Today: Thursday, November, 23, 2017 Last Update: 03:46 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

JAMMU & KASHMIR

JAMMU & KASHMIR

کشمیر میں بارہویں کلاس تک کے اسکول بند۔ کشمیر یونیورسٹی کے متحان آج سے

سری نگر، یکم اپریل (یو این آئی) وادی کشمیر میں بارہویں کلاس تک کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے آج بھی بند رہے کیونکہ اسکولوں میں پانی بھرا ہوا ہے اور مزید بارش کا امکان ہے ۔ تاہم کشمیر یونیورسٹی نے آج امتحانات کرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے میٹرک اور بارہوین کلاس کے امتحانات 4اپریل تک ملتی کردیئے ہیں۔اسکولی تعلیم کے ڈائرکٹر شوکت احم نے مزید بارش کی پیشن گوئی کے مدنظر یہ فیصلہ کیا ہے کہ سیکنڈری کی سطح تک تمام اسکول آج بند رہیں گے ۔کل کے بارے میں فیصہ موسم کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔متعدد اسکولوں میں پانی بھرا ہوا ے جن میں سری نگر کے اسکول بھی شامل ہیں۔گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول کوٹھی باغ اور قریبی مڈل اسکول میں پانی بھرا ہوا ہے ۔دریں اثنا کشمیر یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ آج سے تمام امتحانات شیڈول کے مطابق ہونگے ۔ یونیورسٹی نے 30 اور 31 مارچ کو امتحانات ملتوی کئے تھے ۔وادی کشمیر اور جموں ڈویژن کے ونٹر زون میں دسویں اور بارہویں کلاس کے بورڈ کے امتحانات 4 اپریل تک ملتوی کردیے گئے ہیں۔مگر 6 اپریل کے بعد ہونے والے امتحانات پروگرام کے مطابق ہی ہونگے ۔ ملتوی ہونے والے پرچوں کی تازہ ڈیٹ شیت کا اعلان علیحدہ سے کیا جائے گا۔

 

سری نگر جموں قومی شاہراہ ٹریفک کیلئے پھر بند، کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی شدید قلت
سری نگر،یکم اپریل (یو ا ین آئی) وادی کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی واحد شاہراہ بدھ کے روز شدید بارش کی وجہ سے تودے گرنے کے بعد گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند کردی گئی۔ یہ شاہراہ کل دوپہر کے وقت چار روز تک بند رہنے کے بعد گاڑیوں کی یکطرفہ آمد ورفت کیلئے کھول دی گئی تھی۔ تاہم صرف درماندہ ہلکی گاڑیو ں کو ہی جموں سے سری نگر کی طرف آنے کی اجازت ملی تھی۔ لیکن بدھ کو دوپہر شدید بارش کی وجہ سے شاہراہ کے کئی مقامات پر تودے گرنے کے بعد ایک بار پھر گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند کردی گئی۔ شاہراہ بند رہنے کی وجہ سے کئی ہزار ٹرکیں بشمول اشیائے ضروریہ سے لدی ٹرکیں گذشتہ آٹھ دنوں سے جموں اور شاہراہ کے مختلف مقامات پر درماندہ ہیں جس کے باعث وادی میں اشیائے ضروریہ، رسوئی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ تازہ سبزیوں کی عدم دستیابی کے باعث اب اہلیان وادی کو سوکھی سبزیوں اور دالوں پر ہی اکتفا کرنا پڑرہا ہے ۔
شاہراہ بند رہنے کی وجہ سے مقامی اخبارات کی اشاعت بھی متاثر ہوگئی ہے کیونکہ کاغذات سے لدی گاڑیاں بھی جموں میں درماندہ ہوگئی ہیں۔ سری نگر میں بیشتر سبزی فروشوں نے اپنی دکانیں بند رکھی ہیں اور اگر کسی سبزی فروش کی دکان کھلی بھی ملتی ہے تو اُس میں صرف پیاز اور آلو دستیاب ہے ۔


کشمیرمیں دریائے جہلم خطرے کے نشان سے نیچے مگر سیلاب کا خطرہ اب بھی
بارش کے باوجود ودی کشمیر ہائی وے یک طرفہ ٹریفک کے لئے کھولا گیا
سری نگر، یکم اپریل (یو این آئی) جموں کشمیر میں سیلاب کی صورتحال میں مزید بہتری آئی ہے ۔ دریائے جہلم جس میں پچھلے دو روز سے طغیانی آئی ہوئی تھی۔ اس میں اور اس کی ذیلی ندیوں میں پانی کی سطح اب خطرے کے نشان سے تین سے دس فٹ تک نیچے آگئی ہے ۔سری نگر میں کل رات ہلکی بارش ہوئی اور صبح سے ہی رک رک کر بارش ہورہی ہے ۔وادی میں 4 اپریل تک مزید بھاری بارش ہونے کی پیشن گوئی کی گئی ہے جس کی وجہ سے لوگ خوف میں مبتلا ہیں۔ حکام نے پانی کی سطح میں کم ہونے کے باوجود سیلاب الرٹ واپس نہیں لیا ہے ۔سنچائی اور سیلاب کنٹرول محکمہ کے ایک افسر نے آج صبح یو این آئی کو بتایا ہے کہ بھارتی بارش کی وجہ سے پچھلے چند روز سے جہلم میں پانی خطرے کے نشان سے کئی فٹ اوپر بہہ رہا تھا مگر اب اتر ررہا ہے اس پر برابر نظر رکھی جارہی ہے ۔ خصوصاً جہاں سے پانی باہر آسکتا ہے ۔شہر کے کئی نشیبی علاقوں اور وادی کشمیر کے دیگر کئی حصے زیر آب آگئے ہیں۔سری نگر کی بیمینا کالونی کے باشندوں نے الزام لگایا ہے کہ حکام تین روزسے ان کے مکانوں میں پانی بھرا ہوا ہے مگر حکام نے کچھ نہیں کہا۔ سرکار نے وادی میں سیلاب کی وارننگ پہلے ہی سے جاری کردی تھی اور فوج بھی طلب کرلی تھی۔ہنگامی حالات سے نمٹنے اور لوگوں کو بچاکر نکالنے کے لئے این ڈی آر ایف کی کئی ٹیمیں یہاں پہنچ چکی ہیں۔حکام نے تمام ہیڈکوارٹر میں پولیس کنٹرول روم قائم کررہے تاکہ عام لوگوں سے سیلا ب کی صورتحال کے بارے میں اطلاعات حاصل کرسکیں گے ۔جموں و کشمیر پولیس نے اپنا عملہ بشمول افسران دریا کے پانی کے سطح پر نظر رکھنے کے لئے باندوں پر تعینات کردئے ہیں۔دریں اثناء میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تازہ بارش کے باوجود وادی کشمیر کو باقی ملک سے جوڑنے والی قومی شاہراہ آج یک طرفہ ٹریفک کے لئے کھول دی گئی۔ آج جموں سے گاڑیاں سری نگر کی طرف روانہ ہورہی ہیں۔ہزاروں گاڑیاں ایک ہفتہ سے رکی ہوئی تھیں جن میں صرف لازمی ضرورت کا سامان لے جانے والے ٹرک بھی شامل تھے ۔ متعدد مسافر جموں میں کئی روز سے پھنسے ہوئے تھے ۔ آج صبح یہ سب گاڑیاں جموں اور خطہ کے دوسرے علاقوں سے وادی کشمیر روانہ ہوگئیں۔تاہم کشمیر سے جموں کسی گاڑی کو آنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ٹریفک پولیس نے یو این آئی کو بتایا ہے کہ کل رات سے مختلق مقامات پر پانی برس رہا ہے ۔ اس کے باوجود شاہراہ کھول دی گئی ہے ۔شاہراہ کی دیکھ بھال کی ذمہ دار سرحدی سڑک تنظیم بی آر او نے شاہراہوں پر گرے پتھروں کو ہٹانے کے لیے عملہ اور جدید مشینیں لگا رکھی ہیں۔24 گھنٹے کے لیے شاہراہ بند کی گئی تھی تاکہ مرمت کا کام ہوسکے اور گاڑیاں ان علاقوں سے بحفاظت گزر سکیں جہاں برفانی تودے گرنے کا خطرہ ہے ۔تاہم کئی جگہ چٹانیں گرنے کے واقعات پیش آئے جس کی وجہ سے حکام کو شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت روکنی پڑی۔ رات دن کی محنت کے بعد بی آر او نے شاہراہ کو یکطرفہ ٹریفک کے لئے تیار کردیا۔
چونکہ پچھلے ایک ہفتہ سے عورتوں اور بچوں سمیت کئی ہزار مسافر جموں بس اسٹینڈ پر پھنسے ہوئے ہیں۔ اس لئے راستہ کھلنے کے بعد جموں سے سری نگر کے لئے ٹریفک کھولا گیا ہے ۔جموں میں بہت مسافر جمع ہیں اور وادی میں لازمی اشیا خصوصاً سبزیوں کی قلت ہوری ہے ۔ اس لیے پہلے ادھر کا راستہ کھولا گیا ہے ۔ سبزیوں اور دیگر لازمی اشیا سے لدے سینکڑوں ٹرک اور تیل ٹنکر آج روانہ ہوئے ہیں۔ کل سڑک کی حالت اور موسم کو دیکھ کر سری نگر سے جموں کے لئے ٹریفک کھولا جائے گا۔ اس وقت مخالف سمت سے کوئی گاڑی نہیں آئے گی۔

 

سری نگر جموں قومی شاہراہ پر جزوی ٹریفک بحال

سری نگر،31 مارچ (یو ا ین آئی) وادی کشمیر کو ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ منگل کو چار روز بعد گاڑیوں کی یکطرفہ آمد ورفت کیلئے کھول دی گئی۔ایک ٹریفک پولیس افسر نے یو این آئی کو بتایا کہ صرف ہلکی گاڑیو ں کو ہی جموں سے سری نگر کی طرف آنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہلکی مسافر گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد جو گذشتہ دو تین دنوں سے جموں اور دیگر مقامات پر کھڑی تھیں، کو آگے جانے کی اجازت دی گئی ہے ۔ تاہم کئی ہزار ٹرک بشمول اشیائے ضروریہ سے لدے ٹرک گذشتہ ایک ہفتے سے جموں اور شاہراہ کے مختلف مقامات پر کھڑے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یہ اہم شاہراہ مرمت کی غرض سے 27 مارچ کی دوپہر کو بند کردی گئی تھی۔اگرچہ ٹریفک پولیس انتظامیہ نے اعلان کررکھا تھا کہ شاہراہ 29 مارچ کو ٹریفک کی آمد ورفت کیلئے کھول دی جائے گی۔ تاہم ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات کو ہونے والی موسلادھار بارشوں کی وجہ سے یہ شاہراہ ناقابل آمدورفت بن چکی تھی کیونکہ کئی مقامات پر تودے گرآئے تھے ۔تاہم موسم میں بہتری آنے کے ساتھ ہی شاہراہ کو آج ہلکی گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے کھول دیا گیا۔

 

مفتی سعید نے سیلاب کی صورت حال سے مقابلے کیلئے فوج سے تعاون مانگا

سرینگر30مارچ(آئی این ایس انڈیا)جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے فوج سے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ کو ساجو یکساں کے طور پر عملہ اور مشینیں مہیا کرائی جائیں جس سے کہ شہری انتظامیہ وادی میں سیلاب کی صورتحال سے موثر طریقے سے نمٹ سکے۔ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ اس سلسلے میں کل شام یہاں سعید کی صدارت میں جائزہ اجلاس میں ہدایات جاری کئے گئے۔فوجی نمائندے نے وزیراعلیٰ کو یقین دلایا کہ ملحقہ سیلاب کے خطرے سے مقابلے کیلئے فوج تمام ضروری مدد حکومت کو مہیا کرائے گی۔سعید نے ضرورت پڑنے پر ریاستی قومی تباہی دستہ(ایس ڈی آر ایف) ٹیموں کو بھی کام پر لگانے کی ہدایت دی۔لال چوک پر آج صبح نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سعید نے کہا کہ لوگوں کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے حکومت تمام طرح کے اقدامات اٹھا رہی ہے۔سعید نے کہا کہ ہم حالات کی نگرانی کر رہے ہیں اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔سعید نے گزشتہ سال کے سیلاب میں متاثر ہونے والے چھوٹے کاروباریوں کو بھی بھروسہ دلایا کہ حکومت انہیں اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے مدد کرے گی۔

 

مرکز نے وادی میں سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری میں تاخیر کی:عمر عبد اللہ
جموں30مارچ(آئی این ایس انڈیا) کشمیر میں پھر سے سیلاب کی صورت حال پیدا ہونے کے ساتھ، سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے آج مرکز سے پوچھا کہ ریاست کی مدد کے لئے کیا قدم اٹھائے جا رہے ہیں،وہیں انہوں نے نریندر مودی حکومت پر گزشتہ سال کی آفت میں متاثر ہونے والے لوگوں کی بازآبادکاری میں تاخیر کا الزام لگایا۔این سی لیڈر نے کہا کہ لوگوں کو سیلاب کے حالات پر سیاست نہیں کرنی چاہئے اور لوگوں کی جان بچانی چاہئے۔انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ہم حالات پر سیاست نہیں کرناچاہتے ہیں محض سات مہینہ گزرا ہے اور لوگ ایک بار پھر سے تباہی کا سامنا کر رہے ہیں،بعد میں ریاستی اسمبلی میں عمر نے کہا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ریاست میں ایک بار پھر سیلاب کی صورت حال کا سامنا کر رہے لوگوں کی جان اور جائیداد کی حفاظت کے لئے حکومت نے کیا قدم اٹھائے ہے۔انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ ریاست کی مدد کیلئے مرکز کیا کر رہا ہے۔انہوں نے مرکز پر جموں کشمیرکے سیلاب سے لوگوں کے لئے امدادی پیکیج جاری کرنے میں بھی تاخیر کا الزام لگایا۔سابق وزیر اعلی نے کہا کہ مرکزی حکومت ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتی ہے کیونکہ ان کی حکومت نے دیر سے انتخابات کرائے جانے اور پہلے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی بازآبادکاری کی مانگ کی تھی۔عمر نے کہا کہ ہم نے ان سے کہا تھا کہ پہلے سیلاب متاثرین کی دیکھ بھال کی جائے لیکن وہ انتخابات پر آگے بڑھنا چاہتے تھے جس سے بحالی کے کام میں خلل پیداہوگیاہوا۔تاہم انہوں نے کہا کہ موسلادھار بارش کے بعد اس بار ریاست میں صورتحال بگڑی نہیں ہے اور امید جتائی کہ موسم بہتر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ اگلے کچھ دنوں میں موسم خراب رہ سکتا ہے۔حکومت سے معلومات طلب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں تک معلومات کی بات ہے لوگوں کو یا تو اخبار یا انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ اخباروں اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہمیں اطلاع ملی ہے، صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا یہ سچ ہے کہ این ڈی آرایف ٹیم کشمیر پہنچ گئی ہے اور پانی نکالنے کے لئے پمپ لگایا گیا ہے۔

وادی کشمیر میں بھگوان رام کا جنم دن یعنی ‘رام نومی’ جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا

سری نگر،28 مارچ (یو ا ین آئی) ملک کے دوسرے حصوں کی طرح وادی کشمیر اور خطہ جموں میں بھی ہفتہ کے روز بھگوان رام کا جنم دن یعنی رام نومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ رام نومی تہوار کے سلسلے میں وادی بھر کے مندروں پر چراغاں کیا گیا تھا۔ ہندو و کشمیری پنڈت برادری کو دن بھر مندروں میں مذہبی رسومات کی ادائیگی جیسے خصوصی پوجاپاٹ اور بجھن گانے میں مصروف دیکھا گیا۔ سری نگر اور وادی کے دوسرے اضلاع میں رام نومی کے سلسلے میں ہونے والی تقریبات میں کشمیری پنڈتوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ سب سے بڑی تقریب سری نگر کے رام مندر میں منعقد ہوئی جہاں عقیدتمندوں کی بڑی تعداد جس میں خواتین اور بچوں کی خاصی تعداد شامل تھی نے ہفتہ کی صبح سے ہی حاضری دینا شروع کیا۔اسی مندر سے دوپہر کے بعد ایک شوبا یاترا نکالی گئی جو سیول لائنز کے کئی علاقوں بشمول تاریخی لال چوک سے گذری۔ وادی کے دوسرے اضلاع میں واقع مندروں میں بھی اس سلسلے میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ اس کے علاوہ سیکورٹی فورسز کے کیمپوں میں بھی فوجی جوانوں کی جانب سے خصوصی پوجا پاٹ کی محفلیں منعقد ہوئیں۔ وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں واقع کھیر بھوانی مندر اور ضلع بڈگام کی پنڈت کالونی شیخ پورہ میں بھی خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ تہوار کے سلسلے میں جموں بھر کے مندروں پر چراغاں کیا گیا تھا۔ شیو پاروتی مندر، شیو دھام اور دیگر مشہور مندروں کو پھول مالاؤں اور رنگا رنگ روشنیوں سے سجایا گیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ جموں کو مندروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے ۔ ریاست میں آج سرکاری طور پر عام تعطیل تھی۔ دریں اثنا ریاست کے گورنر این این ووہرا اور وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے رام نومی کے تہوار پرریاست کے لوگوں کو مبارکباد پیش کی ہے ۔ گورنر این این ووہرا نے ریاستی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے تمنا ظاہر کی ہے کہ یہ مبارک تہوار ریاستی عوام کیلئے امن ، خوشحالی اور ترقی کی نوید لے کر آئے ۔انہوں نے اپنے مبارکبادی کے پیغام میں کہا کہ تہواروں کو منانا ہمارے عظیم ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے جو کہ ریاست کے سیکولر روایات ، مذہبی رواداری اور بھاری چارے کو مزید تقویت بخشتے ہیں ۔وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے مبارکبادی کے اپنے پیغام میں امید ظاہر کی کہ یہ مبارک تہوار ریاست میں مذہبی رواداری ، بھاری چارہ ، امن ترقی اور خوشحالی کی نوید لے کر آئے گا ۔ انہوں نے ریاست کے عوام کی بہبودی کیلئے بھی دعا کی ہے ۔

محکمہ موسمیات کی کشمیر میں شدید بارشوں اور برف باری کی پیشن گوئی
سری نگر،28 مارچ (یو ا ین آئی) محکمہ موسمیات کے مطابق تازہ مغربی ہوائیں ہفتہ کی شام جموں وکشمیر میں داخل ہوں گی جس کے نتیجے میں ریاست میں وقفہ وقفہ سے بارش اور برف باری کا سلسلہ 4 اپریل تک جاری رہے گا۔ تاہم وادی میں آج صبح سے ہی وقفہ وقفہ سے ہلکی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ محکمہ کے سربراہ سونم لوٹس نے بتایا کہ بحیرہ عرب سے اٹھنے والی دو تازہ مغربی ہوائیں افغانستان اور پاکستان سے ہوکر ہفتہ کی شام جموں وکشمیر میں داخل ہوں گی۔انہوں نے بتایا کہ بارش اور برف باری کا سبب بننے والی اِن تازہ مغربی ہواؤں کا اثر خطہ میں 4 اپریل تک بنا رہے گا۔ مسٹر لوٹس نے بتایا کہ 4 اپریل تک وادی کشمیر اور جموں خطہ کی بیشتر مقامات خاص طور پر بالائی علاقوں میں شدید بارشیں اور برف باری ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر میں کچھ ایک مقامات پر 29 مارچ اور 3 اپریل کو بڑے پیمانے پر بارش یا برف باری ہوسکتی ہے ۔مسٹر سونم لوٹس نے کسانوں کو ہدایت کی کہ وہ فی الحال باغوں میں دواپاشی نہ کریں اور کھیتوں میں جمع اضافی پانی کو باہر نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ 29 مارچ سے 4 اپریل تک سری نگر جموں قومی شاہراہ پر شدید بارش کی وجہ سے پسیاں بھی گرآسکتی ہیں جبکہ زمینی و فضائی رابطہ پر بھی اثر پڑسکتا ہے ۔ 

 

کشمیر میں شدید بارشوں اور برف باری کی پیشین گوئی
سری نگر،28 مارچ (یو ا ین آئی) محکمہ موسمیات کے مطابق تازہ مغربی ہوائیں ہفتہ کی شام جموں وکشمیر میں داخل ہوں گی جس کے نتیجے میں ریاست میں وقفہ وقفہ سے بارش اور برف باری کا سلسلہ 4 اپریل تک جاری رہے گا۔ تاہم وادی میں آج صبح سے ہی وقفہ وقفہ سے ہلکی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ محکمہ کے سربراہ سونم لوٹس نے بتایا کہ بحیرہ عرب سے اٹھنے والی دو تازہ مغربی ہوائیں افغانستان اور پاکستان سے ہوکر ہفتہ کی شام جموں وکشمیر میں داخل ہوں گی۔انہوں نے بتایا کہ بارش اور برف باری کا سبب بننے والی اِن تازہ مغربی ہواؤں کا اثر خطہ میں 4 اپریل تک بنا رہے گا۔ مسٹر لوٹس نے بتایا کہ 4 اپریل تک وادی کشمیر اور جموں خطہ کی بیشتر مقامات خاص طور پر بالائی علاقوں میں شدید بارشیں اور برف باری ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر میں کچھ ایک مقامات پر 29 مارچ اور 3 اپریل کو بڑے پیمانے پر بارش یا برف باری ہوسکتی ہے ۔مسٹر سونم لوٹس نے کسانوں کو ہدایت کی کہ وہ فی الحال باغوں میں دواپاشی نہ کریں اور کھیتوں میں جمع اضافی پانی کو باہر نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ 29 مارچ سے 4 اپریل تک سری نگر جموں قومی شاہراہ پر شدید بارش کی وجہ سے پسیاں بھی گرآسکتی ہیں جبکہ زمینی و فضائی رابطہ پر بھی اثر پڑسکتا ہے ۔ دوسری جانب وادی کشمیر کو ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ جوڑنے والی تین سو کلو میٹر طویل سری نگر جموں قومی شاہراہ مرمت کی غرض سے جمعہ کی دوپہر سے بند ہے ۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران شدید بارشوں اور برف باری کی وجہ سے ادھم پور کے نذدیک پہاڑ کا ایک حصہ ڈھہ جانے اور رام بن و رامسو کے درمیان پسیاں گرآنے کی وجہ سے شاہراہ خستہ حال ہوچکی ہے جس کی وجہ سے شاہراہ پر صرف یکطرفہ ٹریفک ہی چلائی جارہی ہے ۔ تاہم شاہراہ کی دیکھ بھال کیلئے ذمہ دار بارڈر روڑس آرگنائزیشن نے جمعہ کی دوپہر سے شاہراہ کو دوطرفہ ٹریفک کے قابل بنانے کیلئے مرمت کا کام شروع کردیا ہے ۔ ایک ٹریفک پولیس افسر نے یو این آئی کو بتایا کہ جموں یا سری نگر سے کسی بھی گاڑی کو کل دوپہر سے شاہراہ پر چلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ بی آر او اور شاہراہ کے کئی مقامات پر تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد ہی کل ٹریفک کو جموں سے سری نگر آنے کی اجازت ہوگی۔ دریں اثنا شاہراہ کے مختلف مقامات پر خالی ٹرکوں اور تیل کے ٹینکرس کی ایک بڑی تعداد درماندہ ہوکر ہوکر رہ گئی ہیں۔ 

حکومت نیا آرڈیننس لانے کے لئے ’’سازش رچ رہی ہے‘‘:ایم سی پی
جموں28مارچ (آئی این ایس انڈیا)تحویل اراضی بل پرنیا آرڈیننس لانے کے لئے سازش کامرکز پر الزام لگاتے ہوئے سی پی ایم نے آج کہا کہ وہ بل کی حمایت کرنے کے بارے میں تبھی غور کرے گی جب پارٹی کی طرف سے مجوزہ ترامیم کو شامل کر لیا جائے۔راجیہ سبھا رکن سیتارام یچوری نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ ہم موجودہ شکل میں بل کی حمایت نہیں کریں گے، لیکن اگر ہمارے تمام خدشات کا خیال رکھا جاتا ہے تو اس کے بعد ہی ہم اس پر غور کریں گے۔سی پی ایم رکن نے کہا کہ،حکومت پہلے اعلیٰ ایوانکی تاجیل کااوراس کے بعد تحویل اراضی بل کے لئے نئے آرڈیننس جاری کرنے کے لئے سازش رچ رہی ہے کیونکہ موجودہ آرڈیننس چھ اپریل کو غیر مؤثر ہو جائے گا۔اعلیٰ ایوان میں حکومت اقلیت میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ نئے مجوزہ بل میں حکومت نے کیا تبدیلیاں کی ہیں۔یچوری نے کہا کہ جو تبدیلی کی گئی ہیں، پہلے ہمیں اس کی معلومات تو ہونی چاہئے۔اب تک وزیر اعظم اور ان کے نمائندوں نے مجوزہ تبدیلیوں کے بارے میں ہمیں کوئی معلومات نہیں دی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں بتانے دیجئے پھر ہم نظر ثانی بل پر رد عمل دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے اور بجٹ الاٹمنٹ پر غور کرنے کے لئے پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ ہورہی ہے۔ اس لئے چھٹی ہے۔انہوں نے کہاجب ہم 20اپریل کو پھر ملیں گے اور اس کے بعد جب ایوان سیشن میں نہیں ہوگا۔وہ ایک دوسراآرڈیننس لائیں گے جو غلط اور غیر جمہوری ہے۔یچوری نے کہا کہ سی پی ایم بل کی مخالفت کرتی رہے گی اور آرڈیننس لانے کے اپنے تجویز پر حکومت اگر ’’فیصلہ پر قائم‘‘رہتی ہے تو تمام اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوں گی۔

 

پی ڈی پی، بی جے پی حکومت کے کام کا حساب لیں گے :عمر عبداللہ

جموں، 27 مارچ (یواین آئی) نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور جموں کشمیر کے سابق وزیراعلی عمر عبداللہ نے آج کہا کہ ان کی پارٹی اپوزیشن کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی اور ریاستی حکومت کے کاموں اور عوام سے کئے گئے وعدوں کا حساب کتاب لے گی۔مسٹر عبداللہ یہاں ریاستی اسمبلی میں ایوان کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد اسمبلی احاطے کے باہر صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن کی حیثیت سے بڑی ذمہ داری نبھائیں گے اور کم از کم مشترکہ پروگرام سمیت عوام سے متعلق مسائل کو ایوان میں خاص طور سے اٹھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتاپارٹی کی مخلوط حکومت ریاست کے لوگوں کو بے وقوف بنارہی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نے پہلے دعوی کیا تھا کہ ریاست میں بجلی پروجیکٹ جلد ہی شروع کئے جائیں گے اور سبھی کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں اور صرف قانونی کام رہ گیا ہے لیکن اب اسے مرکز نے نامنظور کردیا ہے ۔نیشنل کانفرنس کے لیڈر نے کہا کہ ہم ریاستی حکومت سے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ عوام کو بے وقوف کیوں بنارہی ہے۔ گورنر نے ان موضوعات پر اپنے خطبے میں جھوٹ کیوں کہا اور اس کے پیچھے کون ہے ۔

 

اُردو و فارسی کے ممتاز شاعر ڈاکٹر برقی ؔ اعظمی کے اوّلین شعری مجموعہ ’’رُوحِ سخن‘‘ کی رسمِ رُونمائی

’’ ڈاکٹر برقیؔ نے اپنے فن کو تریاق کی طرح برت کر ہلاہلی فضا کو پاک کرنے کی کامیاب سعی کی ہے ‘‘: امین بنجاراؔ
جموں، ۲۷ ؍مارچ (پریس ریلیز )مُلک کی مختلف ریاستوں کے علمی و ادبی کارناموں کو ریاست جموں و کشمیر کے ادبی حلقوں سے متعارف کرانے اور بیرون ریاست سے تشریف لائے ہوئے ادبا و شعرا کے اعزاز میں تہنیتی محفلیں سجانے کے سلسلے میں اُردو گلڈ جموں و کشمیر کا ہمیشہ ہی سے ایک اہم رول رہا ہے۔ اِس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اُردو گلڈ جموں و کشمیر نے دہلی سے تشریف لائے ہوئے اُردو و فارسی کے ممتاز شاعر ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کے اوّلین شعری مجموعہ ’’رُوح سخن‘‘ کی رسم رُونمائی کے لیے ایک سادہ لیکن پُر وقار تقریب کا انعقاد جموں میں عمل میں لایا جس میں اُردو گلڈ کو ریاست کی سرگر م عمل ٹریڈ یونین ٹیچرس گلڈ کے لٹریری سیل کا اِشتراک بھی حاصل رہا۔ اُردو گلڈ کے صدر دفتر پر منعقدہ اِس باوقار تقریب کی صدارت اُردو کے معروف افسانہ نگار‘ محقق‘ناقد اور اُردو گلڈ کے صدر امین بنجاراؔ نے فرمائی جبکہ علی گڑھ سے تشریف لائے ہوئے اُردو کے عالمی شہرت یافتہ اُستاد شاعر رئیس الدین رئیسؔ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے تقریب ہذا میں شریک ہوئے۔ آل انڈیا ریڈیو دہلی کی فارسی سروس کے منتظم اور اُردو کے معتبر شاعر ڈاکٹر ولی اللہ ولیؔ اور حرفِ زار لٹریری سوسائٹی علی گڑھ کے ...


Advertisment

Advertisment