Today: Thursday, November, 23, 2017 Last Update: 03:41 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

Sub Item 2.1.1

 

شیعہ سنی اتحاد ہوتاکیوں نہیں؟

مالک اشتر نوگانوی

یہ کوئی تین چار سال پہلے کی بات ہے۔ راجدھانی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انجینئرنگ کالج آڈیٹوریم میں اتحاد بین المسلمین پر ایک پانچ روزہ پروگرام منعقد کیا گیا، ایک مشہور عالمی تنظیم (جس کا نام ظاہر کرنا مناسب نہیں) کے تعاون سے ہورہی اس کانفرنس میں ملک بھر کے علمائے کرام اور دانشوروں کے علاوہ بیرونی ممالک کے مندوبین بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود تھے۔ اس کانفرنس کے آخری دن بھی علماء کی دھواں دھار تقریریں جاری تھیں، اتحاد بین المسلمین کے نعرے بلند کئے جا رہے تھے، علماء اپنی تقاریر میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو کا پیغام دے رہے تھے، تقریروں میں بار بار بتایا جا رہا تھا کہ شیعہ سنی کو آپس میں لڑوانا یورپ امریکہ کی سازش ہے اس لئے اس سے بچو۔ تقریروں کا یہ سلسلہ صبح سے شروع ہوکر ظہر کی نماز تک چلتا رہا، نماز کا وقفہ ہوا ،کانفرنس میں شریک لوگوں نے بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ شیعہ سنی کی تفریق کئے بنا ایک ساتھ صفیں باندھ لیں اور ایک ہی عالم کے پیچھے شیعہ سنی دونوں نماز پڑھنے کھڑے ہوئے۔ بڑا دلکش منظر تھا کوئی ہاتھ باندھے نماز پڑھ رہا ہے تو کوئی اپنی فقہ کے مطابق ہاتھ کھول کر لیکن سب کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ علما ء کی تقریروں کا ان افراد پر گہرا اثر پڑا ہے۔ اتفاق سے نماز کے وقفے میں میں نے آڈیٹوریم میں جھانک کر دیکھا تو پایا کہ کچھ لوگ اندر بیٹھے منتظر ہیں کہ باہر’ مشترکہ نماز جماعت‘ ختم ہو تو ہم’ اپنی والی‘ پڑھیں۔ ہوا بھی یہی جب شیعہ سنی مشترکہ جماعت ختم ہوئی تو ان لوگوں نے اپنی الگ جماعت قائم کی۔ جانتے ہیں یہ الگ جماعت قائم کرنے والے کون افراد تھے؟ ۔ جی ہاں ، کوئی اور نہیں یہ وہی مقررین تھے جن کے گلے صبح سے اتحاد بین المسلمین اور شیعہ سنی بھائی چارے کی تقریریں کرتے کرتے سوکھ گئے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ دنیا میں بھلے ہی جنگ و جدال کا دور دورہ ہو لیکن اس دور میں مکالمے کو رواج دینے کی کوششیں بھی خوب ہو رہی ہیں۔ ادیان کے تقابلی مطالعے کا دور ہے اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ دراصل انسانی برادری کو درپیش چیلنجیز کے پیش نظر بعض ارباب حل و عقد مان چکے ہیں کہ انسانیت کی فلاح اختلاف میں نہیں بلکہ اتحاد میں ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کی بات ہے تو قرآن تو بہت پہلے پیغام دے چکا کہ ’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقے بازی نہ کرو‘۔ ایسے میں اگر دو کلمہ گو فرقوں کے درمیان گہری خلیج موجود ہے تو کسی نہ کسی کو تو اس کی ذمہ داری لینی ہی ہوگی۔ میں نے اپنے پچھلے ایک مضمون میں ذکر کیا تھا کہ اگر آپ بر صغیر میں شیعہ سنی تفرقے کو ہوا دینے والوں کی ایک لسٹ بنائیں تو اس میں زیادہ تر مدارس کے فارغین نکلیں گے۔ سوال یہ ہے کہ آخر بعض مدارس اسلامیہ کے ذمہ دار یہ بات کیوں نہیں سمجھ رہے کہ مناظرے بازی اور دوسرے فرقے کو کافر ثابت کر سکنے والے علماء مقبول مقرر تو ہو سکتے ہیں مگر ان سے اس بات کی امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ قوم کی فکری تربیت میں معاون ہوں گے۔
یہاں پر ایک سوال یہ ضرور پیدا ہو سکتا ہے کہ آخر انتشار کا ٹھینکرا علماء و خطبا ء کے سر پر ہی کیوں پھوڑا جائے؟ ۔ بات دراصل یہ ہے کہ علماء قوم کی مذہبی آنکھ اور دماغ ہوتے ہیں۔ ہمارا مزاج بھی کچھ ایسا ہے کہ ہم علماء کی رہنمائی کو عموما بنا چوں چرا کئے مان لیتے ہیں ایسے میں اگر علماء ہی ہمیں یہ سمجھانے میں لگ جائے کہ فلاں مسلک والوں سے بچو تو ظاہر ہے ایک سادہ لوح اس ’وارننگ‘کو بھی مذہبی ’فریضے‘کے زمرے میں رکھ لیتا ہے۔ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ علماء اور خطبا ء اپنی تقاریر میں مسلکی اختلافات کو ہوا نہیں دیتے تو بھی وہ اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی اور بھی اختلاف کو ہوا دے رہا ہے تو ہمارے علماء کیوں اس کے خلاف تحریک نہیں چلاتے اور اتحاد بین المسلمین کا پیغام عام نہیں کرتے؟۔ میں اس مرحلے پر یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ علماء سے میری مراد تمام علماء نہیں ہیں اور نہ ہی ایسا ہے کہ سارے ہی علماء انتشار پسندی پر آمادہ ہیں لیکن وہ علماء یا علماء نما شخصیات بھی بڑی تعداد میں ہیں جو اس آگ میںحسب توفیق‘پیٹرول ڈالنے سے باز نہیں آتے۔ ہم سنتے آئے ہیں کہ تاریخ میں کب کب کس کس کے خلاف بڑے پیمانے پر پروپگنڈے کئے گئے تاکہ اس شخص یا جماعت کے بارے میں رائے عامہ کو ایک مخصوص سمت میں ہموار کیا جا سکے، لیکن اگر میں آپ کو اس پروپگنڈے کے بارے میں بتاؤں جو عموما ہمارے یہاں ایک دوسرے مسلکوں کے خلاف کیا جاتا ہے تو آپ بھی کانوں پر انگلیاں دھر لیں گے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایسے گھٹیا اور بے بنیاد الزامات کو پانی دینے میں ’بالغ نظر مولوی صاحبان ‘بھی پیچھے نہیں ہیں۔
مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ اگر کم پڑھے لکھے مولوی اتحاد بین المسلمین کو نقصان پہنچانے والی بات کریں تو کہا جا سکتا ہے کہ’ ان کا علم کم ہے اس لئے ایسی نا سمجھی کر رہے ہیں ‘لیکن اگر’ بڑے اداروں کے مفتیان‘ فتوے دے کر خلیج میں اضافے کا سامان کرتے دکھائی دیں تو آپ کیا کریں گے؟۔ مثال کے طور پر دارالعلوم دیوبند کے آن لائن دار الافتاء کی ویب سائٹ پر موجود کچھ فتاویٰ ملاحظہ ہوں۔ سوال نمبر ۱۴۹۵ میں دارالافتاء سے پوچھا گیا کہ ’’میں ایک سنی ہوں، میں نے ایک شیعہ لڑکی سے شادی کی ہے، میں نکاح خواں کے ذریعہ دیئے گئے نکاح نامے کی صحت کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں‘‘۔ اس سوال کے جواب میں دارالافتاء نے فتویٰ نمبر 927/866=B صادر کیا ۔اس فتوے کا مضمون ملاحظہ ہو۔’’ایک مسلمان کسی شیعہ لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا، شیعوں کی کتابوں میں درج ان کے عقائد کے مطابق وہ لوگ اسلام کے دائرے سے باہر ہیں، اس لئے شیعہ سنی شادی ممکن نہیں، حیرت کی بات ہے کہ آپ نے شیعہ لڑکی سے نکاح کیسے کر لیا اور آپ کے والدین کیسے مان گئے؟۔‘‘آپ خود بتائیں ایسے فتاویٰ کے بعد کیا اتحاد بین المسلمین کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے؟۔ اب اس کے بعد اگر کوئی کہے کہ ’شیعہ سنیوں کو تو امریکہ لڑوا رہا ہے‘ تو آپ کیا کہئے گا؟۔چلئے ایک اور فتویٰ سنئے ، دیوبند کے ہی آن لائن دارالافتا ء سے سوال نمبر 1566میں پوچھا گیا کہ ’’کیا شیعوں سے مل سکتے ہیں؟شیعوں کے ساتھ کھانے پینے کا کیا حکم ہے؟‘‘ اس سوال کے جواب میں دارلافتاء نے فتویٰ نمبر 503/498=D  صادر کیا۔ اس فتوے کا مضمون دیکھیں،’’شیعی عقائد سنیوں سے متصادم ہیں، ان سے ملنا جلنا اچھا نہیں ہے، ہاں انسانی بنیاد پر ملا جا سکتا ہے، اگر پتہ ہو کہ ان کے یہاں کا کھانا ٹھیک ٹھاک ہے تو کھا سکتے ہیں لیکن جیسا کہ شیعوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کھانے میں کچھ ملا دیتے ہیں اس لئے ان کے یہاں کھانے سے بچنا چاہئے۔‘‘ بات محض کسی ایک گروپ کی نہیں ہے۔ ایسی باتیں ہر گروپ کی طرف سے ہوتی رہتی ہیں جو دوسرے مسلک کی دل آزاری کا سبب بنتی ہیں۔ حال ہی میں ایران کی مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ اور سرکردہ عالم آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے اپنے ایک بیان میں تاکید کی کہ شیعہ سنی ایسے بیانات سے بچیں جن سے اختلاف کو ہوا ملتی ہو۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رفسنجانی نے کہا صحابہ کرام کی شان میں گستاخی سے داعش اور طالبان جیسے عناصر کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے پہلے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ی نے فتویٰ دیا تھا کہ صحابہ کرام یا ازدواج رسول کی شان میں گستاخی حرام ہے۔ یقیناًیہ ایسے بیانات ہیں جن کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ شیعہ سنی اختلافات کا مسئلہ ہم جتنا چھوٹا سمجھ رہے ہیں وہ اتنا ہی بڑا ہے۔ ذرا غور سے دیکھیں تو آپ کو پاکستان سے عراق اور سعودی عرب سے شام تک اس مسئلے کی بو واضح طور پر محسوس ہوگی۔ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم نے ایک عادت سی بنا لی ہے کہ ہم اپنے سارے مسائل کو ایک ٹوکرے میں بھر کر امریکہ اور اسرائیل کے سر پر الٹ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے مسجد کا پیش نماز کہہ رہا ہے کہ فلاں فرقے کے لوگ تو ’تھوک کر کھلاتے ہیں‘یا پھر کوئی ذاکر کہتا ہے کہ ’فلاں مسلک کے پیروکار جہنم میں جھونکے جائیں گے‘اس میں یورپ اور امریکہ کہاں سے آ گیا؟۔ہمارے علمائے کرام ، ہمارے لئے انتہائی لائق احترام ہیں، ہم اپنے علماء کی ایک ایک بات کو قیمتی مانتے ہیں اور ہمارا ان سے '' حضرت ناصح گر آئیں دیدہ و دل فرش راہ '' والا معاملہ ہے۔ ہم علماء کی ہدایات پر عمل کر نا چاہتے ہیں لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہم قرآن مجید کے اتحاد کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں اور اس سلسلہ میں ہمیں اپنے علماء، خطباء ، مبلغین اور واعظین کی مدد درکار ہے۔ ہمیں یقین ہے وہ ہمیں نا امید نہیں کریں گے۔

رابطہ: 9891729185

 

 

ہرآنکھ گنہگارہے’پردہ‘نہ اٹھاؤ

اعجازاحمد شمسی

دور جاہلیت میں ہونے والے خواتین پر ظلم و ستم کی داستان پڑھنے کے بعد کلیجہ کانپ اٹھتاہے۔ظہوراسلام کے بعد وجہ تخلیق کائنات رحمت دو عالم نے عدل و مساوات کا ایسا اصول وضع کیا جس کی مثال دنیا کی کوئی ہستی یا مذہب صبح قیامت تک پیش نہیں کر سکتی۔اس کے باوجود اسلام دشمن طاقتیں اور ناعاقبت اندیش لوگ اسلامی قانون کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں۔ اسلام کوبدنام کرنے کا سلسلہ آج سے نہیں،بلکہ یہ زمانہ قدیم سے ہے ۔تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کے شمع کو جب بھی بجھانے کی کوشش کی گئی ہے اس کی لَو مزیدتیز ہوئی ہے کیونکہ اس کی رگوں میں کسی اور کا نہیں بلکہ حضرت سیدنا صدیق اکبر، فاروق اعظم،عثمان غنی اور شیر خدا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا خون دوڑ رہا ہے۔مختلف ادوار میں مختلف بہانوں اور طریقوں سے اسلام کو کمزور کرنے کی سازشیں رچی گئیں مگر ہر دور میں سازشیں بے نقاب ہوتی رہیں۔ آج بھی اسلام دشمن طاقتیں خاموش نہیں بیٹھی ہیں بلکہ اسلام کے خلاف کوئی نہ کوئی نا زیبا بیان دے کریا مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرکے اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے فراق میں ہیں۔’’پردہ‘‘ جوخواتین کی عزت و عظمت کی ضامن ہے اور جسے اسلام نے مسلم خواتین کے لئے فرض قرار دیا ہے ،اس کی مخالفت ایک زمانے سے ہو رہی ہے۔کبھی آزادی کے نام پر،کبھی مساوات کے نام پر تو کبھی ترقی کے نام پر مسلم خواتین کو ورغلا کر انہیں مغربی تہذیب کے حوالے کرنے کا مشن جاری ہے۔ آزادی اور اور خیر خواہی کے نام پرخواتین کو گھر کی ملکہ کی بجائے شمع محفل بنا دینے ،دنیا کی چکا چوندرنگینیوں میں دھکیل کر انہیں بے حیا اور بے شرم بنا دینے میں مغرب پرست عناصر کسی حد تک کامیاب بھی ہیں ۔جس کے بھیانک اور دلدوز انجام بھی منظر عام پر رونما ہو چکے ہیں ۔مگر عریانیت کے نرغے میں پھنسی خواتین اورمغربی تہذیب سے متاثر افراد کو ہوش نہیں۔ اسکے بر عکس وہ اسے ترقی اور آزادی کا نام دینے پر اپنی پوری توانائی صرف کر رہے ہیں۔'' پردہ '' کی اہمیت اور افادیت کسی ایک قوم ،ذات ،مذہب یا معاشرہ تک ہی محدود نہیں۔ جس نے بھی اس کو اختیار کیا وہ دنیا کی بری نگاہوں سے محفوظ رہا اور جس نے اسے ایک قید و بند تصور کیاوہ زمانے کی ہوس بھری نظروں کا شکار ہوا۔ کیونکہ عورت جب بے پردہ ہو کر گھر سے نکلتی ہے پھر وہ عورت نہیں بلکہ بہت سی نظروں کے لئے تفریح کی چیز بن جاتی ہے۔عورتوں کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے ہی پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفٰے نے پردہ کا حکم دیا۔ پردے کے تعلق سے لاکھ دنیا کہتی رہے کہ یہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان ایک زمانے میں خلیج بنگال سے لے کر اٹلانٹک تک حکمراں رہے ہیں ۔سائنس اور فلسفے میں وہ دنیا کے استاذ تھے۔تہذیب و تمدن میں کوئی دوسری قوم ان کا ہمسر نہیں تھی ۔اگر یہ ترقی تھی تو یہ ترقی اس معاشرے نے کی تھی جس پر پردے کا رواج تھا۔اسلامی تاریخ بڑے بڑے اولیاء،مدبرین ،علماء ،حکماء،مصنفین اور فاتحین کے ناموں سے بھری پڑی ہے۔یہ عظیم الشان لوگ جاہل ماؤں کی گودوں میں پل کر تو نہیں نکلے تھے ۔خود عورتوں میں بھی بڑی بڑی عالمہ وفاضلہ خواتین کے نام اسلامی تاریخ میں ملتے ہیں وہ علوم وفنون اور ادب میں کمال رکھتی تھیں۔ پردے نے کبھی ترقی سے مسلمانوں کو نہیں روکا ۔آج بھی اس طرز کی ترقی ہم کرنا چاہیں تو پردہ ہمیں نہیں روکتا۔ ہاں اگر ناچ گانے،عریانیت ،فحاشیت ،بے حیائی اور بے شرمی کا نام ترقی ہے تو پردہ اس سے ضرور روکتا ہے اور ایسی ترقی کوئی بھی مہذب فرد،سماج یا مذہب نہیں چاہتا۔آج کل زنا جیسی گھناؤنی واردات کی خبریں عام طور پر اخبارات کی زینت بنی رہتی ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟تمام ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ عورت کی سب سے بڑی زینت اس کا چہرہ ہے ۔ چہرے کو دیکھ کر ہی مرد عورت کی جانب مائل ہوتا ہے ،اگر چہرہ ڈھکا رہے تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ مردوں کی بری نگاہوں کاشکار نہیں ہو سکتی۔خواتین کی عصمت وعفت کے تحفظ کے لئے قرآن پاک میں حجاب کا لفظ سات بار آیا ہے ۔ حجاب (پردے) کا اولین حکم قرآن پاک کی وہ آیت کریمہ قرار پائی ،جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’اے نبی اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں اور مسلمان عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ زیادہ مناسب ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں (کہ عزت دار عورتیں ہیں) اور تنگ نہ کی جائیں اور اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘(سورہ احزاب:59) اسی طرح دوسرا حکم سورہ نور میں اس طرح ہے کہ’’ مسلمان عورتوں سے کہیں کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوند کے یا اپنے والد کے یا خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاندان کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا اپنے غلاموں کے یا ایسے نوکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں‘‘۔ان دونوں آیات کریمہ کی روشنی میں ہر کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ عورتوں کے تئیں مذہب اسلام کس قدر ہمدردی کا جذبہ رکھتا ہے ۔چونکہ مرد وزن دو مخالف جنس ہیں اسی لئے حسب طاقت و استطاعت ان کی ذمہ داریاں بھی تفویض کر دی گئی ہیں۔ صنف نازک سے فطرت کے خلاف کام لینا ظلم و زیادتی کے سوا کچھ نہیں۔اسی لئے بانی اسلام نے جب اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہاکا نکاح حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے فرمایا تو آپ نے دونوں کے درمیان کام کی تقسیم یوں فرما دی کہ حضرت علی گھر کے باہر کا کام دیکھیں اور امور خانہ داری کے فرائض حضرت فاطمہ انجام دیں۔قانون قدرت کی خلاف ورزی ہمیشہ موجب تضاد بنی ہے اور بنتی رہے گی۔جو خواتین اپنے مقصد وجود کو فراموش کرکے جنس مخالف کے مقابل کھڑا ہونے کی کوشش کرتی ہیں وہ طرح طرح کے مصائب و آلام اور ابتلاء وآزمائش کا شکار ہوتی ہیں۔آج کے ترقی یافتہ دور میں چونکہ بعض لوگ حجاب کو ترقی کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ مانتے ہیں اس لئے ان کی پوری پوری توجہ عورت کو بے پردہ کرنے پر مرکوز ہو چکی ہے ۔اس کے مضر اثرات کیا مرتب ہو رہے ہیں اس سے کوئی بحث نہیں۔گویا ان کے دل و دماغ ماؤف ہو چکے ہیں۔اب ان کے دل و دماغ’’ پردے ‘‘کی بات قبول کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں۔ افسوس کہ اس طرح کی باتیں اب وہ بھی کرنے لگے جو سیاست میں اپنا ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک سیاسی رہنما نے پردے سے متعلق اپنے ایک بیان میں کہا کہ’’پردہ کے نظام کو ختم کر دینا چاہئے کیونکہ یہ خواتین کی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔ ایک حکومت آئی تھی جس کی وجہ سے پردہ کی رسم آگئی لیکن اب جمہوریت ہے سب کو آزادی ہے ،پردہ جیسی بری رسم ختم ہو نی چاہئے ۔‘‘ انہوں نے سامنے کھڑی ایک خاتون کانسٹبل سے مخاطب ہوتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ’’ اس بری رسم کو اپنانے والوں کو جیل میں ڈال دو۔‘‘ خود کو سیکولر اور مسلمانوں کا ہمدردکہنے والا نیتا جب پردے سے متعلق اس طرح کا متنازعہ بیان دے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مسلمانوں کا کتنا بڑا وفادار ہو سکتا ہے اور مسلم خواتین کے تئیں اس کا جذبہ ایثار کیا ہے؟آج غیر مسلموں کے یہاں پردے کا اہتمام کتنا ہے مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ،ان کی خواتین پردے کو کتنا درست مانتی ہیں ہمیں اس سے بھی کوئی سروکار نہیں۔ کیونکہ زمانہ جاہلیت میں پردہ اور حجاب نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔ یہود و نصاریٰ ،یونانی ،ایرانی اور ہندی معاشرے کے افراد اپنی اپنی تہذیبوں کے علمبردار تھے۔ان کے یہاں مذہباَ پردے یا حجاب کا کوئی تصور یا قانون نہیں تھا لیکن بعد از اسلام جوں جوں مسلمانوں کے تمدن و معاشرت کی بنیاد پڑتی گئی اس کے متعلق مناسب احکامات نازل ہوتے گئے۔حتیٰ کہ شریعت مطہرہ نے مسلمانوں کے شرم و حیا اور لفظ ننگ و ناموس کی پوری حد بندی کر دی ۔اس لئے پردے کے تعلق سے اگر کوئی قابل اعتراض اور دلآزاربیان دیتا ہے تو ہم اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اور خواتین اسلام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اللہ اور رسول کے احکامات پر پوری پابندی کے ساتھ عمل پیرا ہوکر باطل قوتوں کے ارادوں کو چکنا چور کر دیں ۔

09540451680

 

دریچے

 

انیس درّانی

 

 

جب دیا رنج بتوں نے......

بھارت کی آتما میں رچا بسا روحانیت اور بھکتی کا نقیب کیسری رنگ آج کیوں اپنے آپ کو آہستہ آہستہ سرخی کے گرداب میں ڈبوئے دے رہا ہے؟ وہ کیسری رنگ جس کی دید سکون کا باعث جس کا پہنّا اس پاپی سنسار کو تیاگنے کی علامت تھا اب شمشان میں جلنے والی چتاؤں کے بھیانک شعلوں کا روپ اختیار کررہا ہے۔ یہ سب اس تبدیلی کی نشاندہی ہے جو آر ایس ایس کی ایماء پر اس کے سویم سیوکوں کی کوششوں سے عمل میں آرہی ہے ۔ بی بی اوما بھارتی سے سادھوی رتھمبرا اور سادھوی پرگّیا تک بابا رام دیو سے لیکر یوگی آدتیہ ناتھ تک ملک کے ماحول کو زہریلا کرنے کی دوڑ میں ایک سے بڑھ کر ایک ہونے کے دعویدار ہیں دولت طاقت اور اقتدار کی ہوس نے ان مذہبی شخصیتوں کے ذہنوں پر قبضہ کر لیا ہے گزشتہ دنوں ایک شنکر آچاریہ جی نہ شرڈی کے سائیں بابا کو مسلم فقیر کہہ کر ان کی پوجاپر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا۔ شنکر آچاریہ کی ایماء ہندو دھرم کے بڑے بڑے سادھو سنیاسی یوگی اور دھرم گرو اکٹھے ہوئے اور اس اسٹیج پر جس طرح سائیں بابا کو ماننے والی مذہبی شخصیات کے ساتھ لپّاڈگی کی گئی وہ اسی پرتشدد ذہنیت کی آئینہ دار تھی۔
بات میں یوگی آدتیہ ناتھ کی کرنا چاہتا ہوں چوں کہ یوگی بھی ہیں اور بھا جا پا کے آزمودہ کار سیاسی دہشت گرد بھی ہیں۔ مشرقی اترپردیش میں گورکھپور اور وہ علاقے جو نیپال کی سرحد سے ملتے ہیں ان کا سیاسی میدان عمل ہیں اسی علاقہ سے وہ اسمبلی اور پارلیمنٹ لڑتے ہیں۔یوگی کہلانے جانے کے باوجود ان کی سیاست کا محور انسانیت اور خدمت خلق نہیں ہے بلکہ فرقہ پرستی اور حیوانیت ہے اس علاقے میں کوئی ایسا فرقہ وارانہ فساد نہیں ہے جسے ان کی سرپرستی حاصل نہ ہوئی ہوگی۔ مسلمانوں کی تضحیک اور انہیں دہشت زدہ کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ریاستی سرکاریں خواہ سماج وادی پارٹی ہو یا بہوجن سماج پارٹی کوئی ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں کرتی۔کاغذی کارروائی ہوتی ہے ۔ فوجداری ، مقدمات قائم کئے جاتے ہیں کچھ دنوں اخبارات میں چرچا ہوتا ہے اور پھر معاملہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے ۔ گزشتہ بیس سال سے معاملات اسی طرح چل رہے ہیں نہ کبھی ملائم سنگھ جی ان کے خلاف کارروائی کے لئے سنجیدہ ہوئے اور نہ کبھی مایا وتی جی نے یوگی کا دماغ درست کرنے کا من بنا یا ۔ کانگریس کے پاس تو صاف بہانہ موجود ہی ہے کہ وہ پچھلے دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے اترپردیش میں اقتدار سے باہر ہے رہی بھا جا پا تو یوگی جی تو اس کے رہنما ہی ہیں ابھی امت شاہ نے جو اترپردیش میں ضمنی الیکشن کے لئے ایک طاقت ورسہ نفری کمیٹی بنائی ہے اس میں بھی یوگی جی شامل ہیں۔حالیہ پارلیمانی الیکشن سے قبل جس طرح سماج وادی پارٹی نے خود کو نجات دہندہ اور محافظ ثابت کرنے کے چکر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ساز باز کر کے مظفر نگر کے مسلمانوں کو فرقہ پرستوں کے ہاتھ میں سونپ دیا تھا، اس کا خمیازہ نہ صرف پارلیمانی الیکشن میں ملائم سنگھ اور ان کے فرزند کو بھگتنا پڑا بلکہ مسلمانوں کے نجات دہندہ اور ان کے حقیقی ہمدرد ہونے کا ڈھونگ بھی ہمیشہ کے لئے کھل گیا۔ ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی کو لگتا ہے کہ وہ ہندوؤں کو فرقہ پرستی کا کشتہ کھلا کر اتنا طاقتور تو بنا ہی سکتے ہیں کہ اترپردیش اسمبلی کے آئندہ انتخابات میں سرکار بنا سکیں حالیہ اسمبلی ضمنی انتخابات کے لئے اس مہم پر عملی جامہ پہنانا شروع کردیا گیا ہے۔ چنانچہ یوگی آدتیہ ناتھ کو اسی لئے یوپی کی باگ ڈور سنبھالنے والے گروپ میں شامل کیا گیا ہے کہ وہ یوپی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں اپنی نفرت بھری تقریروں سے ماحول کو اس قدر زہر آلود کردیں کہ مسلمان اور ہندو سارے نظریاتی امور بھول کر صرف نفرت کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔
چند دن پہلے جو نام نہاد ''  لو جہاد''  کا منتر جاپ کیا جارہا تھا تو یوگی جی کی ایک سی ڈی بھی بج رہی تھی کہ اگر ایک ہندو لڑکی کا مذہب تبدیل کیا جائے گا تو ہم سو مسلمان لڑکیوں کا مذہب تبدیل کرائیں گے۔جب اس بیان پر اودھم مچا تو یوگی جی مکر گئے اور کہنے لگے کہ یہ ان کی آواز نہیں ہے۔ فرضی سی ڈی ہے ۔ بھا جا پا کے کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ سی ڈی تو سات سال پرانی ہے۔دو تین روز قبل انہوں نے ایک اور شوشہ چھوڑا کہ جہاں اقلیتی دس سے بیس فی صد ہوتے ہیں وہاں فرقہ وارانہ فسادات کے چھوٹے موٹے واقعات ہوتے ہیں جہاں ان کی آبادی 20سے 35فی صد تک ہوتی ہے وہاں شدید نوعیت کے فرقہ وارانہ فساد ہوتے ہیں۔ لیکن جہاں ان کی تعداد 35فی صد سے زیادہ ہوتی ہے وہاں غیر مسلموں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اب کہیں جا کر سماج وادی پارٹی کی نیند ٹوٹی ہے اور ان کو لگا کہ اگر ان ضمنی انتخابات میں یوگی کے لگام نہیں ڈالی گئی تو ہم ہار جائیں گے اور ہماری بڑی کر کری ہوگی چنانچہ اب وہ نہ صرف الیکشن کمیشن کے پاس دوڑ لگارہے ہیں کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی زہریلی تقریروں کے خلاف ایکشن لے اور ان تقریروں کی بناء پر امید واروں کونا اہل قرار دے۔سماج وادی پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ آدتیہ ناتھ کو مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے سے روکا جائے تو دوسری طرف یوگی کے خلاف مختلف جرائم کے لئے چلنے والے فوجداری مقدمات کو بھی ٹھنڈے بستے سے نکال کر ان میں تیزی لانے کے جتن کررہے ہیں تا کہ یوگی کو سبق سکھا سکیں۔ ملائم سنگھ جی !ان سب باتوں کا تو یہی مطلب نکلا کہ جب آپ کے اقتدار کو خطرہ محسوس ہوا تو آپ نے یوگی آدتیہ ناتھ کے نمدہ کسنا شروع کیا ورنہ ا س سے قبل مسلمانوں کے دلوں کو چھلنی کرنے والے اس کے ان زہریلے بیانوں کو مسلسل نظر انداز کررہے تھے۔ کیونکہ آپ کے خیال میں مسلمان جتنا ڈرے گا اتنا ہی سماج وادی کی پناہ میں آئے گا! مسلمان بے چارہ داغ کی زبان میں بس یہی کہہ سکتا ہے۔

نہ دل ہی ٹھہرا نہ آنکھ جھپکی نہ چین پا یا نہ خواب آیا

خدا دکھائے نہ دشمنوں کو جو دوستی میں عذاب دیکھا

 

وزیر اعظم ''چائے پان'' کر کے

لوٹے خالی ہاتھ

گزشتہ دنوں وزیر اعظم نریندر مودی صحیح معانی میں اپنے پہلے غیر ملکی دورہ پر جاپان پہنچے۔ (نیپال اور بھوٹان کا معاملہ تو گھر کے آنگن جیسا ہے) برازیل میں ان کے جانے کا مقصد صرف کانفرنس میں شرکت کرنا تھا لیکن ان کے جا پان جانے کی جس طرح سے مرکز ی حکومت کے مختلف محکمے تشہیر کررہے تھے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے بھارت کی تاریخ میں پہلی بار کوئی وزیر اعظم غیر ملک جارہا ہو ۔ حالانکہ ان کی طرح پر چارک رہے باجپائی جی نے بھی وزیر اعظم کی حیثیت سے دنیا کی خوب ہی خاک چھانی تھی۔مودی جی گئے یہاں سرکاری محکمے اور ان کے وزراء نے خوب ڈھول بجائے اور وہاں خود مودی جی نے ڈھول پیٹ کر ساری کسر پوری کردی یہی نہیں انہوں نے بچوں کی میوزک کلاس میں جا پانی بانسری بجا کر خود کو کشن کنہیا کا بھگت بھی ثابت کردیا۔ انہوں نے وزیر اعظم جاپان کے ساتھ روایتی جاپانی چائے پینے کی رسم بھی پوری کی چونکہ وزیراعظم مودی خود بھی عرصہ دراز تک چائے بنانے اور بیچنے کے عمل سے گزر چکے ہیں اس لئے ان کو یقیناًبہت لطف آیا ہوگا۔ مگر وزیر اعظم کا دورہ جاپان صرف ’’چائے پان‘‘ کے لئے نہیں تھابلکہ دونوں اہم ممالک کے درمیان بہت سے تجارتی امور سائنس اور ٹیکنا لوجی کے معاہدے ہونے تھے اور جاپان کو بھارت میں سرمایہ کاری کے لئے آمادہ کرنا تھا اور سب سے اہم بات تھی جوہری توانائی کی پیداوار اور استعمال میں جاپان کوجوغیر معمولی اور جدید ترین مہارت حاصل ہے اس کو بھارت کے لئے حاصل کرنا؟۔ جب اس دورے کی حصولیابی کے تعلق سے ہم جائزہ لیتے ہیں تو مودی جی کو چائے پلانے کے علاوہ جاپانی حکومت نے صرف35بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا ہی وعدہ کیا ۔ بھارت کے لئے سب سے اہم مدعا جوہری (ایٹمی ) توانائی کے تعلق سے کچھ حاصل نہ ہوسکا ۔ جب کہ وزیر اعظم کے دورہ کا اصل مقصد وہی تھا۔ بین الاقوامی سطح پر 35بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کوئی بہت بڑا کارنامہ نہیں ہے دنیا میں بھارت سے کہیں چھوٹے ممالک کے ساتھ بھی اس مقدار کی سرمایہ کاری اکثر ہوتی رہتی ہے سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ ان کے جاتے وقت جس قدر ڈھول پیٹے گئے تھے وہ شور شرابا ان کی آمد پر نہیں ہوا۔ جب بھی وزیر اعظم یا صدر جمہوریہ غیر ممالک جاتے ہیں تو ان کے ساتھ جو معاہدات دستخط کئے جاتے ہیں اس کے فوٹو اخبارات اور ٹیلی ویژن کے ذریعے سارا ملک دیکھتا ہے اب دیدہ ور سوچ رہے ہیں کہ ہمارے ہر دلعزیز وزیر اعظم نے ایسے کون سے نادیدہ معاہدہ پر دستخط کرے ہیں جس کی کوئی تصویر کہیں نہیں چھپی البتہ ان کے چائے پینے ڈھول بجانے اور بانسری بجانے کے فوٹو سب جگہ نظر آئے ۔ ہماری جانکاری کے مطابق کسی تجارتی معاہدہ پر دستخط ہی نہیں ہوئے صرف بات چیت ہوئی ہے کل کیا ہو گاابھی اس کا قیاس نہیں لگا یا جاسکتا البتہ فی الحال مودی جی خالی ہاتھ لوٹے ہیں اگر چہ جا پان نے ان کی میزبانی یعنی '' چائے پان''  میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ معین شاداب نے کیا خوب کہا ہے ؂

اس سے ملنے کی خوشی بعد میں دکھ دیتی ہے

جشن کے بعد کا سناٹا بہت کھلتا ہے

 

حیدر آباد کے مسلمانوں کو سلام!

گزشتہ دنوں کلکتہ سے حیدر آباد کے چار مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیاوہ بنگال سے سرحد پار کر کے بنگلہ دیش جانا چاہ رہے تھے تا کہ وہاں سے داعش کے ساتھ جہاد کرنے کے لئے عراق پہنچ سکیں۔ یہ سارے نوجوان جن کی عمر 23سے25 سال کی ہیں ۔ انجینئرنگ کے طالب علم ہیں۔ پولیس نے جب ان سے معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ سوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعہ ان کا رابطہ ان مسلم تنظیموں سے ہوا تھا جو کہ اس وقت شام اور عراق میں نام نہاد جہاد میں مصروف ہیں۔ پولیس کو ان نوجوانوں سے یہ بھی پتہ چلا کہ حیدر آباد کے دیگر گیارہ دوسرے نوجوان بھی ان کے رابطے میں ہیں۔ پولیس نے ان نوجوانوں کی کونسلنگ کی۔ انہیں ایسی حرکت کے نفع ونقصان اور نشیب وفراز سمجھائے ۔ اور پھر انہیں ان کے خاندانوں کے سپرد کر دیااور دیگر دوسرے گیارہ نوجوانوں سے بھی بات چیت کی اور انہیں اس کی سوچ درست کرنے میں مدد کی۔اس سارے معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان نا سمجھ نوجوانوں کے والدین کو شبہ ہوا تھا کہ ان کے بچے انتہا پسند عناصر کے رابطے میں آگئے ہیں اور عراق جانے کی سوچ رہے ہیں چنانچہ ان والدین نے ہی سمجھ داری کا ثبوت دیتے ہوئے پولیس کو اعتماد میں لیکر اپنے شبہات کا اظہار کیا اور نوجوانوں کو بھارت میں ہی روک کر انہیں زبردست مصائب سے بچا لیا۔ حیدر آباد کے یہ والدین قابل مبارکباد ہیں جنہوں نے اولاد کے مستقبل کے لئے فطری محبت کو نظر انداز کرکے پولیس کو مطلع کیا اور حیدر آباد پولیس بھی قابل مبارکباد ہے جس نے انہیں ایک دم ’’آتنک وادی ‘‘ کہہ کر گرفتار کر کے آسمان سر پر نہیں اٹھا یا بلکہ ایک اہم مسئلہ کو انسانی بنیادوں پر حل کرنے کی سعی کی۔موجودہ حالات میں یہ ضروری ہے کہ تمام والدین اپنے بچوں کی انٹر نیٹ سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی پیچیدگی کے پیدا ہونے سے قبل ہی اس کا حل نکالنے کی کوشش کریں۔

 

اٹارنی جنرل واہنسوتی کی عدالت عالیہ کیلئے روانگی

دو ستمبر کو غلام عیسیٰ جی واہنسوتی بھارت کے سابق اٹارنی جنرل 65سال کی عمر میں مالک حقیقی کی عدالت میں پیش ہونے کے لئے راہی ملک عدم ہو گئے ۔ ممبئی کے بوہرہ فرقے سے تعلق رکھنے والے واہنسوتی بھارت کے پہلے مسلم اٹارنی جنرل ہونے کی حیثیت سے اپنے لئے تاریخ میں ایک جگہ بناگئے ۔ وہ ایک عظیم قانون داں تھے۔ نرم گفتار ، شریف النفس، خوش کلامی اور مزاج سے لطف اندوز ہونے والے خدا ترس انسان تھے ۔راقم کی ان سے ایک دو ملاقاتیں ہوئی تھیں میں ان کی سادگی،منکسر المزاجی اور شائستگی سے بہت متاثر ہوا تھا۔ اٹارنی جنرل ہونے سے قبل وہ بھارت کے اٹارنی جنرل اور مہاراشٹر کے ایڈو کیٹ جنرل بھی رہے تھے ان کی قانونی صلاحیتوں کی دھوم نہ صرف بھارت میں تھی بلکہ بین الاقوامی عدالتی دنیا میں بھی ان کے نام اور قانونی مہارت کی شہرت تھی۔ ان کی وفات پر جس طرح ملک کے اعلیٰ وکیلوں اور قانونی ماہرین نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے اس سے ان کی ہر دلعزیزی کا اندازہ ہوتا ہے انہوں نے یوپی اے حکومت کا اس وقت بہت ثابت قدمی کے ساتھ حکومت کا دفاع کیا جب چاروں طرف سے حکومت پر کرپشن کے الزام لگا ئے جارہے تھے ۔ بھارتی مسلمانوں میں اس پائے کے قانونی دماغ کمیاب ہیں ۔ اللہ تعالی ان پر اپنی رحمتیں نازل کرے!
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے!

 

 

 

 

انیس درانی

حقیر پر تقصیر مزاجاً قلندر مگر صاحبِ تدبیر عرصہ دراز پہلے ایک کالم ’’دریچے ‘‘ لکھا کرتا تھا۔ ہرہفتے دریچے سے جھانکتا تھا اور عالم بالا اور عالم فانی میں جو کچھ نظر آتا تھا ان میں اپنے تجزیہ کا چٹخارہ لگا کر قارئین کو پروس دیا کرتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ سیاسی شعبدہ گری کے جال میں ایسا الجھا کہ نہ قلم یاد رہا نہ تحریر۔ سب کچھ ’’نقش ونگار طاق نساں‘‘ ہو کر رہ گئے۔
مگر یہ بھی ایک زمینی حقیقت ہے کہ جس طرح تصویر کائنات میں رنگ بھرنے والا وجودہر عمرمیں اپنی زیبائش کی فطرت کی تسکین کئے بغیر نہیں رہ سکتا اسی طرح شاعر شعر کہنے سے اور لکھنے والا لکھنے سے کبھی باز نہیں آسکتا ۔البتہ یہ ضرور دیکھا گیا ہے کہ بگڑا شاعر آخر میں سہرے لکھ لکھ کر داد وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے یا پھر ایڈوانس میں تاریخ وفات کے قطعات لکھ لکھ کر دوسرے شعرا اور ادیبوں کے اللہ کو پیارے ہونے کی دعائیں کرتا ہے اور لکھنے کے دھتّی اخبارات کے مدیروں کے نام خط لکھ کر اپنی تحریری کھجلی کی تسکین کی نا کام کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ میں خود کو بھی اس مضحکہ خیز المیہ سے مستثنی نہیں سمجھتا! ابھی تک کانگریس کی شکست کے سوگ میں کچھ لکھنے لکھانے کو طبیعت آمادہ نہیں تھی مگر آخر کار دیرینہ صحافی دوستوں کے بار بار اصرار کرنے پر مجھے کہنا ہی پڑا چل رے خامہ بسم اللہ!
ابھی میں نے کانگریس کا ذکر کیا اور دل میں ایک سروآہ باہر آنے کے لئے زور مارنے لگی کیونکہ عمر رفتہ کا بیشتر حصہ اسی وشت کی سیاحی میں گذرا ہے اس کی خوشیوں اور فتح یابیوں میں شریک اس کی شکستوں پر سینہ کوبی بھی کی ہے لیکن افسوس آج ملک کے عوام نے اس کی غفلتوں اس کی مدہوشیوں اور ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘کے فلسفہ پر عمل کرنے کی پاداش میں طویل مدت کے لئے اعتکاف میں بٹھادیا ہے۔ظاہر ہے کہ اعتکاف میں بیٹھنے کا یہ عمل رضا کارانہ نہیں تھا بھارت کے عوام نے زبردستی اعتکاف میں بٹھا دیا ہے تا کہ کانگریس اپنا محاسبہ کر ے اور اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی سعی کرے! لیکن لگتا ہے کہ ابھی تک کانگریس کو عقل نہیں آئی ہے۔؟
ابھی بھی اس نے تعمیر نو کا ٹھیکہ اناڑی راج مستریوں کے ہاتھ میں دے رکھا ہے ۔ کانگریس کے حقیقی کلچر سے نا واقف تحت الشعور میں دوسری سیاسی جماعتوں کی سالخوردہ فلاسفی لئے اعلی ذات کی تمکنت اور غرور والے یہ رہنما کانگریس کی تشکیل نو کے لئے بڑے بڑے دعوے کررہے ہیں مگر ایئر کنڈیشن کمرو ں میں بیٹھ کر سیاست کرنے والے یہ لوگ زمینی حقیقتوں سے قطعی نا بلند ہیں۔ اللہ کانگریس کی حفاظت کرے کیونکہ اسی کے دم سے ہی سیکولر ازم زندہ رہے گا ورنہ اب سیکولرازم آئی سی یو(ICU) میں پہنچ چکا ہے

کی میرے قتل کے بعد اس ظالم نے جفا سے تو بہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

 

 

بابری مسجد کے سورماؤں کی رخصتی

 

وزیر اعظم نریندر مودی کی کیسریا سرکار نے 2ستمبر کو سو دن مکمل کر لے گی ۔جہاں سرکار ی سطح پر ان سودنوں کی نظر نہ آنے والی حصولیابیوں کی تشہیر کے لئے زبردست پلاننگ کی جارہی ہے وہاں میاں امت شاہ کی سنگت میں مودی جی سو دن پورے ہونے سے پہلے بی جے پی کا ہر نقش کہن مٹانے کی بھر پور کوشش کررہے تھے چنانچہ کیسریا سرکار کے 96ویں دن ایک طرف انہوں نے اپنے کچھ پرانے سورماؤں کو گورنر بنا کر عملی سیاست سے فارخطی دیدی تو بابری مسجد کے نام پر سیاست میں چمکنے اور چمکانے والے لال کرشن اڈوانی ۔ مرلی منوہر جوشی اور مودی کی طرح آر ایس ایس کے پرچارک کا فریضہ انجام دینے والے اٹل بہاری باجپائی کو بھی سیاسی طور پر ٹھکانے لگا دیا ۔ ان سینئر رہنماؤں کو پارلیمانی بورڈ سے ہٹا دیا گیا ۔اب یہ سینئر لیڈر پارٹی کے ٹکٹوں کی تقسیم کے اہم کام سے ہمیشہ کے لئے الگ کردیے گئے دوسرے الفاظ میں اب یہ اپنے کسی بھی حامی کو ٹکٹ نہیں دے سکیں گے اور ٹکٹ کے ہر خواہشمند کا فیصلہ مودی اور امت شاہ دوسرے الفاظ میں آر ایس ایس کرے گی۔ اس طرح اب بھارتیہ جنتا پارٹی پر نریندر مودی اور بالواسطہ آر ایس ایس کا مکمل تسلط ہو گیا ۔ آر ایس ایس کیساتھ سابق وزیر اعظم باجپائی اور ایڈوانی کے باہمی تعلقات منکوحہ سے زیادہ داشتہ والے رہے۔ اپنی مرضی اور حالات کے مطابق کبھی آنکھیں دکھادیں کبھی پیار جتا دیا سال میں ایک بار نیکر اور کالی ٹوپی پہنی سنگھ کے جھنڈے کو اور گروجی کے چرن چھو کر گرو دکھشنا دے کرپھر حقائق کی دنیا میں لوٹ آئے۔ مگر مودی جی ایک نہایت وفادار سوئم سیوک ہیں۔ آر ایس ایس کے ہندو راشٹر کی تمام جزیات ان کے خون کی ایک ایک بوند میں موجود ہے اس لئے سنگھ کو ان پر ابھی تک اعتماد ہے کہ وہ ان کے نظریات کو عملی جامہ پہنا کر رہیں گے لیکن آر ایس ایس کو پوری طرح اندازہ نہیں ہے کہ اقتدار کی شراب کس قدر مدہوش کن ہوتی ہے اور پھر موجودہ اقتدار جس میں مودی نمبر ایک لیڈر ہیں اور ان کے بعد دس نمبر تک صرف مودی ہی قائد ہیں اس کے بعد گیارہویں نمبر کے لیڈر امت شاہ ہیں اور پھر آگے کے نمبر شروع ہوتے ہیں۔ خدا بھارت اور بھارتی عوام کو اس خطر ناک شراب کی بدمستیوں سے محفوظ رکھے۔ مجھے منور رانا کا ایک شعر یاد آگیا ؂

موقع جسے بھی ملتا ہے پیتا ضرور ہے

شاید بہت مٹھاس ہمارے لہو میں ہے

 

 

عزیز قریشی کو سلام

 

کیسریا سرکار کے سو دن ہونے سے پہلے بھا جا پا ہی نہیں بلکہ کانگریس کے دور حکومت کی تمام باقیات کو ٹھکانے لگانے کی مہم پر بھی موجودہ حکومت کے ارباب دانش کی نظر تھی۔مرکزی حکومت کی بیشتر کمیٹیوں ۔ بورڈوں اور کمیشنز پر کانگریس کے نامزد چیئر مین اور ممبران رونق افرو ز ہیں ۔ چنانچہ سو دن ہونے سے پہلے پہلے کانگریس کے نامزد آئینی سربراہوں یعنی گورنر صاحبان پر برق گرنی طے تھی۔ حالانکہ سپریم کورٹ کے ایک پرانے فیصلے(2010) کے تحت صدر جمہوریہ کے نامزد کردہ ان گورنروں کو بنا کسی ثابت شدہ شکایت کے بغیرہٹا یا نہیں جاسکتا ہے۔ معزولی کی وجہ کے لئے صدر جمہوریہ کا متفق ہونا بھی ضروری ہو تا ہے ۔ گورنر مرکزی حکومت کا ملازم نہیں ہوتے جن کو ’’عدم اعتماد‘‘ کی بناء پر ہٹا دیا جاسکے۔ اس فیصلہ میں ایک بہت اہم بات یہ کہی گئی ہے کہ بھلے ہی صدر جمہوریہ اپنے خصوصی اختیارات سے ہٹانے کی کسی وجہ یا کوتاہی یا افراط تفریط کو عوامی طور پر بتا نا مناسب نہ سمجھیں تاہم ضروری ہے کہ معزولی کے لئے کوئی مناسب حقیقی وجہ یاسبب ضرور ہو نا چاہئے ! فیصلہ میں معزول کئے جانے والے فرد کو یہ حق دیا گیا ہے کہ اگر وہ یہ محسوس کریں کہ ان کی معزولی کے حکم نامہ میں بیان کی گئی وجو ہات تخیلی یکطرفہ یا بد دیانتی پر مشتمل ہیں تو وہ عدالتی نظر ثانی کا راستہ اپنا سکتا ہے!

چت بھی میری پٹ بھی میری انٹا میرے باپ کا ۔ جب سے محترم مودی صاحب کی کیسر یا سرکار بر سر اقتدار آئی ہے اب تک وہ نو گورنر صاحبان کو رخصت کر چکے ہیں ۔ ان میں سے ایک دو کی مقررہ معیاد مکمل ہونے کے قریب تھی اس لئے ان کو کچھ نہیں کہا گیا ۔ وہ وقت مقررہ پر اپنے آپ ہی سبکدوش ہو گئے ۔ باقی کسی سے ٹیلی فون پر استعفیٰ مانگا گیا تو کسی کو بڑی ریاست سے چھوٹی ریاست تبادلہ کر کے بے عزت کرنے کی کوشش کی گئی۔دو کو برخواست بھی کیا گیا ۔ مگر واہ رے اترکھنڈ کے گورنر ذی وقار عالیجناب عزیز قریشی صاحب جنہوں نے خوف ودہشت ذرہ ماحول میں اذان دینے کی ہمت کی کہا جاتا ہے کہ جیسے ہی ان کے پاس داخلہ سکریٹری کا فون آیا انہوں نے اس کی وہ کلاس لی کہ طبیعت صاف ہو گئی عزیز قریشی صاحب کا نصف صدی سے بھی زیادہ سیاسی اور عوامی خدمات کا ایک طویل ریکارڈ رہا ہے ۔ خوش مزاج خدا ترس نرم گو ہیں مگر اصولوں کے تعلق سے بہت سخت ہیں۔ گورنر کے عہدہ پر چپکے رہنے کے بھی خواہشمند نہیں تھے بلکہ وہ اس معزز منصب کے آئینی احترام کو ان چھٹ بھئیے سیاست دانوں کو یاد دلانا چاہئے تھے ۔ جو ہر گھڑی ہر جگہ تمام قاعدے قانون کو بالائے طاق رکھ کر اپنی من مانی کر نا چاہتے ہیں۔
چنانچہ عزیز قریشی صاحب نے سپریم کورٹ میں ایک آئینی عرضداشت دائر کی جس میں انہوں نے نریندر مودی کی حکومت پر ان سے زبردستی سبکدوش ہونے کیلئے دباؤ بنانے کا الزام لگا تے ہوئے آئین کی دفعہ156(بابت صدر جمہوریہ کی منشا سے گورنروں کی تقرری اور ان کی معزولی) کی مزید وضاحت چاہی۔ اور اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ ان کے منصب سے کہیں چھوٹے منصب کا ایک سکریٹری ان سے انکااستعفیٰ طلب کرے۔ بھارتی کے چیف جسٹس لودھا کی سربراہی میں قائم آئینی بنچ نے حکومت کو نوٹس جاری کر کے اس کے چھ ہفتوں کے اندر اس پٹیشن میں دائر کردہ اہم اعتراضات کا جواب دینے کو کہا گیا ہے ۔ معزز سپریم کورٹ نے داخلہ سکریٹری انل گوامی اور اترا کھنڈ سرکار کو بھی نوٹس جاری کئے ہیں ۔ آئینی سوالات کو لیکر تشکیل دی گئی اس بنچ میں سپریم کورٹ کے بہت تجربہ کار 5جج شامل ہیں۔ یہ پٹیشن کیسریا سرکار کے گلے میں ہڈی کی طرح پھنس گئی ہے ۔ محترم عزیز قریشی صاحب کی خدمت میں محسن بھوپالی کا ایک شعر نذر کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔ ؂

صلہ ملے نہ ملے خون دل چھڑکتے ہیں

ہر اک خار ہے دست طلب بڑھائے ہوئے

 

 

بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی

 

کافی عرصہ پہلے ایک مفاد عامہ کی عرصی سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھی جس میں مختلف جرائم میں چارج شیٹ والے مرکزی وزراء۔ وزرائے اعلیٰ وغیرہ کے بر سر اقتدار رہنے پر اعتراض کئے گئے تھے اور عدالت عالیہ سے انہیں برخواست کرنے کی مانگ کی گئی تھی ۔ وزیر اعظم مودی کی کے جاپان جانے سے دو روز قبل سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا جس میں معزز عدالت نے داغی وزراء کو برخواست کرنے کی مانگ کو پورا کرنے سے معذوری ظاہر کی کیونکہ یہ وزیر اعظم کا استحقاق ہے کہ وہ جسے چاہیں وزیر بنا سکتے ہیں لیکن عدالت نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ داغی لوگوں کو وزیر نہیں بنا یا جانا چاہئے ان کے مشوک کردار کی بنا پر ان پر حکومت کے کارو بار کے لئے اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے فیصلہ میں واضح طور پر کہا کہ وزیر اعظم کو اس معاملہ کو سنجیدہ سے نوٹس لینا چاہئے۔دوسرے الفاظ میں عدالت عالیہ نے بالواسطہ طور پر کہہ دیا کہ اگر آپ ایماندار ہیں تو ان بے ایمانوں کی رخصتی کردو!

یہ مفاد عامہ کی عرضی داخل کرنے والے بھی بڑے ستم ظریف ہیں ہمارے ہر دل عزیز وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ میں چودہ معزز وزیر داغی ہیں ۔ اب بتاؤ بھلا مودی جی اس میں کیا کرسکتے ہیں ۔ بیٹھے بٹھائے ان کی ایمانداری بھی مشکوک کردی۔ ہو سکتا ہے انہیں خبر ہی نہ ہو کہ ان کے ہیرے بھی داغی ہیں؟؂

داغ دل گر نظر نہیں آتا

یوں بھی اے چارہ گر نہیں آتی

 

 

(کالم نویس آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سابق سکریٹری ہیں۔)

 

 

...


Advertisment

Advertisment