Today: Wednesday, September, 20, 2017 Last Update: 04:39 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

NAGALAND

 

ناگالینڈ میں دھماکہ خیز ذخیرہ برآمد، دو خواتین گرفتار
کوہیما، 25 مارچ (یو این آئی) ناگالینڈ کے ضلع دیما پور کے چوکودیما میں چیکنگ کے دوران دھماکہ خیز مادوں کا ذخیرہ برآمد کیا گیا ہے ۔آبکاری کے موبائل دستے کے انسپکٹر نے بتایا کہ 200 ڈیٹونیٹر اور جلاٹین کی 100 چھڑیں برآمد کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ دھماکہ خیز مادے ڈرائیور نے اپنی سیٹ کے نیچے چھپائی تھی۔ اس سلسلے میں ڈرائیور لیڈیمو لوتھا اور دو دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ لوتھا کے بیان پر اس معاملے میں آسام میں کاربی آنگ لونگ ضلع کی مون بستی سے 41 سالہ عورت سپینو لوتھا کو گرفتار کیا گیا۔گرفتار کی گئی عورت کے مطابق اس نے یہ دھماکہ خیز مادے دیفو میں ایک ناشناسا شخص سے 12 ہزار روپئے میں خریدی تھی۔

 

ناگالینڈ حکومت نے دیماپور تشدد کے متعلق میڈیا رپورٹوں کو مسترد کیا

کوہیما، 12مارچ(یو این آئی) ناگالینڈ حکومت نے میڈیا میں آنے والی ان رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ حکومت نے 5مارچ کے واقعہ کے بارے میں وزارت داخلہ کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں کہا کہ عصمت دری کا کوئی معاملہ پیش نہیں آیا تھا۔چیف سکریٹری پنکج کمار نے ایک بیان میں واضح کیاکہ حکومت کی رپورٹ میں اس طرح کی کوئی بات نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شکایت کنندہ کی طرف سے 24فروری کو شکایت درج کرانے کے بعد دیماپور پولیس نے تفتیش کے لئے معاملہ درج کیا۔انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ، ملزم اور اس کے مشتبہ ساتھی کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ ملزم کی میڈیکل جانچ کرائی گئی اور نمونے کو سی ایف ایس ایل گوہاٹی بھیجاگیا۔مسٹر کمار نے کہا کہ چوں کہ یہ معاملہ اب بھی زیر تفتیش ہے اورمیڈیا سے اپیل کی کہ وہ قیاس آرائیوں کی بنیاد پر کوئی نتیجہ اخذ نہ کریں۔ رپورٹ نے حکومت کو بلاکر رکھ دیا ہے کیوں کہ یہ اس رپورٹ کے بالکل برعکس ہے جو اس نے مرکزی وزارت داخلہ کو بھیجی ہے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا میں اس اس طرح کی خبروں سے فرقوں کے درمیان غلط فہمی پیدا ہوگی اور تفتیشی ایجنسیوں کے لئے پریشانیاں بڑھیں گی۔

 

دیما پورسانحہ : 12افراد کیخلاف’ لک آؤٹ‘ نوٹس جاری
کوہیما: پولیس نے دیما پور میں 5 مارچ کو ایک زیر سماعت قیدی کو قتل کردینے کے واقعہ میں ملوث 12 افراد کے خلاف ان کے تصویروں کے ساتھ لک آؤٹ نوٹس جاری کیا ہے ۔دیما پور پولیس کے ایڈیشنل ایس پی اور ترجمان نے مقامی میڈیا میں کل یہ نوٹس جاری کیا۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹھوس اور معتبر شواہد کی بنیاد پر تصویروں میں موجود ان افراد کی شناخت ہوگئی ہے ، یہ لوگ 5 مارچ کے واقعہ میں براہ راست ملوث ہیں۔ترجمان نے کہا کہ ابھی مزید تصویر یں شائع کی جائیں گے ۔

 

دیما پور میں حالات پرامن

سی بی آئی کی جانچ کیلئے عرضی دائر
دیماپور(ناگا لینڈ) 10مارچ(یو این آئی)ناگالینڈ کے دیماپور میں حالات اب پرامن ہوچکے ہیں ، گرچہ کچھ علاقوں میں ابھی بھی دفعہ 144نافد ہے ۔ضلع سپرنڈنٹ کی برطرفی کے بعد لا اینڈ آرڈ کی ذمہ داری سنبھالنے والے والے ایڈیشنل ایس پی کاکھیتو نے کہا کہ ریپ کے مبینہ ملزم کی بھیڑ کے ہاتھوں ہلاکت کے معاملے میں اب تک 43افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تین دن بعد دیماپوس میں کارو بار و دوکانیں دوبارہ کھل گئی ہیں ۔دیما پور ناگالینڈ کا کمرشیل ہب ہے ۔انہوں نے کہا کہ جیل توڑنے اور اس کے بعد بھیڑ کو جمع کرکے حملہ کرنے والوں کی تلاشی مہم جاری ہے ۔اور پولس پورے معاملے پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے ۔اس درمیان حکومت نے اس معاملہ کی جانچ کیلئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کی ہے ۔جو ریپ اور جیل توڑنے کی جانچ کرے گی ۔
اس درمیان آسام اسمبلی میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن جماعت اے یو ڈی ایف نے اس معاملہ کو اٹھا یا کہ آسام حکومت ریاست کے باہر رہنے والے اپنے شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہے ۔آسام ہائی کورٹ میں ایک وکیل مفاد عامہ کی ایک عرضی دائر کرتے ہوئے کہا کہ دیما پور واقعہ کی سی بی آئی کے ذریعہ انکوائری کی ہدایت دی جائے ۔اس درمیان ناگا لینڈ کے وزیر داخلہ وائی پیٹون جنہوں نے دیما پور کا دورہ کیا تھا نے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق لڑکی کی آبرو ریزی کی گئی ہے ۔فارنسک جانچ رپورٹ کا انتظار کیا جارہا ہے ۔ایڈوکیٹ راجیب کلیتا نے اپنے عرضی میں مطالبہ کیا ہے کہ ہائی کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی سے جانچ کرائی جائے ۔اس کے علاوہ ناگالینڈ کے جیلوں میں بند غیر ناگاقیدیوں کے سیکورٹی کے مد نظر تمام آسام منتقل کیا جائے ۔اس کے علاوہ ناگالینڈ حقوق انسانی کمیشن میں ناگا حکومت کے خلاف شکایت درج کرائی گئی ہے کہ وہ ملزم کو سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی ۔دوسری جانب ناگا لینڈ پریس ایسوسی ایشن نے آج صحافیوں کے ساتھ ناگالینڈ پولس اور انڈین ریزرو بٹالین کے جوانوں کے نازیبا رویہ کی سخت مذمت کی ہے ۔ناگا لینڈ پریس ایسوسی ایشن نے الزام عاید کیا کہ دیما پور کے واقعہ کی رپورٹنگ کرنے والوں صحافیوں کے ساتھ پولس کے جوانوں نے گالی گلوج کیا ۔ایک پریس ریلیز کے تیم جین جمیر نے میڈیا کے اہلکار پانچ مارچ کو ریپ کے مبینہ ملزم کے ساتھ بھیڑ میں موجود لوگوں کی پٹائی کی رپورٹنگ کرکے اپنی ڈیوٹی انجام دیا ۔اس کے علاوہ میڈیا امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے ۔پریس ایسوسی ایشن نے کرفیو سے میڈیا کے اہلکاروں کو مستثنیٰ قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹنگ کیلئے میڈیا کے جوانوں کو چھوٹ دینی چاہیے ۔

 

میرا بھائی بنگلہ دیشی شہری نہیں ہے :جمال الدین
دیما پور(ناگالینڈ) 7مارچ(یو این آئی)ناگالینڈ کے دیماپور میں جیل میں بند ایک مسلم نوجوان کی بھیڑکے حملے میں ہلاکت کے بعد اس کے بھائی جمال الدین نے آج ایک ٹی وی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق جس لڑکی نے اس کے بھائی سید شریف الدین خان پر ریپ کا الزام عائد کیا تھا، کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کی گئی ہے ۔جمال نے کہا کہ اس کے بھائی کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے ۔ناگا گروپ کے ساتھ پولس بھی اس معاملے میں شامل ہے ۔سید جمال الدین نے کہا کہ ناگالینڈ حکومت جنگل راج چلارہی ہے ۔جس لڑکی نے اس کے بھائی پر ریپ کا الزام عاید کیا تھا کہ وہ میرے بھائی کی بیوی کی کزن بہن ہے ۔اس نے کہا کہ ناگالینڈ پولس کہہ چکی ہے کہ لڑکی کے ساتھ عصمت دری نہیں ہوئی ہے ۔جمال نے کہاکہ میرے خاندان کے کئی افراد فوج کی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔پھر وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میرا بھائی بنگلہ دیشی ہے ۔میرے بھائی کو سازش کا حصہ بنایا گیا ہے ۔جمال خان نے کہا کہ وہ اور اس کے بھائی کمال خان ابھی آسام ریجمنٹ میں فوج کی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔کارگل میں ایک بھائی امام الدین خان شہادت ہوئی تھی۔جمال خان نے کہا کہ اس کے والد انڈین فورسیس سے ریٹائرڈ ہوچکے ہیں اور اس وقت بھی ان کی والدہ کو پنشن مل رہی ہے ۔جیل میں بند سید شریف الدین کی بھیڑ کے ہاتھوں ہلاکت پر کئی اہم سوالات کھڑے ہونے لگے ہیں ۔سید شریف الدین پر عصمت دری کا الزام لگانے والی خاتون کے میڈیکل ٹسٹ میں ریپ کے ثبوت نہیں ملے ہیں اس کے باوجود شریف الدین کو رہا کیوں نہیں کیا گیا ؟ ناگا پولس نے شروع میں دعویٰ کیا تھا کہ شریف الدین ایک غیر قانونی بنگلہ دیشی شہری ہے ۔جیل میں بند سید شریف الدین کو جمعرات کی رات 400افراد پر مشتمل ایک بھیڑنے جیل کو توڑ کر باہر نکال کر مار پیٹ جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی ۔سید شریف الدین دیماپور کے مرکزی جیل میں بند تھا ۔بھیڑنے باہر نکالا ،اس کے بعد مارپیٹ کی ،اور موت ہونے کے بعد شہر میں واقع ایک ٹاور سے لٹکادیا ۔ناگا سول سوسائٹی گروپ نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے ۔مرکزوریاست دونوں کی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ایجنسیوں نے بغیر کسی تحقیق کے دعویٰ کیا کہ وہ بنگلہ دیشی شہری ہے جب کہ حقیقت اس کے بر خلاف ہے ۔

 

ناگالینڈ میں کرفیو جاری، آسام اور ناگالینڈ میں ہائی الرٹ
دیما پور، 7 مارچ (یو این آئی) ناگالینڈ کی راجدھانی دیما پور میں جمعرات کو مشتعل ہجوم کے ذریعہ جیل میں بند عصمت دری کے ایک ملزم کے قتل کے دو دنوں بعد آج بھی وہاں کرفیو نافذ ہے ۔ ساتھ ہی ناگالینڈ اور آسام میں سیکورٹی فورسیز کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے ۔واقعہ کے بعد مرکزی حکومت نے پڑوسی ریاست آسام میں بھی ہائی الرٹ جاری کیا ہے ۔ ناگالینڈ حکومت نے کل اس واقعہ کی جوڈیشئل انکوائری کا حکم دیا تھا۔ ریاستی حکومت نے حالات پر قابو پانے میں ناکام رہنے پر دیما پور ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی کمشنر کو بھی معطل کردیا ہے ۔واضح رہے کہ جمعرات کو دیما پور میں تقریباً چار ہزار مشتعل افراد نے سنٹرل جیل میں بند عصمت دری کے ایک ملزم کو جبراً جیل سے گھسیٹتے ہوئے باہر نکالا اور اسے ننگا کرکے تقریباً سات کلومیٹر سڑکوں پر دوڑاتے ہوئے مارا پیٹا جس سے اس کی جان چلی گئی تھی۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے ہوا میں گولیاں چلائیں لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ ہجوم میں شامل ایک شخص بھی گولی لگنے سے ہلاک ہوا۔آبرو ریز کا نام فرید خان (35) بتایا جا رہا ہے ۔ اسے دیما پور کی ایک ناگا عورت کی عصمت دری کے الزام میں 24 فروری کو گرفتار کیا گیا تھا۔مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اعلی حکام کو اس سلسلے پر مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ ناگالینڈ کے وزیراعلی ٹی آر زیلیانگ نے آسام کے وزیراعلی ترون گوگوئی کو یقین دلایا ہے کہ قصورواروں کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔

...


Advertisment

Advertisment