Today: Thursday, November, 23, 2017 Last Update: 03:48 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

KARNATAKA

KARNATAKA

بنگلورمیں ہاسٹل میں اٹنڈر کی فائرنگ،ایک طالبہ ہلاک

بنگلور،یکم اپریل(یو این آئی) بنگلور شہر کے کودی گوڑی ایکسٹینشن علاقہ میں پرائیویٹ اسکول ہاسٹل میں کل رات 40سالہ شخص کی فائرنگ کے سبب ایک کم عمر طالبہ ہلاک ہوگئی جبکہ اس کی سہیلی زخمی ہوگئی۔ہلاک شدہ طالبہ کی شناخت پری یونیورسٹی کالج کی سال دوم کی طالبہ گوتمی کے طور پر کی گئی ہے ۔وہ تمکورو کی رہنے والی تھی اور ہاسٹل میں مقیم تھی۔ پولیس کمشنر بنگالورو ایم این ریڈی جنہوں نے مقام واقعہ کا معائنہ کیا ،میڈیا کو بتایا کہ مشکوک اٹنڈر مہیش نے مبینہ طور پر ان دونوں پر گولی چلادی جس کے سبب گوتمی موقع پر ہی ہلاک ہوگئی جبکہ اس کی سہیلی سریشا کی حالت خطرہ سے باہر بتائی جاتی ہے ۔اس کا علاج کیا جارہا ہے ۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حملہ کی وجہ معلوم نہ ہوسکی۔انہوں نے کہا کہ تین ٹیمیں مہیش کو پکڑنے کے لیے تشکیل دی گئی ہیں جو فرار ہوچکا ہے ۔ملزم کا تعلق شموگہ ضلع کے اگومبے سے ہے ۔وزیرداخلہ کے جے جارج جنہوں نے مقام واقعہ کا معائنہ کیا،میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس واقعہ کو افسوسناک قراردیا ۔انہوں نے کہا کہ پولیس ملزم کی تلاش کر رہی ہے اور اس واقعہ کی وجہ معلوم کر رہی ہے ۔مہیش گزشتہ دو سال سے اس اسکول میں اٹنڈر کے طور پر کام کررہا تھا۔

 

آئندہ تین برس میں ذیابیطس کا مکمل طور پر علاج دریافت کرلیا جائے گا: اے پی جے عبدالکلام

میسورو31مارچ(یواین آئی) سابق صدرجمہوریہ اے پی جے عبدالکلام نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ تین برسوں میں ذیابیطس کا مکمل طور پر علاج دریافت کرلیا جائے گا۔انہوں نے ہاورڈ یونیورسٹی کے اسٹیم سل ریسرچ کی ستائش کی۔ یونیورسٹی کی اس تحقیق کے نتیجہ میں انسانی لبلبہ میں انسولین کا اخراج کرنے والے بیٹا سیلس(beta cells) کی پیداوار ہورہی ہے جوسائنس کے شعبہ میں اہم کامیابی ہے ۔انہوں نے میسورو میں جیا چامرجیندرا انجینئرنگ کالج کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبلبہ میں انسولین خارج کرنے والے سیل میں نقص کے سبب ٹائپ ون ذیابیطس ہوتی ہے تاہم سائنسدانوں نے کامیابی کے ساتھ انسولین پیداکرنے والے beta cellsپیداکر لیے ہیں جس سے امیدہے کہ ذیابیطس کا مستقل علاج کیا جاسکے گا کیونکہ دنیا کی بڑی آبادی ذیابیطس کی شکار ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کی بھی تحقیق کی جارہی ہے کہ لبلبہ سے انسولین کے اخراج میں کمی کی وجوہات کیا ہیں۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ریاست کے وزیراعلی تعلیم آروی دیشپانڈے نے کہا کہ ریاستی حکومت اقدار پر مبنی نئی تعلیمی پالیسی شروع کرنے پر غور کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی اس نئی تعلیمی پالیسی کی تیاری کا کام نالج کمیشن کے چیرمین کستوری رنگن کو دیا گیا ہے ۔

 

جائیداد کا معاملہ:باپ اور بیٹی کی خودکشی
چکمگلور(کرناٹک)31مارچ(یواین آئی)ایک باپ اور اس کی بیٹی چکمگلور تعلقہ کے کیسکامنی گاوں میں واقع اپنے مکان میں مردہ حالت میں پائے گئے ۔ 65سالہ تھمے گوڑ نے پھانسی لے لی جبکہ ا سکی بیٹی 30سالہ سچترا نے خودسوزی کر لی۔پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ دونوں نے جائیداد کے مسئلہ پر گوڑ کے فرزند کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کروانے کے سبب یہ انتہائی اقدام کیا ہے ۔الدورپولیس نے بتایا کہ گوڑ کے بیٹے ستیش نے ا ن کاباپ ان کو وراثت میں ملی جائیداد میں حصہ نہیں دے رہا ہے ۔اس شکایت کے بعد پولیس نے گوڑ کو پولیس اسٹیشن طلب کیا تھا۔پولیس نے بتایا کہ بیٹے کی جانب سے پولیس سے شکایت درج کروانے پر مایوس باپ اور بیٹی نے خودکشی کر لی۔

 

پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں نیا موٹر قانون لایاجائے گا:گڈکری
بنگلور، 31 مارچ (یو این آئی) کرناٹک میں سڑک ٹرانسپورٹ کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے آج کہا کہ حکومت اگلے ماہ بجٹ اجلاس کے دوسرے حصہ میں نیا موٹر وہیکل ایکٹ لائے گی۔مسٹر گڈکری نے یہاں دو قومی شاہراہوں بنیاد اور مرمت کی بنیاد رکھنے کے بعد کہا کہ 20 اپریل سے شروع ہونے والے بجٹ اجلاس میں موٹر گاڑی قانون 1998 کے بدلے نیا ایکٹ منظور کیا جائے گا۔ پرانا قانون بالکل بیکار ہے اس لئے اسے ہٹانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے نئے ایکٹ کا خاکہ پہلے ہی تیار کر لیا ہے اور اس کے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی مدد سے پاس ہونے کی پوری امید ہے ۔ اس ایکٹ سے ملک میں سڑک کے علاقے کے منظر نامے میں تبدیلی آئے گی۔ یہ ایکٹ امریکہ، کینیڈا، جرمنی، جاپان اور برطانیہ کی طرز پر ہوگا۔مسٹر گڈکری نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اچھی سڑکوں سے ملک میں ترقی کو رفتار ملے گی۔ مرکزی حکومت نے پہلے ہی ہائبرڈ ماڈل پر قومی شاہراہ کو ترقی دینے کا فیصلہ ہوا ہے ۔ یہ ایک اچھا ماڈل ہے ۔ اس کے لئے چالیس فیصد رقم مرکزی حکومت دے گی اور ساٹھ فیصد نجی شعبے سے حاصل کی جائے گی۔ سڑک سیکٹر کے لئے حکومت کے لئے فنڈز کی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔انہوں نے کھا، ‘‘ہائی وے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ زمین کی تحویل اور ریت کے سلسلے میں پیش آ رہی ہے ۔ اس کے لئے ریاستی حکومتوں کو آگے آکر مدد کرنی چاہئے ۔ میں تمام ریاستی حکومتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ سڑکوں کی تعمیر کے لئے مناسب زمین اور ریت کا انتظام کرے ۔مسٹر گڈکری نے اس علاقے میں اگلے پانچ سال میں پانچ لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے کا ہدف ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت آبی راستے سے نقل و حمل کو بہتر بنانے کے لئے بھی توجہ دے رہی ہے ۔ اس میں مال کو لانے لے جانے کا خرچ بھی سڑک کے مقابلے میں سستا ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں 42 فیصد مالوں کی برداری آبی راستے سے ہوتی ہے ۔ اسی طرح چین میں 47 فیصد، کوریا اور جاپان میں چالیس فیصد سے زیادہ مالو کی برداری آبی راستے سے ہوتی ہے جبکہ ہمارے ملک میں یہ محض 3.3 فیصد ہے ۔

 

کرناٹک یونیورسٹی نے جاریہ سال کسی کو بھی اعزازی ڈگری نہ دینے کا فیصلہ کیا
دھارواڑ(کرناٹک)27مارچ(یواین آئی)کرناٹک یونیورسٹی نے ادارہ کے وقار کو برقرار رکھنے کی مثال قائم کرتے ہوئے جاریہ سال کسی کو بھی اعزازی ڈگری نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔بعض عوامی شخصیتوں کو اعزازی ڈگری دینے ریاست کی یونیورسٹیوں کے تعلق سے حالیہ کئے گئے فیصلوں پر عوامی نکتی چینی دیکھی جارہی تھی ۔کرناٹک یونیورسٹی سنڈیکیٹ جس کی میٹنگ کل شام ہوئی، میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اکیڈیمک کونسل آف ہائیر ایجوکیشن نے اس کی میٹنگ میں کہا تھا کہ اعزازی ڈگری دینے کے معاملے میں یکسانیت اور شفافیت ہونی چاہئے ۔سنڈیکیٹ کے ارکان ، اس میٹنگ میں موجود نہیں تھے جس میں یہ قرارداد منظور کی گئی کہ یونیورسٹی کا اعلی رتبہ رکھنے والے افراد کو اعزازی ڈگری نہ دی جائے ۔

اسمبلی و کونسل بجٹ سیشن کے دوران میچ دیکھنے والے ارکان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ
بنگالورو27مارچ (یو این آئی )اپنے بے باک انداز کے لیے مشہور کنٹرا چالووالی لیڈرو سابق رکن اسمبلی وٹھل ناگارائی نے آج ان ارکان اسمبلی کی معطلی کا مطالبہ کیا ہے جو کل کرناٹک اسمبلی سیشن کے دوران ہند آسٹریلیاکرکٹ میچ دیکھ رہے تھے ۔انہوں نے کئی ارکان اسمبلی کے رویہ کی مذمت کی جو دونوں ایوانوں اسمبلی اور کونسل کی لابی میں ہند آسٹریلیا میچ دیکھ رہے تھے جبکہ ان ارکان کو ریاستی بجٹ کے بارے میں لابی میں اظہارخیال کرنا تھا۔انہوں نے کہا ‘‘اس وقت عوام کو ان وزرا کے رویہ کی مذمت کی جانی چاہئے جو عوام کی فلاح وبہبود کو یقینی بنانے کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔میں اسپیکر کے تھمپاسے مطالبہ کرتاہوں کہ وہ ان تمام ارکان کو معطل کردے جنہوں نے اس اہم بحث میں حصہ لینے کے بجائے میچ دیکھنے کو ترجیح دی۔’’کرناٹک کی اسمبلی اورکونسل سنسان نظر آرہے تھے کیونکہ ارکان اسمبلی و کونسل نے بجٹ پر اظہار خیال کے بجائے لابی میں میچ دیکھنے کو ترجیح دی ۔ان تمام ارکان نے مطالبہ کیاتھا کہ اسمبلی کی براہ راست نشریات کو روک دے اور براہ راست میچ کے ٹیلی کاسٹ کو یقینی بنائے ۔اس معاملے پر اسپیکر نے منتخب عوامی نمائندوں کے رویہ پر چیف وہپ کی سرزنش کی تھی ۔ناگراج نے مطالبہ کیا کہ جو ارکان میچ دیکھ رہے تھے ان ارکان کو فوری طور پرمعطل کیا جائے ۔انہوں نے ریاستی بجٹ سیشن کے دوران ارکان کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ ارکان اپنے حلقوں کے مسائل اور حکومت کی جانب سے سرمایہ کاری کے مسائل کو اٹھانے میں ناکام رہے ۔ یہ رائے دہندوں سے دھوکہ ہے اور ان کی یہ حرکت دستور کے خلاف ہے ۔

 

آئی اے ایس افسرکی پراسرارموت کی جانچ میں نیا موڑ
بنگالورو ، 25 ؍ مارچ (یو این آئی)آئی اے ایس افسر ڈی کے روی کی پراسرار موت کے معاملہ نے آج اُس وقت ایک نیا موڑ اختیار کرلیا جب متوفی کے خسر نے الزام لگایا کہ معاملہ کی جانچ سی بی آئی کے حوالہ کرنے سے قبل سی آئی ڈی نے بعض حساس ثبوت مٹادیئے ہیں۔ ہنومنت ریاپا نے دعویٰ کیا کہ اُن کی قیام گاہ پر نصب ڈیجٹل ویڈیو ریکارڈر میں کچھ سی سی ٹی وی فوٹیج سی آئی ڈی نے حذف کردیئے ہیں۔ بے باک و بے لاگ آئی اے ایس افسرکی پراسرار موت پر بڑھتی ہوئی عوامی برہمی کا سامنا کرنے اور صدر کانگریس سونیا گاندھی کی ہدایت ملنے کے بعدوزیراعلی سدارامیا نے اس معاملہ کی جانچ مرکزی تفتیشی ایجنسی کے حوالہ کرنے اپنی حکومت کے فیصلہ کا پیر کو اعلان کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ حکومت نہ ہی کچھ چھپانا چاہتی ہے اور نہ ہی کسی کو بچانا چاہتی ہے ۔ مقامی کانگریس لیڈر ہنومنت ریاپا نے کہا کہ سی آئی ڈی نے روی کی موت کے دو دن بعد سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلیا تھا اور 23مارچ کو اسے واپس لوٹا دیا۔ تب اُنہیں حیرت ہوئی کہ اُس میں کے بعض حصے حذف ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روی کی موت کے دو دن بعد سی آئی ڈی کے افسر یہ فوٹیج لے گئے تھے اور 23مارچ کو واپس کردیا۔ انہیں اُس وقت حیرت ہوئی جب پتہ چلا کہ 16مارچ کو 10:30 بجے سے قبل کی تصاویر اُس میں سے حذف کردی گئی ہیں۔آئی اے ایس افسر اپنے اپارٹمنٹ میں سیلنگ فیان سے لٹکتا ہوا پایا گیا تھا۔ یہ پوچھنے پر کہ حذف شدہ فوٹیج میں اندازہ کے مطابق کیا ہوسکتا ہے ؟ ہنومنت ریاپا نے کہا کہ اگر وہ حذف شدہ حصہ دیکھ سکتے تب ہی اس کے بارے میں کچھ بتا پاتے ۔ تاہم انہوں نے اخبارات میں یہ پڑھا اور سنا بھی ہے کہ حذف شدہ فوٹیج میں روی کو ٹیلی فون پر کسی کو بات چیت کرتے ہوئے چلاتے ہوئے سنا گیا تھا۔ یہ پوچھنے پر کہ اس کو حذف کرنے سے سی آئی ڈی کا کیا مقصد پورا ہوسکتا ہے ’ کانگریس لیڈر نے کہا کہ وہ یہی جاننا چاہتے ہیں کہ سی آئی ڈی نے 16مارچ کو 10:30 بجے کی ریکارڈ شدہ تصاویر کو کیوں حذف کیا۔ اس سے اُن کا کیا مقصد ہے ۔انہوں نے کہا کہ اُن کا ٹکنیشن شہر میں نہیں ہے ’ وہ چند ایک روز میں بنگلور واپس لوٹے گا’ اُس نے کہا ہے کہ حذف شدہ ویڈیو فوٹیج کی بازیابی ممکن ہے ۔

 

کرناٹک اسمبلی :اپوزیشن میں گرماگرم بحث
کرناٹک کو ماڈل ریاست کے طور پر ظاہر کرنے کا موقع سدارامیا نے کھودیا:کمارا سوامی
بنگلور۔ 25؍ مارچ (یو این آئی) کرناٹک کے وزیراعلی سدارامیا کی زیر قیادت حکمراں کانگریس حکومت اپنی پارٹی کو ملک میں ماڈل کے طور پر پیش کرنے میں ناکام رہی کیونکہ حکومت نے 2015-16ء کا ناقص بجٹ پیش کیا۔ جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کمارا سوامی نے آج یہ بات بتائی۔ جے ڈی ایس کے لیڈر ایچ ڈی کمارا سوامی نے قانون ساز اسمبلی میں بجٹ پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے پارٹی کی اہمیت پر عوام کو راغب کرنے کا موقع کھودیا ہے کیونکہ پارٹی 2014ء کے عام انتخابات میں شکست کے بعد قومی سطح پر خراب صورتحال سے گزررہی ہے ۔انھوں نے کہا ‘‘عام انتخابات کے بعد کرناٹک ہی ایک واحد ریاست ہے جہاں کانگریس برسراقتدار ہے اور میں نے اس صورتحال میں بجٹ سے کافی توقعات وابستہ کی تھیں’’۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس بات کی توقع تھی کہ کانگریس عوام کو بجٹ میں ایک اچھا پیام دے گی لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ انھوں نے کہا کہ سدارامیا جنھوں نے ریکارڈ 10 ویں مرتبہ بجٹ پیش کیا’ کو مالی امور پر وسیع تجربہ ہے اور اس بجٹ کے ذریعہ وہ پارٹی کو مستحکم کرسکتے تھے ۔ انھوں نے حکومت کی مالی ذِمہ داریوں پر کہا کہ اگر کانگریس مالی نظم کا سہرا لینے کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے مالی بدانتظامی کیلئے مورد الزام ٹھہرانا چاہئیے ۔ کمارا سوامی نے حساس معاملات سے نمٹنے میں سنجیدگی کی کمی پر حکومت پر نکتہ چینی کی اور آئی اے ایس ڈی کے روی کی پراسرار موت پر سدارامیا کے علاوہ وزیر داخلہ کے بیانات میں غلطیوں کی نشاندہی کی جس پر حکمراں جماعت کے ارکان نے اعتراض کیا اور کہا کہ کمارا سوامی اپنے موضوع سے نہ ہٹیں۔اس موقع پر جے ڈی ایس اور بی جے پی کے ارکان کمارا سوامی کے دفاع میں اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اس دوران جے ڈی ایس’ بی جے پی اور کانگریس کے ارکان اسمبلی میں سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا۔ آئی اے ایس افسر ڈی کے روی کی پراسرار موت کا معاملہ جو سی بی آئی کے حوالے کرناٹک حکومت نے جانچ کیلئے کیا ہےاسمبلی میں سامنے آیا جس کے سبب حکمراں جماعت اور حزب اختلاف جماعت کے ارکان کے درمیان گرماگرم مباحث ہوئے ۔ جنتادل ایس کے فلور لیڈر ایچ ڈی کمارا سوامی نے ریاستی بجٹ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ سدارامیا اور وزیر داخلہ کی جانب سے دیئے گئے تحریری جواب میں نقائص ہے ۔ گرماگرم مباحث کے درمیان کانگریس کے لیڈروں نے کمارا سوامی کے بیان پر اعتراض کیا۔ اس موقع پر مداخلت کرتے ہوئے وزیر قانون ٹی بی جیاچندرا نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی جانچ کیلئے سی بی آئی کے حوالے کردیا گیا ہے ۔ انھوں نے اپوزیشن ارکان پر سوال اٹھائے ۔ جیاچندرا نے ریاست میں کئی سنگین واقعات کے بی جے پی کے 5 سالہ دور میں پیش آنے کے باوجود ان معاملات میں سے کسی ایک کو بھی سی بی آئی کے حوالے نہ کرنے پر اعتراض کیا۔ بی آر یواگال جو کرسی صدارت پر تھے ’ نے ارکان کو انتباہ دیا کہ وہ موضوع سے ہٹ کر بات نہ کریں۔

 

مرغا کاٹنے پر لگائی گئی پابندی کی خلاف ورزی’ 36 گرفتار
منگلور ، 25 ؍مارچ (یو این آئی) کرناٹک کے منگلور کے اڈیپی ضلع میں 36 افراد کو ‘‘سُگی ماری پوجا’ کے دوران مرغاکاٹنے پر لگائی گئی پابندی کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار کرلیا گیا۔ یہ گرفتاری کل سے شروع سُگی ماری پوجا تقاریب کے دوران مرغوں کو کاٹنے کی اطلاعات کے بعد کئے گئے دھاوے کے دوران عمل میں آئی۔کرناٹک ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس سالانہ ہونے والی تقریب کے دوران جانوروں کو نہ کاٹا جائے ۔عدالت نے مرغوں کو کاٹنے کے خلاف داخل کردہ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ احکام جاری کئے ۔ ضلع انتظامیہ نے انیمل ویلفیر بورڈ کے ساتھ کرناٹک انیمل سیکرفائس پروہیبیشن ایکٹ 1959ء (کرناٹک میں جانوروں کی قربانی پر پابندی کے قانون) کے تحت کاوماری گڈی اور دوسرے مقامات پر جانوروں کی قربانی پر پابندی کے احکام جاری کئے ہیں۔

 

رجسٹرار رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار
بنگلور ۔ 25 ؍ مارچ (یو این آئی) وجئے نگر سری کرشنا دیوارایا یونیورسٹی بیلاری کے رجسٹرار وجئے کمار کو لوک آیوکت نے انسداد رشوت ستانی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا۔لوک آیوکت کے یہاں جاری کردہ ریلیز میں کہا گیا کہ وجئے کمار نے بیلاری میں رائل بی ایڈ کالج کے معائنہ کے دوران طلبہ سے خراب انفرااسٹرکچر اور نامناسب سہولتوں کے بارے میں شکایات حاصل کیں اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 5 لاکھ روپئے رشوت دینے کا مطالبہ کیا تاکہ کالج کے خلاف تادیبی کارروائی نہ کی جاسکے ۔انھوں نے یونیورسٹی اکیڈیمی کونسل کے سامنے اس معاملہ کو لاتے ہوئے کالج کی مسلمہ حیثیت ختم کرنے کی دھمکی دی۔ بعد ازاں ملزم 3 لاکھ 50 ہزار روپئے کی رشوت پر رضامند ہوگیا اور جب اس کی پہلی قسط ایک لاکھ روپئے وصول کررہا تھا تب ہی اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا گیا۔ وجئے کمار کو لوک آیوکت کی خصوصی عدالت نے عدالتی تحویل میں دے دیا۔

 

ترقی وترویج اردو کی 17ویں نشست ایم آر پلازا میں

دہلی کے منعقدہ جشن ریختہ کو بطور موضوع لیاگیا
بیدر:24مارچ(پریس ریلیز )ترقی وترویجِ اردو کی 17ویں نشست ایم آرپلازا ، تعلیم صدیق شاہ بیدر میں جناب محمدایوب علی ماسٹر نیڈس کی زیرصدارت منعقد ہوئی۔ حیدرآباد کے گلوکار محمد صدیق اورمحمد نعیم الدین کاریگر مہمان خصوصی اور مہمان اعزازی رہے۔اس نشست کے لئے دہلی میں منعقدہ ’’جشن ریختہ‘‘ کوبطور موضوع لیاگیاتھا۔جس کااہتمام ریختہ ڈاٹ کام کے سنجیوصراف نے کیاتھا۔ جشن کے بموجب اردو ہندوستان میں بھلے ہی روزی روٹی سے نہیں جڑی ہے لیکن اس کے باوجود اس کی رفعتوں میں کمی نہیں آئی ہے۔ جشن ریختہ میں شمولیت کے لئے 25ہزار نوجوانوں نے رجسٹریشن کروایا جن میں غیرمسلم نوجوانوں کی اکثریت تھی اور ان نوجوانوں کی عمریں 30سال سے کم تھیں۔انتظار حسین، شمس الرحمن فاروقی ، گوپی چند نارنگ ، جاوید اختر ، اشفاق حسین، اورکلدیپ نیر وغیرہ نے اس جشن میں شرکت کی ۔ کلدیپ نیر کا کہناتھاکہ جشن ریختہ اردو والوں کوباندھنے میں کامیاب رہا۔ اردو زبان پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تلخی کم کرنے میں اہم رول اداکرسکتی ہے۔ اس موقع پر اردو ، ہندی اوررومن اسکرپٹ میں معروف ہندومسلم شعرا کے 100اشعار پر مشتمل ایک خوبصورت بک لیٹ بھی مہمانون کودی گئی۔ ریختہ نے اس جشن کے ذریعہ نہ صرف اردو زبان کی ترویج کی تکنیک کی نئی راہ ہموار کی بلکہ دنیا کو اس زبان کی تہذیب وشائستگی کا بھی جلوہ دکھاکر ارد وکے سرپر خوبصورت زبان کاتاج بھی رکھ دیا۔ اس 17ویں نشست میں شریک حیدرعلی شاکر کاکہناتھاکہ اردو منفی فکر کی وجہ سے کمزور ہورہی ہے ۔اردو کے بارے میں مثبت فکر کو فروغ دینا ہوگااور یہ کام سب مل کر کرناچاہیے۔ حیدرآبا د سے تشریف لائے گلوکار اور مہمان خصوصی محمد صدیق نے کہاکہ اردو ایک شیریں زبان ہے اور تہذیبی زبان ہے۔ تمام کو چاہئیے کہ وہ اردو ذریعہ تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنی تہذیب وتمدن کو پروان چڑھائیں۔ سماجی کارکن محمدنجیب پٹیل کا کہناتھاکہ گریجویٹ کے رجسٹریشن کے لئے کام جاری ہے ، اس طرف سب توجہ دیں اور ایم ایل سی انتخابات میں ایسا اُمیدوار الیکشن میں حصہ لے جو اردو سے رغبت رکھے ۔ جس کی بناپر ہم اردو کو ترقی دلاسکتے ہیں۔صدرنشست جناب محمد ایوب علی نیڈماسٹرس نے اپنے صدارتی خطاب میں اردو کی ضرورت پرزور دیااور کہاکہ جشن ریختہ سنجیوصراف کی کوششوں سے منعقدہوا۔ ایسے ہی غیرمسلم محبان اردو کو میدان میں لانا ہوگاتب ہی اردو کا گنگاجمنی موقف پھل پھول سکے گا۔ ورنہ نہیں۔ مذکورہ افراد کے علاوہ ایم بی علی، محمدعاطف ، سید افتخار، محمد شادمان حسن ، سخاوت علی سخاوت ، محمداسلم ، محمدنعیم کنسلٹنٹ ، عرفان پٹھان، محمدعمران خان شریک نشست رہے ۔نشست کا آغاز حیدرعلی شاکر کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جناب محمد امیرالدین امیرؔ نے نظامت کی ۔ اظہراحمد خان صدریاران ادب بیدر کے شکریہ پرنشست کااختتام عمل میں آیا۔
 

ہفتہ بھر کا تعطل ختم ، سدو نے سی بی آئی جانچ کا حکم دیا
بنگلور، 23مارچ (یو این آئی)آئی پی ایس افسر ڈی کے روی کی پراسرار موت پر ہفتہ بھر سے جاری تنازعہ کے بعد کرناٹک حکومت نے آج سی بی آئی کی تفتیش کی سفارش کردی۔ کیونکہ بڑے پیمانہ پر عوامی تحریک شروع ہوگئی تھی اور مرکزی ایجنسی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ حکومت کو دباؤ میں آخر یہ جھکنا پڑا ہے ۔ کانگریس حکومت یہ کہہ کر سی بی آئی جانچ سے گریز کررہی تھی کہ سی آئی ڈی ریمانڈ افسر کی موت کی سچائی سامنے لاکر انصاف کرے گی۔ وزیر اعلی سدارمیا نے آج سی بی آئی سے جانچ کرانے کے حکومت کے فیصلہ کا اعلان کیا مگر بی جے پی اور جنتا دل (ایس) پر اس معاملہ کو سیاسی رنگ دینے کے لئے نکتہ چنی کی۔اس اعلان سے ریاست میں جاری بڑھتے ہوئے احتجاج ختم ہوگئے ہیں اور مختلف تنظیموں اور عوام اور سیاسی پارٹیاں مذہبی رہنما سب مسٹر روی کی موت کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کررہے تھے جو 16 مارچ کو اپنے مکان میں لٹکے ہوئے ملے تھے ۔

 

کرناٹک کو کاویری پر نئے ڈیم نہ بنانے کی ہدایت کی جائے :تمل ناڈو کے وزیراعلی کا وزیراعظم کے نام مکتوب
چنئی ،21مارچ (یو این آئی) کرناٹک پر کاویری کے معاملے میں انتہاپسندانہ موقف اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے تمل ناڈو کے وزیراعلی او پنیرسلوم نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ وہ کرناٹک کو مشورہ دیں کہ وہ میکداتو میں نئے ریزروائرکی غیرقانونی تعمیر کے منصوبے کو عمل جامہ نہ پہنچائیں۔وزیراعظم کے نام ایک مکتوب میں جس کی کاپیاں میڈیا کو یہاں فراہم کی گئیں، وزیراعلیٰ نے مسٹر مودی پر کرناٹک کو میکداتو میں ریزروائر کی تعمیر کے غیرقانونی منصوبے کو روکنے اور تمل ناڈو حکومت کی پیشگی اجازت لئے بغیر کاویری بیسن میں کوئی نئی اسکیم شروع نہ کرنے کی ہدایت دینے پر زور دیا۔انہوں نے مسٹر مودی سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ آبی وسائل کی وزارت کو مزید تاخیر کے بغیر کاویری منیجمنٹ بورڈ اور کاویری واٹر ریگولیشن کمیٹی کی تشکیل کی ہدایت کریں جس سے کہ کاویری آبی تنازعہ ٹربیونل کے حتمی حکم کے نفاذ کو پوری طرح نافذ کیا جاسکے ۔

 

آئی اے ایس آفیسر کی موت سے متعلق سی آئی ڈی کی رپورٹ پیر کو :وزیراعلیٰ
بنگلور،21مارچ (یو این آئی) کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدا رمیا نے آج کہا کہ آئی اے ایس آفیسر ڈی کے روی کی موت کی چھان بین کرنے والی سی آئی ڈی کی عبوری رپورٹ پیر کے روز قانون ساز کونسل میں پیش کردی جائے گی۔ یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی چیز پر پردہ ڈالنے یا کسی شخص کو بچانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حکومت پوری شفافیت سے کام کررہی ہے اور عبوری رپورٹ 23 مارچ کو پیش کردی جائے گی۔ مسٹر سدارمیا نے کہا کہ انہوں نے مسٹر روی کے والدین سے وعدہ کیا تھا کہ دو دن سی آئی ڈی کی رپورٹ منظرعام پر آجائے گی ۔ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے کی ساری تفصیلات کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کو فراہم کی تھیں اور انہوں نے انہیں اس معاملے کی چھان بین سی بی آئی کے سپرد کرنے کی ہدایت نہیں دی تھی جیسا کہ میڈیا کے بعض حلقوں میں کہا جارہا ہے ۔ اپوزیشن پارٹی کے ان الزامات کے بارے میں کہ آدھی رات کو ایک خاتون آفیسر سے پوچھ گچھ کی گئی ، مسٹرسدا رمیا نے کہا کہ یہ سب جنتا دل سیکولر کے رہنما ایچ ڈی کمارسوامی کے من گھڑنت بیانات ہیں جو اول روز سے معاملے کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں اور میرے خلاف اس طرح کے بے بنیاد الزاما...


Advertisment

Advertisment