Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:23 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

PUNJAB

PUNJAB

بنگال میں راہبہ کی عصمت دری معاملہ:لدھیانہ پولس نے چار بنگلہ دیشی باشندوں کو گرفتار کیا

لدھیانہ، یکم اپریل (یو این آئی) مغربی بنگال کے ضلع ندیا کے رانا گھاٹ علاقہ میں گزشتہ ماہ ایک عمر دراز عیسائی راہبہ کی عصمت دری کے سلسلے میں لدھیانہ پولس نے چار بنگلہ دیشی شہریوں کو گرفتار کیا ہے ۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 14 مارچ کو چار لوگوں نے 72 سالہ عیساءي راہبہ کی اجتماعی آبروریزی کی تھی۔ ڈی سی پی نوین سنگلا نے بتایا کہ پنجاب پولس نے ان چاروں بنگلہ دیشی شہریوں کو گزشتہ روز موتی نگر علاقہ سے حراست میں لیا ہے ۔ دریں اثناء، کولکاتہ پولس کو ان ملزمان کی گرفتاری کے بارے میں مطلع کردیا گیا ہے ۔ مسٹر نوین سنگلا نے بتایا کہ وہ مزید تفصیلات جمع کرنے کے لئے کام کررہے ہیں۔ اس سے قبل بھی اس کیس کے سلسلے میں دو لوگوں کو ممبئی اور ضلع 24 پرگنہ کے ہابرہ علاقہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ دونوں بھی بنگلہ دیشی تھے ۔ اس معاملے میں ریاستی حکومت کے ساتھ ہی مرکزی حکومت کو بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے ، جو اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ تاہم، مرکزی حکومت نے اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کے لئے ریاستی حکومت کی درخواست کو مسترد کردیا ہے ۔

 

متنازعہ ’ گھر واپسی‘پروگرام کیلئے آر ایس ایس کا نیا منصوبہ

چندی گڑھ، 31؍مارچ (آئی این ایس انڈیا ) پنجاب درج فہرست اور پسماندہ ذات کمیشن ریاست میں ان مسلمانوں اور عیسائیوں کی شناخت کر رہی ہے جنہوں نے غیرقانونی طریقے سے درج فہرست ذات (ایس سی)کا سرٹیفکٹ حاصل کر رکھا ہے۔کمیشن کی قیادت آر ایس ایس کا ایک سینئر لیڈر کر رہا ہے ۔کمیشن کا دعوی ہے کہ بہت سے مسلمان اور عیسائی ایس سی سرٹیفکیٹ بنوا کر اس کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔کمیشن کے صدر راجیش بگا نے بتایا کہ ہم کالجوں، پنچایت اور میونسپل کونسل کے ذریعہ لوگوں میں بیداری لارہے ہیں۔ہم ایس سی کمیونٹی کے لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ اگر انہیں کسی ایسے شخص کے بارے میں معلومات ہے جو ایس سی نہیں ہے پھر بھی ایس سی سرٹیفکیٹ بنوا رکھا ہے تو ہمیں اس کے بارے میں بتائیں۔اس بارے میں 14-15شکایتیں بھی درج کی گئی ہیں۔بگاکے مطابق کئی عیسائی ایسے ہیں جنہوں نے غیر قانونی طریقے سے ایس سی سرٹیفکیٹ بنوالیا ہے۔وہیں اکالی دل کو لگتاہے کہ یہ مہم بی بی جے پی کی ’گھر واپسی ‘پروگرام کا حصہ ہے۔اس مہم کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ عیسائیوں اور مسلمانوں کو دوبارہ ہندو یا سکھ بننے کی پیش کش کی جا رہی ہے۔ایسا کرنے پر انہیں ایس سی کوٹہ کا فائدہ دیے جانے کا بھروسہ بھی دلایاجارہا ہے۔آر ایس ایس کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک ’گھر واپسی‘ نہیں کرائیں گے جب تک یہ کام کاغذی طورپر مکمل نہیں کر لیا جاتا ہے ۔سپریم کورٹ نے اس سال فروری میں اپنے ایک فیصلہ میں کہا تھا کہ جو عیسائی یا مسلمان دوبارہ ہندو بنتے ہیں اور اگر ان کے آباؤ اجداد ایس سی تھے تو انہیں ایس سی کوٹے کا فائدہ ملے گا۔شیو سینا بھی اس کام میں آر ایس ایس کا ہاتھ بٹا رہی ہے۔حالانکہ اکالی دل کو یہ سب راس نہیں آ رہا ہے۔گزشتہ کچھ سالوں سے عیسائی کانگریس کا ساتھ چھوڑکراکالی دل کی حمایت کر رہے ہیں۔بگا نے بتایا کہ جو عیسائی یا مسلمان غلط طریقہ سے ایس سی سرٹیفکیٹ کے ساتھ پکڑے جا رہے ہیںَ ۔ان کاسرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسا اس لئے کر رہے ہیں تاکہ لوگوں میں اس کاسخت پیغام جائے۔راجیش بگا کا سنگھ سے پرانا ناطہ رہا ہے۔وہ پنجاب درج فہرست اور پسماندہ ذات کمیشن کے صدر سال 2011میں بنے تھے۔

 

اسلام دشمن طاقتوں کو منھ توڑ جواب دیا جائیگا ،ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے

شیر اسلام مولانا حبیب الرحمن لدھیانو ی کا یوپی کے مختلف اجلاسات سے ولولہ انگیز خطاب 
لدھیانہ 28مارچ ( پریس ریلیز ) مجلس احرار اسلام ہند کے قومی صدر و پنجاب کے شاہی امام حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کا تین روزہ یوپی دورہ مکمل ہو گیا ، اس دوران آپ نے مدرسہ السمیہ مانک مؤ سہارنپور ، جامعہ اسلامیہ پنڈولی ، جامعہ زکریہ دیوبند ، اور کیرانہ کی عید گاہ میں منعقد مجلس احرار اسلام ہند کی کانفرنس میں شامل پچاس ہزار فرزندان توحید سے خطاب کیا ، شیر اسلام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے کہ اسلام ایک مکمل اور جامع نظام کا نام ہے جو کہ دنیا بھر کے انسانوں کیلئے مشعل راہ ہے ، اسلام کی شمع ہر دور میں ظالم حکمرانوں اور تنگ نظر سرمایہ داروں کی آنکھوں میں کھٹکتی رہی ہے ، ان طاقتوں نے ہمیشہ ہی انسانیت کو غلام بنانے کیلئے اسلام کے نظام کو توڑنے کی کوشش کی ہے لیکن تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ باطل طاقتیں نہ کبھی اسلام کو شکست دے سکیں ہیں اور نہ ہی انشاء اللہ تا قیامت دے سکیں گیں ، شیر اسلام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے کہا کہ مرکز میں بھاجپا کی حکومت آنے کے بعد جو بھی نام نہاد قائدین قوم کو خوفزدہ کرنے لگے ہوئے ہیں اور اہل اقتدار میں بھی جو فرقعہ پرست آئے دن اپنی ناپاک زبان سے مسلمانوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں وہ کان کھول کر سن لیں کے اسلام دشمن طاقتوں کو ہم اپنے اکابر کے طرز پر منھ توڑ جواب دینگے ،دنیا کی کوئی عار ضی طاقت ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتی ہمارے لئے اللہ کی مدد ہی کافی ہے ، شیر اسلام مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے فرزندان اسلام سے کہا کہ وہ بے خوف ہو کر وطن عزیز میں ہر ک شعبہ میں آگے بڑھیں میدان تعلیم میں نئے مقام حاصل کریں علم و ہنر سے آراستہ ہو کر پوری قوت سے اسلام کا دفاع کرتے ہوئے زندگی گزاریں ، انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ملک کی آزادی کیلئے اپنا خون دیا ہے سب سے ذیادہ قربانیاں دینے والے ہم ہیں صرف ہندوستان ہی نہیں بر صغیر کے لوگوں کو آزادی کی نعمت علماء دیوبند کی قربانیوں کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے اس لئے دینا کی کوئی طاقت ہمیں اس خطہ میں اپنے دین پر چلنے اور اسکی اشاعت سے روک نہیں سکتی ، انہوں نے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ فرقعہ پرستوں کے ساتھ ساتھ ملت فروش قائدین قوم کے ضمیر کو مردہ کرنے کیلے زور و شور سے لگے ہوئے ہیں لیکن یاد رکھو مسلمانوں ان ناپاک طاقتوں کو اتحاد بھی اسلام اور مسلمانوں کو ختم نہیں کر سکتا ، اس موقعہ پر آپ کے ساتھ یوپی احرار کے سینئر لیڈر محمد علی کیرانہ ، مولانا جاوید نجیب آباد، خاص طور پر شریک صفر رہے ،اس دورے کے دوران متعدد مقامات پر مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانو ی کا فرزندان اسلام نے پر تپاک استقبال کیا اور فضاء اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی ۔

 

کالی کٹ مرکز میں کشمیری ھوم کے تحت سالانہ الوداعی اجلاس کا انعقاد

مدرسہ بورڈ کے فارغین کو سرٹیفکٹ کی تقسیم ‘ زہرہ میلاد فیسٹ کے کامیاب ترین بچوں کو قیمتی انعامات سے نوازا گیا
کالی کٹ ،26،مارچ (پریس ریلیز)جنوبی ہند کی معروف دینی وعصری اسلامی یونیورسٹی جامعہ مرکز الثقافۃ السنیہ کے زیر اہتما م مرکز کیمپس میں چل رہے شعبہ کشمیری ھوم کا سالانہ الوداعی اجلاس کا انعقاد نہایت ہی تزک واحتشام کیساتھ ہوا۔پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن سے شیخ الجامعہ کی دعاؤں پر ہوا۔خیرمقدمی کلمات مولانا موسی ثقافی نے پیش کئے ۔افتتاحیہ خطاب مولانا شاہ الحمید حسن نے کیا۔اس موقع پر شاہ نے کہاکہ طلبہ گھر جانے کے بعد بھی تعلیم کا ماحول مشن کے طور پر بنائیں ۔سماج ورشتہ دار کو دینی تعلیم کی تلقین کریں ۔ اور مرکز ماڈل تعلیمی مہم کو نافذ کریں ۔اس موقع پر شیخ ابوبکر نے اپنے ناصحانہ خطاب میں طلبہ کو تعلیم وتربیت اور حسن اخلاق کی ترغیب دلائی ۔شیخ نے کہاکہ طلبہ چھٹیوں کے موقع پر اپنے گھروں میں تعلیمی ماحول بنائیں ۔شیخ نے کشمیری بچوں کے تئیں اظہار ہمدردی اور شفقت ومحبت میں کہاکہ کشمیری بچے مجھے بہت پسند ہیں ۔ریاست جموں کشمیر کا مستقبل ہمارے انہیں کشمیری بچوں کے ہاتھ ہوگا۔جو یہاں سے فارغ ہونے کے بعد پوری ریاست میں امن وامان اور تعلیمی مشن کو انجام دیں گے ۔شیخ نے کہاکہ عزیز طلبہ جامعہ مرکز کی تعلیمی خدمات کے بینر تلے پوری ریاست میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کے یکساں فروغ کیلئے کوشش کریں ۔اس موقع پر شیخ الجامعہ کے ہاتھوں مدرسہ تعلیمی بورڈ اآف انڈیا کے فارغین کو سارٹیفکٹ اور سال رواں زہرہ میلاد فسٹ کے کامیاب ترین بچوں کو قیمتی انعامات سے نوازا۔کشمیری بچوں کے الواداع پر شیخ ابوبکر آنسوں چھلک پڑے طلبہ سمیت اساتذہ میں جدائی کا غم لاحق ہوگیا۔اجلاس کی صدارت مرزوق سعدی نے کی جبکہ اہم خطباء کے اسماء عبدالکریم امجدی،عبدالرحمن مصباحی ،فیروز استاذ،شاہد حسین ثقافی ہیں ۔اجلاس کا اختتام صلوۃ ودعاء پر ہوا۔واضح رہے مرکز میں زیر تعلیم کشمیری بچے اسکول امتحان اور مدرسہ رزلٹ کی تکمیل پر سالانہ چھٹی کے موقع پر اپنے اپنے گھروں کو جارہے ہیں ۔خبر کے مطابق شیخ ابوبکر نے جموں کشمیر میں امن وتعلیم کے فروغ کیلئے جموں کشمیر کے وزیر اعلی مفتی محمد سعید کی منظوری سے 350یتیم ونادار بچوں سے کشمیری بھون شروع کیا گیا۔جہاں ان بچوں کو دینی تعلیم اور اسکول کی تعلیم کے علاوہ اسپیشل کلاس جیسے حفظان صحت ،تنظیمی تشکیل ،امور خانہ داری ،دستکاری ،اسپوکن ٹریننگ ،تعلیمی مسابقہ وغیرہ کی سہولیات فراہم کی جاتی ہے ۔ابتک کے درجنوں طلبہ یہاں سے فارغ ہوکر ریاست جموں کشمیرمیں امن وامان اور تعلیمی سمیت معاشرتی تشکیل میں اہم رول اداکرہے ہیں۔

 

ملک کی جنگ آزادی میں مدارس کا کردار فراموش نہیں کیا جا سکتا

مدرسہ تعلیم القرآن مانوکے میں جلسۂ عظمت قرآن و دستار بندی سے شاہی امام پنجاب کا خطاب
لدھیانہ 18مارچ (ایجنسیاں ) قریبی تحصیل نہال سنگھ وال کے مانو گے گل میں واقع مدرسہ تعلیم القرآن میں جلسۂ عظمت قرآن و دستار بندی کا انعقاد کیا گیا ، شیر اسلام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی شاہی امام پنجاب کی زیر سرپرستی ہوئے اس اجلاس میں مالیر کوٹلہ سے مفتی اعظم پنجاب مولانا ارتقاء الحسن کاندھلوی ، مولانا عبد القادر مکتسر ، مفتی محمد صابر ، مولانا محمد راشد مالیرکوٹلہ ،حافظ مرسلین بسیاں ، مولانا عبد الغفور ، حافظ فضل الرحمن ، شامل ہوئے ،جلسۂ کی نظامت طیب قاسمی نے فرمائی جبکہ قاری محمد لقمان ناظم مدرسہ نے استقبال کیا، اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے مفتی ارتقاء الحسن کاندھلوی صاحب نے عظمت قرآن اور ہماری زندگیوں میں قرآن پاک کے احکامات پر تفصیلی بیان فرمایا ، اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے شاہی امام پنجاب مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے کہا کہ مدارس اسلامیہ کا وجود امت کیلئے رحمت ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ نہایت ہی مسرت کی بات ہے کہ موگا ضلع میں قائم یہ درسہ اپنے تعلیمی معیار میں ممتاز حیثیت حاصل کر گیا ہے اور ہر سال یہاں سے نونہالان اسلام قرآن پاک حفظ مکمل کر رہے ہیں اس کیلئے میں قاری لقمان صاحب اور تماماراکین کو مبارکباد دیتا ہوں ، انہوں نے کہا کہ مدارس کو شک کی نگاہ سے دیکھنا سراسر ظلم ہے جو بھی فرقعہ پرست طاقتیں مدارس کو دہشت گردی سے جوڑ کر بدنام کرنا چاہتی ہیں وہ اس بات کو ہرگز نہ بھولیں کہ ان مدارس کا ملک کی جنگ آزادی میں ناقابل فراموش کردار ہے ، مدارس کے ہی علماء نے اپنی جانیں دیکر ظالم انگریز کو بھارت سے نکالا تھا ، پنجاب کے شاہی امام نے کہا کہ ملت اسلامیہ اور ملک دونوں کیلئے مدارس کا وجود قائم رہنا نہایت ہی ضروری ہے ،انہوں نے کہا کہ دین دار طبقہ میں بھی چند لوگ آجکل عام رواج اس بات کا بنانا چاہتے ہیں کہ صرف مکتب قائم کئے جائیں اور مدارس کی اہمیت کم کردہ جائے وہ اس بات کا اچھی طرح سمجھ لیں کہ مدارس کی روایتی شکل و صورت کو ختم کرنا امت کیلئے خطرناک ہوگا ۔
، مدرسہ میں جو تربیت نونہالوں کودی جاتی ہے وہ مکتب میں ممکن نہیں ، اس لئے مکاتب کو صرف حسب ضرورت قائم کیا جائے جبکہ مدارس کو خوب فروغ دیا جانا چاہئے ، شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے کہ مدارس اسلامیہ قوم کا سرمایا ہیں اور جو لوگ بھی ان کی خدمات انجام دے رہے ہیں وہ قابل احترام ہیں ،انہوں نے کہا کہ اسلام کا پیغام سحی معنوں میں مدارس ہی دنیا تک پہنچا رہے ہیں یہاں سے آپسی بھائی چارے پیار و محبت کی تعلیم عملی طور پر دی جا رہی ہے اور ایسی ہی تعلیم کی آج کے دور میں اشد ضرورت ہے ، اس موقعہ پر شاہی امام کے پرنسپل سکریٹری محمد مستقیم احرار خاص طور پر موجود تھے ،

 

ریلوے نے نیافارمیٹ جاری کیا،آدھار نمبر سے وزارت تیارکرے گی ڈیٹا بیس

امبالا16مارچ(آئی این ایس انڈیا) اب کسی بھی مسافر کو ای ٹکٹ لینے کے لئے آدھار نمبر دینا ہوگا۔انڈین ریلوے نے ای ٹکٹ سے سفر کرنے والوں کے لئے یہ نظام نافذ کر دیاہے۔مسافر چاہے پرسنل آئی ڈی سے ای ٹکٹ یا پھر ایجنٹ کے ذریعے، دونوں ہی حالات میں آدھارنمبرضروری ہوگا۔ریلوے نے آدھار کارڈ کو شناختی کارڈ کے طور پر بھی منظوری دی ہے۔ریلوے بورڈ کی ایک کمیٹی نے مسافروں سے آدھار نمبر مانگنے پر اپنی منظوری دے دی ہے۔اس کے بعد فوری طور پر ای ٹکٹ لینے والے فارمیٹ میں آدھارنمبر کو شامل کر دیا گیا ہے۔حالانکہ ابھی آدھار نمبر کو متبادل طور پر ہی مانگا جا رہا ہے لیکن اسے کچھ ماہ بعد لازمی کر دیا جائے گا۔ریلوے افسروں کے مطابق ریلوے نے آن لائن ٹراجیکشن میں آدھارنمبرکو شامل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ریلوے کے ادارہ نے ای ٹکٹ کے لئے نیا فارمیٹ جاری کر دیا ہے۔سفر کرنے والے اراکین میں کسی ایک ہی مسافر کی آدھار نمبر دینا ہوگا۔آدھار نمبر والے مسافر کو اپنا شناختی کارڈ ٹی ٹی ای کودکھانا لازمی ہے۔تتکال کوٹے کے ٹکٹ لینے کے لئے بھی مسافر آدھار کارڈ دے سکتے ہیں۔اس سے پہلے آدھارکارڈکوشناختی کارڈ کے طور پر ریلوے قبول نہیں کرتا تھا۔ریلوے کی طرف سے آدھار نمبر کو لازمی کرنے کے کئی وجوہات ہیں۔اس میں سب سے اہم مسافروں کا ڈیٹا بیس تیارکرناہے۔آدھار نمبر سے ریل کی وزارت ایک ڈیٹا بیس تیار کرے گی۔مسافروں کی مکمل معلومات ریلوے کے پاس رہے گی۔مختلف منصوبوں کو تیار کرنے میں اس ڈیٹا بیس کو استعمال کیا جائے گا۔سیکورٹی کے نقطہ نظر سے بھی مسافروں سے آدھارنمبر مانگا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ ای ٹکٹ میں آن لائن ٹراجیکشن میں ہونے والی جعل سازی سے بچنے کے لئے بھی آدھار نمبر مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ای ٹکٹ لینے والے مسافروں سے بنیاد نمبر کو لازمی کرنے کے ساتھ ہی کاؤنٹر یا پی آرایس میں ہی اسے نافذکیاجائے گا۔ریلوے کے افسروں کا کہنا ہے کہ بورڈ نے اس سلسلے میں معلومات بھیج دی ہے۔
بکنگ ٹکٹ کے لئے جو بھی پرچی چھپے گی، اس میں آدھار نمبر لکھنے کے لئے بھی فارمیٹ رہے گا۔اس سلسلے میں تمام ریل چیمبرز کو زون نے ہدایات بھیج دی ہیں۔

 

بی جے پی نے تحویل اراضی قانون بنا کر کسانوں کو دھوکہ دیا: کانگریس

جالندھر، 13 مارچ (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تحویل اراضی قانون بنا کر کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔پنجاب کانگریس قانونی سیل کے سربراہ ایڈووکیٹ اندرپال دھنا نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی اکالی۔بی جے پی حکومت کے دوسری میعاد کار کے دوران بدعنوانی میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔ پنجاب کے ہر طبقہ کے لوگ نالاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے سبب تجارتی ادارے یا تو ریاست سے باہر چلے گئے یا بند ہونے کی دہلیز پر ہیں۔ تاجروں پر بھاری ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ باشندگان شہر پر پراپرٹی ٹیکس کی مار، بنیادی سہولیات کی کمی، محکموں میں بدعنوانی وغیرہ نے لوگوں کی زندگی کو دشوار بنا دیا ہے ۔مسٹر دھنا نے کہا کہ اقتدار کی لالچ نے بی جے پی اکالیوں کے ہر سیاہ کارنامے میں پورا تعاون دے رہی ہے ۔

 

بڑی لوٹ :فارچونر گاڑی سے لٹیروں نے دیا واردات کو انجام

موہالی،10مارچ(یو این آئی) پنجاب کے موہالی میں لٹیرے ایک عالیشان کار سے نکلے اور لوٹ مار کو انجام دے کر نکل گئے اور کسی کو بھی ان کی سازش کی بھنک تک نہیں لگی۔موصولہ خبروں کے مطابق موہالی میں لٹیروں نے نوٹوں سے بھری ایک وین کو لوٹ لیا۔یہ لٹیرے ایک بہت مہنگی کار میں سوار ہو کر آئے تھے ۔اس عجیب و غریب لوٹ کو دیکھ کر پولیس بھی حیران ہے ۔موہالی کے ویران علاقے میں پولس کو ایک وین کی خبر ملی ۔ پولیس وہاں جب تفتیش کے لئے وہاں پہنچی تو وہاں مقامی لوگوں کی بھیڑ لگ گئی۔تلاشی کے دوران پولس کو اس وین میں کچھ نہیں ملا۔ واضح رہے کہ ایک کروڑ 34 لاکھ روپے لے کر یہ وین چندی گڑھ سے چلی تھی، لیکن بیچ راستے میں ہی اسے لوٹ لیا گیا۔یہ وین ایکسس بینک کے اے ٹی ایم میں کیش پہنچانے کے لئے استعمال کی جاتی تھی ،لیکن پیر کو جب یہ گاڑی ایک کروڑ 34 لاکھ روپے کے ساتھ چنڈی گڑھ سے نکلی تو اس کے پیچھے ایک فارچونر گاڑی لگ گئی۔ذرائع نے بتایا کہ موہالی کے سیکٹر 85 میں اس گاڑی نے اچانک بینک کی گاڑی کو اوورٹیک کرکے روک دیا۔ اس کے بعد کار سے تقریبا 8-9 بدمعاش باہر نکلے اور انہوں نے وین کے ڈرائیور اور گارڈ کی آنکھوں میں مرچ کا پاؤڈر ڈال دیا۔ اس کے بعد بدمعاشوں نے وین کو گلاس توڑ کر اس میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کو نکال کر پھینک دیا۔ان بدمعاشوں نے کیش وین کو سنسان علاقے میں لے آئے اور 1 کروڑ 34 لاکھ نکالنے کے بعدفرار ہو گئے ۔ پولس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے ۔اب تک کسی کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے ۔پولیس کے مطابق یہ وین چنڈی گڑھ کے سیکٹر 34 سے نکلی تھی اور راج پورا کے پاس واقع ایکسس بینک کی برانچ میں پیسے پہنچانے جا رہی تھی۔یہ لٹیرے ہتھیاروں سے لیس تھے ۔ کچھ دنوں پہلے موہالی کے اسی علاقے میں لٹیروں نے دو فارچونڑ گاڑیا لوٹی تھیں۔ پولیس کو شک ہے کہ اس واردات میں وہی لٹیرے شامل ہو سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے اس لوٹ کو انہی لوٹ کی گاڑیوں سے انجام دیا گیا ہو۔

زبردست برفباری اور بارش کی وجہ سے فصلوں کو نقصان

چنڈی گڑھ، 3مارچ (یو این آئی) وادی کشمیر ، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے بالائی علاقوں میں زبردست برفباری اور شمالی ہندوستان کے میدانی علاقوں میں شدید بارش کے سبب عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے نیز فصلوں کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ دو دنوں کے دوران ہماچل کے دھنڈی میں 70سنٹی میٹر، بھانگ18سنٹی میٹر ، سولنگ نالہ 33 سینٹی میٹر، پیٹ سیو 43سنٹی میٹر، کلپا 45سنٹی میٹر، کیلانگ 27سنٹی میٹر، سلونی 1.5سنٹی میٹر تک برفباری ہوِئی اور وادی کشمیر کے گلمرگ میں 44سنٹی میٹر، بنہیال 56سنٹی میٹر،سون مرگ 33سنٹی میٹر، دراس سات سینٹی میٹر اور اتراکھنڈ کے اولی میں 18میں سنٹی میٹر اور ملاری میں 17سینٹی میتر تک برفباری اور شدید بارس ہوئی جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کئی مقامات پر آمدورفت متاثر ہوئی۔محکمہ کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پنجاب اور ہریانہ میں کئی مقامات پر باش یا گرج چمک کے ساتھ چھینٹے پڑنے کے آثار ہیں۔
گزشتہ دو دنوں کے دوران ہونے والی بارش سے فصلوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا اور سڑکوں پر پانی بھرجانے سے لوگوں کو پریشانی ہوئی۔ چنڈی گڑھ میں کل تک 64سنٹی میٹر اور پورے علاقہ میں 70سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ بہرحال کل سے تھوڑی راحت رہی اور شہر میں چند مقامات پر ہلکی بارش ہوئی۔ گزشتہ تین دنوں کے دوران بارش سے تیار فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے جس سے کسانوں کی حالت خراب ہے ۔

 

 

مجلس احرار اسلام کی تحریک تحفظ ختم نبوت قابل تحسین

کرناٹک کے علماء کرام کا شاہی امام پنجاب کے ساتھ ملاقات کے دوران اظہار خیال 
لدھیانہ، 26فروری (پریس ریلیز) آج یہاں پنجاب کے دینی مرکز جامع مسجد لدھیانہ میں کرناٹک کے علماء کرام کے ایک اعلیٰ وفد نے صدر احرار ہند شاہی امام پنجاب مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی سے خصوصی ملاقات فرمائی ، اس وفد میں حضرت مولانا الیاس صاحؓ استاذ حدیث و تفسیر جامعہ بھٹکل کرناٹک و ممبر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، مولانا رضاء ندوی ،مولانا اسلم ، مولانا مقبول ندوی ، مولانا شبیر ، مولانا اسلم اندوی ، مولانا خواجہ صاحب ، مولانا شعیب ، مولانا افصل ، مولانا عبد المتین ، مولانا رحمت اللہ ندوی ، شامل تھے ، اس وفد کا لدھیانہ پہنچنے پر نائب شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے استقبال کیا ، شیر اسلام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی سے ملاقات کے دوران علامء کرام نے دور حاضر میں ملت اسلامیہ ہند کو درپیش مسائل اور انکا حل کے موضوع پر گفتگو کی ہے عقیدہ ختم نبوتؐ کے تحفظ کے سلسلہ میں مجلس احرار اسلام ہند کے طریقہ کار کے متعلق بھی اس وفد نے معلومات حاصل کی ہے اپنے مفید مشوروں سے بھی نوازا ، تحریک تحفظ ختم نبوتؐکے متعلق احرار کی کارگزاری بھی وفد کے ارکان نے دیکھی اور اس دوران وفد کے اعزاز میں جامعہ حبیبیہ دار العلوم لدھیانہ کے طلبہ نے احرار کا پرجوش ترانہ بھی پیش کیا جس کے ساتھ ہی فضاء اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی ، اس دوران وفد کے ارکان نے اپنے اظہار خیال کے دوران کہا کہ مجلس احرار اسلام ہند کی تحریک تحفظ ختم نبوت ؐ قابل تحسین اور تقلید ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ تشکر کا مقام ہے کہ حضرت اقدس شاہ عبد القادر صاحب رائیپوری رحمتہ اللہ علیہ کے فیض یافتہ رئیس الاحرا ر حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی مرحوم ، سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم کا مشن آج بھی قائم و دائم ہے ، انہوں نے کہا کہ اس تحریک کی افادیت اور اہمیت اہل اسلام کیلئے مشعل راہ ہے ، اس موقعہ پر مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانو ی نے وفد کے شرکاء کو بتایا کہ جھوٹی نبوت کی بنیاد فرزندان اسلام میں سے جذبہ حریت کو ختم کرکے سامراجی باطل نظام کو طاقت دینا تھا ، جسے بروقت علماء لدھیانہ نے اولا پہچان کر اسے ناکام بنا دیا ، انہوں نے کہا کہ ہر دور میں ایسی سازشیں ہوتی رہی ہیں جس کا ہر دور میں اہل اسلام نے ثابت قدمی سے مقابلہ کیا ہے اور انشاء اللہ کرتے رہیں گے ، انہوں نے کہا کہ مجلس احرار اسلام ہند کی تحریک تحفظ ختم نبوتؐ کیلئے قربانیوں کا سلسلہ اکابرین سے جاری ہے جسے فرزندان توحید اپنی جانوں کا نظرانہ دیکر جاری رکھیں گے ، انہوں نے کہا کہ احرار کیلئے اللہ ہی کافی ہے دنیا کی کوئی طاقت ہمیں منکرین ختم نبوت کو بے نقاب کرنے سے روک نہیں سکتی ، انہوں نے بتایا کہ جلد ہی ملک کی کئی ریاستوں میں احرار کی جانب سے اہم اجلاسات منعقد کئے جائیں گے جس میں تمام مکتب فکر کے رہنماؤں کو مدعو کیا جائیگا۔

عوام اکالی دل کے کونسلروں کو کامیاب بنائیں : محمد اظہار عالم ،بستی جمالپورہ کی تعمیر وترقی کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑیں گے : فرزانہ ع...


Advertisment

Advertisment