Today: Thursday, November, 23, 2017 Last Update: 03:41 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

Assam

Assam

آسام میں این ڈي ایف بی جنگجوؤں کے حملے کی سابقہ اطلاع تھی:آسام سرکار

گوہاٹی، 23 مارچ (یو این آئی) گزشتہ دسمبر میں آسام کے چار اضلاع میں ای ڈی ایف بی کے جنگجوؤں کے حملے کے بارے میں آسام سرکار کو سابقہ اطلاع تھی ، جن میں 78 لوگوں کا قتل عام ہوا تھا، لیکن ان حملوں کی جائے وقوعہ کا فی دور دراز ہونے اور خصوصی معلومات کی عدم فراہمی کی وجہ سے سلامتی دستے ان متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے ۔ یہ اطلاع آج ریاستی اسمبلی میں پنچایت و دیہی ترقیات کے وزیر رقیب الحسن نے وزیر اعلی کی نیابت میں ایک تحریری سوال کے جواب میں دی ہے ۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ جنگجوؤں کے حملے کا ہدف بننے والے چار اضلاع کوکراجھار، چیرانگ، راکسا اور سونیت پور کے پولس سپرنٹنڈنٹوں کو 23 دسمبر کے 11 بج کر 20 سے 11 بج کر 35 منٹ کے درمیان ہی ممکنہ حملوں کے بارے میں الرٹ کردیا گیا تھا۔ الرٹ کی اطلاع میں کہا گیا تھا کہ این ڈی ایف بی کے جنگجوؤں کی طرف سے آدی باسیوں اور ہندی زبان بولنے والے باشندوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ لیکن حملے کی جائے وقوعہ کے بارے میں خصوصی معلومات کی کمی اور ان مقامات کے دور دراز ہونے کی وجہ سے سلامتی دستے وہاں وقت پر نہیں پہنچ سکے ۔واضح رہے کہ این ڈی ایف بی کے جنگجوؤں کی طرف سے گزشتہ 23 -25 دسمبر 2014 کے درمیان ہونے والے قاتلانہ حملے میں مجموعی طورپر 78 لوگوں کو قتل کردیا گیا تھا جن میں 63 آدی باسی اور 13 بوڈو باشندے شامل تھے ۔ ان حملوں کے سلسلے میں 276 معاملے درج کئے گئے ہیں اور اب تک 250 لوگوں گرفتار کیا گیا ہے ، جن میں 223 این ڈی ایف بی لیڈر، کارکن اور اس سے وابستہ افراد شامل ہیں۔

 

آبروریزی کے ملزم کو سرعام مارڈالنے کے واقعہ کی چھان بین کا مطالبہ

گواہاٹی، 7مارچ (یو این آئی) ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے آج مطالبہ کیا کہ ناگالینڈ میں آبروریزی کے ایک ملزم کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردینے کے واقعہ کی چھان بین کی جائے اور ہجوم میں شامل ان لوگوں کو کیفر کردار تک لایا جائے جن سے اس زیادتی کا ارتکاب ہوا ہے ۔دریں اثنا دیما پور کے ایس پی میرین جامر اور ڈپٹی کمشنر ویزوپ کینئے کو مبینہ طور پرمعطل کردیاگیا ہے ۔ قبل ازیں مسٹر جامر نے کہا تھا کہ احتجاجی ہجوم میں سینکڑوں کی تعداد میں اسکول اور کالج کی لڑکیاں پیش پیش تھیں اس لئے پولیس ایک زبردست ہجوم کے خلاف پوری طرح طاقت استعمال نہیں کرپائی۔ بصورت دیگر کئی جانی نقصانات ہوسکتے تھے ۔واضح رہے کہ پانچ مارچ کو سید شریف الدین خان نامی آبروریزی کے ایک ملزم کو احتجاجیوں کے ایک بڑے ہجوم نے جیل توڑ کر باہر نکالاتھا اور پھر اسے ننگا کرکے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیاتھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے اسے فوجداری کے معاملے میں عدالتی نظام عمل میں سنگین خلل پر محمول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہجوم میں شامل ہر شخص کو کیفر کردار تک لایا جائے ۔
بصورت دیگر یہ تاثر عام ہوگاکہ کوئی بھی عوامی غصے کے اظہار کے نام پر ایسی حرکت کرسکتا ہے اور اسے منصفانہ ٹھہرانے کی کوشش کرسکتا ہے ۔

 

مرکز ریاستوں کیلئے مختص فنڈ کو جاری نہیں کررہی ہے :گگوئی

گوہاٹی 18فروری (یو این آئی)آسام کے وزیر اعلیٰ ترون گگوئی نے آج مرکزی حکومت پر ریاست کے فلاحی اسکیموں کیلئے فنڈ جاری نہیں کرنے کا الزام عاید کیا ہے ۔ایک دن قبل بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ بیجے چکرورتی نے آسام حکومت پر ریاست کے فلاحی اسکیموں کیلئے مرکزی حکومت کے ذریعہ جاری فنڈ کا غلط استعمال کا الزام عاید کیا تھا ۔گگوئی نے کہا کہ 2014میں آسام کو ریاست کے فلاحی اسکیموں کیلئے مرکز سے 2,591.62کروڑ ملے جب کہ آسام کیلئے 7,161.57 کروڑ روپیہ مختص کیے گئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے مرکز کو2013-14میں فنڈ کے استعمال کا سرٹیفیکٹ پہلے ہی حوالہ کردیا ہے ۔گگوئی نے کہا کہ 2013-14کے مالی سال میں .5,236.98کروڑ روپیہ کے استعمال کا سرٹیفکٹ جمع کیا جا چکا ہے ۔گگوئی نے کہا کہ2014-15کیلئے مرکزی حکومت نے اندرا آواس یوجنا کیلئے 1,258.86 کروڑ روپیہ مختص کیا تھا مگر730.99. کروڑ روپیہ ہی جاری ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح مرکزی نے سرو سچکھا ابھیان کیلئے .1,405.1کروڑ روپیہ مختص کیا تھا مگر ہمیں صرف 829.74کرو ڑ روپیہ ملے ۔گگوئی نے کہا کہ سیلاب منجمنٹ سمیت آبی وسائل کیلئے کل1,269 کرو ڑ روپیہ مختص کیے گئے تھے مگر ہمیں صرف 22.83 کروڑ روپیہ ہی ملے ۔انہوں نے کہا کہ یہی حال دیگر اسکیموں کا ہے ۔مہاتما گاندھی نیشنل دیہی امپلائمنٹ گارڈ نینس ،نیشنل رورل ہیلتھ مشن (NRHM)اور دیگر مرکزی اسکیموں کیلئے مختص رقم کو جاری کیا جانا باقی ہے ۔
آسام کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں این ڈی اے حکومت کی مقبولیت کم ہوتی ہے جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی وزراء شمال مشرقی ریاستوں کا دورہ کرتے ہیں مگر اس کے باوجود این ڈی اے حکومت کی مقبولیت کم ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم میک ان انڈیا کا نعرہ لگاتے ہیں مگر شمال مشرقی ریاستوں کی حالتوں میں بہتری نہیں آئی ہے ۔

آسام میں سیکورٹی جوان کی فائرنگ میں دو افراد ہلاک
گوہاٹی، 16فروری(یو این آئی) آسام میں ضلع سونت پور کے تیج پور میں آسام رائفلز کے ایک جوان کی مبینہ فائرنگ میں دو افراد ہلاک اور ایک عورت زخمی ہوگئی۔ پولیس نے فائرنگ کرنے والے جوان کو گرفتار کرلیا ہے ۔پولیس نے آج یہاں بتایا کہ ملزم جوان کار میل سنگھ کپور کو صبح گرفتار کرلیا گیا۔کارمیل سنگھ نشے کی حالت میں رات کے تقریبا دس بجے اپنے ایک ساتھی گوتم بورا کے پاس گیا اوراس سے شراب کا مطالبہ کیا۔ گوتم کے انکار کرنے پر جوان نے غصہ میں آکر اندھادھند فائرنگ شروع کردی جس سے گوتم اور ایک دیگر شخص بابوبورا کی موت ہوگئی۔اس فائرنگ میں گوتم کی بیوی جینو زخمی ہوگئی جسے تیج پور میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے ۔ گوتم گھر سے ہی شراب فروخت کرنے کا کام کرتا تھا۔پولیس نے معاملہ درج کرکے جوان سے پوچھ تاچھ شروع کردی ہے ۔

صحافیوں کی سیکورٹی حکومت کی ذمہ داری ہے :ترون گگوئی
گوہاٹی 16فروری (یو این آئی) آسام کے وزیر اعلیٰ ترون گگوئی نے آج کہا کہ ریاست کے صحافیوں کے جان کی حفاظت آسام حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس کیلئے حکومت ہر ممکن قدم اٹھائے گی ۔میڈیا کی آزادی اور ذمہ داری ۔ صحافیوں کا تحفظ کے عنوان سے منعقد قومی سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گگوئی نے کہا کہ اس وقت تک کوئی صحافی مکمل نہیں ہوسکتا ہے جب تک میرے خلاف نہ لکھے ۔صحافت انہیں آزادی دیتی ہے وہ کہ کسی کے کام کاج کا ایمانداری سے تجزیہ کریں ۔گگوئی نے کہا کہ دیگر ممالک کے مقابلہ میں ہندوستان میں ذرائع ابلاغ کو بہت ہی آزادی حاصل ہے ۔انہوں نے ویج بورڈ کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو سیکورٹی ضرور ملنی چاہیے ۔عوام پر میڈیا کے اثر انداز ہونے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلی ٰ نے کہا کہ صحافت میڈیا کا ایک مضبوط ستون ہے ۔ان کے مثبت کردار کی وجہ سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے ۔اس لیے میڈیا کو منفیت کے بجائے تعمیری تنقیدکا سہارا لینا چاہیے ۔آسام جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ورکنگ جرنلسٹوں کیلئے منعقد دو روزہ ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا ہے ۔

 

دہشت گردانہ حملوں کے پیش نظر شمال مشرقی ریاستوں میں ہائی الرٹ جاری
اگرتلہ ؍امپھال23جنوری (یو این آئی) شمال مشرقی ریاستوں میں دہشت گردانہ حملوں کے خطرہ کے پیش نظر مرکزی وزارت داخلہ نے ان ریاستوں میں ہائی الرٹ جاری کیا ہے ۔تری پورہ انسپکٹر جنرل آف پولس نیپال داس نے بتایا کہ مرکزی انٹلی جنس اور مرکزی وزارت داخلہ نے شمال مشرقی ریاستوں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوم جمہوریہ اور ان ریاستوں کے یوم تاسیس کے موقع پر جاری تقریبات کے موقع پر خوف و ہراس پھیلانے کیلئے دہشت گردی تنظیمیں تخریبی کارروائیاں انجام دے سکتی ہیں اس لیے تمام حساس مقامات پر سیکورٹی سخت کیے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی و مرکزی حکومتوں نے بارڈر سیکورٹی فورسیس کو ہدایت دی ہے کہ ہند ۔ بنگلہ دیش سرحد کے قریب سیکورٹی انتظامات سخت کریں اور آمد و رفت کرنے والوں کی کڑی نگرانی کریں ۔داس نے بتایا کہ تمام اہم مقامات جس میں سرکاری دفاتر، ائیر پورٹ ، ہوٹلس ، بس ٹرمینل، مصرو ف مارکیٹ اور قومی سڑکوں کی سخت نگرانی کی جارہی ہے ۔بم تباہ کرنے والے اسکواڈ و دیگر متعلقہ سیکورٹی کو ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے ۔خیال رہے کہ شمالی مشرقی ریاستوں میں سے چار ریاست تری پورہ، میگھالیہ، میزو رم اور آسام بنگلہ دیش کی سرحد سے 1880کلومیٹر متصل ہے جب کہ بھوٹان سے 643کلومیٹر ۔ڈائریکٹر جنرل شہری ہوائی بازی نے شمالی مشرقی ریاستوں کے ائیرپورٹ اتھارٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ائیر پورٹ پر سیکورٹی مزید سخت کردیں ۔انڈین ائیر پورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر ایس ڈی برمن نے بتایاکہ ہر ممکن سیکورٹی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں ۔الفا سمیت شمالی مشرقی ریاستوں کی سات ممنوعہ تنظیموں نے آسام، منی پور، میگھالیہ اور تری پورہ میں ہڑتال کا اعلان اور یوم جمہوریہ کی تقریب کے بائیکام کا اعلان کیا ہے ۔دہشت گرد تنظیموں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہم لوگ ہندوستان کی نو[؟]آبادیاتی نظام اور اپنی خود مختاری کیلئے جد و جہد کررہے ہیں اور یہ آخر تک جاری رہے گا ۔تمام میڈیاکو الفا کے سیاسی سیکریٹری اروندو آسوم کے دستخط سے جاری میل میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند یہاں جاری آزادی کی لڑای کو کچلنے کی کوشش کررہی ہے ۔حکومت میزورم ، ناگالینڈ ، تری پورہ وغیر میں مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کا حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔سیکورٹی فورسیس نے کہا ہے کہ ملی ٹینٹوں کے ہڑتال کے اعلان سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔معمول زندگی حسب معمول ہے ۔دوسری جانب نارتھ ایسٹ فرنٹے ئر ریلویز نے 17اگست تک رات میں چلنے والی ٹرینوں کے اوقات میں تبدیلی کی ہے ۔

 

بیہو ‘ فیسٹیول کے دوران جانوروں کی لڑائی پر آسام حکومت نے لگائی پابندی

گوہاٹی، 14؍جنوری(آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ کے حکم کے مطا بق آسام حکومت نے ریاست میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر اور گوہاٹی کے پولیس کمشنرکوجانوروں کی دوڑ اور لڑائی پر پابندی لگانے کے لئے ہدات جاری کی ہے۔آسام کے داخلہ سیکریٹری اور کمشنر ایل ایس چانگسن نے 12؍جنوری کو ضلع ڈپٹی کمشنر اور پولیس کمشنر کو جاری ایک حکم میں کہا ہے کہ بیہو فیسٹیول کے دوران بلبل اور بھینسوں کی لڑائی کو دیکھتے ہوئے اسے ترجیحی بنیاد پر نافذ کیا جائے۔چانگسن نے افسران کو ان مقامات پر بڑی تعدادمیں سیکوریٹی اہلکارتعینات کرنے کی ہدایت دی ہے ۔
جہاں پر اس طرح کی لڑائیاں ہوتی ہیں۔انہوں نے لڑآئیوں میں استعمال کئے جانے والے تمام پرندوں اور جانوروں کو ضبط کرنے کے بھی احکامات دیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود اگر اس طرح کی لڑائیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے تو اس شخص کو سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کا مجرم سمجھا جائے گا اور اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

 

دہشت گردوں کیخلاف فوج کی مہم میں تیزی
آسام قتل عام کے خلاف بند سے معمولات زندگی متاثر

گوہاٹی، 26 دسمبر(یو این آئی) این ڈی ایف بی (ایس) کے انتہا پسندوں کے ذریعہ تقریبا 80 افراد کے قتل عام کے خلاف مختلف تنظیموں کی طرف سے آج ریاست گیر بند کی وجہ سے پورے آسام میں معمولات زندگی متاثر رہے، دوسری جانب انتقامی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔تشدد کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے جاری اقدامات کے ساتھ ساتھ این ڈی ایف بی(ایس) کے خلاف سیکورٹی فورسز نے اپنی کارروائی شروع کردی ہے۔مختلف تنظیموں نے گوہاٹی سمیت ریاست بھر میں بارہ گھنٹے کے بند کی اپیل کی ہے۔ مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور بسوں پر پتھراؤ کیا۔ریاست کے دیگر علاقے بالخصوص چائے باغات میں بندکا خاصا اثر دکھائی دے رہا ہے۔ بسواناتھ چریالی میں ہزاروں مظاہرین نے این ڈی ایف بی (ایس) کے قتل عام کے خلاف احتجاج کیا۔امن و قانون کو برقرار رکھنے کے لئے تمام حساس علاقوں میں سیکورٹی مستحکم کردی گئی ہے۔دریں اثنا انتظامی کارروائی کے تحت کوکراجھار میں متعدد مکانات کو آگ لگادی گئی۔اب تک دو لاشیں برآمد ہوچکی ہیں اور بیشتر متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔
دوسری جانب آ سام میں معصوموں کو نشانہ بنانے والے انتہا پسندوں کے خلاف فوج نے خصوصی مہم شروع کر دیا ہے اور اس میں مزید تیزی لائی جائے گی۔بری فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ نے ا ج یہاں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کے بعد یہ بات کہی۔واضح رہے کہ ا سام کے سونت پور اور کوکرا جھار اضلاع میں منگل کو نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ ا ف بوڈو لینڈ(این ڈی ایف بی)کے انتہا پسندوں نے 70سے زائد معصوموں کی جان لے لی تھی۔حملے کے بعد مودی حکومت نے کہا ہے کہ وہ انتہاپسندوں کے خلاف سخت کاروائی کرے گی اور انہیں بخشا نہیں جائے گا۔حکومت نے یہ بھی کہا کہ وحشیانہ کاروائی انجام دینے والوں سے کسی طرح کی کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی ۔انتہا پسندانہ حملے کے بعد ا سام کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد نئی دہلی لوٹے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ا ج جنرل سہاگ کے ساتھ میٹنگ کی ۔ میٹنگ کے بعد مسٹر سہاگ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیر داخلہ کے ساتھ ریاست کی سیکورٹی کی بابت بات چیت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج اب ا سام میں انتہاپسند تنظیم کے خلاف سخت ترین اور تیز تر کاروائی کرنے جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے وہاں فوج کی 66ٹکریاں تعینات کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ مسٹر سنگھ نے فوج کے سربراہ مسٹر سہاگ سے کہا ہے کہ فوج ریاست میں امن و امان قائم کرے اور یہ کوشش کی جائے کہ دوبارہ اس قسم کی کاروائی نہ ہونے پائے اور کسی طرح کے تشدد کے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔انہوں نے جنرل سہاگ سے این ڈی ایف بی کی موجودگی والے ا سام ، اروناچل پردیش اور میگھالیہ میں فوج کی نفری میں اضافہ کرنے کے لئے بھی کہا ہے۔ذرائع کے مطابق وزریر داخلہ نے جنرل سہاگ سے بھوٹان اور میانمار میں بھی این ڈی ایف بی کے انتہا پسندوں کی سرگرمی کے مدنظر ان کے خلاف وہاں کی فوج کے ساتھ کوا رڈینیشن قائم کرکے مہم چلانے پر بھی غور کرنے کو کہا ہے۔جنرل سہاگ نے مسٹر سنگھ کو بتایا کہ فوج کے مقامی کمانڈر وں کو امن وامان قائم کرنے اور لوگوں میں اعتماد بحال کرنے کے اقدامات کرنے کے احکامات دئے گئے ہیں۔

 

مرنے والوں کی تعداد 75 سے زائد، راجناتھ اور گگوئی کا دورہ
گوہاٹی: آسام کے کوکراجھار، سونت پور اور چرانگ اضلاع میں نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ (این ڈی ایف بی) کے دہشت گردوں کی زبردست فائرنگ میں مرنے والوں کی تعداد 75 سے زائد ہوگئی ہے جس میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، داخلہ کے وزیرمملکت کرین رجیجو، اقلیتوں کے امور کے مرکزی وزیر جوئیل اورام ریاست کے وزیراعلی و دیگر سینئر حکام کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے آج متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔اعلی سطحی نمائندہ وفد کل شام نئی دہلی سے یہاں پہنچ گیا تھا جس نے یہاں وزیراعلی ترون گوگوئی اور دیگراعلی حکام کے ساتھ میٹنگ کی۔ انہوں نے قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) سے اس واقعہ کی تفتیش کرانے کی ہدایت دی۔اس کے ساتھ ساتھ ریاست میں دہشت گردی کے خلاف مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔متاثرہ اضلاع کوکراجھار، سونت پور اور چرانگ میں مزید لاشیں برآمد ہونے کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 75 سے زائد ہوگئی ہے۔ متاثرہ اورنزدیکی علاقوں میں کل شام سے ہی کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔بیشتر حصوں میں صورتحال کوقابو میں کرلیا گیا ہے اور کسی ناخوشگوار حالت سے نپٹنے کے لئے گشتی مہم چلائی جارہی ہے۔مسٹر گوگوئی نے 23 دسمبر کوہونے والے اس قتل عام میں این ڈی ایف بی کے ملوث ہونے کی تصدیق کی ہے۔ریاستی حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کو پانچ لاکھ اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے نیم فوجی دستوں کی اضافی 55 کمپنیوں کا مطالبہ کیا ہے جن میں سے 20 کو آج بھیج دیا جائے گا۔وزیراعلی نے لوگوں سے امن و امان قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بھی اس میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔ اس درمیان پوری ریاست میں این ڈی ایف بی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔سونت پور ضلع کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں غیرمعینہ مدت کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جبکہ کوکراجھار، چرانگ ، بکسا اور دھبری اضلاع میں نافذ کرفیو میں آج صبح کچھ راحت دی گئی۔متاثرہ علاقوں سے ڈھائی ہزار سے زائد لوگوں کو راحت کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ مقامی لوگ خوف کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات پر جارہے ہیں۔

 

آسام میں بی جے پی کو الفا کی دھمکی

گواہاٹی، 27 نومبر (یو این آئی) شدت پسند تنظیم الفا نے اپنے 26 لیڈروں اور کارکنوں کا پتہ بتانے میں مرکزی حکومت کی ناکامی کی صورت میں آج آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی جو 2003 میں ہندوستان کی بھوٹان میں الفا مخالف مہم کے بعد سے گمشدہ ہیں۔میڈیا کے ذرائع کو بھیجے گئے ایک ای میل بیان میں الفا کے عسکری لیڈر پاریش بروا (آسام) نے کہا کہ بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت کو آئندہ 10 جنوری تک الفا کے ان گمشدہ لیڈران اور کارکنان کا پتہ بتانا ہوگا۔ ایسا کرنے میں ناکام ہونے پر الفا ریاست میں بی جے پی کی انتخابی سرگرمیوں کو نشانہ بنانا شروع کردے گی۔ واضح رہے کہ 2003 میں بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت برسراقتدار تھی چونکہ دہلی کی موجودہ مرکزی حکومت بھی این ڈی اے کی ہے اس لئے وہ اپنی سابقہ حکومت کے تحت کی گئی کارروائیوں کی بھی ذمہ دار ہے۔

 

بردوان دھماکے کے ملزم شاہنورکی اہلیہ آسام میں گرفتار

گوہاٹی ،7نومبر(آئی این ایس انڈیا )بردوان دھماکہ کیس کے ملزم شاہنور عالم کی اہلیہ سجانا بیگم کو یہاں بین الریاستی ٹرمینل بس ٹرمنل سے گرفتار کیا گیا۔پولیس سپرنٹنڈنٹ سدھاکر سنگھ نے کہا کہ گوہاٹی شہر پولیس کو سجانا کی سرگرمیوں کے بارے میں اطلاع ملی اور اس نے گورچک علاقے میں بس ٹرمنل سے اسے کل رات گرفتار کیا ۔سنگھ نے کہا کہ خصوصی مہم یونٹ’ایس او یو‘کے معاملہ نمبر 1:14میں مطلوبہ سجانا کو آگے کی کارروائی کے لئے ایس او یو کو سونپ گیا،انہوں نے کہا کہ پولیس نے جب اسے گرفتار کیا تو وہ اپنے نابالغ بیٹے کے ساتھ تھی۔آسام کے بارپیٹا ضلع کے چتالا گاؤں کا رہنے والا شاہنور عالم عرف ڈاکٹر مغربی بنگال میں دو اکتوبر کو ہوئے بردوان دھماکے کا ملزم ہے،اس معاملے میں دو لوگوں کی موت ہوئی تھی۔عالم فرار چل رہا ہے اور این آئی اے نے حال ہی میں اس کے بارے میں اطلاع دینے والے کو پانچ لاکھ روپے کا انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا کہ گاؤں کے ریٹائرڈ استاد مجیب الرحمن کے ساتویں بیٹے عالم کے ساتھ قریب سو نامعلوم افراد نے پچھلی عید سے ایک دن پہلے وہاں ایک گھر میں نماز پڑھی تھی۔گاوں والوں نے کہا کہ عید کے چھ دن بعد، شاہنور اور اس کی بیوی سجانا بیگم اور ان کا بیٹا لاپتہ ہو گئے۔سینئر پولیس اہلکار کے مطابق، شاہنور کے ایک بھائی ذکریا کو این آئی اے نے کچھ دن پہلے جماعت المجاہدین بنگلہ دیش سے کی مبینہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لئے گرفتار کیا تھا۔این آئی اے کی ایک ٹیم نے اس ہفتے کی شروعات میں بارپیٹا ضلع میں شاہنور کی رہائش پر چھان بین کی تھی اور کچھ مواد ضبط کیا تھا۔بردوان دھماکہ کے تعلق سے مطلوب انتہاپسند جنگجو شاہنور عالم کی بیوی کو شہر کے گورچوک علاقہ سے گزشتہ شب گرفتار کیا گیا ہے ۔ یہ اطلاع آج یہاں پولس نے دی ہے۔ این آئی ، سی آر پی ایف انٹلیجنس اور آسام پولس کی ایک مشٹرکہ ٹیم نے سوجانہ بیگم کو شہر کے گورچوک میں واقع بین ریاستی بس ڈپو کے پاس سے گرفتار کیا ہے۔ وہ کسی نامعلوم مقام سے شہر میں آئی تھی جہاں سلامتی دستوں نے اس پر گھیرا ڈال دیا۔ سوجانہ بیگم بھی جہادی عناصر کے ساتھ اپنے روابط کی وجہ سے پولس کو مطلوبہ تھی اور اس پر الزام ہے کہ اس نے جہادی تنظیم کے لئے روپے پیسے منتقل کرنے والی کی حیثیت سیکام کر چکی ہے ۔ اس پروسس میں وہ مغربی بنگال کے متعدد مدرسوں کو رقوم پہنچاتی تھی جو مبینہ طورپر جہادیوں کے لئے کام کرتے ہیں۔ پولس نے بتایا کہ اس کی گرفتاری سے اس کے شوہر اور بردوان دھماکہ کے دیگر مطلوب ملزمان کے بارے میں اطلاعات ملنے کی توقع ہے۔

 

تصادم کے دوران کے پی ایل ٹی کے دہشت گرد ہلاک

گواہاٹی، 21 اکتوبر: آسام کے کربی آنگ لانگ ضلع کے لاگ لانسو علاقہ میں فوج کے ساتھ تصادم کیدوران کربی پپلز لبریشن ٹائگرس (کے پی ایل ٹی) کے دو دہشت گرد مارے گئے۔فوج کو کے پی ایل ٹی کے دہشت گردوں کے علاقہ میں موجود ہونے کی اطلاع ملی تھی اسی بنیاد پر یہ کارروائی شروع کی گئی۔فوج جب دہشت گردوں کے چھپے ہونے کے مقام پر پہنچی تو انہوں نے فائرنگ شروع کردی فوج نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے دوران دو دہشت گرد وں کی موت ہوگئی جن کی شناخت کرلی گئی ہے ۔ دہشت گردوں کے پاس سے ایک اے کے۔57 رائفل ،گولہ بارود اور ایک موبائل فون برآمد ہوا ہے۔

 

پوجا سے قبل دہشت گردوں کا حملے کا منصوبہ : گوگوئی

گوہاٹی، 20 ستمبر (یو این آئی) آسام کے وزیراعلی کا کہنا ہے کہ القاعدہ سمیت مختلف شد ت پسند گروہ آسام میں درگا پوجا کی تقریب سے پہلے کسی تخریبی کارروائی کو انجام دے سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس خدشے کے پیش نظر ہم کافی محتاط ہیں اور اس طرح کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ وزیراعلی نے مزید کہا کہ القاعدہ اور آئی ایس آئی ریاست میں پہلے سے موجود شدت پسند گروہوں کی مدد سے یہاں اپنی جڑیں بچھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اس طرح کے حملوں کی اطلاع ہے ۔ وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی صورت میں پولیس کی ہرممکن مدد کریں اور دہشت گردی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیں۔ تاہم وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کی ریاست میں موجود دہشت گرد گروہوں کے ساتھ کسی سازباز کا ابھی کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

...


Advertisment

Advertisment