Today: Thursday, November, 23, 2017 Last Update: 03:44 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

UTTARAKHAND

UTTARAKHAND

مسلمان مدارسِ اسلامیہ کی قدرواہمیت کو سمجھیں مدارس کی بقا دین کی بقاہے

نسیم منگلوری
منگلور(اتراکھنڈ)26مارچ(ایس ٹی بیورو)اتراکھنڈ کی معروف اور قدیم دینی درسگاہ جامعہ عربیہ مدرسۃ المؤمنین قصبہ منگلور میں دوروزہ سالانہ عظیم الشان اجلاس گذشتہ شب اختتام پذیر ہوا جس میں دور دراز سے مشاہیر علماء اور مایہ ناز خطباء کو مدعو کیاگیاتھا۔اجلاس میں مسلمانانِ منگلور کا جم کثیر نظر آیا۔ اجلاس کی صدارت جامعہ کے مدیرِ اعلیٰ مفتی محمد معصوم قاسمی نے فرمائی جبکہ مولانامشتاق قاسمی نے نظامت کے فرائض انجام دئے ۔پہلی شب میں قاری محمد مستقیم استاذ جامعہ ہٰذانے تلاوت سے اجلاس کا آغاز کیا اور مولوی محمد ارشاد کشن گنجوی نے نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا اس کے بعد مولانا محمد احمد جوالاپوری اور مولانا فرحت عمرنے اپنے پُرمغزبیانات سے سامعین کو محظوظ کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو سنتِ نبوی پر چلنے،تعلیماتِ نبوی کو عام کرنے اور اشاعتِ قرآنی میں حصلہ لینے کی طرف دعوت دی ۔ دوسری نشست کا آغاز قاری محمد شاہنواز کی تلاوت سے ہوا اور مولوی نور محمد سہارنپوری نے نعت پاک سے سامعین کو محظوظ کیا ۔سلسلۂ شبِ دوم کی پہلی کڑی مولانا شاہ عالم گورکھپوری(ناظم شعبہ تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند)نے ’’مسلمان کی پہچان‘‘ کو اپنا موضوعِ بحث بنایا اور کہا کہ مسلمانوں کی ساری دنیا میں الگ پہچان ہے اور وہ اسی منفرد شناخت کی بدولت ساری دنیا میں اپنا مقام اور امتیاز رکھتے ہیں۔ انہوں نے دولفظوں میں مسلمان ہونے کی جامع تعریف کی اور کہا کہ ’’ایک خدا کو ماننااور خدا کو ایک ماننا نیز محمد عربی ﷺ کو اللہ کا رسول ماننا اور آخری رسول ماننا تمام سچے اور پکے مسلمانوں کی پہچان ہے‘‘ ان کے بعد اجلاس کے مہمان خصوصی اور مقرر باکمال مولانا ابوالکلام قاسمی (مبلغ دارالعلوم وقف دیوبند) نے اپنی حسین خطابت سے حاضرین کو بہرہ مند کیا ، انہوں نے مسلمانوں کے مابین پنپنے والے بے بنیاد اختلافات کو ختم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اتحاد مسلمانوں کی عظیم طاقت ہے۔ اسی کے ساتھ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت اور مدارس اسلامیہ کی اہمیت پر بااثر خطاب کیا انہوں نے کہا کہ ان مدارس کی قدرو قیمت کو مسلمان سمجھیں ہمارے ملک میں دین کی بقا کا سبب یہی مدارس ہیں۔انہی کی خصوصی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا ۔ اجلاس میں شریک اہم علمی اور باوقار شخصیات میں مولانا ظریف،مولانا حسین ،مفتی راشد قاسمی ، مولانا رئیس عرشیؔ کلیری،مولانا تراب الدین قاسمی، مولانا سرفراز احمد المظاہری، مفتی طیب قاسمی، مفتی آفتاب عالم قاسمی، مفتی توفیق عالم،مولوی مؤمن، قاری صادق، مولوی سجاد قاسمی،حاجی ایوب انصاری، چودھری نسیم وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

 

مدارس اسلامیہ ہندوستان میں مسلمانوں کے مذہبی تشخص وتہذیب کے علمبردارہیں
مدرسہ فیض العلوم رشیدیہ پاڈلی میں منعقداجلاس عام سے مولاناکلیم صدیقی کاخطاب
نسیم منگلوری
منگلور؍روڑکی(اتراکھنڈ)،26؍مارچ(ایس ٹی بیورو) مولانا سیدعلی میاں ندوی کے خلیفہ ،داعی اسلام ،جامعۃالام شاہ ولی اللہ پھلت کے مہتمم مولانامحمدکلیم صدیقی نے کہاکہ ہندوستان میں مدارس اسلامیہ مسلمانوں کے مذہبی تشخص اورتہذیب کے علمبردارہیں،انہی مدارس کے طفیل ملک کوآزادی نصیب ہوئی،آج ان مدارس ومکاتب کاقیام ملک وملت کے جتناضروری ہے،اتناہی مسلم بستیوں میں مساجدکی تعمیروترقی بھی ضروری ہے۔ مولانامحمدکلیم صدیقی نے روڑکی کے قریبی گاؤں پاڈلی گوجرمیں واقع مدرسہ فیض العلوم رشیدیہ کے زیراہتمام مسجدکے سنگِ بنیادکے پروقار اجلاس عام کوخطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام دنیاکاایساواحدمذہب ہے جس نے ہمیشہ امن وسلامتی کادرس دیا اورایسی تمام باتوں کی بیخ کنی کی ہے جن سے دنیاکاامن خطرے میں پڑتاہو۔انہوں نے کہاکہ اسلام دشمن طاقتیں آج ہمارے جن مدارس ومکاتب اورمساجدکونشانہ بنارہے ہیں،یہی وہ ادارے ہیں جنہوں نے اس ملک کوآزادکرانے میں ناقابل فراموش کرداراداکیاہے ۔مولاناکلیم نے کہاکہ آج ضرورت ہے کہ مسلمان دینی ودنیاوی تعلیم کوبرائے تعلیم حاصل کریں،نہ کہ برائے روزگار، اگراتعلیم ہوگی تویقیناًروزگارکے دروازے خودبخودکھل جائیں گے۔مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپورکے نوجوان عالم مفتی محمدارشدمظاہری نے بھی ہندوستان میں قائم مدارس ومکاتب کی اہمیت وافادیت پرتاریخی حوالوں سے روشنی ڈالی۔مفتی راشدنے اس موقع پر معاشرہ کی اصلاح پربیان کرتے ہوئے کہاکہ معاشرہ کی اصلاح میں بھی تعلیم کااہم کردارہے۔ اس موقع پر معروف ماہنامہ ارمغان کے مدیراعلی معروف ادیب مولاناوصی سلیمان ندوی نے کہاکہامن وامان ،اتحادو اتفاق ،محبت واخوت ،چین سکون اوردنیاکی فلاح وبہبود، ترقی کاواحد راستہ قرآن عظیم کی تعلیمات میں پوشیدہ ہے ۔جنہوں نے بھی قرآنی تعلیمات کواپنایااوراپنی زندگی میں ان تمام اصولوں،قوانین،ضابطوں پرعمل کیاجن کی تعلیمات اورحکم آقائے دوجہاں مولائے کائنات حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔وہی لوگ دنیامیں ہمیشہ سرخرورہے،دنیانے ان کے قدم چومے،منزلوں نے ان پرتپاک استقبال کیا۔ لیکن جنہوں نے قرآنی تعلیمات، اسوہ حسنہ سے ہٹ کرزندگی کوگزاراانہوں نے ذلت ورسوائی کوپایا۔صحافی وجامعہ اصلاح البنات منگلورکے بانی ومہتمم قاری نسیم احمدمنگلوری نے علم قرآن کی اہمیت وافادیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ علم قرآن وہ علم ہے جوانسان سازی کی تعمیرکرتاہے،دنیاوی تمام علوم وفنون سامان سازی پربحث کرتے ہیں،لیکن قرآنی علم صرف اورصرف انسان تیارکرتاہے۔ انہوں نے کہاکہ قرآن عظیم صرف ایک کتاب نہیں ہے بلکہ ایہ اللہ کاکلام ہے،جسے اللہ نے اپنے بڑے فضل وکرم کے ساتھ انسان یعنی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پرنازل فرمایا۔یہ تووہ کلام ہے اگراسے پہاڑپراتاراجاتاتووہ پہاڑریزہ ریزہ ہوجاتا۔ مولاناغیورنے کہاکہ قرآن عظیم اللہ کاایساکلام ہے کہ جسے نہ صرف پڑھنے پراجر ملتاہے،بلکہ جولوگ کسی مجبوری کے سبب پڑھ نہیں سکتے ۔
وہ اگراس کی زیارت بھی کرلیں تووہ بھی ثواب سے محروم نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہاکہ قرآن عظیم ایساکلام ہے جسے سینوں میں محفوظ رکھنے والوں کے درجات بلندہوجاتے ہیں۔مولاناموصوف نے کہاکہ ملت کوآج جوپریشیانیاںآرہی ہیں،ان کے پیچھے دراصل کلام اللہ سے دوری کی وجہ ہے۔ مولانا مہربان قاسمی،بھی خطاب کیا۔ بعدازاں مسجدکاسنگ بنیادرکھاگیا۔ اجلاس میں مولانا سیدعظیم شاہ(مدرسہ احیاء العلوم سکروڑہ)،مولاناسلیم احمد (مدرسہ مدینۃالعلوم پنیالہ)ماسٹرعبدالمک،قاری منتظر رابطہ مدارس اسلامیہ اتراکھنڈکے جنرل سیکریٹری وجامعہ اصلاح البنات منگلورکے ناظم اعلی مولانامحمدفرقان قاسمی،قاری محمدناصر،ماسٹرغفران انجم، مولانا محمدعارف، پردھان فریداحمدصوفی جابرقسیم منگلوری وغیرہ نے بطورخاص شرکت کی۔اجلاس کوکامیاب بنانے میں قاری شمشاد،مولوی شمشاد،ندیم احمد،حافظ صاحب علم، حافظ محمدیعقوب نے اہم کرداراداکیا۔جبکہ مدرسہ کے ناظم وبانی مولانامحمداظفارخان نے تمام شرکاء کاشکریہ اداکیا۔

 

مودی اور امت شاہ بھگوان پور ضمنی الیکشن کی مہم چلائیں گے

دہرہ دون، 24 مارچ (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی کے صدر امت شاہ اور ایک درجن سے زائد قومی سطح کے رہنما بھگوان پور (ریزرو) ضمنی الیکشن میں پارٹی امیدوار کے حق میں مہم چلائیں گے ۔پارٹی نے اس ریزرو سیٹ کیلئے رڑکی یونٹ کے صدر راج پال سنگھ کو اپنا امیدوار بنایا ہے ۔ یہ سیٹ بی ایس پی کی ٹکٹ پر جیت حاصل کرنے والے سریندر راکیش کی موت سے خالی ہوئی ہے تاہم بعدازاں انہیں پاڑٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ کانگریس نے ان کی اہلیہ ممتا راکیش کو اپنا امیدوار بنایا ہے جبکہ بی ایس پی نے اس الیکشن میں مقابلہ آرائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس ضمنی الیکشن کی مہم میں وزیراعظم نریندر مودی، پارٹی صدر امت شاہ، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، وزیر خزانہ ارون جیٹلی، وزیرخارجہ سشما سوراج، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، سید شاہ نواز حسین، مختار عباس نقوی سمیت بی جے پی کے 39 سرفہرست رہنما شرکت کریں گے جس کی لسٹ پارٹی نے الیکشن کمیشن کو سونپ دی ہے ۔اس سیٹ پر پولنگ 11 اپریل کو ہوگی اور نتیجہ کا اعلان 15 اپریل کو کیا جائے گا۔

معاشرہ کی اصلاح کیلئے انفرادی کوششیں اورتبلیغی جماعت جیسے جوش اورولولہ کی ضرورت ہے

مدرسہ دارالعلوم رشیدیہ جوالاپورمیں جمعیۃعلماء ہنداتراکھنڈکی میٹنگ میں مقررین کااظہارخیال
نسیم منگلوری

منگلور؍جوالاپور(اتراکھنڈ)23؍مارچ (ایس ٹی بیورو )دارالعلوم دیوبندکے استاذمولاناجمیل احمدسیکروڑوی نے کہاکہ اپنے معاشرہ کی اصلاح کرنے کی جدوجہدشروع کرنے سے قبل ضروری اورلازمی ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنی اپنی اصلاح کریں،جب تلک ہم اپنی اصلاح نہیں کریں گے، تومعاشرہ میں ہماری کہی ہوئی باتیں بے جان ہی رہیں گی۔اس لئے اپنی اصلاح کئے بغیرمعاشرہ کی اصلاح کاتصور نہیں کیا جاسکتا۔اسی کے ساتھ آج معاشرہ کی اصلاح کی جتنی بھی اجتماعی کوششیں کی جارہی ہیں،وہ سب ناکام رہی ہے۔اس لئے معاشرہ کی اصلاح کے لئے انفرادی کوششیں کرنی ہوں گی۔اوراس کے لئے تبلیغی جماعت کاولولہ اورجوش کی ضرورت ہے۔مولاناجمیل احمدسیکروڑوی نے جوالاپورکی معروف دینی درسگاہ مدرسہ دارالعلوم رشیدیہ میں جمعیۃ علمائے ہند کی صوبائی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج ہمارہ معاشرہ میں بے راہ روی،خرافات،بداخلاقی کابوبالا ہے، جس نے معاشرہ کی بنیادکوکھو کھلابنادیا ہے۔ہمارانوجوان سیرت مقدسہ پرعمل پیراہونے کے بجائے دشمنان اسلام کی تقلیدکررہاہے۔ اور ایک ہم ہیں جوبندکمروں میں بیٹھ کرمعاشرہ کی اصلاح کی فکرمیں لگے رہتے ہیں۔آج ضرورت ہے کہ ہم متحدہوکرمعاشرہ کی اصلاح کے لئے ایک تحریک کی شکل میں کام کریں۔ اورانفرادی طورپرکام کریں کیونکہ اجتماعی کوششیں ناکام ہوتی نظرآرہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس میں قطعی شک نہیں کہ علمائے حق کے بغیرمعاشرہ کی اصلاح کے لئے جدوجہد کرناناممکن ہے۔جمعیۃکے صوبائی صدرڈاکٹرمحمداسلام قاسمی نے کہاکہ معاشرہ میں پھیل رہی خرافات اورنوجوانوں میں پیدا ہونے والی نشہ خوری کی عادت نے آج معاشرہ کوحقارت کی منازل کی طرف گامزن کردیاہے، جس کی روک تھام کے لئے ہمیں پوری محنت اورلگن سے کوششیں کرنی ہوں گی۔مدرسہ رحمانیہ روڑکی کے ناظم اعلی مولاناارشد،مدرسہ دارالعلوم رشیدیہ کے مہتمم وجمعیۃعلمائے ہندکے ضلع صدرمو لانامحمدعارف قاسمی نے اصلاح معاشرہ کی غرض وغایت کے لئے تجاویزپیش کیں،جنھیں تمام شرکاء نے سراہا۔اس کے علاوہ صوبہ میں جمعیۃ کوفعال اورمستحکم بنانے کے لئے بھی جدوجہد کئے جانے کابھی لائحہ عمل تیارکیاگیا۔میٹنگ میں اہم رکن پدم شری خالدظہیرنے اپنے خیالات کاظہارکرتے ہوئے کہاکہ آج مسلمانوں کی دینی اورمذہبی ماحول میں رہ کراعلی سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کی اشدضرورت ہے۔اس موقع پروزیراعلی ہریش راوت کے اوایس ڈی سیدقاسم نے خصوصی طورپرحکومت کی جانب سے اقلیتی فرقہ کے لئے کائے جارہے کاموں،اوراسکیموں کے متعلق تفصیل سے روشنی ڈالی ۔مولاناسیدعظیم شا ہ(سکروڑہ) مولانازبیر (روڑکی)،مولانامحمدہارون قا سمی ،مولانامسرت علی، مولانامحمدیسین، ماسٹرمحمدا حسان، زاہدحسن، قاری اخلد، مولانا عبدالرزاق، مولانا الطاف مظاہری ،مولاناارشاد،حافظ طاہر(کھرنجہ)ً ،نعیم قریشی ،قاری شکیل احمد(مدرسہ ہدایت العلوم بھگوانپور) ،قاری سلیمان (روڑکی) ،محمدسالم حیاتی،تصور علی ، مولانا ساجد ،ماسٹرساجد ہا شمی، حافظ منظور،حاجی کامل ،خلیل احمد ،حافظ منتظر،قاری محبوب عالم،محمودیونس سمیت جمعیۃ کے کارکنان نے بڑی تعدادمیں شرکت کی۔

 

حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی ہندوستانی ادب وثقافت نیز تصوف کی اعلی روایات کے امین

منگلور،۱۹؍مارچ (پریس رلیز) درگاہ حضرت شاہ ولایت ؒ منگلور(اتراکھنڈ) میں صوفیا ء مشائخ نیز اربابِ حلقہء جہانگیر یہ وجماعتِ صوفیائے ہند کی ایک مشترکہ تعزیتی میٹنگ زیرِ صدارت پروفیسر تنویر چشتی سجادہ نشین منعقد ہوئی پروفیسر تنویر چشتی نے کہا کہ حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی ہندوستانی ادب وثقافت نیز تصوف کی اعلی روایات کے امین تھے انہوں نے کہا کہ دہلی کو یہ فخر حاصل رھا ھے کہ وہاں بیک وقت تین حستیاں تصوف کے علمی حوالے سے منفرد تھیں پروفیسر عنوان چشتیِ ، پروفیسر نثار احمد فاروقی اور خواجہ حسن ثانی نظامی ،خواجہ صاحب اس سلسلہ کی آخری کڈی تھے اب وہ بھی ہم سے رخصت ہوگئے یہ اربابِ تصوف کے لئے عظیم نقصان ہے پروفیسر تنویر چشتی نے کہا کہ حضرت ثانی نظامی اپنے والدِ محترم کی طرح اچھی نثر لکھتے تھے موصوف کی یادگار’’ تصوف رسم یاحقیقت ‘‘ اور’’ فوادالفواد‘‘ کا اردو ترجمہ ہے موصوف کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ ادبتہزیب وثقافت نیز تصوف کی دنیا میں ایک عرصہ تک محسوس کیا جاتا رہے گا ۔اس جلسہ میں حضرت پیر عمران میاں صابری کلیری ،مولانا جابر علی قادری ،قاری سلیم چشتی ،حافظ ،عبدالصمد انصاری ،حافظ غلام علی، حافظ سجاد احمد(، امام جامع مسجد،) ڈاکٹر دانش چشتی،علامہ شمیم ابروی، انیس چشتی ،خالد فاروقی ، فہیم فاروقی حافظ عارف وغیرہ نے بھی مرحوم کی خوبیبیوں پر روشنی ڈالی اس جلسہ میں بڈی تعداد میں منگلوراور گردونواح کے لوگوں نے شرکت کی بعد از آں قرآن خوانی وایثالِ ثواب بھی کیا گیا۔


قرآنی تعلیمات، اسوۂ رسول سے ہٹ کرزندگی گزارنے والوں کے حصہ میں ذلت ورسوائی آتی ہے
ہری دوارضلع کی قدیم دینی درسگاہ مدرسہ جامعہ حسینیہ مصطفی آباد،مرغوب پورمیں سالانہ اجلاس کاانعقاد
نسیم منگلوری
منگلور؍روڑکی(اتراکھنڈ)،19؍مارچ(ایس ٹی بیورو) امن وامان ،اتحادواتفاق ،محبت واخوت ،چین سکون اوردنیاکی فلاح وبہبود، ترقی کاواحدراستہ قرآن عظیم کی تعلیمات میں پوشیدہ ہے ۔جنہوں نے بھی قرآنی تعلیمات کواپنایااوراپنی زندگی میں ان تمام اصولوں، قوانین،ضابطوں پرعمل کیاجن کی تعلیمات اورحکم آقائے دوجہاں مولائے کائنات حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔وہی لوگ دنیامیں ہمیشہ سرخرورہے، دنیانے ان کے قدم چومے،منزلوں نے ان پرتپاک استقبال کیا۔لیکن جنہوں نے قرآنی تعلیمات اسوہ حسنہ سے ہٹ کرزندگی کوگزاراانہوں نے ذلت ورسوائی کوپایا۔ان خیالات کااظہارہری دوارضلع کی قدیم دینی درسگاہ مدرسہ جامعہ حسینیہ مرغوب پور؍مصطفی آباد کے سالانہ اجلاس میں ممتاز عالم دین دارالعلوم دیوبندکے محدث مولاناسلمان نقشبندی نے کیا۔ولانانقشبندی نے اجلاس عام میں مسلمانوں کے جم غفیرکوخطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج عالمی سطح پر ملت اسلامیہ کوجن پریشانیوں کاسامناکرناپڑرہاہے ان کی سب سے بڑی اوراہم وجہ قرآنی کریم سے روگردانی اختیارکرناہے۔مولانااخلاق احمدقاسمی (جسپور،ادھم سنگھ نگر)نے کہاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کودنیاکے لئے ایک بے مثال اور کامل واکمل ومکمل نمونہ بناکربھیجاہے۔ ماں کی گودسے لے کرقبرمیں جانے تک ایک انسان پرجوجوحالات آرہے ہیں،آسکتے ہیں،اورقیامت تک آئیں گے۔اللہ تعالیٰ نے وہ تمام حالات وکوائف اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پرطاری فرمادیئے تھے تاکہ نسل انسانی کوجب جہاں اورجیسے جس چیزکی ضرورت پیش آئے وہ محمدصل اللہ علیہ وسلم کی حیات میں مل جائے۔انہوں نے کہاکہ آج مسلمانوں کوجن مسائل کاسامناکرناپڑرہاہے،ان کاحل قرآنی تعلیمات اور حضورسرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں موجودہے۔مولانافیاض (بارہ بنکی)نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج ہمارے سامنے جتنے بھی مسائل چیلنج بن کرکھڑے ہیں،جن کاتدارک نہیں ہوپارہاہے،وہ سب کے سب قرآن عظیم سے روگردانی اختیارکرنے کے سبب ہیں پیداہوئے ہیں۔جب تک ہم نے قرآن عظیم کی ہی سب کچھ سمجھاتب تلک ہم فاتح بن کرابھرتے رہے،لیکن جب سے قرآن عظیم کوصرف ایک کتاب سمجھاتوتوشکست ہمارامقدرمن کررہ گئی۔انہوں نے کہاکہ یہی وہ قرآن ہے کہ جس کی تلاوت سے صحابۂ کرام ،تابعین، تبہ تابعین،اکابرین،بزرگان دین بے شمارمسائل حل کرلیاکرتے تھے،لیکن آج قرآن کی تلاوت توہوتی ہے،مگراس اہتمام،اس عقیدت واحترام سے نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ ہمیں فائدہ نظرنہیںآتا۔ مفتی عبدالسمیع(دہلی)نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کے گھروں کے موجودہ حالات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ہمارے گھروں میںآج ایسی برائیوں نے جنم لے لیاہے،جن کاتصوربھی نہیں کیا جاسکتا، جن رسموں اور جہالت کوختم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سرکاردوجہاں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کوپیداکیا آج وہ تمام رسوم مسلمانوں کے یہاں پھرسے پیداہوچکی ہیں۔انہوں نے کہاکہ جب تک ہم سیرت مصطفی پرنہیں چلیں گے تب تک پریشانیاں، مصیبتیں ہماراپیچھانہیں چھوڑیں گی۔دارالعلوم دیوبندکے مبلغ مولانامفتی راشدنے مدراس اسلامیہ کی اہمیت وافادیت پربیان فرمایا۔ مولانا محمد سلمان کی نظامت میں منعقداجلاس میں مدرسہ ناظم اعلی مولانامحمد ہارون قاسمی نے مدرسہ سے فارغ طلباکی تفصیلات پیش کرتے ہوئے انھیں سندفراغت سے نوازا۔مدرسہ کی مالیاتی کمیٹی کے رکن ماسٹرمحمد احسان نے مدرسہ کابجٹ پیش کیا۔اجلاس کوکامیاب بنانے میں مولانا سلمان،قاری محمدعارف خان منگلوری،مولاناقمرالزماں،مفتی راحت،قاری شہزاد،قاری راغب وغیرہ مدرسین نے اہم کرادار اداکیا۔

 

جامعہ حسینیہ مصطفی آبادمیں سالانہ اجلاس آج اورکل

منگلور؍روڑکی(اتراکھنڈ )،16 ؍مارچ(نسیم منگلوری؍ایس ٹی بیورو)ضلع ہری دوارکی قدیم دینی درسگاہ مدرسہ جامعہ حسینیہ مصطفی آبادمرغوب پورمیں17؍اور1 8؍ مارچ کو حسب روایت سالانہ اجلاس بڑے ہی تزک واحتشام کے ساتھ منعقدہوگا۔جامعہ کے ناظم اعلی مولانا محمدہارون قاسمی نے بتایاکہ اجلاس میں جمعیۃ علمائے ہندکے جنرل سیکرٹیری مولانامحمودا سعدمدنی سمیت، مولانافیاض بارہ بنکی، دارالعلوم دیوبندکے محدث مولانامحمدسلمان نقشبندی کے علاوہ علاقہ کے ذمہ داران شرکت کریں گے۔مولاناہارون کے مطابق اجلاس کی پہلی نشست 17؍مارچ کونمازعشاء کے بعدشروع ہوکردیرشب اختتام پذیرہوگی ،جبکہ دوسری اورآخری نشست 18؍مارچ کوصبح 8؍بجے شروع ہوگی۔انہوں نے فرزندان توحیدسے اجلاس میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

 

دستورِ زندگی ہے شریعت رسول کی*ہے عطرِ کائینات طریقت رسول کی

شاہ ولایت منگلوری ؒ کے سالانہ عرس کے موقع پر بانی مشاعرہ پروفیسر عنوان چشتی کی یاد میں روحانی مشاعرہ کا انعقاد
منگلور ،12مارچ(پریس ریلیز)شمالی ہند کے مشہور صوفی حضرت سید شاہ عثمان جہانگیر چشتی عرف حضرت شاہ ولایت منگلوری ؒ کے ۸۰۴ ویں سالانہ عرس کے موقع پر بانیِ مشاعرہ پروفیسر عنوان چشتی کی یاد میں ایک روحانی مشاعرہ کا انعقاد پروفیسر تنویر چشتی سجاّدانشین کی سرپرستی اور مشہور سماجی کار کن نیز اتراکھنڈ صو‘ بہ کانگرس کے جنرل سیکریٹری راؤ آفا خان کی صدارت اور ڈاکٹرتنویر گوہر مظفرنگری اور مولانہ رئیس کلیری کی مشترکہ نظامت میں منعقد ہواٍ ۔پروفیسر تنویر چشتی نے اپنے افتتایہ خطبہ میں کہا کہ صوفیائے کرام نے اردو کی نشو نما میں زبردست خدمات انجام دی ہیں۔انہوں نے کہا کہااردوہندوستان کا سماج کا لسانی تاج محل ہے ۔اس کے تحفظ اور ترویج وترقیّ کی ذمہ داری پورے سماج پر عائد ہوتی ہے۔
دستورِ زندگی ہے شریعت رسول کی
ہے عطرِ کائینات طریقت رسول کی
پروفیسر تنویر چشتی
عشق سرکار میں جو لوگ جیا کرتے ہیں
ان کی تعظیم فرشتے بھی کیا کرتے ہیں
قاری نسیم منگلوری
عقل جانے نہ فلسفہ جانے
مصطفی کیا ہیں بس خدا جانے
کلیم مشیری دہلوی
بزم میں نعت نبی جب بھی سنائ جائے
بزم کو پہلے درودوں سے سجائ جائے
جابر علی قسیم
شمیم اللہ نے جس کو نگاہِ خاص بخشی ہے
وہ انسان ایک قطرہ میں سمندر دیکھ لیتا ہے
علامہ شمیم قریشی ابروی
ارے نا صح غلامِ مصطفی ہوں راتا کیا ہے تو روزِ جزا سے
ڈاکٹر تنویر گوہر مظفرنگری
آپ کی شان ہے کیا آپ کی عظمت کیا ہے
ہم کو بتلاتا ہے قرآن رسولِ اکرم
ساحل مادھوپوری
لکھ کر نبی کے نام دکو چوما جو پیار سے
ہونٹوں پہ میریے نعت کے اشعار آگئے
آفتاب اظہر کشن گنجوی
خدا کرے میر ا ایسا مقام ہو جائے
نبی کے چاہنے والوں میں نام ہوجائے
علیم مظفرنگری
چلو دیا رِ نبی کی جانب درود لب پہ سجا سجا کر
بہاریں لوٹیں گے کرم کی دلوں کو دامن بنا بنا کر
شاہ نواز نوشاہی
جہاں کی ہر ایک شئے سے بڈھ کر میرے نبی کا ہے نام نامی
فقت یہ میری صدا نہیں ہے خدا بھی ہے اسی قول کا ہے حامی
عبد الرحمن صیف دیوبندی
نہ دولت چاہئے مجھکو نہ شوہرت چایئے مجھکو
رسولِ پاک کی الفت ہی الفت چاہئے مجھکو
سرفراز رونق چھتیس گڈھی
رسولِ اکرم بہت مکرم
انہیں کے صدقے بنا یہ عالی
ایبوب گوہر جھاڈکھنڈ
نبوت میں سب سے اعلی ہے ہر بات آپکی
کتنی نرالی شان ہے وہ ذات آپکی
اخلاق انجم
کاش قسمت سے مجھکومیرا نقشہ پائے نبوت ملے
زندگی کا سلیقہ ملے اور شعورِ عبادت ملے
ڈاکٹر سلیم فاروقی
مسالک بعدہیں مزہبِ اسلام ا وّل ہے
مسلمانوں پہ رسولِ پاک کا اکرام اوّل ہے
مولانا رئیس عرشی کلیری
ان شعراء کے علاوہ تحسین ثمر چرتھاولی ،غلام ربانی، ڈاکٹر انور کمال، مولانا صاغر منتظری وغیرہ بھی موجود تھے آخر میں ناظم عرس شاہ وقار چشتی نے سرپرست سجادانشین کی طرف سے اظہارِ تشکر کیا جس کے بعد یہ دوحانی مشاعرہ اختتام پزیر ہوا۔


Advertisment

Advertisment