صحافیوں کی پٹائی کرتے ہیں اور ان حرکتوں کوبھی میڈیا احتجاج کے طور پر نہیں بلکہ تشدد کرنے والی قوم کے طورپر مسلمانوں کو پیش کرتی ہے۔دراصل میڈیا کا جواب میڈیا سے ہی دینے کی ضرورت ہے لیکن ہم اس سوچ سے کافی دور ہیں ، ہمارا نصب العین آجکل اسلام کے موافق نہیں ہے بلکہ اسکے برعکس ہوتاجارہاہے ۔ ظلم کی تردید کرنا ، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور حقیقت کو سامنے لانا بھی اسلام کے دائرے میں آنے والی باتیں ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے علماء و اکابرین اس سمت میں غور کرنا ہی نہیں چاہتے ۔ پتہ نہیں کہ انہیں کونسی الرجی ہے کہ وہ مسلمانو ں کو اس بات پر آمادہ نہیں کررہے ہیں کہ مسلمان اپنا قومی میڈیا بنانے کے لئے آگے آئیں۔ جس طرح سے مسجدوں اور مدرسوں کی تعمیر ات کے لئے تحریکیں چلائی جاتی ہیں۔ جس طرح سے ملک و بیرونی ممالک سے مسجدوں ومدرسوں کے لئے چندے وصول کئے جاتے ہیں اگر اسی طرز پر مسلمان اپنے قومی میڈیا کووجود میں لانے کے لئے تحریک چلائے تو یقیناًبہت بڑا کام ہوسکتاہے اسکے بعد نہ ہمیں کسی میڈیا کی زہر فشانی کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے پمفلٹ جاری کرنے پڑھینگے نہ ہی ہمارے وجود کو ظاہر کرنے کے لئے ہزاروں لوگوں کو جمع کرنا پڑھیگا۔ ایک اخبار لاکھوں لوگوں تک پہنچے گا تو ایک ٹی وی چینل سے کروڑوں لوگوں تک پیغام پہنچائیگا۔ اس میں بھی کچھ علماء کا کہناہے کہ ٹی وی تو حرام ہے اس لئے اسکی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ لیکن آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ دس بیس بچوں پر مشتمل مدرسوں کے لئے چندے ہزاروں بچوں کی موجودگی کا حوالہ لے کر وصول کیا جارہاہے تو یہ چندہ کونسا حلال ہوگیا؟۔ موجودہ دور میں کئی فلاحی تنظیمیں کام کررہی اور وہ بھی ایسے کام جس کی ضرورت خود قوم پورا کرسکتی ہے مثال کے طور پر مفت ختنوں کااہتمام، مفت شادیوں کا اہتمام، مفت خون کا چیک اپ کیمپ وغیرہ ۔ ہمارا سوال ہے کہ جس قوم کے ہر گھر میں ٹی وی ہے اور اسکے لئے ڈش کنکشن ہے اور کنکشن کے لئے وہ ماہانہ تین سو روپئے دے سکتی ہے تو کیا وہ اپنے بچے کی ختنہ کے لئے زندگی میں ایک دفعہ تین سو روپئے خرچ نہیں کرسکتی ؟۔ آج قوم کی ان تنظیموں کو اس طرح کے چھوٹے کام کرنے کے بجائے بڑے کاموں کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے اور آج کا بڑا کام میڈیا کا قیام ہے ،اگر میڈیا ہمارے ہاتھ میں ہوگا تو کئی کام آسانی کے ساتھ ہوسکتے ہیں ۔

 

تحفظِ گاؤ کا قانون

مولانا عبدالمعید مدنی

اس وقت بہت تیزی سے گائے کے تحفظ کا مشن کامیابی سے چل رہا ہے۔ مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور ہریانہ میں قانون بن چکا ہے کہ ذبیحہ گاؤ، گائے کا گوشت اور ذبح کرنے کے گائے بیل کی سپلائی سب جرم ہے۔ بیف کھانا غیر قانونی بن چکا ہے۔ مدھیہ پردیش میں ذبیحہ گاؤ پر ۷؍سال کی قید ہو سکتی ہے اور ہر یانہ میں دس سال۔ اور جرمانہ ایک لاکھ تک ہو سکتا ہے۔ مہاراشٹر میں اس پر پانچ سال کی جیل ہے اور دس ہزار جرمانہ۔ یہ بھگوا رنگ کا کالا کارنامہ ہے اور جلد از جلد پورے ملک میں یہ کالا قانون نافذ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جب کسی بد بخت کے قول یا ایکشن سے اہانت رسول ہوتی ہے اور مسلمان احتجاج کرتے ہیں تو یہی کالا قانون بنانے والے ساری دنیا کے شیطانوں کے ساتھ سُر میں سُر ملاتے ہیں اور کہتے نظر آتے ہیں اظہار رائے کی آزادی کا حق نہیں چھیننا چاہیے۔ اور یہاں دوہرے کردار، تضاد پسند ذہنیت اور منافقانہ رویہ رکھنے والے یہ کہتے نظر آتے ہیں دوسروں کے مذہبی جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔ اور یہی مجرموں کی بنچ ہے جس نے بابری مسجد کو گرانا اور مسلمانوں کے مذہبی حقوق پر ڈاکہ ڈالنا کمالِ شجاعت گردانا ہے۔
گائے ہندو مذہبی سیاست بازوں کے نزدیک محترم بلکہ (بھگوان) کے چودہ اوتاروں میں سے ایک اوتار ہے۔ اس کے اندر فرشتے آباد رہتے ہیں لہذا اسے ذبح نہیں کرنا چاہیے۔ اوروں کے نزدیک گائے ایک گھاس خور جانور ہے ’’بہیمۃ الأنعام‘‘ میں سے ہے اس کا دودھ گھی دہی اور گوشت کھانا جائز ہے۔ وہ ایک جانور ہے اسے انسان کی خدمت کرنے اور غذا فراہم کرنے کے اللہ تعالی نے اسے بنایا ہے۔ اگر کسی کا عقیدہ اسی کو بھگوان کا اوتار مانتا ہے تو وہ جانے اس کا کام جانے۔ ایک شے اگر ایک شخص کے لیے مباح ہے تو وہ اسے کھائے اور کسی کے لیے اگر اسے پوجنا ٹھہرا تو پوجے۔ اسلام میں غیر اللہ کی پوجا دنیا کا سب سے بڑا جرم ہے۔ مسئلہ صرف کھانے کا نہیں ہے وہ تو مباح کے درجے میں ہے فرض واجب نہیں ہے پسند کا معاملہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ غیر اللہ کی عبادت ہمارے لیے حرام ہے اور قابلِ نفریں۔ کیا ہماری خاطر کوئی غیر اللہ کی پوجا بند کرے گا۔ عقائد کا ٹکراؤ سب سے بڑا مسئلہ ہے کون اس ٹکراؤ کا فیصلہ کرے گا؟ کسی کے بس میں نہیں ہے اس لیے اصولا ہونا یہ چاہیے کہ ہماری گوشت خوری پر جبر نہ ہو اور ہم اصنام پرستی پر کوئی جبر نہ کریں۔ آستھا کا مسئلہ ہے اس میں جبر نہیں چلتا ہے۔ اصولا ہونا یہی چاہیے کہ اس میں آزادی رہے ہم گوشت کھاتے رہیں اور آپ اس کی پوجا کرتے رہیں۔ لیکن ظلم و جبر میں دلیل اور حجت کہاں کام آتی ہے۔ جس ملک میں بابری مسجد گرانے کو بہادری گردانا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر مقبولیت بڑھتی ہے بلکہ کانگریس اس کا تالا کھلوا کر ہندو کارڈ کھیلتی ہے اس میں عقل و خرد کی بات کیسے کی جائے۔گاندھی جی کی جہاں بہت سے شاندار یاد گار ہیں جیسے تقسیم ہند۔ اب تو اسے انڈین رائٹر بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوستان کے بٹوارے میں اصل کردار انھیں کا ہے۔ ان کا پوتا راجموہن گاندھی بھی اسے تسلیم کرتا ہے۔ رام راجیہ کا نعرہ اردو کی جگہ ہندی کا بکھیڑا وغیرہ۔ وہیں گؤ رَکشا کا ایشو بھی انھیں کی دین ہے۔ مدن موہن مالویہ جیسے ہندو فرقہ پرست لوگوں کو وہ ان کاموں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ان کا یہ چہرہ بھی اب لوگ جاننے لگے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ساور کر جو ہندوتو سیاست کے نظریہ ساز ہیں اور گاندھی کے ہمسر اور ہم عصر گائے کو ’’مقدس ماں‘‘ نہیں مانتے تھے۔’’ایک بار چھپرا میں گاندھی جی نے میرے پیروں کو پکڑ کر کہا کہ مسلمانوں سے گائے کی قربانی موقوف کرا دیجیے۔ میں نے کہا بے شک بشرطیکہ آپ اپنی قوم سے بت پرستی موقوف کرا دیجیے۔ وہ ہنس کر کہنے لگے اس کو کوئی نہیں مان سکتا‘‘ (واقعہ شاہ سلیمان پھلواروی، آپ بیتی نقوش ج2،ص:1527)
گؤ رکشا کو انھوں نے مشن بنایا اور اپنی سوچی سمجھی فکری تضاد میں رچی بسی شخصیت کو منصرم صدی کے دوسرے دہے میں مسلم شخصیتوں محمد علی جوہر، عبدالباری فرنگی محلی، عبدالماجد بدایونی وغیرہ پر ایسا تھوپا کہ اپنے گاؤ ذبیحہ کی پابندی کو رضاکارانہ طور پر ان سے منوا لیا اور اسے ایک مسلم بنا دیا۔ اس وقت کے ہندو مسلم لیڈروں نے یہ نہ سوچا کہ اس کے دینی سماجی اقتصادی سیاسی اور دستوری نہایت خطرناک نتائج مرتب ہوں گے۔ گاندھی جی سوامی شردھا نند سے بھی زیادہ فرقہ پرست تھے اور ان سے بھی زیادہ مضر۔ اس وقت آزاد ہندوستان میں فرقہ پرستی کی ساری بلائیں انھیں کا کرم ہیں۔ وہ اتنے میٹھے زہر تھے کہ مسلم علماء تک کو وہ آب حیات معلوم ہوتا تھا ۔اور اپنی فرقہ پرستی بھی جذباتی مسلم قیادت کو استعمال کرکے منوا لیتے تھے۔ یہ کام وہ بڑی چالاکی سے کر لیتے تھے۔ دوسرے گرم فرقہ پرست اپنی فرقہ کو مسلمانوں سے نہیں منوا سکتے تھے۔ تحفظ گاؤ، ذبیحہ گاؤ نسبتاً مسلمانوں کے لیے بہت بڑا مسئلہ نہیں۔ یہ در اصل ہندؤں کے لیے زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ بعض ریاستوں میں مسلمان گائے کا گوشت کھاتے تھے اب نہ کھائیں گے۔ بھینس پہلوان زندہ باد۔ گائے کے ذبیحے کا بزنس کرنے والے مسلمان دھیرے سے گائے ماتا سے بھینس پہلوان کی طرف آجائیں گے اور سب کچھ نارمل ہو جائے گا۔ اور چمڑے کی صنعت چربی ہڈی کھر سینگ کی صنعت زیادہ متاثر نہ ہوگی۔تحفظ گاؤ بل لگتا ہے دھیرے دھیرے ہر ریاست میں پاس ہوگا اور ملک میں مکمل تحفظ گاؤ کا قانون لاگو ہو جائے گا۔ در اصل یہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے پبلک رائے بنانے کا ایک بہانہ ہے اور ہندو ووٹ کی اکثریت کو پولارائزڈ کرنے کا ایک مفسدانہ عمل ہے افسانویت کو مذہبی رنگ دینے کی بات ہے۔ سوامی وویکا نند اور ان کے ہم خیال ہند مصلحین نے یہ ثابت کیا ہے کہ گائے کا گوشت ہمیشہ ہندوستان میں کھایا جاتا رہا ہے اور اس کی قربانی دی جاتی رہی ہے۔ اور یہ ویدک دھرم کی تہذیب کا حصہ ہے۔ جینیوں کے زیر اثر ہندوستان جیو رکشا اور گؤ رکشا کا نظریہ پروان چڑھا۔ ورنہ یہاں کے قدیم باشندے اور پھر باہر سے آئی قومیں گوشت خور تھیں۔ ہندو مذہب اور تاریخ کے ماہرین تحفظ گاؤ کو ایک سیاسی ہتھکنڈا تسلیم کرتے ہیں۔ سیتا کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک بار کشتی میں جمنا پار کر رہی تھی برسات کا موسم تھا ندی میں سیلاب آیا ہوا تھا کشتی ہچکولے کھانے لگی بھنور میں پھنس گئی اب ڈوبی کی تب کا منظر تھا انھوں نے نذر مانی کی بیڑا پار لگ جائے گا تو مدرا شراب اور گائے کے گوشت کا صدقہ کریں گی۔ ویدک دھرم میں آریوں کے ہاں اس کی ممانعت نہ تھی۔ بعد میں بدعات اور توہمات نے یہ مشکلیں پیدا کیں اور افسانوں کو حقیقت کا رنگ دے دیا گیا اور ایک صدی سے اسی پر سیاست چل رہی ہے اور اس وقت ہندو کٹر پنتھی کی بد ترین شکل بنی ہوئی ہے۔ گائے کے تحفظ کا ہندو کٹر پنتھیوں یا دہشت گردوں نے جو مشن چلا رکھا ہے اسے انھوں نے فرقہ وارانہ رنگ دے کر سیاسی مذہبی سماجی اقتصادی اور دستوری الجھنیں پیدا کر دی ہیں۔ یہ فطرت کے خلاف جنگ ہے اور ملک و قوم اور انسان کے خلاف ایک فساد ہے۔ یہ سیاسی یک قطبیت کی ناکام جدو جہد ہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تہس نہس کرنے کی ایک سازش ہے۔ ایک کمیونٹی کو اقتصادی حیثیت سے نقصان پہونچانے کا تنگ دلی کا اظہار ہے اور سیکولر ہندوستان اور اس کی جمہوریت کی شناخت کو ختم کرنے کا ایک فتنہ ہے۔بات وکاس کی ہو رہی ہے اور امریکا کو امام مانا جاتا ہے امریکہ میں ہندوستان کی قومی پیداوار کے قریباً دس فیصد کے برابر بیف کا پروڈکشن ہے اورسو ارب ڈالر سے زیادہ امریکہ سے بیف کی سپلائی ہوتی ہے۔ ہندوستان میں گائے بیل کے گوشت پر پابندی لگا دی گئی اس سے کیا ہوگا اگر صحیح معنوں میں تحفظ گاؤ بل اور ایکٹ اور قانون پر ساری ریاستوں پر عمل ہونے لگے اور ہر جگہ یہ قانون نافذ ہو جائے اور سمجھ دار مسلمان گائے کے گوشت کا مکمل بائیکاٹ کر دیں تو چند سالوں میں آج کے بل پاس کرنے والے چلا اٹھیں گے کہ مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے دو۔ انھیں جوش میں ابھی اندازہ نہیں ہے کہ مستقبل میں اس سے کتنے مسائل پیدا ہوں گے۔ذرا تصور کرو اگر کٹر پنتھی فنٹک ہندؤں کی خواہش کے مطابق گائے کے گوشت پر مکمل پابندی عائد ہو جائے۔ مریض اور بوڑھی گائے اور بیل بیف کے شوقینوں کی خوراک نہ بنیں تو پھر کیا ہوگا؟ مندروں میں گؤ دان میں آنے والی ساری گائیں، بتوں کے نام پر چھوڑی ہوئی گائیں اور سانڈ بوڑھی گائے اور بیل، مریض گائے اور بیل چند سالوں میں اتنی کثیر تعداد میں ہو جائیں گے کہ ملک کی معیشت کے لیے بہت بڑا بوجھ بن جائیں گے۔ مان لیا اگر پانچ سال کے اندر ان معذور اور بوڑھی گائے بیل کی تعداد پورے ملک میں پانچ کروڑ ہوجائے تو گؤ شالوں کا انتظام ان کی خوراک کا انتظام ان کے دوا علاج کا انتظام کون کرے گا آج کا لالچی انسان خرچے کے ڈر سے بچیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ماں کے پیٹ ہی میں مار دیتا ہے اور بوڑے ماں باپ کو یااپاہج اولاد کو گھر سے نکال دیتا ہے۔ کیا وہ بوڑھی مریض گائے اور بیل کو پالے گا۔ جب کہ ان سے کسی آمدنی کی امید نہ ہو۔ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے زہریلا انجکشن دے کے ان سے نجات حاصل کرنے کی کوشش ہوگی اور گائے بیل کی حفاظت کے بجائے ان کاقتل عام ہوگا۔ یعنی کھانے والوں کے ہاتھ سے انھیں ذبح کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ البتہ خود اس کے محافطین ان کو قتل کرنا پسند کرین گے۔ تحفظ گائے قانون کا اگر مکمل نفاذ ہو تو اس کا انجام گائے کا قتل عام ہے۔ تحفظ گائے قانون گائے کے ذبیحے پر لاگو کرنے سے زیادہ ان مندروں اور ان کے پروہتوں پنڈتوں اور پجاریوں پر لاگو کرنے کی ضرورت ہے جہاں دان اور چڑھاوے میں بکثرت یہ مقدس مخلوق آتی ہے اور یہ دان پانے والے ان کو کیش کرنے اور ان سے پیچھا چھڑانے کے لیے قصابوں کا سہارا لیتے ہیں۔ در اصل ہندوستان میں گائے کے ذبیحہ کو مسلمانوں کے لیے سب سے خطرناک مسئلہ بنا دیا گیا پھر بھی یہ رکتا نہیں ہے اس کی سب سے بڑی وجہ صرف یہ ہے کہ گائے فراہم کرنے، گائے کی کھالوں کی مختلف مصنوعات گائے کے گوشت کی فارن میں سپلائی کے پیچھے اصلا ہندو ہیں۔ مسلمان کا حصہ اس میں عموما غیر صحت بخش گوشت کھانے کا ہے۔ ملّی حفظان صحت کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے اگر مسلمان رضاکارانہ طور پر اس سے پر ہیز کرنے لگیں تو انھیں کے لیے بہتر ہوگا۔ کل مسئلے کا تعلق مسلمانوں سے بس اسی قدر معمولی سا ہے اس سے اگر باز رہیں تو کیا فرق پڑے گا۔ بقیہ سیاسی مفاد پرست اور کٹر پنتھی ہندو جانیں۔ یہ ان کی درد سری ہے کہ گؤ رکشا کیسے کریں گے ان کے لیے گؤ شالہ اور اولڈایج ہوم کیسے بنائیں گے۔ ان کا علاج کیسے کریں گے ان کا کفن دفن کیسے کریں گے۔ ان کی سترپوشی کریں گے یا انھیں ننگا گھومائیں گے۔ ان کی عنایتیں صرف گؤ ماتا تک رہیں گی کہ بیل فادر پر بھی مبذول ہوں گی بیف پر کنٹرول کرنے کا مطلب ہے کہ گؤ ماتا اور بیل فادر تک قانون کے تحفظ کا سائبان دراز ہو جائے۔
APEDA کے مطابق اس وقت ہندوستان میں مہاراشٹر پنجاب اور اتر پردیش سب سے بڑے بیف پروڈیوسر اور سپلائر ہیں۔ یہ زرعی پیداوار کے تیار شدہ سامانوں کی ترقی اور سپلائی کی سرکاری اتھارٹی ہے۔ بیف کو بھینسے کے گوشت کے مقابلے میں زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ ابھی ریستوران میں بیف کی ڈشیں تیار کرنے اور پیش کرنے پر پابندی نہیں۔ یہ بھی ایک تضاد ہے اگر اس پر پابندی عائد ہوگئی تو باہر سے گائے کا گوشت امپورٹ کیا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے باہر گائے گائے ہے گؤ ماتا تو ہے نہیں نہ بیل فادر ہے پھر اس کے کھانے میں حرج کیا ہے۔ بہر حال بھینسا پہلوان نے بیل فادر اور گؤ ماتا کی جگہ لے لی ہے۔
مذکورہ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ زرعی پیداوار میں باسمتی چاول کے بعد ہندوستان سے سب سے زیادہ اکسپورٹ ہوتاہے۔ 2013ء میں اپریل تا اکتوبر13917؍کروڑ روپیے کا بھینسے کا گوشت سپلائی کیا گیا ہے یعنی گذشتہ سال کے مقابلے میں اسی مدت میں 58فیصد زیادہ ہندوستان سے بھینسے کے گوشت کی سپلائی ہوئی ہے اس کی طلب میں 23فیصد کااضافہ ہوا ہے۔ دنیا میں بھینسون کی کل آبادی کا 58فیصد حصہ ہندوستان میں ہے ہندوستان میں 8کروڑ 80لاکھ بھینس اور بھینسے ہیں۔ ہندوستان میں3600مذبح ہیں ہندوستان میں یہ صنعت قدم جما رہی ہے اور تیزی سے ترقی کی راہ پر بڑھ رہی ہے ڈر ہے کہیں اسے نہ ہندو دہشت گردوں کی نحوست کھا جائے۔ اس وقت ہندوستان سے بھینس اور دیگر جانوروں کا گوشت ویتنام، ملیشیا، تھائیلینڈ، آسٹریلیا، عرب امارات، سعودی عرب اور مصر میں اکسپورٹ کیا جا رہا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ بڑے کا (یعنی گائے بیل بھینس بھینسا) کے تین بڑے سپلائر ہندو ہیں اس میں حیدر آباد کا (الکبیر) سب سے زیادہ مشہور ہے۔گائے اور بیل کے ذبیحہ اور ان کی سپلائی پر پابندی سے گوشت اور چمڑا صنعت پر بہت برا اثر پڑے گا اور مستقبل میں اس کا بہت خراب رد عمل آئے گا بشرطیکہ کی پابندی موثر ہو ورنہ پیش گفتاری اسی کی ہو رہی ہے کہ اس کے غیر قانونی ٹریڈ میں اضافہ ہوگا اور چمڑے کی صنعت میں چین کو بڑھنے کے لیے مزید ایک موقع ملے گا۔
سچ پوچھو تو یہ پابندی فطرت کے ساتھ جنگ کرنے کے مترادف ہے اور یاد رہے فطرت کے ساتھ جنگ کا بیک فائر بہت مہلک ہوتا ہے اور دستوری کی روح کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ اربوں کی تجارت کو داؤں پر لگانا ہے۔ فرقہ پرستی اور نفرت کا مظاہرہ ہے۔ غریبوں کی خوراک چھیننا ہے جن میں مسلمان عیسائی ہندو و بودھ بھی آجاتے ہیں۔ یہ پابندی ایک جبری عمل ہے اس پابندی کے بھرپور سلبی نتائج دکھلانے کے لیے اس کی بھرپور تنفیذ ہونی چاہیے اور پانچ سالوں تک مسلمان سو فیصد رضاکارانہ طور پر گائے کے کسی مسئلے کے قریب نہ جائیں تاکہ تحفظ گائے بیل کے بجائے اس کے محافظین ان کا قتل خود بخود کریں اور جو سادھو ہندو کسان اور ہندو ٹریڈرس کے ہاتھ گائے بیل کا بیوپار کرنا چاہیں انھیں قانون کے حوالے کر دینا چاہیے۔ بوڑھی یا مریض گائے یا بیل بیچنا چاہیں ان کو پولیس کے حوالے کر دینا چاہیے یا آر ایس ایس کے لوگوں کو بتا دینا چاہیے تاکہ وہ لے جائیں ان کی حفاظت کریں۔
مسلم پرسنل لاء بورڈ کو چاہیے کہ ایک کنزیومر کمیٹی بنادے تاکہ صارفیت کی حلت و حرمت کو یقینی بنایا جا سکے اور بورڈ کی سال بہ سال تجدید ہوتی رہے جس میں دین اور صحت کے ماہرین شامل ہوں جو حیلہ کا چکر نہ جانتے ہوں امانت دار ہوں رشوت خور نہ ہوں۔ یہ پولیٹری فارم اور مذابح چیک کریں اور ذبح کرنے کے طریقے۔ ان کی خوراک، جانور کے فٹ ان فٹ ہونے کے متعلق جائزہ لیں اور حلت کی سند دیں۔ اسی طرح دیگر اشیاء خورددنی و اشیاء استعمال جیسے بسکٹ، مشروبات، بریڈ، صابن، ٹویلٹریز، ٹوتھ پیسٹ، کریم، آئس کریم، ریستوران میں دسیوں ڈشیں حرام چکن برگرز پزا وغیرہ کو چیک کریں اور حرام حلال کے متعلق ڈکلیر کریں۔ اس وقت تیار شدہ پیکڈ گوشت تک بازار میں مہیا ہیں، حلال حرام کی تمیز نہیں ہے سب کھاتے جا رہے ہیں۔ کسی کی خبر نہیں ہے۔مسلم پرسنل لاء کے ذمہ داران اور رومال ڈنڈا پارٹی کو ان قباحتوں کی خبر نہیں ہے۔ ایک پلیٹ فارم بن گیا ہے اٹھک بیٹھک کا اور بے شعوروں اور تعصب سے بھرے علاماؤں کا جمگھٹا ہے جو ہر بنی ہوئی شے کو بگاڑ کر رکھ دیں اور ہر شے کو اپنی تحویل میں لینے کی تیزی دکھلائیں۔ حلال حرام کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور صارفیت کا فیلڈ بہت بڑا بن چکا ہے تمام بینک، شیر بازار، تجارتی ادارے، مال(MALLS) اشیاء خورنی، اشیاء استعمال، گھریلو استعمال کی چیزیں سب اس میں آتے ہیں۔ اس سلسلے میں گائڈ کرنے کی ضرورت ہے ہزاروں قسم کی بسکٹیں ہیں، مٹھائیاں ہیں نمکین ہیں ان کے اجزاء میں حرام اشیاء کی آمیزش ہوتی ہے ان کوپتہ لگانے کی ضرورت ہے۔ گوشت سپلائی میں مردہ، بیمار، باسی گوشت جانوروں کی خوراک میں حرام کے بہت سے امور ہیں کسی پر کوئی نگرانی نہیں ہے۔ دودھ کی سپلائی میں گھپلا ہے اس کے اندر پتہ نہیں حلال کی آمیزش ہوتی ہے یا حرام کی۔ بناپستی میں مردہ جانور حرام جانوروں کی چربی کی آمیزش، گھی میں چربی کی آمیزش۔ امت اسلامیہ کو حرام سے بچانا علماء اور ذمہ داروں پر فریضہ ہے۔ آئی ٹی کی دنیا کی صارفیت آزاد ہے نسل کی نسل اس میں لگی پڑی ہے اور ہر طرح کی ذہنی اخلاقی حتی کہ عقائد کی بگاڑ کا شکار ہو رہی ہے لیکن اس کے لیے کوئی رہنمائی نہیں ہے۔ نہ ایسا کوئی دینی ادارہ ہے۔ مسلم پرسنل لاء کے ذمہ داروں پر یہ فریضہ عائد ہے لیکن جس کی صدارت کا معیار ڈنڈا اور رومال ہو ان سے اس کی توقع بے جا ہے اور جس طبیعت و مزاج کے لوگ اس کے اندر ہیں ان کے بس کا یہ کام ہے بھی نہیں۔ چار مسلم پرسنل لاء بورڈ ان کی ہیکڑی اور متعصبانہ رویے اور تنگ دلی و تنگ نظری ہی سے بنے ہیں۔ یہ اگر کچھ کریں بھی تو ان کی VALIDITY ہی کیا ہے۔ کمپنیوں سے رشوت کھا کر یہ خود حرام کھلانے لگیں گے۔بہر حال ’’اسلامک کنزیومر بورڈ‘‘ بنانے کی اشد ضرورت ہے اور اس کو سچے ایماندار غیر متعصب لوگوں کو بنانا و چلانا چاہیے۔ ’’حکومت الٰہیہ‘‘ والے اس کو چلاسکیں گے؟ نہیں۔ بے شعوروں اور تبرّے بازوں کی پارٹی اسے کیا چلائے گی۔

 

ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

ڈاکٹر مشتاق احمد

ان دنوں قومی سطح پر بہار کا میٹرک امتحان سرخیوں میں ہے اور کیوں نہ ہو کہ ہمارے نونہالوں نے کچھ کارنامے ہی ایسے کئے ہیں۔ ثانوی تعلیم کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے کہ اسی اینٹ پر اعلیٰ تعلیم کی مستحکم دیوار بلند ہوتی ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ نہ صرف بہار بلکہ قومی سطح پر ثانوی تعلیم کے معیار کو جو اہمیت ملنی چاہئے وہ نہیں دی جا رہی ہے۔ اب تو بغیر امتحا ن دئیے ہوئے بھی لڑکے دسویں پاس کر سکتے ہیں اور ملک میں کچھ اس طرح کا تعلیمی نظام قائم ہو چکا ہے کہ اب کوئی فیل کرتا ہی نہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ثانوی درجہ میں ساٹھ فی صد نمبر حاصل کرنے والے طلباء کا شہرہ دور دور تک ہوتا تھا اور آج صد فی صد نمبر لانے والے کی بھی پوچھ نہیں ہے کیوں کہ وہ اس وقت کے ساٹھ فی صد سے کم نمبر حاصل کرنے والوں کے مقابلے کھڑے تک نہیں ہو سکتے۔ ہماری نئی تعلیمی پالیسی نے ہمیں اس چوراہے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے جہاں سے جو بھی راستہ نکلتا ہے وہ ہمیں تاریکیوں تک لے جاتا ہے۔ عا لمیت کے نام پر جس طرح تعلیم کے شعبے کوبھی تجارتی روپ دے دیا گیا ہے اس سے تو تعلیم کے بنیادی ڈھانچوں کا متزلزل ہونا لازمی تھا۔
بہر کیف بہار میں میٹرک کے امتحان میں نقل نویسی کی جو تصویر قومی سطح پر میڈیا نے دکھائی ہے اس سے بہار کا تعلیمی چہرہ مسخ ہوا ہے لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ یہ مکمل بہار کی تصویر نہیں ہے۔ بہار میں کچھ خاص علاقے ہیں جہاں ہمیشہ سے اس طرح کا ماحول رہا ہے اور اس کے پسِ پردہ یہاں کی سیاست کام کرتی رہی ہے۔ علاقائی سطح سے لے کر ریاستی سطح کے سیاسی لیڈران من چاہا امتحان سنٹر قائم کراتے رہے ہیں اور نقل نویسی کو فروغ دیتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب تعلیم جیسے تعمیر کردار کے عمل پر سیاست ہوگی تو اس کا حشر تو یہی ہونا تھا۔ورنہ یہی بہار ہے کہ جہاں کے آئی اے ایس اورآئی پی ایس نے قومی سطح پر اپنا عَلم بلند کررکھا تھا اور اس وقت نہ ٹائی پینٹ والے کارپوریٹ گھرانے کے اسکول تھے اور نہ سو میں سو نمبر لانے کا رواج تھا۔ بلکہ سب کے سب سرکاری مکتب میں بوریوں پر بیٹھ کر اپنے اساتذہ سے شعور وآگہی کے اسباق حاصل کرتے تھے۔ لیکن اس وقت تعلیم سیاست کا ٹولس نہیں بنا تھا۔ بلکہ اس وقت کے سیاست داں بھی تعلیمی معیار کی بلندی کے لئے کوشاں رہتے تھے۔ لیکن اسّی کی دہائی کے بعد تعلیم پر سیاست کا کچھ اس طرح غلبہ ہوا کہ تعلیم برائے تعلیم رہ گئی اور تعلیم کا بنیادی مقصد ہی فوت ہوگیا۔ تعلیم کا مطلب صرف اور صرف ڈگری حاصل کرنا رہ گیا۔ نتیجہ ہے کہ ہر وہ شخص جس کی رسائی سیاست دانوں تک ہوئی اس نے ڈگری کی بدولت اپنی عاقبت سنوار لی۔ سماج میں دھیرے دھیرے یہی روش عام ہوتی گئی اور ہر وہ شخص جو اپنے کوکسی لائق سمجھتا ہے وہ کسی بھی طرح ڈگری حاصل کرنا اپناآئینی حق سمجھنے لگاہے۔بہار میں زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی وبا کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ واضح ہو کہ پہلے میڈیکل اور انجنیرنگ کالجوں میں نمبر کی بنیاد پر داخلہ ہوتا تھا اس لئے نمبر بڑھوانے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال ہوتے تھے چوں کہ اس وقت تعلیم عام نہیں تھی اور بڑے لوگوں کے بچوں کو ہی اسکول کے آگے کی تعلیم نصیب ہوتی تھی ا س لئے سفید پوش طبقہ بڑی ہوشیاری سے ان کاموں کو انجام دیتے تھے۔ لیکن جیسے جیسے تعلیم عام ہوئی اور سماج کا وہ طبقہ بھی اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی جد وجہد کرنے لگا جس نے کبھی ایک حرف بھی نہیں پڑھا تھا ۔ یہی وہ نازک دور تھا جب سیاست دانوں نے تعلیم کو سیاست کا حربہ بنا لیا۔نا خواندہ لوگوں کو تعلیم کے نام پر سبز باغ دکھایا جانے لگا نتیجہ یہ ہوا کہ نقل نویسی کو فروغ حاصل ہونے لگا۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ نمبر کی بنیاد پر ملازمت بھی دی جانے لگی اب نمبر کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ۔ بالخصوص 2005ء میں موجودہ نتیش کمار کی حکومت نے ریاست میں ایک لاکھ پرائمری اساتذہ کی بحالی میں نمبر کو ہی فوقیت دی۔ اس کے بعد تو زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی دوڑ اور تیز ہوگئی۔ مجھے ذاتی تجربہ ہے کہ 2005ء کے بعد امتحان اور کاپی جانچ میں بد عنوانی کو فروغ ملا ہے۔ جس کا احساس بعد میں حکومت کوبھی ہوا کہ نمبر کی بنیاد پر اساتذہ کی بحالی ایک فاش غلطی تھی۔ لہذا اس کے بعد ریاست میں اساتذہ کی بحالی کے لئے ٹی ای ٹی کا امتحان لیا جانے لگا۔ حال ہی میں ٹی ای ٹی کے امتحان میں اسّی فی صد امیدوار ناکام ہوئے تھے جس پر بھی خوب سیاسی نعرہ بازی ہوئی حزب اختلاف اور حکمراں جماعت کے درمیان سالوں تک نوک جھونک چلتی رہی۔ واضح ہو کہ 2005ء میں نمبر کی بنیاد پر جو اساتذہ بحال ہوئے تھے ان کا بھی امتحان لیا گیا اور المیہ یہ رہا کہ اس میں بھی ساٹھ فی صد اساتذہ پہلی دفعہ میں پاس نہیں کر سکے۔ چوں کہ حکومت کی مجبوری تھی کہ وہ ان اساتذہ کی بحالیوں کو رد نہیں کر سکتے تھے اس لئے انہیں ایک دو نہیں بلکہ تین چار مواقع دئیے گئے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہتیرے ایسے اساتذہ بھی ہیں جو چار مواقع کے بعد بھی ٹسٹ ا متحان پاس نہیں کر سکے ہیں۔ غرض کہ نقل نویسی یا پیروی وپیغام کی بنیاد پرزیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کا خمیازہ نہ صرف وہ اساتذہ اٹھا رہے ہیں جو نمبر کی بنیاد پر بحال ہوئے ہیں بلکہ وہ نئی نسل کے مستقبل کو تاریک کر رہے ہیں۔ مگر کیا کیجئے کہ ایسے اساتذہ جن اسکولوں میں بحال ہیں وہاں نہ ہمارے سرکاری افسران کے بچے پڑھ رہے ہیں اور نہ ہمارے لیڈران کے۔بلکہ اب تو سماج کے متوسط طبقے کے بچے بھی سرکاری اسکولوں کا رخ نہیں کرتے۔ نتیجہ ہے کہ دنوں دن سرکاری اسکولوں کی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔ میٹرک امتحان میں نقل نویسی کی وجہ بھی ہماری ناقص تعلیمی پالیسی کا حصہ ہے۔ اگر پرائمری اور مڈل سطح پر تعلیمی معیار کو بلند کیا جائے اور ثانوی درجے میں نصابی تقاضوں کو پورا کرایا جائے تو ممکن ہے کہ نقل نویسی پر روک لگ سکے ساتھ ہی ساتھ تعلیم پر جو سیاست ہو رہی ہے اس پر بھی روک ضروری ہے۔ ورنہ یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ امتحان میں نقل نویسی اور پرچہ جانچ میں نمبر بڑھوانے کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنی ہوگی کہ اسی میں سماج کا بھلا ہے ورنہ ہمارے سیاسی لیڈران اسی طرح بے سر پاؤں کی بیان بازی کرتے رہیں گے جس طرح حالیہ میٹرک کے امتحا ن میں نقل نویسی کی تصاویر کو قومی سطح پر دکھائے جانے پر ہو رہی ہے ۔ ہمارے وزیر تعلیم یہ کہہ کر اپنا پلاّ جھاڑ رہے ہیں کہ دوسری ریاستوں میں بھی نقل نویسی کی روش عام ہے۔ تو راجد سپریمو لالو یادو کتاب کھول کر لکھنے کی وکالت کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں کا بیان شہرت حاصل کرنے والا ہے ۔ ورنہ اتنا غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے وقت انہیں اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہئے کہ بہار سے باہر جانے والے ان بچوں کی ساکھ کیا ہوگی جو صحیح معنی میں اپنی محنت ومشقت کی بنیاد پر نمبر حاصل کرتے ہیں اور اپنا مستقبل روشن کرنے کے لئے دوسری ریاستوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج بھی ایسے طلباء کی کمی نہیں کہ جو نقل نویسی کو معیوب سمجھتے ہیں اور پیروی پیغام کی بدولت نمبر حاصل کرنے کو اپنے مستقبل کے لئے مضر سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آ ج بھی مختلف مقابلہ جاتی امتحان میں بہار کے طلباء کی حصہ داری قابلِ رشک ہوتی ہے۔ اس لئے کسی خاص علاقے میں نقل نویسی کے ماحول کی بنیاد پر پوری ریاست کے متعلق کوئی رائے قائم نہیں ہونی چاہئے کہ اس غلط فہمی سے ان بچوں کا حوصلہ ٹوٹے گا جو اپنی صلاحیت کی بنیاد پر اچھے نمبر حاصل کرتے ہیں۔حال کے دنوں میں حکومت کے ذریعہ فرسٹ ڈویزن حاصل کرنے والے طلباء کو د س ہزار روپے بطور وظیفہ دینے کا اعلان بھی نقل نویسی کو قدرے فروغ دیا ہے اگر چہ حکومت نے تو یہ اعلان محض طلباء کے اندر مقابلہ جاتی ذہن بنانے کے لئے کیا تھا مگر اس پر بھی جیسے ہی سیاسی رنگ چڑھا تو زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کر نے اور فرسٹ ڈویزن سے پاس ہونے کی دوڑ بڑھ گئی۔ نتیجتاً بعض علاقے میں سرکاری اسکولوں کے امتحان میں نقل نویسی عام ہونے لگی۔جس کی ایک مثال حاجی پور کاحالیہ میٹرک امتحان کا منظر نامہ تھا جسے قومی سطح پر میڈیا میں بڑے ہی اہتمام کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ یہ پوری ریاست کی تصویر نہیں ہے اور اس سچائی پر بھی ایماندارانہ تبصرہ ہونا چاہئے۔
موبائل:09431414586
ای میل: rm.meezan@gmail.com
 

 

تقدیرکا ستارہ

انصاری نفیس جلیل

کالج ختم ہونے کے بعد تمام لڑکیوں کی سیر کامتفقہ رائے سے منصوبہ بن چکا تھا۔سبھی لڑکیوں کی طرح رہنما نے بھی اپنے والد والدہ سے اجازت طلب کی۔حالانکہ وہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور اسکے والدین کا شمار منفرد ذہنیت والوں میں ہوتا تھا جو غربت سے کافی پرے بھی تھے۔اسکے والد نے پہلے تو ذاتی کار میں جانے کی بات کی لیکن جب کالج کی تمام لڑکیوں کی بات آئی تو وہ اپنی بیٹی کو منع نہ کرسکے۔رہنما صبح جلد ہی اٹھ بیٹھی،ضروریات سے جلدی جلدی فارغ ہوکر سنگھار کر لیا۔تبھی بنگلے کے پھاٹک سے کالج بس کے ہارن کی آواز اسکے کانوں میں گونجی اور وہ جلدی سے اپنا پرس اٹھاکرچلنے کو نکلی،والدہ نے سر پہ ہاتھ پھیرا،والد نے اپنے پرس سے اسے روپے نکال کراس کے ہاتھ میں رکھ دئے اور کہا اپنا خیال رکھنا۔رہنمابس میں سوار ہوئی اور اپنی سہیلیوں میں جا بیٹھی۔شاذیہ نے اسے چڑاتے ہوئے کہا۔’’کیا بات ہے،تم تو دلہن بن کر آگئی۔‘‘ رہنما نے ایک تلخ مسکراہٹ سے اس کی طرف دیکھا۔عالیہ نے شاذیہ کو ٹوکا۔’’ پلیز،سب کا موڈ اچھا ہے،کوئی بھی ایسی بات نہ کرو جس سے کچھ بات بگڑے۔‘‘کالج بس تمام لڑکیوں اور ٹیچرس کو ریلوے اسٹیشن کے باہر چھوڑ کر واپس ہوگئی۔ٹرین کے سفر کا منصوبہ پرنسپل صاحب نے بنایا تھا اسلئے سبھوں نے بنا چوں چراں کئے اس پر عمل آوری کی تھی۔تقریباً پون گھنٹے بعد ٹرین آئی،سب نے اپنی اپنی سیٹ پر بیٹھ کر اطمینان کی سانس لی۔ڈیڑھ سو کلو میٹر دوری پر واقع ایک پہاڑی قلعے اور سی...


Advertisment

Advertisment