Today: Thursday, November, 23, 2017 Last Update: 03:43 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

HARYANA

HARYANA

مودی حکومت کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرے گی:پاسوان

چنڈی گڑھ، 31 مارچ (آئی این ایس انڈیا)امور صارفین کے مرکزی وزیر وزیر رام ولاس پاسوان کی قیادت میں آج ایک وفد نے ہریانہ میں بے موسم بارش اور ژالہ باری کی وجہ سے ہوئے نقصان کا جائزہ لیا۔اس وفد سے ملاقات کے دوران ریاستی حکومت نے 1135.91کروڑ روپے کی کل راحتی رقم کا مطالبہ کیا،اس میں فصلوں کو ہوئے نقصان اور قرض پر پر سود کی راحت دینا شامل ہے۔ریاستی وزیر زراعت سنجیو کمار بالیان بھی وفد کے ساتھ گئے تھے،انہوں نے ہریانہ کی بی جے پی زیر قیادت حکومت کو مرکز کی جانب سے مکمل تعاون دینے کا یقین دلایا تاکہ بے موسم کی بارش اور ژالہ باری کی وجہ سے اپنی فصل گنوانے والے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیاجاسکے۔پاسوان نے ریاستی حکومت کو یقین دلایا کہ موسم کی خراب صورتحال کی وجہ سے فصل متاثر ہونے کے سبب گندم خریداری کے معیار میں نرمی برتی جائے گی۔پاسوان نے ہریانہ حکومت کے وزراء اور افسران کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمیں ہریانہ میں حالات کا جائزہ لینے کے لئے بھیجا ہے،ہم انہیں اپنی رپورٹ اور ہریانہ حکومت کی طرف سے کیے گئے معاوضہ کا مطالبہ سونپیں گے۔‘انہوں نے دعوی کیا کہ ہریانہ حکومت کسان حامی وغریب نواز ہے،انہوں نے کہا کہ ہم کسانوں زراعتی مزدوروں کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ ان کے مفاد کا محفوظ کیا جائے گا۔‘اجلاس میں منوہرلال کھٹٹر کی قیادت والی ہریانہ حکومت نے مرکز سے 1135.91کروڑ روپے کی امدادی کا مطالبہ کیا۔

 

جس دل میں خوف خدا نہیں ہے ،وہ کسی کام کا نہیں :شمس الدین چترویدی

پانی پت(پریس ریلیز)ضلع کے گاؤں سنولی خورد کے قدیم دینی ادارہ سبیل الرشاد میں ۲ نشستوں پر مشتمل تعلیمی واصلاحی اجلاس عام مفتی الٰہی بخش اکیڈمی کے ڈائریکٹر مولانا نور الحسن راشد کی دعاء کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا ہے ،اجلاس میں مفتی ہریانہ مولانا محمد شرافت مفتاحی ،النور ایجوکیشن کے چیرمین مولانا جمشید ندوی ، مدرسہ سلیمانیہ عیدگاہ کے مہتمم مفتی ابو الحسن ارشد سمیت ہزاروں فرزندان توحید نے شرکت کی ،اس کا آغاز طالب علم محمد ابوبکر کی تلاوت اوراقبال پانی پتی کی نعت پاک سے ہوا ،ابتدا میں حافظکاشف اور محمدشاہ ویز سمیت 7حفاظ کرام کی دستار بندی ہوئی۔اس موقع پر مولانا شمس الدین چتر ویدی نے کہا اسلام ایک کامل دین ہے ،اس میں حلال وحرام کو مفصل طریقہ سے بیان کردیاگیا ہے ،انھوں نے کہاحضرت محمد ﷺآخری نبی ہیں سابقہ آسمانی کتابوں اور رگ وید نیزگیتا وغیرہ میں بھی اس کی شہادت موجود ہے۔مولانا حبیب اللہ مدنی نے کہا تقوے کا تعلق دل سے ہے ،جس دل میں خوف خدا نہیں ہے ،وہ کسی کام کا نہیں ہے۔مولانا نور الحسن راشد نے کہا اسلام میں بے حیائی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے،انھوں نے کہا آج جس طرح اس خیر امت میں بے پردگی عام ہوتی جارہی ہے ،وہ لمحۂ فکریہ ہے ،انھوں نے کہا پردہ کسی بھی خاتون کی عصمت وعفت کا ضامن ہے ،مولانا نور الحسن راشد نے مزید کہا کہ معاشرہ میں رسومات آخری حدوں میں سرایت کرگئی ہیں۔مولانا اسرائیل نعمانی نے کہا حق وباطل کی جنگ ہمیشہ ہی ہے، تا ہم حق سدا ہی غالب رہا ہے ،انھوں نے کہا کہ سابقہ نبیوں کی نبوت خاص شہروں اور خاص خطہ کے لیے ہوا کرتی تھی ،لیکن آپ ﷺ کی نبوت عام ہے اور تاقیامت ہے۔قبل ازیں ادارہ کے نائب مہتمم مولانا اسجد قاسمی نے تمہیدی خطاب اور مفتی جنید قاسمی نے افتتاحی خطاب کیا ۔
جامعہ کے مہتمم مولانا محمد ہارون قاسمی نے سالانہ رپورٹ پیش کی ،جس پر علمائے کرام اور عمائدین نے اطمینان کا اظہار کیا۔اجلاس کی نظامت مولانا مرسلین زبیری اور مفتی جنید نے مشترکہ طور پر کی۔شرکاء میں امیر جماعت محمد ایوب ،حافظ سجاد،حافظ یعقوب ،علماء کونسل کے صدرمولانا امجد مجیدی قاسمی،مولانا محمد عارف،سرپنچ بشیر احمدوغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

 

ہریانہ چرچ توڑ پھوڑ معاملے کا اہم ملزم گرفتار

چندی گڑھ ،17 مارچ (یو ا ین آئی):ہریانہ پولیس نے ایک زیر تعمیر چرچ میں توڑ پھوڑ معاملے کے اہم ملزم کو آج گرفتار کر لیا۔یہ توڑپھوڑکا معاملہ ہریانہ کے حصارضلع میں ایک گاؤں کا ہے۔حصار کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سوربھ سنگھ نے فون پر بتایا کہ معاملے کے اہم ملزم انل گوداراکوآج حصار سے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ملزم کو پہلے ایک عدالت میں پیش کیا جائے گا اور پولیس اسے ریمانڈ پر لینے کا کوشش کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ معاملے کی جانچ جاری ہے اور باقی ملزمان کی تلاش کی جا رہی ہے۔حصار کے نزدیک کیمری گاؤں میں اتوار کو ایک زیر تعمیر چرچ میں لوگوں کے ایک گروپ نے توڑ پھوڑ کی تھی اور کراس کی جگہ ہنومان کی مورتی رکھ دی تھی جس کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی پھیلی ہوئی تھی۔ولورس چرچ کے پادری سبھاش چندر نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ گروپ نے کراس کو توڑ دیا۔اس کی جگہ ہنومان کی مورتی رکھ دی اور رام کی تصویر والی ایک دھوجا لگا دی۔ان لوگوں نے ان کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔الزام ہے کہ ان لوگوں نے زیر تعمیر چرچ سے کولر اور کچھ دیگر سامان چرا لیا۔وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ چرچ میں ہوئے توڑ پھوڑ کے معاملے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ کھٹر نے کہا تھا کہ چرچ کے پادری سبھاش چندر کی طرف سے درج کرائے گئے ایک معاملے میں انیل گودارا، ہیکھوٹا سنگھ، راج کمار، کلدیپ، ستپال، کرشن، سریش، دنیش، جوگیندر، کلوت، سدھیر، بلیندر، ستنارای اور چھوٹو رام سمیت کئی لوگوں کے نام شامل ہیں۔کھٹٹر نے اسمبلی میں کل کہا تھا کہ خبر ملی ہے کہ یہ عمارت ایک غیرقانونی کالونی میں بنائی جارہی تھی اور پادری اور مذہبی مقام پر حملہ کرنے والوں کے درمیان تنازعہ کے نتیجے میں یہ توڑپھوڑکی گئی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اس واقعہ پر تشویش ظاہر کی اور اس سلسلے میں تمام حقائق اور معاملے میں کی گئی کارروائی پر فوری طور پر ایک رپورٹ دینے کو کہا ہے۔

زیر تعمیر چرچ میں توڑ پھوڑ، 14 افراد کے خلاف معاملہ درج

حصار، 16 مارچ (یو این آئی) ہریا نہ کے ضلع حصار میں کیمری گاؤں میں شرپسندوں نے مبینہ طور پر ایک زیر تعمیر چرچ میں توڑ پھوڑ کی اور اس میں ہنومان کی مورتی نصب کرکے رام کے نام کا جھنڈا لہرایا جس سے وہاں کشیدگی پھیل گئی ہے ۔ پولیس نے مورتی اور جھنڈا کو قبضے میں لے کر اس سلسلے میں تقریباً 14 افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا ہے تاہم ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔دریں اثنا گاؤں والوں کا الزام ہے کہ ولیوارش چرچ کے پادری سبھاش چند نے گاؤں میں مکان بنانے کیلئے پلاٹ خریدا تھا اور مکان کیلئے ہی اجازت لی تھی لیکن پادری نے وہاں گھر کی جگہ چرچ کی تعمیر شروع کردی۔ ان کا الزام ہے کہ گاؤں والوں کو کچھ عرصے سے تبدیلی مذہب کیلئے بھی ترغیب دی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ چرچ کی تعمیر کی مخالفت کرتے رہیں گے ۔پادری چند نے ہندو نواز تنظیموں پر انہیں دھمکی دینے کا الزام لگاتے ہوئے یہ دعوی کیا ہے کہ شرپسندوں نے چرچ کا کراس بھی توڑ دیا اور وہاں مورتی نصب کردی۔ انہوں نے وہاں سے کچھ سامان بھی چوری ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔حصار رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس سوربھ سنگھ نے کہا کہ گاؤں میں حالات قابو میں ہیں اور معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے ۔کرشچئن فرنٹ ہریانہ نے واردات کی مذمت کرتے ہوئے ملزمین کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

عصمت دری کے الزام میں تین افراد کو 20۔20کی سزا

جند، 14 مارچ (یو این آئی)ہریانہ میں جند کی ایک عدالت نے اجتماعی عصمت دری کے الزام میں تین لوگوں کو قصوروار قرار دیتے ہوئے انہیں 20۔20 سال قید اور 20۔20 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے ۔ایڈیشنل سیشن جج کنچن ماہی نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ جرمانہ ادا نہیں کرنے کی صورت میں دو دو ماہ مزید قید کی سزا بھگتنی ہوگی۔ سزا سنائے جانے والوں میں سمت، دنیش اور اجمیر شامل ہیں۔ان تینوں پر شیو کالونی حصار بائی پاس کی رہنے والی ایک خاتون نے 25 مارچ 2013 کو عصمت دری کا الزام درج کرایا تھا۔ پولس نے بعد میں تینوں کو گرفتار کرلیا تھا۔

 

ہندوستان میں ریپ کی روک تھام کیلئے تمام تدبیریں رائیگاں
جیند ؍ہریانہ، 11؍مارچ(آئی این ایس انڈیا )ایک شادی شدہ خاتون سے 5 نوجوانوں نے مبینہ طور پر عصمت دری کی ہے ۔یہ واقعہ ہریانہ کے جیند ضلع کے روپ گڑ ھ گاؤں کے پاس کے پاس پیش آیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ متاثرہ کیتھل ضلع کی رہنے والی ہے اور روپ گڑ ھ گاؤں میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے آئی تھی۔اسی دوران کل کار سوار 5 نوجوانوں نے اس کو اغوا کر لیا اور پاس کے کھیت میں اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی ۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ کی شکایت پر چندر شیکھر، منوج، جتندر، کا لا اور سندیپ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔وہ ضلع کے کنڈیلا گاؤں کی رہنے والے ہیں متنازعہ مسائل پر بحث کے لئے نرمل سنگھ نے یقین دہانی کرائی

 

بیٹی کی پیدائش پر ماں کو5 برتنوں کا سیٹ بطور تحفہ
چنڈی گڑھ، 24جنوری (یوا ین آئی) ہریانہ حکومت بیٹی کی پیدائش پر اس کی ماں کو پانچ برتنوں کا سیٹ بطور تحفے دے گی۔ریاست کے تعمیرات عامہ کے وزیر راؤ رنبیر سنگھ نے ضلع گڑگاؤں میں ‘‘قومی یوم بنات’’ کے موقع پر‘‘ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ’’ مہم کے تحت اس انوکھی اسکیم کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحفہ بیٹی کی ماں کو ترغیب دینے کا کام کرے گا تاکہ سماج میں بیٹیوں کے تئیں سوچ میں تبدیلی لائی جاسکے ۔ انہوں نے اس موقع پر 22 جنوری اور اس کے بعد پیدا ہونے والی بیٹوں کی ماؤں کو پانچ پانچ برتنوں کا سیٹ تحفے کے طور پر دئے جائیں گے ۔مسٹر سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ 22 جنوری کو ریاست کی سرزمین سے ‘‘بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ’’ کے قومی پروگرام کا آغاز کیا تھا اور اسے کامیاب بنانے کے لئے حکومت پرعزم ہے ۔مسٹر رنبیر نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بیٹیوں کے لئے ‘‘سکنیا سمردھ یوجنا’’ نافذ کیا ہے جس کے تحت کوئی بھی خاندان اپنی دس سال سے کم عمر کی بیٹی کے کھاتے میں ایک ہزار روپے سے لیکر ڈیڑھ لاکھ روپے تک جمع کراسکتا ہے اور 21 سال کے بعد یہ رقم سود سمیت بیٹی کو ملے گی اور اس پر ٹیکس نہیں لگے گا۔اس کھاتے میں جمع رقم پر سود زیادہ رکھاگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے بھی ‘‘ہریانہ کنیا کوش’’ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

سڑک حادثہ میں دو نوجوانوں کی موت
حصار۔ 16جنوری (یو این آئی) ہریانہ میں توشامنہاسی روڈ پر ہاجم پور گاوں کے نزدیک آج صبح ایک نامعلوم گاڑی سے ٹکراجانے سے موٹر سائکل پر سوار دو نوجوانوں کی موقع پر موت ہوگئی اور ایک دیگر بری طرح زخمی ہوگیا۔موصولہ اطلاع کے مطابق راجستھان کے دو بھائی منیش اور وجے اپنے ساتھی نتیش کے ساتھ موٹرسائکل پر ہانسی سے توشام جارہے تھے کہ اسی دوران ہاجم پور گاوں کے نزدیک ایک نامعلوم گاڑی نے ان کی موٹرسائکل کو ٹکر مار دی جس میں دونوں بھائیوں کی موقع پر ہی مو ت ہوگئی جبکہ بری طرح زخمی نتیش کو حصار کے سول اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے ۔پولیس نے بتایا کہ حادثہ کی وجہ غالباً گھنا کہرا ہوسکتی ہے ۔ نامعلوم ڈرائیور کے خلا ف معاملہ درج کرکے کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔

جامعہ صوت القرآن مہرانہ میں مسابقہ قران کریم اختتام پذیر
پانی پت ،15جنوری (پریس ریلیز)مقامی جامعہ صوت القرآن مہرانہ میں نشستوں پر مشتمل2روزہ آل ہریانہ مسابقہ الکریم آج داعی اسلام مولانا محمد کلیم صدیقی کی دعاء کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا ہے ،اس کی صدارت جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا(مہاراشٹر)کے استاد تفسیر وکل ہند مسابقہ کے ناظم مولانا عبد الرحیم فلاحی اور نظامت مولانا نسیم احمد نے کی،اس کا آغاز قاری المقری محمد خالد الیمنی کی تلاوت کلام پاک سے ۔حفظ قرآن وحدیث اور تفسیر وخطبات کے اس مسابقہ میں ریاستی حج کمیٹی کے چیرمین ڈاکٹر مونس انصاری اورالنور ایجوکیشن کے چیرمین مولاناجمشید علی ندویسمیت پانی پت،سونی پت،روہتک ،یمنانگر،خانقاہ بوڑیہ وغیرہ کے ۴درجن مساہمین نے شرکت کی ،ممتازطلبہ میں فیض العلوم خانقاہ بوڑیہ کے دلشاداحمد (حدیث)مقبول احمد(حفظ قرآن)نفیس احمد(تفسیر) ،صوت القرآن اوربدر الاسلام پانی پت سے محمدآصف حبیب، ضیاء الحق،محمد انس وغیرہ شامل ہیں جن کو سند تصیف اور نقد انعام سے نوازا گیا۔تمہیدی خطاب میں جامعہ کے مہتمم مفتی محمد شرافت نے ہریانہ وپنجاب کی قرآن واحادیث ،تصوف اور فن تجوید کی خدمات کو بیان کرتے ہوئے اس دیار کے حضرت مجدد الفِ ثانی سرہندی،قاضی ثناء اللہ پانی پتی،قاری عبد الرحمان محدث پانی پتی ،بخشی ہند بوعلی شاہ قلندر،شمس الدین تُرک پانی پتی جیسے اعاظم رجال کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ مولانا عبد الرحیم فلاحی نے کہا پہلے کسی قوم کی فکر وعمل بحال ہوتی ہے،تب کہیں جاکر وہ قوم ترقی کے راستہ پر گامزن ہوتی ہے،انھوں نے کہا جب تک فکروقلب اور عمل میں کامل اتحاد نہ ہو،تب تک ہم روبا زوال ہی رہیں گے ،انھوں نے کہا ایک وقت تھا کہ نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک کے شائقین علم بھی اس شہر میں تجویدوقرأت کا فن سیکھنے کے لیے آیا کرتے تھے۔مولانا محمد کلیم صدیقی نے کہا دنیا میں سب سے پہلا مسابقہ وہ تھا جس میں خود خالقِ کائینات نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام سکھائے تھے،انھوں نے کہا علم ایک نور ہے ،جس کے سامنے ظلمت وجہالت خود ہی بے بس ہوجایاکرتی ہے،مولانا کلیم نے اس نوعیت کے مسابقات کی اہمیت اور جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کی اس حوالہ سے کی جارہی خدمات پر بھی روشنی ڈالی۔واضح ہوکہ اس مسابقہ میں مولانا ریحان اور مولانا عمران سمیت نصف درجن علماء نے حَکَم کے فرائض انجام دیے۔دیگر خطاب کرنے والوں میں مفتی اخلاق قاسمی،مفتی افتخار قاسمی کیرانوی،مولانا محبوب ندوی کیرانوی،مولانا محمد ہارون قاسمی،مفتی جنید قاسمی،مولانا عابد رشیدی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
اس ۲روزہ پروگرام میں مولوی مرسلین،مولوی عابد سیف اللہ،محمد شعیب،محمد حسن،محمد وسیم اقبال نے نمایاں خدمات انجام دیں۔شرکاء میں تنظیم اَئمّہ کے صدر مولانا محمد اصغر قاسمی، مولانا جاوید ندوی انبالہ ،مولانا عبد الحمید،مولانا محمد ارشاد،مولانا شریف،مولانا عرفان ثاقب قاسمی ،مولانا ذوالفقار،قاری ذاکر،مفتی داوود،مولانا عابد ندوی،مولانا ساجد ندوی،مولانا فاروق کیرانوی،ڈاکٹر جلال الدین،مولانا تصویر،مولانا اسجد قاسمی،مولانا ارشد مظاہری،مولانا شفیق مفتاحی،مولانا شمشاد مظاہری،مولانا فیضان قاسمی،مولوی معظم،حافظ حسین وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ تصویر کا کیپشن پانی پت:اول پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم کو سند سے نوازتے مولانا کلیم اور مولانا عبد الرحیم فلاحی وغیرہ(۲) حدیث میں اول پوزیشن لانے والا طالب علم دلشاد اور (۳) چیف حَکَم مولانا عبد الرحیم

 

ہریانہ میں کئی ہندو کنبوں نے عیسائی مذہب اپنایا

حصار، 12 جنوری (یو این آئی) ہریانہ میں ضلع حصار کے نادنود قصبے کے لوہاری راگھو گاؤں میں کئی ہندو کنبوں کے ذریعہ اپنا مذہب تبدیل کرکے عیسائی مذہب قبول کرنے کا سلسلہ گذشتہ کئی دنوں سے جایر ہے۔ اس گاؤں کے علاوہ آس پاس کے کچھ گاؤوں سے بھی لوگ یہاں آکر اپنا مذہب تبدیل کرتے رہے ہیں۔گاؤں والوں نے تبدیلی مذہب کی ان سرگرمیوں کی مخالفت کرنی شروع کردی ہے۔ لوہاری راگھوگاؤں میں ہر اتوار کو عیسی مسیح کی تعلیمات پر مبنی پروگرام ہوتا ہے۔ وہاں کل بھی یہ پروگرام ہوا۔کل کے اس پروگرام میں 20 سے 25 افراد شامل ہوئے لیکن گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ یہاں اس طرح کا پروگرام اور تبدیلی مذہب کا سلسلہ طویل عرصے سے چل رہا ہے۔ لوہاری راگھو اور آس پاس کے کئی گاؤوں کے تقریباً 150 ہندو کنبوں کو عیسائی بنایا جاچکا ہے۔عیسائی مذہب قبول کرنے والے دھولیا، پنکی اور سیورام کا کہنا ہے کہ ہمارا جسم کئی بیماریوں سے جکڑا ہوا تھا۔ عیسائی مذہب اپناکر جب سے ہم نے بائبل پڑھنا شروع کیا ہے، تبھی سے ہماری کئی بیماریاں دور ہونے لگی ہیں۔دوسری طرف گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اس سے ہمارے ہندو مذہب کو کافی ٹھیس پہنچی ہے کہ اس سے ہمارے ہندو مذہب کو کافی ٹھیس پہنچی ہے۔ بائبل پڑھنے سے جو شور ہوتا ہے اس کا بھی ہمارے روز مرہ کے کام کاج پر اثر پڑت اہے۔ہر اتوار کو ہونے والے عیسائیوں کے اس پروگرام کی مخالفت کرنے والے گاؤں کے باشندہ راجندر نے بتایا کہ دھیرے دھیرے اب تک یہاں لوہاری راگھو اور قرب و جوار کے کئی گاؤں کے تقریباً 150 ہندو کنبوں کو عیسائی بنایا جاچکا ہے۔

 

لوہاری راگھو گاؤں میں کئی ہندو کنبوں نے عیسائی مذہب اپنایا
حصار، 12 جنوری (یو این آئی) ہریانہ میں ضلع حصار کے نادنود قصبے کے لوہاری راگھو گاؤں میں کئی ہندو کنبوں کے ذریعہ اپنا مذہب تبدیل کرکے عیسائی مذہب قبول کرنے کا سلسلہ گذشتہ کئی دنوں سے جایر ہے۔ اس گاؤں کے علاوہ آس پاس کے کچھ گاؤوں سے بھی لوگ یہاں آکر اپنا مذہب تبدیل کرتے رہے ہیں۔گاؤں والوں نے تبدیلی مذہب کی ان سرگرمیوں کی مخالفت کرنی شروع کردی ہے۔ لوہاری راگھوگاؤں میں ہر اتوار کو عیسی مسیح کی تعلیمات پر مبنی پروگرام ہوتا ہے۔ وہاں کل بھی یہ پروگرام ہوا۔کل کے اس پروگرام میں 20 سے 25 افراد شامل ہوئے لیکن گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ یہاں اس طرح کا پروگرام اور تبدیلی مذہب کا سلسلہ طویل عرصے سے چل رہا ہے۔ لوہاری راگھو اور آس پاس کے کئی گاؤوں کے تقریباً 150 ہندو کنبوں کو عیسائی بنایا جاچکا ہے۔عیسائی مذہب قبول کرنے والے دھولیا، پنکی اور سیورام کا کہنا ہے کہ ہمارا جسم کئی بیماریوں سے جکڑا ہوا تھا۔ عیسائی مذہب اپناکر جب سے ہم نے بائبل پڑھنا شروع کیا ہے، تبھی سے ہماری کئی بیماریاں دور ہونے لگی ہیں۔دوسری طرف گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اس سے ہمارے ہندو مذہب کو کافی ٹھیس پہنچی ہے کہ اس سے ہمارے ہندو مذہب کو کافی ٹھیس پہنچی ہے۔ بائبل پڑھنے سے جو شور ہوتا ہے اس کا بھی ہمارے روز مرہ کے کام کاج پر اثر پڑت اہے۔ہر اتوار کو ہونے والے عیسائیوں کے اس پروگرام کی مخالفت کرنے والے گاؤں کے باشندہ راجندر نے بتایا کہ دھیرے دھیرے اب تک یہاں لوہاری راگھو اور قرب و جوار کے کئی گاؤں کے تقریباً 150 ہندو کنبوں کو عیسائی بنایا جاچکا ہے۔

رام پال نے ہی بچوں اور خواتین کو بٹھایا تھا آشرم کے باہر

حصار۔ 10 دسمبر (یو این آئی) ہریانہ میں ضلع حصار کے بروالا میں واقع ست لوک آشرم کے سنچالک رام پال نے پولیس کی کارروائی سے بچنے کے لئے خود ہی خواتین اور بچوں کو آشرم کے چاروں طرف بٹھایا تھا تاکہ پولیس اندر داخل نہ ہوسکے۔معاملے کی تفتیش کرنے والی ایس آئی ٹی میں شامل پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ راجبیر سینی نے آج یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ بات رام پال نے پولیس ریمانڈ کے دوران قبول کی۔ انہوں نے بتایا کہ رام پال نے یہ بھی بتایا کہ منوج نامی شخص ان کے کافی قریب تھا جو ان کے کھانے پینے، دواؤں سمیت تمام کام دیکھتا تھا۔مسٹر سینی نے بتایا کہ رام پال نے یہ بھی انکشاف کیا کہ خادماؤں میں بیبتا عرف بے بی ہی اس کے سب سے زیادہ قریب تھی۔ رام پال کی دیگر نصف درجن خادمائیں بھی اس کے آس پاس ہی رہتی تھیں لیکن کمرے میں آنے جانے کی اجازت صرف ببیتا کو ہی تھی۔ رام پال اور ببیتا دونوں ہی پولیس ریمانڈ پر ہیں۔مسٹر سینی کے مطابق رام پال نے بیبتا کے نام پر تقریباً دس لاکھ روپے کی ایف ڈی بھی کرارکھی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ رام پال ہر ایک پیروکارسے دس ہزار روپے لیتا تھا اور کہتا تھا اس سے ان کی مکتی ہوجائے گی۔ ست لوک آشرم میں ہر ماہ تقریباً تین سے چار ہزار لوگ اس سے ملنے کے لئے آتے تھے۔ اس حساب سے آشرم کی ہر مہینے کی کمائی تقریباً تین چار کرور روپے ہوجاتی تھی۔انہوں نے بتایا کہ آشرم کے چند پیروکار اب بھی پولیس کی گرفت سے دور ہیں جن کے پاس سے غیرقانونی ہتھیار بھی مل سکتے ہیں۔ انہوں نے ان کے نکسل ازم سے متاثرہونے کے امکان سے انکار نہیں کیا۔

 

کھاپ پنچایتوں کی وزیراعلیٰ ہریانہ نے کی وکالت

چندی گڑھ،6دسمبر( ایجنسیاں )ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کھاپ پنچایتوں کی حمایت میں اتر آئے ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ کھاپ پنچایتیں سماجی برائیوں کو روکتی ہیں اور ان کے فرمانوں میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔کھٹر نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں کئی طرح کی تنظیمیں ہیں۔ سب کے کام کرنے کے اپنے اپنے طریقے ہیں۔ ہم انہیں تبدیل نہیں کر سکتے۔ ہاں، اگر ان میں کچھ غلط ہے تو اسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔سی ایم نے کہا کہ کھاپ پنچایتیں بھارتی ثقافت کی محافظ ہیں۔ کھاپ پنچایتیں ٹھیک ایسے ہی ہیں جیسے کوئی ماں باپ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں کھٹر نے اس بات کی تردید کی کہ کھاپ پنچایتیں آئین کے متوازی ایک نظام بن گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھاپ پنچایتیں کئی بار ایسے مسائل پر فیصلے سناتی ہیں جن پر عدلیہ بھی خاموشی اختیار کر لیتی ہیں ۔

 

رام پال کی املاک کی تفصیلات پیش کرنے کے احکامات،23دسمبر کو اگلی سماعت
چنڈی گڑھ،28نومبر(یو این ا ئی) پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے حصار ضلع کے بروالہ واقع ستلوک ا شرم کے خود ساختہ سنت رام پال پرتوہین عدالت کے معاملے کی سماعت 23دسمبر طے کی ہے۔رام پال اور ان کے دو معاونین رام کمار ڈھاکہ اور ہڈا کو ا ج سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ جسٹس ایم جیاپال اور درشن سنگھ کی بنچ کے سامنے پیش کیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریاستی پولس کے ڈائرکٹر جنرل اور ایڈشنل چیف سکریٹری (برائے امورداخلہ)کو رام پال کی املاک کی تفصیلات اور اس کے خلاف ریاست میں یا ریاست کے باہر درج معاملات کی تفصیلات اگلی سماعت تک پیش ...


Advertisment

Advertisment