Today: Thursday, November, 23, 2017 Last Update: 03:48 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

Gujarat

Gujarat

جمعیۃ علماء ہند، ریزرویشن اور فرقہ وارانہ فساد مخالف بل سے ہرگز دستبردار نہیں ہو سکتی

کشمیر میں سیلاب کے اپھان پر گہری تشویش کا اظہار ، ایک خاص نشست میں جمعےۃ علماء ہند کے سابق آرگنائزر مولانا فدا حسین کے لیے دعائے مغفرت کا اہتمام

احمد آباد،۳۱؍مارچ(پریس ریلیز) جمعےۃ علماء ہند کے قومی سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا ہے کہ جمعےۃ علماء ہند کسی کی آنکھوں کا رنگ دیکھ کر اپنا موقف نہیں بدلتی ہے ۔ اس نے جس طرح ماضی میں مسلم اقلیت کے لیے ریزرویشن اور انسداد فرقہ وارانہ فسادقانون جیسے اپنے دیرینہ مطالبات کو لے کر تحریکیں چلائی ہیں ، اس پر کاربند رہے گی او ر ان مطالبات سے ہر گز دستبراد نہیں ہوگی ، کیوں کہ جمعےۃ علماء ہند کا ماننا ہے کہ ان مطالبات کا تعلق ملک کی ترقی و سلامتی سے براہ راست جڑا ہوا ہے ،جب تک ملک کے تمام طبقات ترقی نہیں کریں گے ملک کیسے ترقی کرسکتا ہے اور نہ ہی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیے بغیر کسی ملک میں امن وامان کا قیام ممکن ہے۔مولانا حکیم الدین قاسمی آج یہاں احمد آباد میں واقع جمعےۃ علماء گجرات کے صدر دفتر میں میڈیا کے نمائند و ں سے بات کررہے تھے، انھوں نے اعلان کیاکہ۱۴، ۱۵، ۱۶؍مئی کو جمعےۃ علماء ہند راجدھانی دہلی میں انہیں مطالبات کو لے کر تاریخ ساز اجلاس عام کرنے جارہی ہے ،اجلاس میں اس کے علاوہ اور بھی کئی اہم مسائل زیر بحث آئیں گے ۔انھوں نے کہا کہ گجرات سے اراکین کی موثر نمائندگی کے لیے ہم نے صوبائی ذمہ داروں سے ملاقات کرکے اس سلسلے میں لائحہ عمل تیار کرنے کو کہا ہے ، اس موقع جمعےۃ علماء گجرات کے سکریٹری مولانا مختار احمد فاروقی، حافظ بشیر احمد آرگنائزر جمعےۃ علماء ہند ، مولانا عظیم اللہ قاسمی رکن عاملہ جمعےۃ علماء گجرات، شعیب احمد وغیرہ موجود تھے ۔مولانا قاسمی نے کشمیر میں صرف سات ماہ کے اندر دوبارہ سیلاب کی تباہ کاری پر گہری تشویش کا اظہا رکیا او رکہا کہ وہاں کی انتظامیہ نے حال میں ہی اتنے برے تجربے کے باوجود ہوش کے ناخن نہیں لیے اورسیلاب سے بچاؤ کی کوئی موثر تدبیر نہیں بنائی۔انھوں نے کہا کہ انسانیت کی خدمت جمعےۃ علماء ہند کا مشن رہا ہے ، جمعےۃ علماء ہنداپنے رہنما مولانا قاری محمد عثمان منصورپور ی صدر جمعےۃ علماء ہند اور جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی قیادت میں کشمیر میں سیلاب متاثرین کے لیے تین سو سے زائد مکانات تعمیر کرچکی ہے اور اب تک بازآبادکاری کا سلسلہ جاری ہے ، وہاں کے تازہ حالات پر جمعےۃ علما ء ہند کی مکمل نگاہ ہے ۔اس موقع پر جمعےۃ علماء ہند کے سابق آرگنائزر مولانا فداحسین کے انتقال پر گہر ے دکھ کا اظہار کیا گیا اور ایک نشست میں ان کے لیے مغفرت کی دعاء کی گئی ، واضح ہو کہ مولانا فداحسین میرٹھ کے رہنے والے تھے اور طویل عرصے تک جمعےۃ علماء ہند کے صدر دفتر نئی دہلی میں آرگنائزر تھے ، بعد میں علالت کی وجہ سے دفتر کی ملازمت سے سبکدوش ہوگئے تھے اور شہر میرٹھ میں اپنے گھر پر رہتے تھے ، جہاں کا دو روزقبل ان کا انتقال ہو گیا ۔

 

گجرات میں کیمیکل فیکٹری میں آگ لگنے سے چار افراد کی موت ، ایک زخمی

وڈودرہ،24فروری(یو این آئی) گجرات میں وڈودرہ ضلع کے پادرا تھانہ علاقے میں ایک کیمیکل فیکٹری میں آگ لگنے سے چار ملازمو کی موت ہو گئی اور ایک زخمی ہو گیا۔ پولیس ذرائع نے آج بتایا کہ لونا گاؤں کے قریب شوا فرماسیوٹیکل کمپنی میں دھماکہ ہونے سے لگی آگ میں وہاں کام کر رہے پانچ ملازم جھلس گئے ۔ حادثے میں دنیش چاوڑا (25)،جیتن پٹیل(28)، بھرت پرمار(21)،جگدیش گوہل(25)نامی چار ملازموں کی موت ہو گئی اور ایک ملازم کے اسپتال میں داخل کیے جانے کی اطلاع ملی ہے ۔

آٹھ سال بعد ڈی جی ونجارہ جیل سے رہا

احمدآباد، 18 فروری (یو این آئی) عشرت جہاں و سہراب الدین شیخ فرضی مڈبھیڑ کے ملزم اور گجرات کے سابق پولس ڈائریکٹر جنرل ڈی جی ونجارہ سابرمتی جیل میں آٹھ سال گزارنے کے بعد آج جیل سے رہا ہوگئے ۔ سابق آئی پی ایس آفیسر جنہیں 5 فروری کو ہی ضمانت دے دی گئی تھی ، آج تمام ضروری کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد جیل سے رہا ہوگئے ۔واضح رہے کہ انہیں عشرت جہاں فرضی مڈبھیڑ معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کی طرف سے 3 فروری کو ضمانت دی گئی تھی، جبکہ اس سے پہلے ممبئی کی ایک عدالت نے بھی انہیں سہراب الدین اور تلسی پرجاپتی کے قتل کیس میں ضمانت دے دی تھی۔ سی بی آئی کی عدالت نے انہیں گجرات میں داخل ہونے سے منع کیا ہے ۔ واضح رہے کہ ڈی جی ونجارہ 24 اپریل 2007 کو گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ جیل کی سلاخوں میں بند تھے ۔ ونجارہ کو احمدآباد کرائم برانچ میں ریاستی انسداد دہشت گردی دستہ (اے ٹی ایس) کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی مدت کار کے دوران ہی سی بی آئی کے ذریعہ سہر اب الدین شیخ، تلسی پرجاپتی اور عشرت جہاں کے قتل کیس میں ملزم بنایا گیا تھا۔ وہ احمد آبادکرائم برانچ میں ڈپٹی پولس کمشنر (ڈی سی پی) کے عہدے پر مامورتھے جب 19 سالہ کالج کی طالبہ عشرت جہان، جاوید شیخ عرف پرنیش پلئی، امجدعلی رانا اور ذیشان جوہر کو گجرات پولس نے 15 جون 2004 کو احمدآباد کے مضافاتی علاقے میں ایک مڈبھیڑ میں مارڈالا تھا۔شہر کے کرائم برانچ نے اس وقت کہا تھا کہ مڈبھیڑ میں مارے جانے والے یہ افراد لشکرطیبہ کے دہشت گرد تھے اور وہ گجرات میں اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی کو قتل کرنے کے لئے آئے تھے ۔ خیال رہے کہ ایک دوسرے آئی پی ایس آفیسر پی پی پانڈے کو بھی عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر میں ملزم بنایا گیا تھا، مگر انہیں بھی اس سے پہلے اس معاملے میں ضمانت دے دی گئی ہے ۔

 

جے ‘کی شادی میں ’ پراجیہ‘ کا ماحول

احمد آباد،10فروری ( ایس ٹی بیورو) بی جے پی صدر امت شاہ کے بیٹے ’جے‘ کی شادی منگل کو ختم ہوئی ۔ جے نے اپنے کالج کی دوست ’رشیتا‘ کیساتھ سات پھیرے لئے۔ خوشی کے اس ماحول میں دہلی انتخابات کے نتائج کا سیدھا اثرشادی کی تیاریوں پر پڑا۔ پہلے سے طے دولہا کے گھوڑی پر سوار ہونے کی رسم کو ٹال دیا گیا۔ اتنا ہی نہیں، بینڈ باجے والوں کو بھی واپس بھیج دیا گیا۔اس شادی کی تقریب کیلئے سیاست، صنعت، کھیل و بالی وڈ کی کئی نامور شخصیات سمیت تین ہزار لوگوں کو دعوت نامہ بھیجا گیا۔ اس تقریب کی تیاریاں گذشتہ ایک ماہ سے زور دار طریقہ سے چل رہی تھیں۔ امت شاہ خود بھلے دہلی اسمبلی انتخابات کے ساتھ سیاسی دوروں میں مصروف تھے لیکن ان کے قریبی دوستوں نے سارے انتظامات کئے تھے ۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، وزیر خزانہ ارون جیٹلی، دھرمیندر پردھان ، منسکھ وساوا،اسمرتی ایرانی اور اداکار پریش راول سمیت بی جے پی کے کئی لیڈر شادی میں شامل تھے جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی 15 فروری کو نئی دہلی میں ہونے والے استقبالیہ میں حصہ لیں گے ۔ شادی کی تقریب کیلئے شاہ و بیوی سونل شاہ نے رشتہ داروں اور دوستوں سمیت سیاست، صنعت، کھیل و بالی ووڈ کی تین ہزار سے زیادہ شخصیات کو دعوت بھیجا تھا۔گجرات کے ہی پارٹی رہنماؤں و دوستوں کیلئے شاہ جوڑے نے دو دن بعد 12 فروری کو کرنا وتی کلب میں استقبالیہ رکھا ہے جبکہ 15 فروری کو نئی دہلی میں الگ سے استقبالیہ رکھا گیا ہے، جس میں صدر پرنب مکھرجی، نائب صدر حامد انصاری، وزیر اعظم نریندر مودی اور انکی کابینہ کے ساتھیوں کے علاوہ دیگر جماعتوں کے کئی لیڈروں کو اس کی دعوت بھیجی گئی ہے ۔ شاہ خود ہفتہ کو ہی احمد آباد پہنچے، اتوار کو انہوں نے تقریب کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

پال گھر میں سلیب گرنے سے بچے کی موت
پال گھر،29جنوری(یو این آئی)پال گھر کے بوئسار تحصیل کے الے واڑی گاؤں میں ایک عمارت کا سلیب گرنے سے اس کی زد میں آنے سے ایکبچہ زندہ جل گیا جبکہ اس حادثے میں 7دیگر بچے زخمی ہوگئے ہیں۔بوئسار پولس نے حادثے کے متعلق بتایا کہ شام 5بجے پنچایت آفس کے سامنے بچے کھیل رہے تھے کہ اسی دوران وہاں واقع پرانی عمارت کی سلیب ٹوٹ گئی ۔ سلیب گرنے سے روہن سنیل تومر کی موقع پر ہی موت ہوگئی جبکہ 7دیگربچے زخمی ہوگئے ۔زخمی بچوں کو پال گھر کے تونگا اسپتال میں داخل کیا گیا ہے ۔فائربریگیڈ کا عملہ خبر ملتے ہی موقع پر پہنچ گیا اور اس نے بچوں کو وہاں سے بحفاظت نکالنے اور انہیں بچانے کی پوری کوشش کی۔ان تمام بچوں کی عمر13سے 15سال کے درمیان ہے ۔مقامی پولس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے ۔

 

انجار میں جمعےۃ چلڈرن ولیج کے تحت جشن جمہوریت کا اجلاس منعقد
احمد آباد،27؍جنوری (پریس ریلیز) جمعےۃ چلڈرن ولیج انجار میں یوم جمہوریہ کے موقع پر بچوں کا ایک خاص پروگرام منعقد ہوا اور قومی جھنڈے کو سلامی دی گئی ، اس موقع پر ان بچوں کو بھی یادگیا جو انجار میں عین یوم جمہوریہ تقریب کے درمیان زلزلے کی وجہ سے موت کی زد میں آگئے تھے ۔ واضح ہو کہ ۱۴؍سال قبل ۲۶ ؍جنوری۲۰۰۱ء کو ٹھیک صبح آٹھ بجے گجرات کے کچھ او ربھج کے علاقے میں قیامت خیز زلزلہ آیاتھا جس میں ہزاروں افراد زمین کے نیچے دب کر مر گئے تھے ۔اس درمیان ایک اسکول میں تقریب میں شریک سینکروں بچے ہلاک ہوگئے تھے، ان شہید بچوں کی یاد میں جمعےۃ علماء ہندنے وہاں تقریبا ۳۶؍بیگھا میں جمعےۃ چلڈرن قائم کیا ہے ۔ سوموار کو چلڈرن ولیج کے کیمپس میں ایک خاص تقریب منائی گئی جس میں بچوں نے کئی مکالمے اور پروگرام پیش گئے ، پروگرام کی پرستی جمعےۃ علماء ہند کے قومی سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے کی جب کہ مہمان خصو صی کے طور پر مولانا عظیم اللہ صدیقی قاسمی شریک ہوئے ۔اس موقع پر بچوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ جمہوریت کا قیام اور سبھی طبقات کے لیے یکساں دستور کی منظوری ملک کے لیے ایک نعمت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وطن کی آزادی کے بعد یہ سب سے بڑا انقلابی قدم تھا ، جس میں اقلیتوں کو برابری کے ساتھ جینے کا حق ملا ۔انھوں نے بچوں کو بتایا کہ کس طرح ہندو اور مسلمان نے ایک ساتھ ہو کر وطن کی آزادی کے لیے جان کی قربانی دی او ر علماء میں شاہ عبدالعزیز ؒ اور مولانا محمود حسن دیوبندی سے لے کر مولانا حسین احمد مدنیؒ تک سبھوں نے وطن کے لیے بڑی اذیتیں برداشت کیں۔مولانا حکیم الدین قاسمی نے بچوں کوکہا کہ آج یوم جمہوریہ کے موقع وہ عزم کریں کہ وہ محنت سے پڑھ کر ملک کی خدمت کریں گے ، مولانا قاسمی نے اس موقع پر کشمیر میں رونما ہونے والے بھیانک سیلاب کے موقع پر ایک ایسی بچی کا بھی واقعہ سنایا جو ہوم ورک کرنے کے بعد سو جاتی ہے اور جب صبح اٹھتی ہے تو سیلاب کی تباہی کی وجہ سے ماں باپ کے ساتھ ایک کیمپ میں رہتی ہے، تو اٹھنے کے بعد اپناہوم ورک اور اسکول تلاشتی ہے جسے نہ پاکر بہت غمگین ہوتی ہے ۔ انھوں نے بچوں کو یہ واقعہ سنا کر کہا کہ وہ اپنے اندر تعلیم کا ایسا جذبہ پیدا کریں ۔ پروگرام میں مولانا عظیم اللہ صدیقی قاسمی نے بھی مسلم علماء کی قربانی کا ذکرکیا۔
اور کہا کہ اگر شہید بھگت سنگھ کو پھانسی پر چڑھایا گیا تو اشفاق اللہ خاں شہید کوئی پھانسی دی گئی،رام پرساد بسمل کو انگریزوں نے تختہ دار پر چڑھایا تو چاندنی سے لاہور پر تک کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں علماء او رحفاظ کی لاشیں نہ لٹکی ہوں۔
، اگر رابندناتھ ٹیگور نے جن گن من ادھینائک کا ترانہ گایا توعلامہ اقبال نے سارے جہاں سے اچھا ہندستان کا خوبصورت ترانہ پیش کیا ، یہ افسوس کی بات ہے کہ آج نصاب کی کتابوں میں ایک حصہ تو بتایا جاتا ہے مگر دوسرا حصہ غائب ہے ۔ مولانا عظیم اللہ نے مزید کہا کہ جس جمعےۃ علماء ہند نے یہ ادارہ قائم کیا ہے اس کا سر فخر سے بلند اس لیے ہے کیوں کہ سرفروشی میں اس جماعت کو ہمیشہ اولیت حاصل رہی ہے ۔ اسی جماعت نے سب سے پہلے مکمل آزای کا مطالبہ کیا تھا ، جس کے دس سال بعد ہی کانگریس یہ ہمت جٹا پائی ۔آخر میں صدر اجلاس مفتی اسجد قاسمی نائب صدر جمعےۃ علماء گجرات کا خصوصی خطاب ہو ا اوران کی دعاء پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔اجلاس میں دیگر شرکاء میں مفتی انیس پرتاپ گڑھی اور بڑودہ سے عمر بھائی ،حاجی یونس، ماسٹر عبدالرزاق منصوری اور جمعےۃ چلڈرن ولیج کے اساتذہ اور اسٹاف شریک ہوئے ۔

 

ہندوستان میں کسانوں کی ترقی کیلئے اسرائیل سینٹرکھو لے گا
گاندھی نگر:اسرائیل ہندوستان میں کسانوں کیلئے ایک ایکسیلنس سینٹر کھولے گا تاکہ زراعت اورمویشی پروری کے شعبے میں تحقیق اورترقی کو رفتار دیا جا سکے۔اسرائیل کے وزیر زراعت یائر شمیر نے یہاں وائبرنٹ گجرات کانفرنس 2015سے الگ نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ اسرائیل ہندوستان میں ایکسیلنس سینٹر شروع کرے گا تاکہ زرعی شعبہ میں تحقیق اور دودھ کی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایسے سینٹروں کو ہریانہ، مہاراشٹر، پنجاب، راجستھان، اتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں کھولنے کا خواہش مند ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا ملک وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندوستان میں’ سفید انقلاب ‘لانے کی اپیل پر سنجیدہ ہے۔

 

کار حادثہ میں پانچ افراد کی موت

احمد آباد، 8 دسمبر (یو این آئی) گجرات کے ضلع گاندھی دھام کے سام کھیالی علاقہ میں آج کار اور ٹریلر کی ٹکر میں کار میں سوار ایک ہی خاندان کے چار افراد سمیت پانچ لوگوں کی موت ہوگئی۔پولیس ذرائع سے معلوم ہوا کہ بھچاؤ علاقہ کے سام کھیالی گاؤں کے قریب راگھن پور سام کھیالی روڈ پر اوور برج سے گزرتے وقت ایک تیز رفتار کار بے قابو ہوکر آگے جارہے کنٹینر سے لدے ٹرک سے ٹکرا گئی اس میں بیٹھے انجار کے رہنے والے دیپک بھائی 45 ان کے بیٹے کیرتن سات سال اور کار کا ڈرائیور راجیش چڈاسما 40 سال کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔دیپک بھائی کی بیوی کویتا بین 43 سال اور ان کی بیٹی وردھا گیارہ سال کی اسپتال لے جاتے وقت راستے میں موت ہوگئی۔

 

مسلم لڑکی کیلئے شادی کی عمر 15سال یا بلوغت: ہائی کورٹ

احمد آباد،6دسمبر( ایجنسیاں ) گجرات ہائی کورٹ نے ایک مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی مسلم لڑکی بلوغت یا 15 سال کی عمر پوری کر لینے پر شادی کر سکتی ہے۔عدالت نے یہ تبصرہ ایک مسلم نوجوان کیخلاف ’بچہ شادی قانون ایکٹ ‘کے تحت درج معاملہ کی سماعت کے دوران دیا کورٹ نے نوجوان کیخلاف چل رہے معاملہ کو بھی منسوخ کر دیا۔ اس نوجوان نے اپنی کمیونٹی کی 17 سالہ لڑکی سے شادی کی تھی۔جسٹس جے بی پردی والا نے اپنے 2 دسمبر کے حکم میں کہا کہ مسلم پرسنل لاء کے مطابق کوئی بھی مسلم لڑکی بلوغت یا 15 سال کی عمر پوری کرنے پر نکاح کیلئے اہل ہے۔ کورٹ نے کہا، ’لڑکے۔لڑکی دونوں مسلمان ہیں، ایسے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسلم پرسنل لاء کے مطابق بلوغت یا 15 سال کی عمر پوری ہونے( جو بھی پہلے ہو) پر وہ اپنے والدین کی رضامندی سے شادی کر سکتے ہیں ۔

 

جسٹس ڈی پی بوچ ہونگے گجرات کے نئے لوک آیکت

احمدآباد : نریندرمودی سرکار نے آج ریاست کے لوک آیکت عہدے کے لئے ہا ئی کورٹ کے سابق جج ڈی پی بوچ کی تقرروری کے کئے گورنر کملا بےنی وال سے سفارش کی ہے لوک آیکت کا عہدہ 2003میں جسٹس آر ایم سونی کی مدت ختم ہونے کے بعد سے خالی پڑا ہے وزیراعلی نریندرمودی کی سربراہی میں ریاستی کابینہ کی ایک میٹنگ میں گجرات ہا ئی کورٹ کے ریٹائر جسٹس ڈی پی بوچ کی ریاست کے لو ک آیکت کی حیثیت سے گورنر بینی وال سے وارنٹ کی اشاعت کے لئے سفارش کی گئی تھی حکام کے مطابق جسٹس بوچ کا نام ہائی کورٹ کے چیف بھاسکر بھٹاچاریہ کی جانب سے بھیجا گیا تھا ۔ اس عہدے کے تقررور کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیراعظم کے امیدوار کو کانگریس کے نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ بدعنوانی مخالف واچ ڈاگ کا یہ منصب خالی ہے اور نریندر مودی اپنے انتخابی جلسوں میں کانگریس کی قیادت والی یوپی اے سرکاروالی تقریباہر وروز گھپلوں ارو بدعنوانی کے الزمات لگا رہے ہیں۔ گورنرکی جانب سے 25اگست 2011کو لوک آیکت کے عہدے پر جسٹس ریٹائر آر اے مہتا کی تقرروری کے بعد مودی اور گورنر کے درمیان ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا اور اس نے ایک طویل قانونی لڑائی چھیڑ دی مو دی سرکار نے الزام لگا یا کہ مہتا کہ تقرروری ریاستی سرکار کو نظرانداز کرکے کی گئی ہے۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے گورنر کے فیصلے کو صحیح ٹھہرا یا تھا اس تنازع میں ایک اور کڑی اس وقت جوڑی جب جسٹس مہتا نے اس سال اگست میں یہ کہتے سے اپنے عہدے کا چارج لینے سے انکا رکردیا کہ ریاستی حکومت کی ذہنیت اور رویہ اہمیت کاحامل ہے ۔

...


Advertisment

Advertisment