Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:14 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

MAHARASHTRA

MAHARASHTRA

اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملہ

ایک ہی دن میں دو ملزمین کی ضمانت منظور،جمعیۃ کی کوششوں سے ابتک اس معاملے کے9؍ ملزمین کی ہوچکی ہے رہائی
ممبئی،یکم ؍ اپریل(پریس ریلیز) دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشہ ۹ برسوں سے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے والے دو مسلم نوجوانوں کو آ اس وقت راحت حاصل ہوئی جب خصوصی مکوکا عدالت نے انہیں پچاس پچاس ہزار روپیئے کے ذاتی مچلکہ سمیت مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ۔ملزمین کو قانونی امداد جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے مہیا کرائی تھی اور دونوں ملزمین کی ضمانت عرضداشتوں پر بحث ایڈوکیٹ مبین سولکر اور ایڈوکیٹ شریف شیخ نے کی تھی۔موصولہ اطلاعات کے مطا بق خصوصی مکوکا عدالت کے جج جی ٹی قادری نے مہاراشٹر کے اورنگ آباد شہر کے ایک باعزت گھرانے سے تعلق رکھنے والے ملزم محمد زبیر (۳۴) اور گنجان مسلم آبادی والے شہر مالیگاؤں سے تعلق رکھنے والے ملزم افضل خان نبی خان (۳۵)کی ضمانت عرضداشتیں منظور کرتے ہوئے نہیں حکم دیا کہ وہ جیل سے رہا ہو نے کے بعد ان کے خلاف موجود ثبوت و شواہد سے چھیڑ چھاڑ نہ کرے نیز اس معاملے میں نامزد سرکاری گواہوں سے کسی بھی طرح سے رابطہ قائم نہ کریں اور عدالت کی کارروائی کے دوران ان کا اس میں حصہ لینا لازمی ہوگا اور اس مقدمہ کے اختتا م تک ان پر مہاراشٹر سے باہر جانے پر پابندی عائد رہے گی۔آرتھر روڈ جیل میں قائم خصوصی مکوکا عدالت کے جج جی ٹی قادری نے آج شام تقریباً پانچ بجے ملزمین کی ضمانت عرضداشتوں پر اپنا فیصلہ صادر کیا جس کی اطلا ع جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسیوں کو دی۔واضح رہے کہ گذشتہ دنوں ملزم افضل خان نبی خان کی ضمانت عرضداشت پر بحث کرتے ہوئے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا تھا کہ کہ ملزم سے اس معاملے میں تحقیقاتی دستوں نے جو مبینہ اقبالیہ بیان حاصل کیا تھا اس میں اس بات کا کہیں بھی ذکر نہیں ہیکہ ملزم دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھا جبکہ ملزم کے اقبالیہ بیان میں یہ درج ہیکہ اسے دیگر ملزمین نے بتایا تھا کہ کمپیوٹر کے بکسوں کو آکٹراے نہ دینے کے ڈر سے چھپا کر رکھا گیا ہے اور اس نے ان کمپیوٹر کے بکسوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا تھا کیونکہ اسے علم ہی نہیں تھا کہ اس میں مبینہ طور پر ہتھیاروں کو چھپا کر رکھا گیا تھا۔ دفاعی وکیل نے عدالت کو مزید بتایا تھا کہ ملزم پراس معاملے میں گرفتار ہونے سے قبل ایک بھی شکایت پولس میں درج نہیں ہے نیز ملزم ایک تعلیم یافتہ ، مہذب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے لہذا اگر ملزم کو ضمانت پر رہا کیا گیا تو وہ اس کے خلاف موجود ثبوت و شواہد سے چھیڑ چھا ڑ نہیں کریگا اور نہ ہی ملک چھوڑ کر فرار ہوگا ۔ اسی طرح ایڈوکیٹ مبین سولکر نے ملزم محمد زبیر کی ضمانت عرضداشت پر بحث کرتے ہوئے عدالت کوبتایا تھا کہ تحقیقاتی دستوں نے ملزم کو گرفتار تو کرلیا لیکن اس کے خلاف انہوں نے فرد جرم میں کوئی بھی ثبوت نہیں پیش کیا سوائے چند ملزمین کے اقبالیہ بیانات کے جس سے ملزمین انحراف کرچکے ہیں ۔حالانکہ ملزم کی عرضداشت کی وکیل استغاثہ وبھئے بگاڑے نے پر زور الفاظ میں مخالفت کی تھی اور عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم محمد زبیر دیگر ملزمین کے مسلسل رابطہ میں تھا نیز وہ اس ٹا ٹا سومو گاڑی میں موجود تھا جسے تحقیقاتی دستوں نے ایلورہ غا رکے پاس واقع گرونیشور مندر کے سے ضبط کیا تھا ۔ملزمیں افضل خان نبی خان اور محمد زبیر کی ضمانت عرضداشتیں منظور ہونے کو گلزار اعظمی نے ایک خوش آئندہ قدم قرارد دیا اور کہا کہ اس سے دوسرے ملزمین کے لیئے بھی راہ ہموار ہوگی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں جمعیۃ علماء کے توسط سے ابتک۹؍ مسلم نوجوانو ں کو ضمانت پر رہائی حاصل ہوچکی ہے اور مزید۱؍ ملزم ڈاکٹر شریف کی ضمانت عرضداشت بحث مکمل ہوچکی ہے اور اس پر فیصلہ جلد ہی آنے کی امید ہی ،اسی طرح ڈاکٹر شریف کا فیصلہ آنے کے بعد ملزم افروز خان کی ضمانت عرضداشت بامببے ہائی کورٹ میں داخل کی جائے گی جسے گذشتہ دنوں خصوصی جج نے مسترد کردیا تھا ۔گلزار اعظمی نے اس موقع پر دفاعی وکلاء کی ٹیم میں شامل ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ آصف نقوی، ایڈوکیٹ طاہرہ قریشی ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری ،ایڈوکیٹ ارشد سکسیس کلاسیس،ایڈوکیٹ افضل نواز اور دیگر وکلاء کو مبارکباد پیش کی ہے جن کی کوششوں سے یکے بعد دیگرے ملزمین ضمانت پر رہا ہوتے جارہے ہیں ۔

 

مسلمانوں کو مایوسی کے دلدل سے نکالنا وقت کی اہم ترین ضرورت
26؍ اپریل کو جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صوبائی اجلاس عام کے تعلق سے تیاریں زور وشور سے جاری
ممبئی : یکم اپریل ۲۰۱۵ء (پریس ریلیز ) جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی جانب سے ۲۶؍ اپریل کو ممبئی کے آ زاد میدان میں بوقت بعد نمازعصر تا ۱۰؍ بجے شب میں منعقد ہونے والے صو بائی اجلاس عام کی تیاریوں کے سلسلے میں آج دفتر جمعیۃ علماء مہا راشٹر بھنڈی بازار ممبئی میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا ،جس میں با اتفاق رائے یہ طے کیا گیا کہ اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں تمام ذمہ داران اپنے اپنے علاقوں میں عوامی بیداری مہم کا آغاز کردیں اور عوام کو اجلاس کی اہمیت اور اسکی افا دیت سے واقف کراتے ہوئے اجلاس میں شرکت کے لئے رائے عامہ ہموار کریں،صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے اجلاس عام کی بابت گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورے صوبہ مہا راشٹر کے مسلمان حکومت کے مسلم مخالف فیصلوں کہ وجہ سے مایوس نظر آرہے ہیں ،ہر اعتبار سے خود کو مجبور و مقہور سمجھ رہے ہیں ،اور خوف و ما یوسی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ،اس وقت ان کو ما یوسی سے نکالنے اور انکے اندر حا لات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے انشاء اللہ جمعیۃ علماء کے اس اجلاس عام سے مہا راشٹر کے مسلمانوں کو نشاۃ ثانیہ ملے گی اور ان میں زندگی گزارنے نے کے تعلق سے حو صلہ اور ہمت پیدا ہو گی ۔ مولانا مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی نا ظم تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر نے کہا کہ اس وقت صوبہ کے حا لات مسلمانو ں کے لئے ساز گار نہیں ہیں ،اس کے با وجود مسلمان اپنی دینی تشخص کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے ،اور فرقہ پرستوں کی شر انگیزیوں اور حکومت کے مسلم دشمن پالیسیوں سے خود کو اجنبی محسوس کر رہا ہے اور مایوسی کی کیفیت میں مبتلاء ہے ،جمعیۃ علماء مہا راشٹر کا یہ صو بائی اجلاس مسلمانوں کے لئے ایک مداوہ ثابت ہوگا کیو نکہ مسلمان جب بھی اس قسم کے حالات سے دو چار ہو تے ہیں ،تو انکی نظر یں صرف جمعیۃ علماء ہند کی طرف اٹھتی ہیں کیو نکہ ان کو معلوم ہیکہ جمعیۃ علماء ہی انکے نامساعد حا لات اور نا زک مسائل کے سلسلے میں حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتی ہے ۔ انہوں نے اجلاس میں شریک ذمہ داروں کی تو جہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات اجلاس کی تیاری میں آج سے ہی لگ جائیں جگہ جگہ پر کار نر میٹنگوں کا اہتمام کریں اور عوام سے اجلاس میں شرکت کی اپیل کریں ۔مزید انہوں نے اجلاس کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں چنداہم نکات پر روشنی ڈالی۔ واضح رہے کہ اس صوبائی اجلاس میں وقت کے سلگتے ہو ئے مسائل، مثلا ملک کے سیکولرزم اور سالمیت کو قو ت پہونچانے،پانچ فیصد ریزرویشن کو بحال کر انے،بڑے جانور کے ذبیحہ پر عائد پابند ی کو برخواست کر نے، ممبئی ڈولپمینٹ پلا ن اور ڈیولپمنٹ کنٹرول کے نقصانات سے واقف کر انے، مدارس و مساجد کو تحفظ فراہم کر نے،تما م مظلومو ں ، اقلیتوں خصوصاًمسلمانو ں کے آئینی حقو ق کو حاصل کر نے ،ملک کے د ستوروآئین کاتحفظ کرنے،بے قصورمسلم نوجوانو ں کی گرفتاری کو روکنے ، ،جیلوں میں بند نو جوانوں کو رہا کرنے ، دہشت گردی اور فرقہ پرستی کی لعنت سے ملک کو بچانے،قومی یکجہتی اور بھائی چارگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ،
تبدیلی مذہب کے ہتھکنڈہ سے عوام میں بیداری پیدا کر نے، گھر واپسی کی مہم کو ناکام بنانے ، ملک کے برادران وطن کے درمیان پیار و محبت اور امن و امان کی فضاء قائم کرنے ، اوقافی جائدادو ں کے تحفظ کیلئے ۔ دینی مدارس اور تنظیمو ں کی ملکی سطح پر عظیم ترین خدمات سے واقف کرانے،مسلم طلبہ کو مشرکانہ غیر اسلامی افعال سے روکنے،نشہ منشیات اور بے حیائی سے پاک معاشرے کی تشکیل دینے ،مسلمانو ں کے تعلیمی اور اقتصادی مسائل کے حل کے لئے ،خواتین کے حقوق اور تحفظ کے سلسلے میں مطالبات پیش کئے جا ئیں گے ۔ مشاورتی اجلاس کی کا روائی چلاتے ہوئے مولانا محمد ذاکر قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مہا راشٹر نے صوبے بھر کے جمعیۃ علماء کے ذمہ داران،کارکنان ،یونٹوں کے صدور و نظماء سے اپیل کی ہے کہ ۲۶؍اپریل ممبئی کے آزاد میدان ( بعد نماز عصر تا ۱۰؍بجے شب) میں ہونے والے اجلاس عام کو کامیاب بنانے کے لئے مساجد کے ائمہ ،ٹرسٹیان ،مقامی تنظیموں کے عہدیدارن سے رابطہ کریں ،جگہ ،جگہ پرچھوٹے بڑے جلسوں کا انعقاد کرکے عوام کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دیں اور انکی ذہن سازی کریں ۔ آج کے اس مشاورتی اجلاس میں صوبائی صدر مولانا ندیم صدیقی،جنرل سکریٹری مولانا ذاکر قاسمی ،ناظم تنظیم مفتی حذیفہ قاسمی ،قاری محمد صادق( چیتا کیمپ ،) قاری محمد ایوب (ملاڈ) مولانا راشد پالنپوری (گورے گاؤں ) یونس بھائی دکا ،(جوگیشوری ) قاری عبد الرزاق (ممبرا) مولانا اختر حسین (تھانہ ) مولنا منصور احمد قاسمی (بھیونڈی ) محمد لئق بھائی (کرلا) فاروق خان( دھراوی) حافظ عبد الرحمن ( نوی ممبئی ) مفتی جمشید (نوی ممبئی ) مولانا عبد الحمید و دیگر نے شرکت کی ۔ مولانا وہاج قاسمی ،اندھیری ، صوبہ مہاراشٹر کے مو جودہ حالات،جس میں مسلمانوں میں چھائی ہوئی ،ما یوسی ،اور ڈر و خوف سے نکالنے اور انکے اندر بے نڈری کے ساتھ زندگی گذارنے کا حو صلہ پیدا کرنے کے سلسلے میں اجلاس کو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کیو نکہ اس وقت حکومت مسلمانوں کو ہراساں کرنے او رانکے دستوری حقوق کو سلب کرنے کے پیچھے گئی ہے، مہاراشٹر حکومت نے مسلم مخالف جو بھی فیصلہ لیا ہے ، اس سے صرف ،مسلمانوں کا ہی نقصان نہیں ہے ،بلکہ غیروں کا بھی نقصان ہے ، آج جہاں بڑے کے کا روبار سے وابستہ مسلمان بے روزگار ہو رہے ہیں وہیں غیر بھی بہت بڑی تعداد میں بے روزگاری کے شکار ہو چکے ہیں ، مو جودہ حکومت کے ظلم و جور سے انسان تو انسان جانور کتے و غیرہ بھی عاجز آچکے ہیں وہ کتے جو بڑے کے جانوروں کے چھیچڑے ، اور ہڈیاں کھاکر اپنا گزر بسر کرتے تھے آج وہ انسانوں کو اپنا شکار بنانے پر مجبورہو رہے ہیں ،آجلاس میں با ہم اتفاق سے یہ طے کیا گیا کہ اجلاس کو مو ثر نبانے کے لئے عوام میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کی جائے ،انہوں نے کہا کہ حکو مت کی جانب سے جو ڈیو لپمنٹ پلان پیش کیا جارہا ہے،وہ سلم علاقوں میں واقع مساجد ،قبرستان ،اور مدارس کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے اس سلسلے میں عوامی بیداری پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے،اگر ابھی سے اس سلسلے میں کوشش کرکے کاغزات وغیرہ درست نہیں کرائے گئے تو سوائے کف افسوس ملنے کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ،

 

صابو صدیق کالج آف انجینئرنگ کی توسیع کی فوری اجازت دی جائے :امین پٹیل
ممبئی،یکم اپریل (یو این آئی )عروس البلاد ممبئی کے نامور مسلم تعلیمی ادارہ صابو صدیق کالج آف انجینئرنگ کی تعمیر و توسیع کا اجازت نامہ جیلوں کے اطراف میں تعمیراتی کاموں پر عائد پابندی کی وجہ سے رکا پڑا ہوا ہے لہذا اس کالج کی توسیع کی فورا اجازت دی جائے اور متذکرہ قانون کو منسوخ کیا جائے یہ مطالبہ کانگریس کے رکن اسمبلی امین پٹیل نے آج یہاں مہاراشٹر اسمبلی کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران توجہ طلب تحریک پر کیا ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اپنے ایک سرکیولر کے تحت ریاست کی مختلف جیلوں کی دیوار سے پانچ سو میٹر کے فاصلے پر کسی بھی عمارت ی تعمیر کی اجازت رد کر دی ہے اور اس پر پابندی عائد کر دی ہے نیز گزشتہ برس اسمبلی اجلاس کے دوران ریاستی وزیرا علی دیویندر فڈنویس نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اس قانون کو منسوخ کیا جائے گا اور جو تعمیراتی منصوبہ التوا میں پڑے ہوئے ہیں اسے فوری طور پر جاری کرنے کی اجازت دی جائے گی ۔امین پٹیل نے کہا کہ ریاست میں کل 55 جیلیں ہیں اور اس کے اطراف کئی ایک تعمیری پروجیکٹ التوا میں پڑے ہوئے ہیں اسی طرح سے ممبئی میں اقلیتوں اور مسلمانوں کے واحد انجینئرنگ کالج کی توسیع و تعمیر کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑا ہوا ہے ۔امین پٹیل نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس قانون کو فوری طور پر رد کرنا چاہیئے نیز جہاں تک حفاظتی اقدامات کا تعلق ہے اسے اس کے پختہ انتظامات کرنے چاہیئے لیکن حفاظتی انتظامات کسی بھی ترقیاتی منصوبہ میں حائل نہیں ہونا چاہیئے ۔واضح رہے کہ ریاست کے شہری ترقیاتی محکمہ نے یہ قانون پاس کیا تھا جس کے تحت جیلوں کے اطراف تعمیری کاموں پر روک لگا دی تھی نیز میونسپل کمشنر کی سربراہی میں ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو ان جیلوں کے اطراف تعمیراتی کاموں کی گئی درخواستوں پر غور کرے گی۔سرکاری حکم نامے کے مطابق اس کمیٹی کا فیصلہ حتمی ہوگا اور اس کی جانب سے دیئے گئے فیصلے کے خلاف صرف محکمۂ داخلہ میں ہی اپیل داخل کی جاسکتی ہے ۔حال ہی میں بمبئی ہائی کورٹ نے بھی مبمئی سے متصلہ تلوجہ نامی علاقے میں واقع تلوجہ سینٹرل جیل کے اطراف تعمیرانی کاموں پر روک لگا دی تھی۔ایوان میں توجہ طلب تحریک پر اپنا اظہار خیال کرنے کے بعد امین پٹیل نے کہا کہ حکومت نے یہ قانون تو منظور کردیا ہے لیکن اب ان عمارتوں کا کیا ہوگا جو جیلوں کی دیوار کے ۵۰۰ میٹر فاصلے پر واقع ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس قانون سے ممبا دیوی اسمبلی حلقے کے مختلف ترقیاتی پروجیکٹ بھی التواء میں پڑے ہوئے ہیں اور وزیر اعلیٖ کی سابقہ یقین دہانی کے باوجود بھی اب تک اس قانون کو منسوخ نہیں کیا گیا لہٖذا اسے فوری طور پر رد کیا جائے ۔


بچوں کے پروگرام میں ریوا لور لے کر مہاجن کے دفاع میں اتری شیو سینا
ممبئی، یکم اپریل(آئی این ایس انڈیا ) شیوسینا نے مہاراشٹر حکومت میں بی جے پی کو ٹہ کے وزیر گریش مہاجن کا آج دفاع کیا جو بچوں کے ایک پروگرام میں اپنی کمرمیں ریوا لور لگا کر پہنچے تھے۔پارٹی نے کہا کہ پچھلی حکومت کےجنگل راج ‘کی وجہ سے لوگ اپنی حفاظت کے لئے عوامی مقامات پر اسلحہ لے جانے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کے درو اقتدار میں جو افراتفری تھی اس نے لوگوں کے دماغ پر ایسا اثر چھوڑا ہے اور مہاجن کا ابھی اس ذہنیت سے باہر آنا باقی ہے۔شیوسینا کے ترجمان ’سامنا‘میں شائع ایک اداریہ میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے پاس ریوا لور رکھتے ہیں تو اس میں غلط کیا ہے؟ جس کسی کے پاس ہتھیار کا لائسنس ہے وہ اپنا ہتھیا ر ساتھ لے کر چلنے کا حقدار ہوتا ہے۔گریش مہاجن کا یہ حق وزیر ہونے کے باوجود برقرار ہے۔اداریہ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ حکومت میں عام لوگوں اور عوامی نمائندوں کی زندگی بحرانی کیفیت سے دوچار تھی ۔کوئی یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ کون سی گولی کس کی جان لے لے گی۔یہ عدم تحفظ کا احساس لوگوں کے دماغ سے نکلنا باقی ہے اور اس وجہ سے مہاجن اب بھی اسی ذہنیت کے شکار ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کہہ رہا ہے کہ قانون وانتظام کے بارے میں کچھ بھی کہنا اپنے آپ میں مذاق ہے۔کل وہ پوچھے سکتے ہیں کہ شیواجی مہاراج اپنی کمر میں تلوار کیوں لٹکاتے تھے ؟حکام کے ہاتھوں میں ہتھیار عام لوگوں کے تحفظ کے لیے ہوتے ہیں۔شیو سینا نے کہا کہ وزیر نے اپنے ہتھیار کا استعمال کرکے آبی وسائل کی وزارت کو نہیں لوٹا ہے۔ تواپوزیشن کو ان کے اسلحہ پر کیوں اعتراض ہے؟غور طلب ہے کہ مہاجن نے اتوار کو جلگاؤں میں معذور بچوں کے ایک پروگرام میں شرکت کی تھی۔اس دوران ان کی کمر میں ریوا لورلگی نظر آرہی تھی۔اس کے بعد این سی پی نے ان سے استعفیٰ کامطا لبہ کرنا شروع کر دیا تھا۔


یکطرفہ عشق کے معاملہ میں طوائف کا قتل
ممبئی، یکم اپریل (یو این آئی ) عروس البلاد ممبئی میں ریڈلائن والے علاقہ کماٹی پورہ کے قریب کل شام ایک طوائف کے قتل سے اس وقت سنسنی پھیل گئی جب اس کے عاشق قاتل نے قتل کرنے کے بعد تیز دھار والے ہتھیار کو عوام کی جانب بھی لہرایا اور پھر اس نے پولیس اسٹیشن میں جا کر خودسپردگی کر دی ۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق کماٹی پورہ سے نزدیک واقع ایک انگریزی اسکول کے قریب ہی طوائف سڑک پر کھڑے ہوکر گاہکوں کو متوجہ کر رہی تھی اسی وقت اس کے عاشق قاتل نے اس پر تیز دھار والے ہتھیار سے حملہ کیا اور اس کے گلے پر چاقو مار کر اسے ہلاک کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی نوجوان سیکس ورکر کاجل سے ملزم کمار یکطرفہ عشق کرتا تھا اور وہ اس سے شادی کرکے اس دلدل سے نکالنا چاہتا تھا لیکن خاتون کے بار بار منع کرنے کے بعد اس نے کل شام ایک تیز دھار والے ہتھیار سے اس کا قتل کر دیا ۔ناگپاڑہ پولیس کے مطابق ملزم ایک مزدور پیشہ شخص ہے اور حال ہی میں اس کی مقتولہ سے ملاقات ہوئی تھی اس کے بعد وہ دونوں مۂ نوشی ساتھ کیا کرتے تھے دوران مۂ نوشی ملزم نے گزشتہ کل رات مقتولہ سے اظہار عشق کیا تھا اور اس نے شادی کی پیشکش کی تھی جسے مقتولہ نے ٹھکرا دیا تھا اور یہی وجہ اس قتل کی وجہ بنی کہ نوجوان کمار اپنے ہوش میں نہیں رہا اور اسے یہ بات بالکل ناگوار گزری کہ اسے لڑکی نے شادی سے انکار کر دیا ہے جبکہ اس کا ارادہ نیک تھا اور وہ اس سے شادی کر کے اسے اس دل دل سے باہر کرنا چاہ رہا تھا اسی وجہ سے اس نے یہ سنگین اقدام اٹھایا۔ناگپاڑہ پولیس اسٹیشن میں خودسپردگی کے بعد پولیس نے اسے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا اور اسے بدھ کو عدالت میں پیش کیا جہاں اسے پولیس ریمانڈ میں بھیج دیا ہے ۔ تفتیش میں اس نے اعتراف جرم قبول کر لیا ہے ۔ شہر میں گزشتہ رات ہوئے اس قتل سے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی اور دیگر جسم فروش خواتین میں بھی اس بات کو لیکر کافی سراسیمگی پائی گئی۔سماجی کارکن اسلم قریشی نے بتایا کہ اس طرح سیکس ورکر کا قتل کیا جانا ٹھیک نہیں ہے اور لوگوں کو کسی کے جذبات سے نہیں کھیلنا چاہیئے نیز اس طرح کے سنگین اقدام اٹھانے سے قبل سوچنا چاہیئے ۔اسلم قریشی نے مزید کہا کہ یک طرفہ محبت کے اسی طرح کے نتائج آتے ہیں لوگوں کو جذبات کی جگہ ہوش مندی سے کام لینا چاہیئے ۔کماٹی پورہ میں جسم فروش خاتون کے قتل کے بعد یہاں پر پورے علاقہ میں پولیس بندوبست سخت کر دیا گیا تھااور علاقہ میں جسم فروش خواتین میں اس بات کو لیکر کافی سراسیمگی دیکھی گئی وہیں ناگپاڑہ کے سینئر پولیس انسپکٹر سمیت اے سی پی ، کرائم برانچ عملہ کے علاوہ ڈی سی پی اور دیگر پولیس اہلکار یہاں پر رات بھر گشت لگاتے رہے اور پورے علاقہ میں پولیس کا سخت پہرہ لگا دیا گیا تھا ۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہیں کہ لوگ اس طرح جذبات میں آ کر انتہائی قدم نہ اٹھائیں جو ایک اچھے معاشرے کیلئے بہتر بات نہیں ہے ۔

شادی شدہ خاتون کے ہاتھوں دسویں جماعت کے طالب علم کا جنسی و جذباتی استحصال
ممبئی ،یکم اپریل (یو این آئی ) عروس البلاد ممبئی کے ایک اسکول میں دسویں جماعت کے طالب علم نے ممبئی کے آر سی ایف پولیس اسٹیشن میں ایک شکایت درج کرائی ہے جس کے مطابق اس کے ایک دوست کی والدہ نے اس سے جبرا جنسی تعلقات قائم کیئے اور اس کی ویڈیو ریکارڈنگ کر کے اسے بلیک میل کرنے کی بھی کوشش کی ۔موصولہ اطلاعات کے مطابق طالب علم کے اس کے دوست کی والدہ کے ساتھ جسمانی تعلقات کا اس وقت راز افشأ ہوا جب شکایت کنندہ طالب علم کے والدین نے اس کے برتاؤ میں تبدیلی دیکھی اور اسے ہمیشہ ڈر اور خوف کے ماحول میں اٹھتے بیٹھتے دیکھا ۔طالب علم کے والدین نے جب اس سے اصرار کر کے اس کے خوف کی وجہ دریافت کی تو طالب علم نے اپنے والدین کو جو باتیں بتائیں وہ انتہائی چونکا دینے والی ہے اور اس کے مطابق اس کے دوست کی والدہ گزشتہ تین ماہ سے اس سے جبرا جسمانی تعلقات قائم کیئے ہوئے تھی اور اس نے اس کی عریاں حالت میں لی گئی ویڈیو کو بھی ریکارڈ کر لیا تھا اور جسمانی تعلقات سے انکار کرنے پر اسے انٹرنیٹ پر ڈاون لوڈ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی ۔آر سی ایف پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر دلیپ راوت کے مطابق نابالغ طالب علم کے والدین نے اس ضمن میں پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کی ہے اور اس پر پولیس نے کارروائی کا آغاز کیا ہے ۔شکایت کے مطابق 16 سالہ طالب علم چیمبور کی ایک انگریز ی اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہے پڑوس میں ہی اس کا ایک دیرینہ دوست رہتا ہے ایک دن جب وہ اپنے دوست سے ملاقات کرنے اس کے گھر پہنچا تو اس کی والدہ نے یہ کہا کہ دوست گھر پر نہیں ہے لیکن وہ اندر آ کر بیٹھ جائے ۔شکایت کے مطابق گھر میں داخل ہونے کے بعد خاتون نے دروازہ بند کر لیا اور طالب علم کو ایک مشروب پیش کی جس کے پینے کے بعد اس پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی تھی ۔پولیس کو یہ بھی بتلایا گیا کہ بعد میں طالب علم نے اپنے تمام لباس کو اتار دیا اور اس کے دوست کی والدہ نے اس سے جبرا جسمانی تعلقات قائم کیئے اور اس کی اپنے موبائل میں ریکارڈنگ بھی کر لی۔ایک مرتبہ ہونے والے اس جبرا تعلقات کے بعد خاتون اسے اکثر و بیشتر اپنے شوہر اور بیٹے کی غیر موجودگی میں گھر طلب کیا کرتی تھی اور اسے وہ ویڈیو دکھلا کر اور دیگر ہیجان فلمیں دکھلا کر اس سے تعلقات قائم کیا کرتی تھی ۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خاتون نے طالب علم کو اپنی چند دیگر سہیلیوں سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کروائی اور ان سے بھی جنسی تعلقات قائم کرنے کی دعوت دی جسے طالب علم نے ٹھکرا دیا ۔طالب علم کے والدجو کہ پیشہ سے ایک ٹیلر ہیں انہوں نے بتلایا کہ جب انہوں نے اپنے لڑکے کے رویہ میں تبدیلی محسوس کی تو اس سلسلے میں انہوں نے سادھو سنتوں اور فقیروں سے بھی اپنے لڑکے کا علاج کروایا لیکن کوئی افاقہ حاصل نہیں ہوا آخر میں ایک دن اس کے لڑکے نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا اور یہ بھی کہا کہ خاتون اسے اکثر و بیشتر سیاحتی مقام پر لے جایا کرتی تھی اور اس سے بے باکانہ انداز میں عشق بھی کیا کرتی تھی اور کبھی کبھار وہ اسے بیئر بھی پلایا کرتی تھی ۔طالب علم کے والد نے مزید کہا کہ خاتون نے اسے یہ بھی دھمکی دی تھی کہ وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے اور اگر اس نے یہ بات کسی کو بتلائی تو وہ اس پر عصمت دری کا الزام عائد کر دے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ طالب علم چونکہ دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور وہ تعلیم پر توجہ دینا تھالیکن خاتون کے بار بار اپنے گھر پر بلانے اور ہیجان انگیز فلمیں دکھاکر جسمانی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرنے سے اس کی تعلیم پر گہرا اثر پڑ رہا تھا اس ک...


Advertisment

Advertisment