Today: Friday, November, 17, 2017 Last Update: 10:50 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

JHARKHAND

JHARKHAND

پلامو میں عشق کے معاملہ میں 3افراد کا قتل

ڈالٹن گنج،31مارچ (یو این آئی) پلامو ضلع کے پاٹن پولس تھانہ کے بدھی ناگیشر گاؤں میں مبینہ طور پر عشق کے ایک معاملہ میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد کو بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔ان تینوں کی لاشیں آج ایک ندی کے پاس پائی گئی۔ اطلاع ملنے پر اعلی پولس افسران جائے وقوع پر پہنچ گئے ہیں۔پولس نے بتایا کہ پچھلی رات تقریبا بارہ بجے پانچ سے چھ افراد نے جو خود کو ماؤنواز بتارہے تھے راج متی موچی کے گھر پر زبردستی گھسے اور اس سے کوئی تیز دھار ہتھیار مانگا۔موچی ہتھیار لانے کا بہانہ کرکے وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
بعد میں حملہ آوروں نے اس کی بیوی پھول کمار ی دیوی (50) لڑکے چنمن روی (27) اور بہو سوناکشی دیوی کو یرغمال بنالیا اور بعد میں انہیں تیز دھار ہتھیاروں سے قتل کردیا۔آج صبح ان کی لاشیں ندی کے پاس پائی گئیں۔گاؤں والوں نے بتایا کہ روی چند دن پہلے سوناکشی کو بھگالے گیا تھا اور اس نے شادی کرلی تھی۔ سوناکشی ونے مستری کی لڑکی تھی جو اسی گاؤں کا رہنے والا ہے ۔گاؤں والوں کے مطابق لڑکی والے روی کو مسلسل دھمکیاں دے رہے تھے ۔ پولس نے ابھی تک اس معاملہ پر کوئی رئے زنی نہیں کی ہے ۔ لاشیں پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دی گئی ہیں۔

 

بس کھائی میں گری،10ہلاک

گڑھوا: جھارکھنڈ کی انراج گھاٹی میں آج ایک بس 40 فٹ گہری کھائی میں گرگئی جس سے کم از کم 10افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوگئے ۔مرنے و الوں میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔ حادثہ میں گاڑی کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر بھی مارے گئے ہیں۔گڑھوا کی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پرئی درشی آلوک نے کہا کہ سات زخمیوں کو راجندر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس رانچی بھیجا گیا ہے ۔ حادثہ کے وقت ئی بس رائے گڑھ (چھتیس گڑھ) سے گڑھوا جارہی تھی۔

 

مہتاب عالم پرویزکے افسانے موجودہ وقت کے مسائل کی عمدیہ عکاسی ہیں:ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری
عالمی پرواز ڈاٹ کام کے زیر اہتمام مہتاب عالم پرویز کی تین کتابوں کی شاندار رسمِ اجرا
جمشیدپور،۲۴؍مارچ(پریس ریلیز)’بحث اس سے نہیں ہے کہ مہتاب عالم پرویز کے افسانے منٹو کے افسانوں کی طرح کتنے نفسیاتی ہیں، کتنے جنسی ہیں یاکتنے گرم ہیں۔ افسانے گرم ہوں یا ٹھنڈے یہ بھی قابلِ ذکر بات نہیں ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مہتاب عالم پرویز کا اسلوب اپنا ہے۔یہ بڑی خوبی ہے کہ جب ان کے افسانے موجودہ وقت کے مسائل کی عمدیہ عکاسی ہیں۔ ہم ان کے افسانے پڑھتے ہیں تو محسوس ہوجاتا ہے کہ یہ افسانے مہتاب پرویز ہی کے ہیں۔یہی چیز ادب میں کسی افسانہ نگار کو زندہ رکھتی ہے، اسے دوام عطا کرتی ہے۔یہ بڑی بات ہے کہ مہتاب عالم پرویز کسی کے اسلوب کی نقل نہیں کرتے۔ ‘‘مہتاب عالم پرویز کی افسانہ نگاری کے تعلق سے یہ خیالات،تقریبِ رسمِ اجرا میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک،ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری ،صدر شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے ہیں۔انھوں نے اس موقع پر مزید کہا ’’بے جا تعریف و توصیف سے تنقید نگار یا مبصر حضرات افسانہ نگار کے ساتھ انصاف نہیں کرتے ۔ایسا کرنے سے افسانہ نگار کو اپنی خامیوں اورفنی کمزوریوں پر فکرو تدبر کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ آپ مہتاب عالم پرویز کے افسانے سنجیدگی سے پڑھئے اور صحت مند نقد و نظر سے آگاہ فرمائیں،تو یہ افسانہ نگار کے ساتھ انصاف ہوگا۔‘‘ادبی تنظیم ’’عالمی پرواز ڈاٹ کام ‘‘ کے زیر اہتمام۲۴؍مارچ کو صابر کامپلکس، آزادنگر، جمشیدپور میں جواں سال افسانہ نگار مہتاب عالم پرویز کے بہ یک وقت تین افسانوی مجموعوں (۱) بازگشت (۲) مہتاب عالم پرویز کی منتخب کہانیاں[مرتب:ابرار مجیب ](۳) مہتاب عالم پرویز کے گرم افسانے[مرتب:رضواں واسطی]کی رسمِ اجرا کی تقریب کا انعقاد، معروف ادبی سرپرست جناب سید عباس رضوی چھبن کی زیر صدارت ہوا۔شام ۷؍بجے حافظ افروز سلیمی کی تلاوتِ قرآن سے تقریب کا آغاز ہوا۔نامور شاعر اور ناقدڈاکٹرزین رامش (شعبہ اردو،ہزاری باغ یونیورسٹی ) اورمشہور افسانچہ نگار ایم اے حق(رانچی) نے مہمانانِ اعزازی کے طور پر اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ اسلم بدر، رضواں واسطی، ابرار مجیب اور جاوید اختر نے مہتاب عالم پرویز کے افسانوں جائزہ کا پیش کیااس تقریب کی نظامت جناب گوہر عزیز نے فرمائی جبکہ ہدیہ تشکر نامور فکشن نگار ڈاکٹر اختر آزاد نے پیش کیا ۔آخر میں صاحبِ کتاب نے اپنی افسانہ نگاری، اپنی گھریلو زندگی اور اپنی معاشی جدوجہد کے تعلق سے سامعین کو آگاہ فرمایا۔شاکر عظیم آبادی،اسلم محمود، انور امام، سید احمد شمیم، پروفیسر احمد بدر،تنویر اختر رومانی، ممتاز شارق،نیاز اختر، نیاز احمد آسی، جی ڈی احمر، مشتاق احزن، یوسف دانش، عالمی پرواز (پورٹل) کی مدیرہ نغمہ ناز مکتومی، گل فشاں شبیر، دعا ایمان، شمع آفتاب، تحسین، صنم راج، طلعت نور فاطمہ،روشن جہاں،مکتوم شرط ،نوشاد احمد، شفیق احمد،مطیع اللہ صدیقی، محمد نور اللہ حیدری، آفتاب عالم جاوید،شہاب عالم خورشید،نواب عالم قیصرجیسے شعرا،ادبا اور ادب نواز خواتین و حضرات کی ایک کثیر تعداد شریکِ محفل تھی۔شب کے دس بجے محفل کا اختتام ہوا۔

 

جھارکھنڈمیں رگھوور داس کابینہ میں آج شام توسیع ہوگی
رانچی، 19 فروری (یو این آئی) جھارکھنڈ میں رگھوور داس سرکار کی کابینی توسیع آج شام گورنر ہاؤس میں ہونے والی میٹنگ میں کی جائے گی۔ سرکاری ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ گورنر ہاؤس کے برسا منڈپ میں آج شام چھ بجے یہ تقریب منعقد ہوگی جس میں ریاست گورنر مسٹر سید احمد نئے وزیروں کو عہدے کا حلف دلائیں گے ۔رگھوور داس کابینہ میں شمولیت کے لئے جن لیڈروں کے نام گردش کررہے ہیں ان میں سریو رائے (جمشیدپور مغرب)، نیرا یادو (کوڈرما)، راج پلیوال (مدھوپور) اور رام چندر (وشرام پور) کے نام شامل ہیں۔ جھارکھنڈ وکاس مورچہ (پرجاتانترک) سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے والے چھ اراکین اسمبلی میں سے رندھیر سنکھ اور امر باؤری کو کابینی وزیر بنائے جانے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ دریں اثناء، فون پر بات کرتے ہوئے وشرام پور کے ایم ایل اے رام چندر چندرونسی نے تصدیق کی کہ انہیں مطلع کیا گیا ہے کہ وہ آج شام گورنر ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں کابینی وزیر بنائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ان کے لئے کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے ، جو بھی ذمہ داری انہیں تفویض کی جائے گی اس میں وہ اپنی بہتر خدمات پیش کریں گے ۔ کوڈرما سے پہلی بار ایم ایل اے منتخب ہونے والی محترمہ نیرا یادو نے بھی ان سرگرمیوں کی تصدیق کی ہے کہ انہیں بھی کابینی وزیر بنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ وزیر اعلی مسٹر رگھوور داس نے 28 دسمبر 2014 اپنے چار کابینی وزراء کے ساتھ حلف لیا تھا۔ جھارکھنڈ میں وزیر اعلی سمیت 2 زیادہ سے زیادہ 12 کابینی وزراء متعین کئے جاسکتے ہیں۔

 

وزیر اعظم کل کوڈرما۔ہزاری باغ ریلوے لائن کا افتتاح کریں گے

ہزاری باغ، 19 فروری (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی کل کوڈرما اور ہزاری باغ کے مابین بننے والی نئی ریلوے لائن کو قوم کے نام وقف کریں گے اور دونوں اسٹیشنوں کے درمیان ڈیمو خدامات کو ہری جھنڈی دکھائیں گے ۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے ساتھ جن سرکردہ شخصیات کی شرکت متوقع ہے ان میں جھارکھنڈ کے گورنر سید احمد، وزیر اعلی رگھوور داس، مرکزی وزیر ریلوے سریش پربھو، مرکزی وزیر مملکت برائے ریلوے منوج سنہا، مرکزی مالیاتی وزیر مملکت اور ہزاری باغ کے رکن پارلیمنٹ جینت سنہا کے نام شامل ہیں۔ سرکاری ذرائع نے یہاں بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی رانچی میں برسا منڈا انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر دوپہر تین بجے پہنچیں گے ، جہاں سے وہ ایک ہیلی کاپٹر سے ہزاری باغ کے لئے روانہ ہوں گے ۔اس ہائی پروفائل دورہ کے پیش نظر رانچی سمیت ہزاری باغ شہر کے آس پاس اور پروگرام کی جگہ پر حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں۔ جہاں نصف درجن آئی پی ایس افسران کو تعینات کیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ جھارکھنڈ میں بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کی اکثریتی حکومت برسراقتدار آنے کے بعد یہ مسٹر مودی کا پہلا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے وزیر اعل رگھوور داس کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے والے تھے مگر موسم خراب ہونے کے سبب وہ اس میں شرکت نہیں کرسکے تھے ۔ 79.7 کلومیٹر طویل اس نئی ریلوے لائن میں سات اسٹیشن اور د و ہالٹ ہیں۔ جبکہ اس لائن پر مجموعی طورپر 14 بڑے پل اور 105 چھوٹے پل تعمیر کئے گئے ہیں۔

سی پی چودھری قانون ساز پارٹی کے لیڈر منتخب
رانچی:آل جھارکھنڈ اسٹوڈنٹس یونین (اے جے ایس یو) کے رام گڑھ سے منتخب رکن اسمبلی چندر پرکاش چودھری کو آج یہاں اسمبلی میں قانون ساز پارٹی کا لیڈر چن لیا گیا۔پارٹی کے ترجمان دیوشرن بھگت نے کہاکہ مسٹر چودھری کو لیڈر منتخب کرنے کے علاوہ پارٹی نے مسٹر سدیش مہتو کو اس بات کا اختیار بھی دیا گیاکہ وہ یہ طے کریں کہ اے جے ایس یو کے کوٹہ سے کن ارکان کابینی وزیر بنایا جائے گا ۔دریں اثنا اے جے ایس یو کے سپریمو سدیش مہتو نے کہا کہ پارٹی کے پانچوں ارکان اسمبلی جھارکھنڈ میں مستحکم حکومت کے قیام کے لئے بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی حمایت کریں گے۔

 

جھارکھنڈ میں چوتھے مرحلے کے انتخابات کیلئے تمام تیاریاں مکمل

رانچی 13 دسمبر (یو این آئی) جھارکھنڈ میں چوتھے مرحلے میں 15 اسمبلی حلقوں میں سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان کل ہونے والی پولنگ کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ریاست کے چیف الیکشن آفیسر پی کے جاجوریا نے آج یہاں بتایا کہ چوتھے مرحلے میں مدھوپور، دیو گھر(محفوظ)، بگودر(محفوظ)، گانڈے، جموا(محفوظ)، گریڈیہہ، ڈمری، چدن کیاری(محفوظ)، سندری، نرسا ،جھریا ،ٹنڈی ،باگھمارا اسمبلی حلقوں میں کل صبح سات بجے سے دن کے تین بجے تک پولنگ ہوگی جبکہ بوکارو اور دھنباد اسمبلی علاقوں میں کل صبح سات بجے سے شام کے پانچ بجے تک پولنگ ہوگی ۔تمام پولنگ مراکز پر سیکورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔مسٹر جاجوریا نے بتایا کہ ان علاقوں میں 16 خواتین امیدوار سمیت کل 217 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں جبکہ مجموعی رائے دہندگان کی تعداد 4348709 ہے، جس میں 2342954 مرد رائے دہندگان ہیں اورخواتین ووٹروں کی تعداد 2003516 ہے۔ ان علاقوں میں سروس ووٹر 2236 ہیں۔ ان 15 اسمبلی حلقوں میں 12 جنرل اور تین درج فہرست ذات کے لیے ہیں۔ ان علاقوں میں کل مراکز کی تعداد 3718 ہے جس میں 716 پولنگ مراکز انتہائی حساس ہیں جبکہ 2007 پولنگ مراکز حساس ہیں۔مسٹر جاجوریا نے بتایا کہ ان تمام اسمبلی حلقوں میں ویب کاسٹنگ کی سہولت والے پولنگ مراکزکی تعداد 335 ہے جبکہ اردش پولنگ مراکز کی تعداد 183 ہے۔ ان 15 اسمبلی حلقوں میں بی جے پی نے 13، بی ایس پی نے 14، سی پی آئی نے 03، سی پی آئی ایم نے 02، کانگریس نے 11، راشٹروادی کانگریس نے 02،آل جھارکھنڈ اسٹوڈنٹ یونین نے 02، جھارکھنڈ وکاس مورچہ پرجاتانترک نے 14، راشٹریہ جنتا دل نے 04 اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے 15 امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ اس کے علاوہ 67 آزاد امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دو اسمبلی حلقوں دھنباد اور بوکارو میں ووٹر ویریفائبل پیپر آڈٹ ٹریل کی سہولت بھی دستیاب ہو گی۔انہوں نے بتایا کہ ان تمام اسمبلی حلقوں میں انتخابات کے لیے تقریبا 27410 الیکشن آفیسروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ آزاد اورغیرجانبدارانہ پولنگ کیلئے 15 عام مشاہد، چھ اخراجات کے نگراں، دو پولیس مشاہد، دو بیدارکنندہ مشاہد اور 1069 مائکرو مشاہدین تعینات کئے گئے ہیں۔اس درمیان ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل راجیو کمار نے یہاں بتایا کہ کل ہونے والی پولنگ کی تمام تیاری مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام پولنگ مراکز پر مسلح پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی ہے اور چھ ہیلی کاپٹروں سے نگرانی بھی کی جائے گی ۔آزاد اورغیر جانبدارانہ پولنگ کرانے کے لئے 45 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ریاست میں کل چوتھے مرحلے کی پولنگ میں شامل جن اہم لیڈران کی قسمت ای وی ایم میں بند ہو جائے گی، ان میں ریاست کے سابق وزیر اعلی بابو لال مرانڈی، ریاست کے وزیر سیاحت سریش پاسوان، ریاست کے مویشی پروری اور ماہی پروری وزیر منان ملک ،سابق وزیر اوماکانت رجک ، سابق رکن اسمبلی نربھے شاہابادی، ممبر اسمبلی ونود کمار سنگھ، سابق رکن اسمبلی چندرکا مہتہ، سابق وزیر سرفراز احمد اور ممبر اسمبلی اروپ چٹرجی شامل ہیں۔

 

دگ وجے سنگھ نے بھی سادھوی نرنجن جیوتی کے استعفیٰ اور گرفتاری کا مطالبہ کیا

رانچی، 4 دسمبر (یو این آئی) کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ نے آج متنازعہ بیان دینے پر سادھوی نرنجن جیوتی کے فوری استعفیٰ اور گرفتاری کا مطالبہ کیا۔مسٹر دگ وجے سنگھ نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کے ذریعہ دیا گیا قابل اعتراض بیان دفعہ 153 اے کے تحت ایک جرم ہے جس کے لئے انھیں فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہئے اور انہیں گرفتار کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جو بی جے پی صاف ستھری سیاست کی بات کرتی ہے اس کی زیر قیادت گجرات سرکار میں شامل ایک وزیر کو عدالت کی طرف سے پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ اسی کے ایک دوسرے مرکزی وزیر پر جنسی حملے کا الزام عائد کیا گیا ہے جن کا تعلق راجستھان سے ہے ۔ جب وہ راجستھان پہنچتے ہیں تو پولیس کی طرف سے انہیں سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے اور دوسری طرف وہی پولیس یہ کہتی ہے کہ چونکہ وہ وزیر موصوف مفرور ہیں اس لئے وہ انہیں کوئی نوٹس نہیں پہنچاسکتی۔ بی جے پی پر اپنا حملہ جاری رکھتے ہوئے مسٹر دگ وجے سنگھ نے کہاکہ ملک کے طول و عرض میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافہ کے لئے بی جیپی ذمہ دار ہے جو صرف سیاسی مفاد کی خاطر یہ سب کچھ کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک طرف بی جیپی کے قومی صدر امت شاہ کہہ رہے ہیں کہ شاردا چٹ فنڈ گھوٹالہ کی رقم بردوان دھماکہ میں استعمال کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف سے اسی بی جے پی کی مرکزی حکومت ان کے دعوے کو غلط قرار دے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ خود بی جیپی قومی صدر امت شاہ پر فرضی انکاؤنٹر میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، یہاں تک کے ان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ انہیں عدالت سے تو ضمانت نہیں مل سکی مگر انہیں پارٹی کا قومی صدر بنادیا گیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جیپی اور مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے درمیان گٹھ جوڑ ہوچکا ہے جو آپس میں مل جل کر ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں اور سیاسی صف بندی میں مصروف ہیں۔ انہو ں نے اپنی سیاسی حکمت عملی کے تحت سخت گیر مسلمانوں اور شدت پسند ہندوؤں کے درمیان سمجھوتہ سے سیاسی فوائد حاصل کرنے کیلئے سرگرمی شروع کردی ہے۔

 

جھارکھنڈ میں مال گاڑی کے 22 ڈبے پٹری سے اترے، کوئی زخمی نہیں

رانچی، 3 دسمبر (یو این آئی) جنوب مشرقی ریلوے کے رانچی۔مری سیکشن پر کیتا اور گوتم دھارا ریلوے اسٹیشن کے درمیان آج مال گاڑی کے 22 ڈبے پٹری سے اتر گئے جس کی وجہ سے اس ریلوے سیکشن پر ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔رانچی ریلوے سیکشن کے سرکاری ذرا ئع نے یہاں بتایا کہ مال گاڑی بوکارو کی جانب آرہی تھی کہ اسی وقت کیتا اور گوتم دھارا ریلوے اسٹیشن پر اس کے 22 ڈبے پٹری سے اتر گئے ۔ حادثہ کی وجہ سے اس سیکشن پر ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہے ۔ حادثہ میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس حادثہ کی وجہ سے بردوان پسنجر، کھنڈگ پور پسنجر اور ہٹیا۔پٹنہ سپرفاسٹ ایکسپریس کو منسوخ کردیا گیا ہے جبکہ چند ٹرینوں کے راستوں میں تبدیلی کی جارہی ہے۔ حادثہ کے وقت مال گاڑی خالی تھی۔

 

کولہن میں دوسرے مرحلے کی پولنگ کل

رانچی،یکم دسمبر(یو این ا ئی) تیرہ سیٹوں کے لیے ریاست میں پہلے مرحلے کی پولنگ ختم ہونے کے بعد لوگوں کی نگاہیں دوسرے مرحلے میں کولہن علاقے کی 14 سیٹوں پر ہونے والے الیکشن پر لگ گئی ہیں۔اس مرحلے میں کل 20 سیٹوں پر انتخابات ہوں گے۔ان بیس سیٹوں پر 223 امیدوار میدان میں ہیں جس میں 17سیٹیں محفوظ زمرے کی ہیں۔44لاکھ 13ہزار716 رائے دہندگان جس میں 22ہزار48لاکھ 331 مرد اور 21لاکھ 65ہزار 379خواتین رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ پانچ ہزار گیارہ مراکز پر ڈالے جانے والے ووٹ انتخابی میدان میں اترے سیاست دانوں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ان سیٹوں میں بھرگورا، گھاٹ سیلا(ایس ٹی)، پوٹکا(ایس ٹی)،جگ سلائی (ایس سی)، جمشید پور ایسٹ ، جمشید پور ویسٹ، سرائے کیلا(ایس ٹی)، چائی باسا(ایس ٹی)، منجھ گاؤں(ایس ٹی)، جگناتھ پور(ایس ٹی)، منوہر پور(ایس ٹی) چکردھرپور(ایس ٹی)، خرساوان(ایس ٹی)، تمار(ایس ٹی) ٹورپا(ایس ٹی) ،کھنٹی(ایس ٹی)، مندر(ایس ٹی)، سیسئی(ایس ٹی)، سمڈیگا(ایس ٹی) اور کولیدیرا(ایس ٹی) شامل ہیں۔ سی ا ر پی ایف ، جے اے پی، جھارکھنڈ جگوار، ضلعی پولیس اور ہوم گارڈ سمیت چالیس ہزار سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ پولنگ صبح سات بجے شروع ہوگی اور شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔ جبکہ جمشید پور ایسٹ اور جمشید پور ویسٹ میں پولنگ شام سات بجے تک جاری رہے گی۔

 

 

مودی صنعتکاروں کے وزیراعظم: راہل

رانچی، 28 نومبر(یو این آئی) کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے آج الزام لگاتے ہوئے کہاکہ نریندر مودی ملک کے عوام کے نہیں بلکہ کچھ صنعت کاروں کے وزیراعظم ہیں۔مسٹر گاندھی نے جھارکھنڈ کے مغربی سینگ بھوم ضلع کے چائباسہ اور جگناتھ پور میں پارٹی کے انتخابی جلسہ میں کہاکہ کانگریس پارٹی نے تحویل آراضی کا قانون بنایا لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت صنعتکاروں کی مدد کرنے کے لئے اسے تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آپ کی زمین پر حکومت کی نظر ہے اور وہ صنعتکاروں کے لئے زمین تحویل میں لینا چاہتی ہے لیکن کانگریس پارٹی عوام کے ساتھ ہے اور وہ ایسا نہیں ہونے دے گی۔مسٹر گاندھی نے کہاکہ مسٹر مودی چاہتے ہیں کہ وہ تنہا اس ملک کو چلائے، اس لئے اپنی تقریروں میں وہ میں لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔ مسٹر مودی چاہتے ہیں کہ وہ عوام کی پوری طاقت اپنے ہاتھ میں لے لے جبکہ کانگریس کا نظریہ یہ ہے کہ جھارکھنڈ کو جھارکھنڈ کے عوام چلائیں اور سب مل کر ملک کی ترقی کریں۔

 

 

کانگریس کی چال میں بی جے پی پھنسنے والی نہیں :شہنواز

رانچی،28نومبر(یو این ا ئی) بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان اور سابق مرکزی وزیر شہنواز حسین نے کہا کہ کانگریس پارٹی چاہتی ہیکہ بلیک منی کے معاملے میں جوپہلی فہرست جاری ہوئی ہے اسے ظاہر کر دیا جائے جس سے بین الاقوامی معاہدہ ٹوٹ جائے اور حکومت کو دوسری فہرست نہ مل سکے۔مسٹر حسین نے ا ج یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ کانگریس پارٹی دوسری فہرست کے لئے پریشان ہے اور ہم ان کی چال سمجھتے ہیں اس لئے بی جے پی ان کی چالوں میں پھنسنے والی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدے کی رو سے بلیک منی معاملے میں کسی پر مجرمانہ معاملہ بنتا ہے اور وہ ثابت بھی ہوجاتا ہے تب ہی اس کا نام ظاہر کیا جا سکتا ہے۔مسٹر حسین نے کہا کہ مرکزی حکومت بلیک منی کو واپس لائے گی اور غریبوں تک وہ پیسہ پہنچائے گی۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ پورے ملک میں انتخابی تشہیر کے لئے پارٹی کارکنان ان کا نام لیتے ہیں تو پھر پارلیمنٹ میں ان کی پارٹی انہیں کیوں نہیں داخل کر رہی ہے۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھاگلپورکی عوام نے 2014کے انتخابات میں انہیں شکست سے دوچار کیا ہے اور جب 2019میں انتخابات ہوں گے اور ان کی پارٹی انہیں ٹکٹ دی گی تب پھر وہ عوام کے پاس جائیں گے اور انہیں جیت دلانے کی اپیل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اٹل بہاری واجپئی نے انہیں 32سال کی عمر میں وزیر بنایا اور ملک میں سب سے کم عمر وزیر بننے کا ریکارڈ ان کے نام ہے اور وہ اس سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عام کارکن کی طرح پارٹی کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور پارٹی نے انہیں جو کچھ بھی دیا ہے وہ اس سے پوری طرح مطمئن ہیں۔

 

سابق وزیر اور ممبر اسمبلی ینوس ایکا گرفتار

رانچی، 27 نومبر (یواین آئی) جھارکھنڈ کے نکسلی سے متاثرہ علاقہ ضلع سمڈیگا میں ایک پیرا ٹیچر کے اغوا اور قتل کے معاملے میں پولیس نے سابق وزیر رکن اسمبلی اینوس ایکا کو آج گرفتار کرلیا۔ریاست کے پولیس کے ڈائرکٹر جنرل راجیو کمار نے یہاں یو این ائی کو بتایا کہ پیرا ٹیچر منوج کمار کا اغوا اور قتل کے معاملے میں اینوس ایکا کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔مسٹر کمار نے بتایا کہ منوج کا کل ضلع سمڈیگا سے اغوا کرلیا گیا تھا اور آج اس کی لاش کولیبرا جنگل سے برآمد کی گئی ہے۔ پیرا ٹیچر منوج کے رشتہ داروں نے اس معاملے میں مسٹر ایکو نامزد ملزم بنایا ہے۔واضح رہے کہ مسٹر ایکا جھارکھنڈ پارٹی سے کولبیرا اسمبلی حلقہ سے امیدوار ہیں اور انہوں نے 2009 میں انتخاب اسی حلقے سے جیتا تھا۔

 

کولیبرا ایم ایل اے اینوس اک ا سمڈیگا میں گرفتار

رانچی،27نومبر( یو این آئی) سابق وزیر اور کولیبراایم ایل اے اینوس اک ا کو آج ایک پیرا ٹیچر کے قتل کے الزام میں سمڈیگا ضلع سے گرفتار کیا گیا ہے۔پیراٹیچر کی لاش کی شناخت منوج کمار کے طور پر ہوئی جسے پولیس نے سمڈیگا ضلع کے کولیبرا میں ایک جنگل سے برآمد کیا ہے۔ اسے قتل کرنے سے دو دن قبل اغوا کرلیا گیا تھا۔ہلاک ہونے والے ٹیچر کے اہل خانہ نے ایف آئی آر میں اینوس اک ا کا نام درج کرایا ہے۔جھارکھنڈ ڈی جی پی راجیو کمار نے اس سلسلے میں ہوئی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اک ا کو سمڈیگا پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں اس کے خلاف الزام لگایا گیا تھا۔اک ا جھارکھنڈ پارٹی کی طرف سے کولیبرا سیٹ سے ایم ایل اے کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں ۔ وہاں دوسرے مرحلے میں 2دسمبر کو ووٹنگ ہوگی۔2009میں اک ا کولیبرا سیٹ سے اسمبلی کے لیے منتخب ہو چکے ہیں۔

 

مودی کا کانگریس پر قبائلیوں کو ووٹ بنک کے طور پر استعمال کرنے کا الزام

چائی باسا، 25 نومبر (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس اور ریاست کی دوسری سیاسی پارٹیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ قبائلیوں کو ووٹ بنک کے طور پر استعمال کر رہی ہیں اور ان سے کہا کہ وہ ریاست میں مکمل اکثریتی بی جے پی حکومت کے لئے ووٹ دیں۔یہاں ٹاٹا کالج گراؤنڈ ر میں ایک انتخابی میٹنگ سے خ...


Advertisment

Advertisment