Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:19 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

GOA

GOA

’’دھوپ میں مظاہرہ نہ کرو ، رنگ سیاہ پڑ جائے گا،پھردولہابھی نہ ملے گا‘‘
گوا کے وزیر اعلیٰ کا نرسوں پرمبینہ متنازعہ تبصرہ
پنجی، یکم اپریل (آئی این ایس انڈیا ) گوا کے وزیر اعلیٰ لکشمی کانت پارسیکراپنے ا یک متنازعہ بیان کو لے کر تنقید میں گھر گئے ہیں۔الزام ہے کہ پارسیکر نے مظاہرہ کررہیں نرسوں سے کہا کہ دھوپ میں بیٹھ کر بھوک ہڑتال نہ کریں، ورنہ رنگت سیاہ ہو جائے گی اور شادی میں مشکلات پیش آئے گی۔دوسری طر ف وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے ۔انو شا ساونت نام کی ایک نرس نے بتایاکہ جب ہم اپنے مطالبات کو لے کر پونڈا میں وزیر اعلی سے ملے، تو انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کو تیز دھوپ میں بھوک ہڑتال پر نہیں بیٹھنا چاہئے، کیونکہ اس سے ان کا رنگ سیاہ ہو جائے گا اور اچھا لڑکا بھی نہیں ملے گا۔انوشا نے کہا کہ یہ غیراخلاقی تبصرہ تھا۔اگر انہیں واقعی ہماری فکر ہے تو انہیں ہمارے مطالبات پورے کرنے چاہئے۔اس معاملے کے طول پکڑنے کے بعدوزیراعلیٰ پارسیکر نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس طرح کا کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔اس سے پہلے سی ایم آفس کے افسران نے بھی ان الزامات کو بے بنیاد بتایا تھا۔غو رطلب ہے کہ گوا میں 108ایمبو لینس سروس سے وابستہ نرسیں اوردیگرملازمین گزشتہ کچھ دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔اس سروس کو حکومت کی طرف سے منظوری فراہم ہے لیکن اسے پرائیویٹ فرم چلاتی ہے۔الزام ہے کہ فرم 33 ایمبو لینس کے پیسے لے کرصرف 13 ایمبو لینس ہی چلا رہی ہے۔اپنے مطالبات کو لے کر بھوک ہڑتال پر بیٹھیں نرسوں کے نمائندے دو بار وزیر اعلی سے مل چکے ہیں، لیکن بات نہیں بن پائی ہے۔اب جہاں پر بھی وزیر اعلیٰ کسی پروگرام میں حصہ لینے پہنچتے ہیں، نرسیں اپنے مطالبات کو لے کر وہاں پہنچ جاتی ہیں۔ان کاکہنا ہے کہ ہم اپنے حقوق کا مطالبہ کے ساتھ ساتھ ایک اسکینڈل کا بھی انکشاف کر رہی ہیں۔

 

سنسنی پھیلانے والے بیان پر وزیردفاع خاموش

پنجی،24جنوری ( ایجنسیاں ) وزیر دفاع منوہر پریکر کے بیان پر کانگریس نے ثبوت دینے یا عوامی طور پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ جب پریکر سے کانگریس کے مطالبات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی تبصرہ کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ وزیر دفاع نے ایک سنسنی خیز بیان میں کہا تھا کہ سابق وزرائے اعظم نے نیشنل سیکورٹی سے سمجھوتہ کیا تھا۔ پریکر کے بیان کے بعد چوطرفہ سوال اٹھنے لگے کہ آخر وہ کون وزیراعظم تھا جس نے نیشنل سیکورٹی سے سمجھوتہ کیا۔بی جے پی امیدوار سدھارتھ کنکو لی انکر کے پر چہ نامزدگی میں شامل ہونے پنجی پہنچے منوہر پریکر نے اس مسئلہ پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ اس مسئلہ پر کوئی بات چیت کرنے کو لے کر بالکل گریزکرتے نظر آئے۔ کانگریس کے کئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا تھا کہ وزیر دفاع یا تو ثبوت پیش کریں یا معافی مانگیں۔ پریکر نے یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان سے آئی کشتی پر بہت سی معلومات اس لئے نہیں دی کیونکہ وہ ذرائع کے بارے میں کوئی انکشاف نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس کشتی کو ہندوستانی بحریہ نے اپنے ایک آپریشن میں گھیر لیا تھا۔ بعد میں اس کشتی پر سوار افراد نے خود کو مار لیا تھا۔پریکر نے اسی دوران کہا تھاکہ ،’آپ ملک کی املاک کو بناتے ہیں اور اس بنانے میں 20 سے 30 سالوں کا طویل وقت لگتا ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سابق وزرائے اعظم نے ملک کی قیمتی املاک کو داؤ پر لگایا۔ اسی بیان کو لے کر پریکر سے کانگریس نے ان وزرائے اعظم کے ناموں کا انکشاف کرنے یا معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

گوا سرکار کا فرقہ پرستوں کے آگے جھکنے سے انکار
شری رام سینا پر پابندی کی مدت میں 6ماہ کیلئے توسیع ، 20اگست 2014 کو پہلی بار ’ پب ثقافت‘ کیخلاف مظاہرہ کرنے کے سبب لگی تھی پابندی
پجنی ،12جنوری( ایجنسیاں)گوا کے وزیر اعلیٰ لکشمی کانت پارسیکر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت متنازعہ دائیں بازو کی تنظیم شری رام سینا پر پابندی کو 6 ماہ کیلئے بڑھائے گی ۔ سی ایم کے اس اعلان سے کچھ گھنٹہ پہلے ہی سری رام سینا نے گوا میں اپنی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کی اسکیموں کا اعلان کیا تھا۔پنجی میں چیف انفارمیشن کمشنر کے نئے دفتر کے افتتاح کے بعد سی ایم نے کہا،’شری رام سینا پر لگی پابندی کو اور چھ ماہ کیلئے توسیع کر دی جائے گی۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس پر لگی پابندی کی میعاد دسمبر میں ختم ہو گئی تھی۔ کچھ خبروں میں کہا گیا ہے کہ ہم پابندی کی مدت بڑھانے میں ناکام رہے ہیں‘۔اس تنظیم کے ارکان نے 2009 میں منگلور کے ایک پب میں لڑکوں اور لڑکیوں پر حملہ بول دیا تھا۔ اس حملہ کے بعد بحث میں آئی شری رام سینا کا کہنا تھا وہ ملک میں ’پب ثقافت‘ کی مخالفت کرتے ہیں۔
شری رام سینا کے سربراہ پرمود متالک نے اتوار کی شام کو کہا کہ وہ گوا میں اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دینے کیلئے 26 جنوری کو بیلگام میں ایک اجلاس کریں گے۔ انہوں نے کہا، کرناٹک کے بیلگام میں ریاستی سطح کا اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ گوا میں شاخ شروع کئے جانے کے وقت اور دیگر چیزوں کے بارے میں ایک وسیع حکمت عملی پر 26 جنوری کو بحث ہوگی‘۔20 اگست 2014 کو آئی پی سی کی دفعہ 144 (4) کے تحت اس تنظیم پر دسمبر 2014 تک گوا میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ ایسی ریاست کے دونوں اضلاع کے ڈی ایم کیطرف سے ظاہر کی گئی مخالفت اور پولیس کی منفی رپورٹ کے بعد کیا گیا تھا۔پولیس کو ڈر تھا کہ اگر تنظیم کو آپریشن کی اجازت دی جاتی ہے، تو قانون اور نظام کا مسئلہ پیدا ہو سکتی ہے۔ متالک نے کہا کہ تنظیم گوا میںہندوتو کے ایجنڈے‘ کو آگے بڑھائے گی ۔ انہوں نے کہا، ’پب ثقافت اور دیگر مسائل پر فیصلہ بعد میں ہو سکتا ہے۔ پہلے ہمیں گوا میں اپنی شاخ شروع کرنی ہے‘۔

 

 

ساہتہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ مصنفہ ڈاکٹر مدھوی سردیسائی کا انتقال
پنجی،22 دسمبر (یو این آئی)گوا کی مشہور کونکنی فلمکار، ناقد اور ماہر لسانیات ڈاکٹر مدھوی سردیسائی کا طویل علالت کے بعد آج انتقال ہوگیا۔ان کی عمر 52 سال تھی اور ان کے پسماندگان میں ان کے شوہر کے علاوہ دو بیٹیاں ہیں۔ ان کے خاندان کے ذرائع نے بتایا کہ وہ مشہور کونکنی مصنف رویندر سردیسائی کی بھتیجی اور فتوردہ اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے مسٹر وجے سردیسائی کی ہمشیرہ تھیں۔ڈاکٹر مدھوی سردیسائی کو گیان پیٹھ ایوارڈ بھی مل چکا ہے اور انہیں حال ہی میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ دیئے جانے سے وہ سرخیوں میں تھیں۔ انہیں اس سے پہلے بھی مہاتما گاندھی کی زندگی پر کونکنی میں لکھی گئی اپنی کتاب کے ترجمہ کے لئے بھی ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ حاصل ہوچکا ہے۔فی الحال وہ گوا یونیورسٹی کے شعبہ کونکنی میں پروفیسر تھیں اور ایک ہفتہ وار کونکنی میگزین 147جاگ148کی ایڈیٹر بھی تھیں۔ان کی آخری رسومات کل ادا کی جائیں گی۔

 

سابق وزیر اعلی پاریکر نے پناجی کے ممبر اسمبلی کی سیٹ چھوڑی

پناجی، 25 نومبر (یو این آئی)مرکزی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے پناجی کے ایم ایل اے کے طور پر استعفی دے دیا ہے کیونکہ انہیں حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ میں شامل کرلیا گیا ہے۔پاریکر نے 20 نومبر کو ہی ریاستی قانون ساز اسمبلی اسپیکر راجندرآرلیکر کو اپنا استعفی سونپ دیا تھا مگر آج سے اس کا اطلاق ہوا ہے۔ان کے استعفی سے اب پناجی میں ضمنی چناؤ کرانا پڑے گا جو اس وقت حکمراں بی جے پی کے ہاتھ میں ہے۔پاریکر نے 9 نومبر کو مودی کی کابینہ میں شمولیت سے قبل 8 نومبر کو گوا کے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ وہ اترپردیش سے راجیہ سبھا کے بلا مقابلہ ممبر منتخب ہوگئے تھے ۔ وہ مارچ 2012 میں گواسے اسمبلی الیکشن میں پناجی سے منتخب ہوئے-

 

 

این ایف ڈی سی پانچ روزہ فلم بازار کا انعقادکرے گا

پنجی،19نومبر(یو این ا ئی) ہندوستانی سنیما کو بین الاقوامی سطح کا بنانے اور اسے بڑا بازار مہیا کرانے کے لئے نیشنل فلم ڈولپمنٹ کارپوریشن (این ایف ڈی سی) نے انٹر نیشنل فلم فیسٹیول ا ف انڈیا(ا ئی ایف ایف ا ئی) کے اشتراک سے گوا کے ناریٹ ریسارٹ میں 20 سے 24نومبر تک فلم بازار کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ا ج یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی سنیما کو مزید ڈائنامک ،کثیر جہتی،دلچسپ، سائنسٹفک اور گھریلو خانے سے باہر نکالنے کے لئے یہ بازار لگایا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران اس میں بہت تیزی نہیں ا ئی ہے اور اسے بین الاقوامی سنیما کے سطح کا بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ سال این ایف ڈی سی فلم بازارکا ہوگا جس کے ذریعہ ایک نالج سیریز چلایا جائے گا۔ اس سیریز میں ہندوستان کی چار بڑی زبانوں کو شامل کیا جا ئے گا جس میں پنجابی، مراٹھی، بنگلہ اور ملیالم ہیں ۔ان زبانوں میں ترقی اور تنوع کے بہترین امتزاج کو شامل کیا جائے گا۔فلم بازار کو کو پروڈکشن مارکیٹ کے طور پر ترقی دی جائے گی اور فلموں کی ترویج کرنے اور اس کو وسعت دینے کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اس بازار میں بین الاقوامی فلموں اور جنوب ایشیائی فلموں کے درمیان اشتراک پیدا کرنے اور اس میں ترقی دینے اور ا پسی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔فلم بازار کے ذمہ داران کا خیال ہے کہ اس سے نہ صرف فلم کی تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ اس کے ترقی کے بھی وسیع امکانات ہو جائیں گے۔

 

وزیراعلی لکشمی کانت پر سیکرکا بینہ میں توسیع

پنجی،14نومبر(یو این ا ئی)گوا کے نو منتخب وزیراعلی لکشمی کانت پر سیکر نے اپنی کابینی کی توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس میں وہ دو نئے وزرا کو شامل کرنے والے ہیں۔خالی دوسیٹوں کے متعلق ان کے انتخاب پر قیاس ا رائیاں کی جا رہی تھیں۔انہوں نے اپنی کابینہ کی توسیع میں جن دو لیڈران کا انتخاب کیا ہے ان میں سے ایک گوا وکاس پارٹی کے ممبر اسمبلی فرانسسکو مکی پچیکو ہیں جبکہ دوسرے ا زاد ممبر اسمبلی اورٹانو فرٹاڈو کو ماہی پروری کے وزیر کے طور پر برقرار رکھا ہے۔ کل ان دونوں کی حلف براداری ہوگی۔وزیر اعلی نے ان دونوں کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پچیکو اور اورٹانو کو وزارت کی ذمہ داری دیتے ہوئے کیتھولک فرقے کی نمائندگی میں اضافہ کر رہے ہیں اور اب کابینہ میں ان کی تعداد چار ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح اس فرقے کی نمائندگی 33فیصد ہو جاتی ہے۔واضح رہے کہ لکشمی کانت پرسیکر نے گذشتہ سنیچر کو وزیراعلی کا حلف لیا تھا اور ان کے ساتھ دیگر 9وزرا نے بھی کابنیہ کا حلف لیا تھا۔ان وزرا کو اب تک قلم دان نہیں سونپا گیا تھا۔گوا کے سابق وزیرا علی منوہر پرریکر کے وزیر دفاع بن جانے کی وجہ سیریاست میں وزارت کی دو سیٹیں خالی ہو گئی تھیں ایک وزیر اعلی کی جس پر نئے وزیر اعلی منتخب ہوئے جبکہ اورٹانو فرٹاڈو کو واپس کابینہ میں لایا گیا ہے پہلے انہیں اس سے الگ کر دیا گیا تھا۔
پچیکو کو یہ صلہ لوک سبھا انتخابات سے قبل بی جے پی کو حمایت دینے کے سلسلے میں ملا ہے۔

 

گوا بی جے پی میں گھمساننائب وزیراعلیٰ نے دی استعفیٰ کی دھمکی

وزیراعلیٰ کے عہدہ سے پاریکرآج دیں گے استعفیٰ، یوپی سے جائیں گے راجیہ سبھا، آرایس ایس کے قریبی لیڈرہوسکتے ہیں نئے سی ایم

پنجی7نومبر(آئی این ایس انڈیا)گوا کے وزیر اعلیٰ منوہر پرریکر کو مرکزی وزارت میں شامل کئے جانے کے امکان کے پیش نظر ان کے جانشین کے طور پر دو نام بحث میں ہیں جو آرایس ایس کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ریاست کے وزیر صحت لکشمی کانت پرسیکر اور اسمبلی کے صدر راجندر ارلیکر میں سے کسی کو پاریکر کا جانشین بنایا جا سکتا ہے۔ان ناموں کی تصدیق کرتے ہوئے پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ بی جے پی پارلیمانی بورڈ ہفتہ کو نئی دہلی میں اپنی ملاقات کے بعد اس بارے میں باضابطہ اعلان کرے گا۔مودی حکومت میں ممکنہ وزیر دفاع بننے جا رہے پرریکر ہفتہ کو استعفی دیں گے۔ذرائع کے مطابق پرریکر اترپردیش سے راجیہ سبھا جائیں گے اور 10نومبر کو کاغذات نامزدگی داخل کریں گے۔اتوار کو 46وزراء والی موجودہ مودی کابینہ کا پہلی توسیع ہونی ہے جس میں پرریکر کے ساتھ کئی وزراء حلف لے سکتے ہیں۔اس درمیان گوا کے دارالحکومت پنجی میں رات بھر شدید سیاسی بات چیت اور ملاقاتوں کا دور جاری رہا۔رات بھر بی جے پی کے تمام ممبران اسمبلی ایک ہوٹل میں جمع رہے۔دیر رات کو بند کمرے میں ہوئی میٹنگ سے باہر نکلنے کے بعد بی جے پی کی ریاستی یونٹ کے صدر ونے تندولکر نے کہا کہ یہ فخر کی بات ہے کہ پرریکر کو کابینہ میں شامل کیا جا سکتا ہے اور ملک کا وزیر دفاع بنایا جا سکتا ہے لیکن ہمیں یہاں گوا میں ان کی کمی کو یقینی طور پر کھلے گی۔انہوں نے پرریکر کے ممکنہ جانشین کے طور پر منتخب ہوئے ناموں کے بارے میں بتانے سے انکار کر دیا لیکن کہا کہ یہ عہدہ قابل شخص کو دیا جائے گا۔وزیر دفاع بنائے جانے کے بارے میں آ رہی خبروں پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے پرریکر نے جمعرات کو کہا تھا کہ بی جے پی کے صدر امت شاہ نے ان سے کہا تھا کہ اگر مرکز انہیں کوئی ذمہ داری دیتی ہے تو وہ اسے اٹھائیں جس کے بعد انہوں نے یہ ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینے کی خواہش ظاہر کی۔گوا میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کرنے والے 58سالہ پارریکر ریاست کی سیاست سے الگ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ میں عہدہ چھوڑتے ہوئے پریشان ہوں لیکن میرے لئے ملک ریاست سے بڑا ہے۔میرے اندر ملاجلا احساس ہے۔

دوسری جانب گوا کے وزیر اعلیٰ منوہر پاریکرکو مرکز میں لائے جانے کی خبر کے ساتھ ہی وہاں بھارتیہ جنتا پارٹی میں سی ایم عہدے کو لے کر گھمسان مچ گیا ہے۔نائب وزیر اعلیٰ فرانسس ڈسوزا نے کہا ہے کہ انہیں سی ایم نہیں بنایا گیا تو وہ استعفی دے دیں گے۔پاریکر کو مرکز میں وزیر بنایا جا رہا ہے۔اس کی وجہ سے گوا میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ خالی ہو رہا ہے۔وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لئے دو رہنماؤں کے نام بحث میں ہیں جو یونین کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ریاست کے وزیر صحت لکشمی کانت پرسیکر اور اسمبلی کے صدر راجندر ارلیکر میں سے کسی کو پاریکر کا جانشین بنایا جا سکتا ہے۔یہ بات فرانسس ڈسوزا کو ناگوار گذری ہے ۔انہوں نے اس بات پر ناراضگی ظاہر ہے کہ ان کی سنیریٹی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر مجھ جونیئر کو سی ایم بنایا گیا تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔منوہر پاریکر ہفتہ کو استعفی دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ کل دوپہر کو پارٹی اراکین کی میٹنگ ہوگی جس میں وزیر اعلیٰ کا چناؤ ہو سکتا ہے۔

 

 

پاریکر کی سیٹ سے ضمنی الیکشن لڑنے کیلئے پارٹی چھوڑدیں گے کانگریس ممبر اسمبلی

پنجی7نومبر(آئی این ایس انڈیا)گوا میں کانگریس کے ایک رکن اسمبلی نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ منوہر پارریکر کو مرکزی کابینہ میں شامل کیا جاتا ہے اور پنجی اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب کرایا جاتا ہے تو وہ اس سیٹ سے آزاد امیدوارکے طورپر الیکشن لڑنے کیلئے اپنی پارٹی سے استعفیٰ دے دیں گے۔کانگریس کے رکن اسمبلی اتناسیو مانسیریٹ نے گذشتہ رات بتایا کہ جب پنجی اسمبلی سیٹ کیلئے ضمنی انتخاب کا اعلان ہو گا تو میں سینٹ کروج سیٹ سے کانگریس کے ممبر اسمبلی عہدے سے استعفی دے دوں گا۔میں پنجی سے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنا چاہتا ہوں۔میرا خواب اسمبلی علاقے کی ترقی ہے۔ ریاست کے سابق شہری منصوبہ بندی کے وزیر مانسیریٹ کے خلاف حال ہی میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ ان پر 2008میں پنجی پولیس تھانے پر حملہ کرنے والی بھیڑ کی قیادت کرنے کا الزام ہے۔ مانسیریٹ نے کہا کہ وہ کانگریس کے ٹکٹ کو ترجیح نہیں دیں گے چاہے ضمنی انتخاب کیلئے انہیں اس کی پیشکش ہی کیوں نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ قدرتی سوچ ہے کہ اگر میں آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کا منصوبہ بنا رہا ہوں تو کانگریس کا ٹکٹ نہیں لوں گا۔پنجی سے لڑنے کیلئے میں سینٹ کروج سیٹ چھوڑوگا اور وہاں سے بھی ایک آزاد امیدوار کو کھڑا کروں گا۔ مانسیریٹ نے کہا کہ پہلے کبھی انہوں نے پنجی سے الیکشن نہیں لڑا کیونکہ وہ پارریکر سے ٹکراؤ نہیں چاہتے تھے اب پارریکر کے استعفی کے بعد میں نے وہاں سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔ میں اس سیٹ پر ترقی کر سکتا ہوں ۔

 

ہندو دیوتاؤں کی تصاویر والی ٹی شرٹ کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ

پنجی، 24 ستمبر (یو این آئی) ہندو جن جاگرتی سمیتی (ایچ جے ایس) نے شمالی گوا کے کلیکٹر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہندو دیوتاؤں کی تصاویر چھپی ہوئی ٹی شرٹ کی فروخت پر پابندی عائد کریں۔ آل انڈیا ویمنس کانفرنس کی چیئر مین سیما پڈنیکر، کالی داس رائکر، نند کمار رائکر، دنیش ہالنکر، سشانت دلوی اور ایچ جے ایس کے اکشے پرب، رنگاراگینی سماج کے راج شری گڈیکر اور سناتن سنستھا کے کمد کامت نے شمالی گوا کی کلیکٹر نیلا موہنن سے ملاقات کی اور اس سلسلے میں ایک میمورنڈم دیا۔ یہ مطالبہ آنے والے سیاحی موسم کے پیش نظر کیا گیا ہے اور چونکہ شمالی گوا کے مختلف ساحلی مقامات پر اس طرح کی ٹی شرٹ دھڑلے سے فروخت کی جارہی ہے ، اس لئے وہاں کے کلیکٹر سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہندو جن جاگرتی کے لیڈروں نے یہ دعوی کیا کہ اس طرح کی ٹی شرٹ سے دیوی دیوتاؤں کی توہین ہوتی ہے اور اس سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتا ہے۔ کلیکٹر نیلا موہنن نے اپنی طرف سے وفد کو یہ یقین دہانی کرائی کہ اس سلسلے میں مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ ایچ جے ایس نے اس سے قبل 2013 میں بھی اس طرح کی ٹی شرٹ کی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا اور میمورنڈم سونپا تھا جس پر انہیں مثبت جواب موصول ہوا تھا۔ اس سے قبل گوا کی کانگریس حکومت نے 24 فروری 2009 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کر کے اس طرح کی ٹی شرٹ کی خرید و فروخت پر پابندی لگائی تھی۔ لیکن پولس کی اطلاع کے مطابق یہ پابندی صرف چھ ماہ کے لئے لگائی گئی تھی، جس کے بعد حکومت نے کوئی نئی پابندی کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ایچ جے ایس کے ریاستی کنوینر ڈاکٹر منوج سولنکی نے بتایا کہ ہم نے کلیکٹر محترمہ نیلا موہنن سے فوری طورپر ایک آرڈنینس پاس کرنے کی درخواست کی ہے جس سے صرف چھ ماہ کے بجائے مستقل طورپر اس طرح کی ٹی شرٹ کی فروخت پر پابندی لگائی جاسکے۔

...


Advertisment

Advertisment