Today: Wednesday, September, 20, 2017 Last Update: 04:49 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

WEST BENGAL

WEST BENGAL

, میزورم کے گورنر کا اضافی چارج، 4 ؍اپریل کو سنبھالیں گے ترپاٹھی

ایزل ، یکم اپریل(آئی این ایس انڈیا ) مغربی بنگال کے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کو 4 ؍اپریل کو میزورم کے گورنر کے طور پر حلف دلایا جائے گا ۔انہیں میزورم کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ریاست کے پروٹوکول افسر ڈیوڈ ایل پچھوا نے میڈیا کو بتایا کہ ایزل کے قریب واقع لینگ پو ئی ہوائی اڈے پر 4 ؍اپریل کو آنے کے بعد ترپاٹھی کا رسمی طورپر استقبال کیا جائے گا اور اسی دن شام 4 ؍بجے گورنر ہاؤس میں انہیں حلف دلایاجائے گا ۔انہوں نے بتایا کہ ہفتہ کو مرکز کی طرف سے برطر ف کیے گئے ریاست کے سابق گورنر عزیز قریشی اسی دن ایزل سے روانہ ہو جائیں گے۔اس درمیان، میزورم کے طلبہ کی سب سے بڑی تنظیم میزو زیر لئی پال (ایم زیڈ پی )نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترپاٹھی کی حلف برداری والے دن وہ گورنر ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کریں گے۔
انہوں نے اس حلف برداری کومرکز کی طرف سے میزورم کو’ڈمپنگ گراؤنڈ‘کے طور پر استعمال کرنا قرار دیا ہے۔میزور م یونیورسٹی میں 9 ؍اپریل کو ہونے والے تقسیم اسناد تقریب کے دوران صدر پرنب مکھرجی کے دورے کے وقت اسی مسئلے کو لے کر ایم زیڈ پی احتجاج کرنے کاپروگرام بنا رہی ہے۔

 

راج ناتھ سنگھ ہند۔ بنگلہ دیش کے سرحد کے دورے پر

کلکتہ31مارچ(یو این آئی)بردوان بم دھماکہ میں این آئی اے کے ذریعہ چارج شیٹ داخل کیے جانے کے ایک دن بعد مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج ہند۔ بنگلہ دیش سرحد کا دورہ کیا ۔مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اپنے دوروزہ دورہ کے دوران کوچ بہار ضلع اور تین بیگھا کوری ڈور کا دورہ کریں گے اور کوچ بہار میں انکیلوڈویلرس سے ملاقات بھی کریں گے ۔راج ناتھ سنگھ بارڈرسیکورٹی فورسیس اور بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کے آفیسر س تین بیگھا کوری ڈور میں ملاقات بھی کریں گے ۔اس کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بدھو سندربن میں واقع چوکیوں کا دورہ کریں گے ۔این آئی اے نے بردوان بم دھماکہ میں چارج شیٹ داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کی کا لعدم تنظیم جماعت المجاہدین ہندوستان میں اپنا نیٹ ورک پھیلانے کے ساتھ بنگلہ دیش کی جمہوری و منتخب حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے اور بنگال کے سرحدی اضلاع میں اس کا نیٹ ورک پھیل چکا ہے ۔تین بیگھا میں ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پہنچنے کے بعد راج ناتھ سنگھ نے بالاپوکوری انکلیو میں لوگوں سے ملاقات کی ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ نریندری مودی کی قیادت والی حکومت بنگلہ دیش کے ساتھ لینڈ باؤنڈری اگریمنٹ کے حق میں ہے ۔جس کے تحت زمینوں کا تبادلہ ہونا ہے ۔

 

بی جے پی بنگال میں انتہا پسندی کو فروغ دینے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتی ہے : بایاں محاذ

کلکتہ30مارچ(یو این آئی)کلکتہ کارپوریشن انتخاب کیلئے بایاں محاذ نے انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترنمول کانگریس کی غلط پالیسییوں کو بی جے پی کبھی بھی ختم نہیں کرسکتی ہے بلکہ زعفرانی پارٹی ہندوتو کے ایجنڈے پر چل کر ریاست میں صرف انتہاپسندی کو ہی فروغ دے سکتی ہے ۔انتخابی منشور میں ممتا بنرجی کی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ حالیہ ملاقات کو گھرواپسی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کی پالیسیوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے ۔ترنمول کانگریس اوربی جے پی ایک دوسرے کی معاون ہے ۔اور پالیسیاں اور نظریات کم وبیش یکساں ہیں اس لیے بنگال میں ترنمول کانگریس کو اقتدار سے باہر صرف بایاں محاذ ہی کرسکتی ہے ۔منشور میں کہا گیا ہے کہ میڈیاکا ایک بڑا حصہ بنگال میں بی جے پی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے ۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ریاست میں صرف بایاں محاذ ہی اپوزیشن جماعت ہے اور اس کی زمینی پکڑ ہے بی جے پی کی بنگال میں کوئی زمینی حقیقت نہیں ہے ۔شاردا چٹ فنڈ گھوٹالہ کی جانچ کررہی ایجنسیاں سی بی آئی اور ای ڈی دونوں مرکز کے زیر انتظام ہے ۔ممتا بنرجی کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد سے ہی شاردا چٹ فنڈ گھوٹالہ کی جانچ میں سست روی سے کام کررہی ہے ۔ترنمول کانگریس راجیہ سبھا میں کئی اہم بلوں میں بی جے پی کی حمایت کی ہے ۔ یہ ترنمول کانگریس کی گھر واپسی ہے ۔ترنمول کانگریس 1999اور 2004میں این ڈی اے حکومت کا حصہ رہ چکی ہے ۔منشور میں خواتین کے تحفظ اور ہر وارڈ میں 100دن کام کو یقینی بنایا جائے اگا اور ہر ایک وارڈ میں خواتین کے تحفظ کیلئے ایک ٹیم بنائی جائے گی۔اس کے علاوہ کلکتہ کے شہریوں کیلئے سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ 24گھنٹے ہیلف لائن قائم کیا جائے گا ۔گزشتہ ہفتہ بایاں محاذ نے 93میونسلپٹی کے لئے انتخابی منشور جاری کیا تھا۔

 

کلکتہ ہائی کورٹ میں روز ویلی کی درخواست رد
کلکتہ30مارچ(یو این آئی)کلکتہ ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے چٹ فنڈ کمپنی روز ویلی کے سیزاکاؤنٹ کو ختم کرنے کی کمپنی کے سربراہ گوتم کندو کی درخواست کو رد کردیا ہے ۔مرکزی جانچ ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے گزشتہ ہفتہ بد ھ کو روز ویلی کے سربراہ سے کئی گھنٹے تک پوچھ تاچھ کرنے کے بعد گرفتار کرلیا تھا ۔روز ویلی نے اپنی درخواست میں کہا ہے۔ کہ ای ڈی کے ذریعہ سیل کیے گئے 2,631اکاؤنٹ کو روپیہ جمع کرنے والوں کے مفاد میں دوبارہ کھول دیا جائے اور ایجنسی کو تین ماہ میں جانچ مکمل کرنے کی ہدایت دی جائے ۔چیف جسٹس منجولا چیلر کی قیادت والی بنچ نے اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایک ایسے وقت میں جب جانچ چل رہی ہے ایسے میں یہ درخواست دائرکرنے کا یہ مناسب وقت نہیں تھا۔دوسری جانب سیشن کورٹ کے چیف جج محمد ممتاز خان نے روز ویلی کے سربراہ گوتم کندو کی درخواست ضمانت رد کردیا ہے اور ایجنسی کو مزید پانچ دن کیلئے تحویل میں دیدیا ہے ۔گزشتہ سال نومبر میں ای ڈی نے روز ویلی کمپنی کے مختلف اکاؤنٹ سے 300کروڑ روپیہ ضبط کیے تھے ۔اس کے علاوہ بڑے پیمانہ پر نقد بھی ضبط کیے گئے تھے ۔مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ کے راجیہ سبھا میں دیے گئے بیان کے مطابق روز ویلی گروپ نے لوگوں سے 10,281 کروڑ روپیہ وصولے ہیں۔سی بی آئی بھی روز ویلی کمپنی کے خلاف جانچ کررہی ہے ۔اسی مہینہ میں ایجنسی نے بنگال کے 27مقامات، تری پورہ کے ساتھ مقامات اور آسام ، اڑیسہ، دہلی ، اترپردیش، مہاراشٹرا، بہار ، جھاڑ کھنڈ ، چھتس گڑھ، تامل ناڈو میں واقع روزویلی کے دفاتر پر چھاپہ مارا تھا ۔روز ویلی نے شمال مشرقی ریاستوں سے بڑے پیمانے پر روپیہ وصولے ہیں ۔

 

مجاز نے نوجوان نسل کے غم و غصے کو فن کاری سے شعر کے قالب میں ڈھالا

سریندر ناتھ ایوننگ کالج، کولکاتا میں دو روزہ کل ہند سیمینار بعنوان’’مجاز کی شاعری اور اس کی میراث : بازدید ‘‘ کا انعقاد
کولکاتا ( ۲۷ مارچ ) : ’’ مجاز اپنے عہد کا بڑا شاعر تھا۔جس نے اپنے عہد کے بر افروختہ نوجوان نسل کے غم و غصے کو فن کاری سے شاعری کے قالب میں ڈھالنے کا کام کیا۔اس نے زندگی کے نغمے گنگنائے،ترقی پسندی کے سائے میں شام کی اور آزادی کی صبح کے خواب دیکھے۔‘‘یہ جملے پروفیسر زماں آزردہ کے تھے۔وہ سریندر ناتھ ایوننگ کالج، کولکاتا اور این سی پی یو ایل دہلی کے مشترکہ اہتمام میں منعقدہ دو روزہ کل ہند سیمینار بعنوان’’مجاز کی شاعری اور اس کی میراث : بازدید ‘‘ میں کلیدی خطبہ پیش کر رہے تھے۔پروفیسر زماں آزردہ نے مزید کہا ’’ مجاز کو از سرِ نو دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے تعلق سے بعض غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔‘پروفیسر زماں آزردہ،پروفیسر شارب ردولوی ،جناب قیصر شمیم اور کالج کے پرنسپل پروفیسر اقبال جاوید نے مشترکہ طور پر شمع روشن کرکے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا۔شمع افروزی کے بعد مجاز کی نظموں اور غزلوں کومعروف فن کار سہیل رانا نے اپنی مسحور کن آواز میں پیش کر کے سامعین کا دل جیت لیا۔بطور مہمانِ خصوصی جناب قیصر شمیم نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر دیبو پریا سانیال اور صدارت معروف محقق ،ناقد اور مجاز کے ہم عصر پروفیسر شارب ردولوی نے کی۔پروفیسر شارب ردولوی نے افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا’’ مجاز کو میں نے نہ صرف دیکھا ہے،بلکہ وہ میرے قیامِ لکھنؤ کے زمانے میں اکثر میرے ہوسٹل کے کمرے میں آ جاتے تھے۔پھر مجاز میرے ہم وطن تھے۔رودولی سے وہ لکھنؤ آ گئے تھے۔مجاز کی شاعری ہمیں پیغام دیتی ہے۔ہمیں جد وجہد اور مسلسل کاوش کا درس دیتی ہے۔مجاز کو اپنے زمانے میں جو مقبولیت حاصل تھی وہ اردو کے کم شعرا کے نصیب میں آتی ہے۔‘‘سریندر ناتھ کالج کے پرنسپل پروفیسر اقبال جاوید نے اس موقع پر شعبہ ء اردو کی سیمینا کی کامیاب پیش کش کے لئے ستائش کی۔پروفیسر نصرت جہاں نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔چائے کے وقفے کے بعد دوسرا اجلاس شروع ہوا۔دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر شارب ردولوی نے اور نظامت پروفیسر نصرت جہاں نے کی ۔اس اجلاس میں دو مقالے پڑھے گئے۔پروفیسر نعمان خان نے ’’مجاز ایک منفرد شاعر‘‘ اور ڈاکٹر امام اعظم نے’’ مجاز کی شاعری میں گوندھا ہوا گداز‘‘موضوعات پر اپنے مقالات پیش کئے۔
بطورصدر پروفیسر شارب ردولوی نے دونوں مقالوں کا بھر پور جائزہ لیا اور کہا یہ سیمینار مجاز فہمی کے نئے باب وا کررہا ہے۔سیمینار کے دوسرے دن چار اجلاس منعقد ہوئے۔دوسرے دن کے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر زماں آزردہ نے کی۔جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد کاظم نے ادا کئے۔اس اجلاس میں پروفیسر شارب ردولوی ،ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے’’ مجاز کی شاعری میں انقلابی عناصر( نظم کے حوالے سے)،ڈاکٹر د یباہاشمی نے ’’مجاز کی شاعری میں انقلاب‘‘ اور زوہیب عالم نے مجاز کی شاعری میں عشق کا اظہار‘‘ پر اپنا مقالہ پیش کیا۔صدارتی خطبے میں زماں آزردہ نے سبھی مقالوں کی تعریف کی اور اس اجلاس کو کامیاب ترین اجلاس بتایا۔دوسرے دن کے دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسرنعمان خان او ر پروفیسر اقبال جاوید نے اور نظامت ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے کی۔اس اجلاس میں ڈاکٹرعمر غزالی،ڈاکٹر مقصود دانش نے اپنے مقالات پیش کئے۔ ڈاکٹر محمد کاظم نے مجاز کی شاعری میں عورت کا تصورکے عنوان سے مجاز کے یہاں عورتوں کے مختلف روپ اور ان کے کردار پر روشنی ڈالا۔دوسرے دن کے تیسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر شارب ردولوی نے کی۔نظامت ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے کی۔اس اجلاس میں ،ڈاکٹر فرحت آرا کہکشاں نے’’ مجاز کی شاعری میں رجائی افکار کی بازگشت،ڈاکٹر شبانہ نسرین نے عشقِ مجاز،ڈاکٹر نصرت جہان نے ’’ نظم آوارہ : ایک جائزہ‘‘ ،پروفیسر خالد اشرف نے مجاز کی ’’ شعری جہتیں‘‘ عنوان سے مقالات پیش کئے۔پروفیسر شارب ردولوی نے مجاز کی ذاتی زندگی پر الزام تراشی کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ’’ مجاز کی ذاتی زندگی پر سوال اٹھانے والوں کو معلوم ہی نہیں کہ مجاز بہت صاف دل شخص تھا۔اس کے یہاں دوہرے معیار نہیں تھے۔‘‘اختتامی اجلاس کی صدارت جناب قیصر شمیم نے اور نظامت پروفیسر نصرت جہاں نے کی ۔اس اجلاس میں مقامی اور بیرونی مقالہ نگاروں کو اسناد تقسیم کی گئیں اور چند مہمانوں نے اپنے تاثرات بیان کئے۔دو دنوں کے سیمینار میں مجاز کامعروف شعر۔ترے ماتھے پر یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن ، تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا، کی گونج سنائی دیتی رہی۔ سیمینار کے دونوں دن کالج کے طلبہ و طالبات، معززینِ شہر خاصی تعداد میں موجود تھے۔

 

آسنسول میں واقع دلی پبلک اسکول میں توڑ پھوڑ

کلکتہ27مارچ(یو این آئی)مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی میں مشنری اسکول کو دھمکی ملنے کے بعد اب شرپسند عناصر نے آسنسول میں واقع دہلی پبلک اسکول میں کل رات غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلاس روم میں توڑ پھوڑ اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ۔ذرائع کے مطابق 50افراد پر مشتمل ایک گروپ نے نیشنل ہائی وے 2پر واقع دلی پبلک اسکول میں داخل ہوکر کلاس روم اور پرنسپل کے آفس میں توڑ پھوڑ کیا ۔اور 5اسکول بسوں کو توڑ پھوڑ کیا ۔اسکول انتظامیہ نے آسنسول درگا پور پولس کمشنریٹ کے سالان پور پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے ۔پولس اس معاملہ کی جانچ کررہی ہے۔ اور اب تک اس معاملہ میں کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے ۔اس درمیان طلباء ، گارجین اور اساتذہ نے اسکول کے باہر مظاہرہ کیا اور خطاواروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔اب تک اسکول میں توڑ پھوڑ کی وجہ سامنے نہیں آئی ہے ۔

بدھا دیب بھٹاچاریہ سی پی ایم کانگریس میں پولیٹ بیورو سے علاحدگی اختیار کرسکتے ہیں
کلکتہ27مارچ(یو این آئی)مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ بدھا دیب بھٹاچاریہ سی پی آئی (ایم)کی سب بااختیار کمیٹی پولیٹ بیور و سے اگلے مہینہ اپریل کے وسط میں وشاکھا پٹنم میں ہونے والے کانگریس میں کنارہ کشی اختیار کرسکتے ہیں۔بدھا دیب بھٹا چاریہ کے علاوہ سابق ریاستی وزیر نروپم سین بھی پولیٹ بیورو سے علاحیدگی اختیار کرسکتے ہیں ۔ملک بھر میں کمیونسٹ پارٹیوں کی کمزور ہوتی ہوئی گرفت اور بنگال میں بی جے پی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے سی پی ایم کی تشکیل نو اور پارٹی انتظامیہ میں نئے چہروں کو شامل کرنے کا مطالبہ تیز ہورہا ہے ۔سابق وزیر اعلیٰ بدھا دیب بھٹاچاریہ اور سابق ریاستی وزیر نروپم سین کا بولیٹ بیورو سے رضاکارانہ علاحدگی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے ۔وشاکھا پٹنم میں منعقد ہونے والا 21ویں کانگریس میں پولیٹ بیورو اور سنٹرل کمیٹی میں تبدیلی ہوسکتی ہے ۔ذرائع کے مطابق ممبر پارلیمنٹ اور مغربی بنگا ل سے سنٹر ل کمیٹی کے ممبر محمد سلیم پولیٹ بیورو میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق سینئر لیڈر بدھا دیب بھٹا چاریہ اور نروپم سین پولیٹ بیورو سے رضاکارانہ علاحیدگی بھی نئے چہروں کیلئے جگہ خالی کرنے کیلئے کررہے ہیں ۔پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ ان دونوں سنے ئر لیڈروں کی صحت اچھی نہیں ہے اس لیے بیولیٹ بیورو سے کنارہ کشی کی وجہ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ایک دوسرے لیڈر نے کہا ان دونوں لیڈروں کو خصوصی مدعوئین میں شامل کیا جائے ۔سابق وزیر اعلیٰ بدھا دیب بھٹا چاریہ گیارہ سالوں تک بنگال کے وزیر اعلیٰ رہے اور پارٹی کا چہرہ بھی بنے رہے ۔بنگال کی خستہ حالی کو کم کرنے کیلئے انہوں نے اپنی پارٹی کے سابق موقف کے خلاف ریاست میں سرمایہ کاری کے ماحول میں اضافہ کیلئے صنعت کاروں سے رابطہ کیا اور ہگلی ضلع کے سینگور میں ٹاٹا کو ایک لکھیا کار نینو کے کارخانہ کیلئے زمین الاٹ منٹ کرایا اور اسی طرح نندی گرام میں کیمیکل کارخانے کیلئے تحویل میں لیا گیا ۔مگرکسانوں کے عدم اطمینا ن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ممتا بنرجی نے تحریک شروع کی اور اس طرح کمیونسٹوں کیلئے لال قلعہ کہا جانے والا بنگال اس کی سب سے کمزور پہلو بن گیا ۔ اور بایاں محاذ34سالہ دو ر اقتدار زوال پذیر ہوگیا ۔اس کے بعد سے ہی بنگال سے کمیونسٹوں کی پکڑ کمزور ہوتی جارہی ہے ۔2008میں بھی سابق وزیر اعلیٰ مغربی بنگال جیوتی باسو، سابق سیکریٹری جنرل ہرکشن سنگھ سرجیت اور آر اوماناتھ نے بیماری کی وجہ سے پولیٹ بیورو سے رضاکارانہ علاحدگی اختیار کرلی تھی ۔

 

راناگھاٹ راہبہ عصمت دری معاملہ
مرکز کاسی بی آئی جانچ کرانے سے انکار
کلکتہ؍ نئی دہلی27مارچ(یو این آئی)مرکزی حکومت نے 14مارچ کوندیا ضلع میں ایک کنونٹ اسکول کی 71سالہ راہبہ کی راہبہ کی عصمت دری کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی مغربی بنگال حکومت کی درخواست کو رد کردیا ہے ۔مرکزی وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر کے مطابق مغربی بنگال حکومت کی طرف سی بی آئی جانچ کی مدد کی درخواست موصول ہوئی تھی مگر اس کو قبول نہیں کیا گیا ہے اور اس فیصلہ سے ریاستی حکومت کو مطلع کردیا گیا ہے ۔ابتدا میں اس معاملہ کی جانچ کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ریاستی پولس کے کریمنل انوسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے سپرد کیا تھا ۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں اس معاملہ میں ملوث افراد کی تصویریں قید ہوگئی تھیں۔مگر معاملہ کے چار دن بعد تک جب سی آئی ڈی کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوگئی اور حکومت کی چوطرفہ مذمت ہونے لگی تو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے 19مارچ کو مرکز ی حکومت سے خط لکھ کر اس معاملہ کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی درخواست کی ۔ایک دن قبل جمعرات کو سی آئی ڈی نے اپنی ناکامی کے سلسلہ کو توڑتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کیا ۔جس میں محمد سلیم شیخ کو ممبئی سے گرفتار کیا گیا جب کہ گوپال سرکار کو شمالی 24پرگنہ سے ہبرا سے گرفتار کیا گیا ۔آج سرکار کو راناگھاٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے گوپال سرکار کو 14دن کیلئے سی آئی ڈی کی تحویل میں دیدیا ۔ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ پاپیا داس نے سرکاری وکیل کے دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے گوپال سرکار کے خلاف انڈین پینل کوڈ کے تحت کئی دفعات لگائے گئے ہیں ۔سرکار پر الزام ہے کہ اس نے ڈکیتی اور عصمت دری میں ملوث افراد کو پناہ دیا تھا ۔رانا گھاٹ بار ایسوسی ایشن نے اعلان کردیا تھا سلیم اور سرکار کے کیس کی کوئی بھی وکالت نہیں کرے گی اس کے بعد سب ڈویژنل لیگل ایڈ کمیٹی نے ان دونوں کی پیروی کی۔

 

اکہتّر سالہ راہبہ کی عصمت دری میں پہلی گرفتاری
کلکتہ26مارچ(یو این آئی)مغربی بنگال کے ندیا ضلع کے راناگھا ٹ میں واقع کنوینٹ اسکول کی 71سالہ راہبہ کی عصمت دری کے معاملہ میں آج سی آئی ڈی نے پہلے کلیدی ملزم کو گرفتار کیا ہے ۔سی آئی ڈی کے ذرائع کے مطابق محمد سلیم کو ممبئی سے گرفتار کیا گیا ہے ،اسے کلکتہ لایا جارہا ہے جہاں رانا گھاٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔اسی معاملہ میں ایک اور شخص کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ندیا ضلع کے رانا گھاٹ سب ڈویژن کے گنگاپور میں واقع کنوینٹ اسکول میں ڈکیتی و عصمت دری معاملہ میں محمد سلیم کلیدی ملزم ہے ۔12لاکھ روپیہ کی قیمت والے سامان کی ڈکیتی کے بعدسلیم سمیت 8افراد نے 71سالہ راہبہ کی عصمت دری کی تھی۔سی آئی ڈی کا کہنا ہے کہ محمد سلیم کو سی سی ٹی وی کے فوٹیج میں دیکھا گیا ہے ۔اسے موبائل کے ٹریک کے ذریعہ گرفتار کیا گیا ہے ۔اس معاملہ کے دیگر ملزمین ابھی بھی گرفت سے باہر ہے ۔مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پہلے راہبہ کی عصمت دری معاملہ کی جانچ کی ذمہ داری سی آئی ڈی کو سونپی تھی ،مگر ملزمین کی گرفتاری میں تاخیر کی وجہ سے چوطرفہ تنقید کی وجہ یس اس معاملہ کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔71سالہ راہبہ کی عصمت دری کا معاملہ پورے میں موضوع بحث بن گیا تھا ۔عیسائی فرقہ سمیت ملک بھر میں ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کو اس واقعہ کیلئے ذمہ دارٹھہرایا جارہا ہے کہ حکومت چرچوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کنگا پور کا دورہ کرکے راہبہ کی عیادت کی تھی ،اس وقت وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے قافلہ کولوگوں نے ایک گھنٹے سے زائد وقفہ تک گھیر کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔اس وقت ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ سی پی ایم اور بی جے پی لوگوں کو گمراہ کررہی ہے اور اس گھیراؤ کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے ۔

 

مشنری کو اسکول بند کرنے کی دھمکی ، کانگریس اور بی جے پی نے مذمت کی
سلی گوڑی25مارچ(یو این آئی) مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی ضلع میں ایک مشنری اسکول کو بند کرنے کی دھمکی ملنے کی مذمت کرتے ہوئے کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ مغربی بنگال حکومت اس طرح کے واقعات پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے اور ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال بہت ہی خراب ہے ۔کانگریس کے ترجمان شوبھا اوجھانے کہا کہ یہ بڑی تشویش کی بات ہے کہ ریاست میں عیسائیوں کے ادارے شدت پسندوں کے نشانہ پر ہے ، مغربی بنگال حکومت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس معاملہ کی انکوائری کرائے اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی ذمہ داری ہے کہ وہ خوف وہراس کا ماحول ختم کرائے ۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ملوث افراد کو سزا بہر صورت ملنی چاہیے ۔دوسری جانب بی جے پی نے کہا ہے کہ مغربی بنگال میں امن و قانون کی صورت حال بہت ہی خراب ہے ۔اس طرح کے واقعات ہریانہ اور مہاراشٹر میں بھی ہوئے ہیں مگر وہاں ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔بی جے پی کے ترجمان سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے ۔اس کے طرح واقعات ہریانہ اور مہاراشٹر میں بھی ہوئے ہیں جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں مگر 48گھنٹے ملزمین کو گرفتار کیا گیا ۔سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہماری حکومتوں نے پوری توجہ سے لاینڈ آرڈ کو چیلنج کرنے والی قوتوں کو بلاتفریق مذہب کارروائی کی ہے مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ بنگال میں ایسا نہیں ہوسکا ہے ۔10دن گزرجانے کے باوجود راہبہ عصمت دری کے ملزمین گرفتار نہیں ہوسکے ہیں ۔جلپائی گوڑی کے مشنری اسکول پر حملہ کرنے کی دھمکی کا معاملہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ بنگال حکومت ندیا ضلع کے راناگھاٹ میں ایک مشنری اسکول پر حملہ اور اس کی 71سالہ راہبہ کی عصمت دری کے واقعہ کی وجہ سے بنگال حکومت چوطرفہ مذمت کا سامنا کررہی ہے ۔حالیہ دنوں میں ملک بھر میں چرچوں پر حملے کے واقعات میں اضافہ ہوئے ہیں ۔

 

سماجی انصاف کا خاتمہ ملک کو تاریک دور میں لے جانے کے مترادف

کلکتہ،24مارچ(یو این آئی)ہاشم پورہ فرقہ وارانہ فسادات پر دہلی کی تیس ہزاری کورٹ کے فیصلہ کو سماجی انصاف کے منافی قرار دیتے ہوئے سابق مرکزی وزیر اشرف علی فاطمی نے کہا کہ ہندوستان اس وقت بہت ہی مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں اس وقت سیکولر ازم اور سیکولر پارٹیوں کے کمزور و مضبوط ہونے کے سوال سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ملک سے سماجی انصاف کا خاتمہ ہورہا ہے اورفسادی مجرموں کے حق میں عدالت کے فیصلے آرہے ہیں ۔یہ بہت ہی تشویش ناک بات ہے ۔کلکتہ میں آج اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اشرف علی فاطمی نے کہا کہ سماجی انصاف کے فقدان سے صرف مسلمان ہی متاثر نہیں ہورہے ہیں بلکہ اس کی وجہ ملک کے تمام کمزور و پسماند ہ طبقات متاثر ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی موجود ہ تحویل اراضی پالیسی سماجی غیر انصافی کی منھ بولتی تصویر ہے ۔یہ آرڈی نینس حکومت کی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے کہ اس کے ایجنڈے میں سماجی انصاف نہیں ہے بلکہ وہ صرف کارپوریٹ گھرانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے کام کررہی اور یہی اس کا اہم ایجنڈہ ہے ۔اشرف علی فاطمی نے جو یوپی اے 1میں فروغ انسانی وسائل کے وزیر مملکت تھے ، کہا کہ بہار میں سماجوادی کے اتحاد کا سوال نہیں ہے بلکہ اس س...


Advertisment

Advertisment