Today: Friday, November, 17, 2017 Last Update: 11:03 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

Muraselat

کیا بھارت میں مسلمانوں کو انصاف نہیں مل سکتا؟

مکرمی!

بھارت میں مسلمانوں کو انصاف نہیں مل سکتا،اس بات کو سچ ثابت کیا ہے میرٹھ کے ہاشم پورہ میں قتل عام کے عدالتی فیصلے نے۔یہاں انصاف کا خون کرنے میں سبھی طبقات کی ملی بھگت تھی ۔ قتل عام کا حکم دینے والے کانگریس کے منتری پی چدمبرم کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلا۔ یہاں کے ایس پی ، ڈی ایم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی جنھوں نے پی چدمبرم کے حکم کو عملی جامہ پہنانے کا کام کیا تھا۔ جن پی اے سی جوانوں کو اب دلی کی کورٹ نے رہا کیا ہے، ان کی رہائی تو یقینی تھی کیونکہ حکومت کے تمام کل پرزے مل کر اسی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ یوپی میں اس کے بعد کانگریس کی حکومت ختم ہوگئی مگر اس کی جگہ پر ملائم سنگھ یادو، مایاوتی اور بی جے پی کے کلیان سنگھ بار بار اقتدار میں آتے رہے اور انھوں نے کبھی کوشش نہیں کی کہ اس قتل عام کے مجرموں کو سزا ملے۔ یہاں تک کہ خطاکار پولس افسران کو ان لوگوں نے ترقیاں دیں اور ان کے عہدے میں اضافہ کیا۔ یہ سب مسلمانوں کے قتل عام کاانعام تھا۔ ۱۹۸۷ء کا وہ قتل عام جلیان والا باغ کے قتل عام سے بھی زیادہ سنگین اور اندوہناک تھا۔ جلیان والا باغ میں تو گولیاں چلانے سے قبل وارننگ دی گئی تھی اور لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ یہاں سے بھاگ جائیں مگر ہاشم پورہ کے جنرل ڈائر پی چدمبرم نے پی اے سی کو جب مسلمانوں کے قتل عام کا حکم دیا تھا تب اس کی بھی اجازت نہیں دی تھی کہ کوئی بچ جائے۔ بھارت کی تاریخ میں ایسے قتل عام کی مثال نہیں مل سکتی جس قسم کا یہاں پی اے سی سے اس وقت کی کانگریسی حکومت نے کرایا تھا۔گجرات، بھاگلپور، بہار شریف اور مرآداباد مین تو دنگے ہوئے تھے جن میں سے صرف بی جے پی کی حکومت والے گجرات میں کچھ مجرموں کو سزا ہوئی مگر باقی تمام معاملات میں کسی کو سزا نہیں ہوئی کیونکہ قتل عام کا حکم خود کانگریس کی سرکاروں نے دیئے تھے۔ ہاشم پورہ قتل عام کے وقت یوپی میں کانگریس کی سرکارتھی اور ویر بہادر سنگھ وزیر اعلیٰ تھے۔ اس قتل عام سے قبل میرٹھ میں فسادات ہوئے تھے اور پنجاب میں علاحدگی پسندی کی تحریک زوروں پر تھی۔ تب بوٹا سنگھ وزیر داخلہ تھے اورپی چدمبرم وزیر مملکت برائے داخلہ تھے۔ انھوں نے خود میرٹھ کا دورہ کیا تھا اور کتائی مل کے گیسٹ ہاؤس میں قیام کے دوران مسلمانوں کو سبق سکھانے کا حکم جاری کیا تھا۔
کورٹ کا فیصلہ انصاف نہیں دے سکا : دہلی کی تیس ہزاری عدالت نے 1987 کے ہاشم پورہ نسل کشی کے تمام 16 ملزمان کو ثبوتوں کی عدم موجودگی میں بری کر دیا۔اتر پردیش کے میرٹھ میں واقع ہاشم پورہ میں ہوئی نسل کشی میں 42 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس معاملے میں پی اے سی کے 16 جوان ملزم تھے۔ عدالت نے کہا کہ ثبوتوں، خاص طور پر ملزمان کی شناخت سے جڑے ثبوتوں کی کمی تھی۔ ساتھ ہی عدالت نے متاثرین کی بازآبادکاری کا معاملہ دہلی کے ایک ٹربیونل کے حوالے کر دیا۔اضافی سیشن جج سنجے جندل نے کہا کہ تمام ملزم بری کئے جاتے ہیں۔ عدالت ثبوتوں اور خاص طور پر شناخت کی غیر موجودگی میں شک کا فائدہ دیتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ تمام 16 ملزم جنہیں بری کیا گیا ہے وہ واقعہ کے وقت پی اے سی کے عملہ میں تھے۔ بری کئے گئے لوگوں میں سریش چند شرما، نرنجن لعل، کمل سنگھ، بسنت بللبھ، کنور پال سنگھ، بدھا سنگھ، رامبیر سنگھ، لیلا دھر،جے پال سنگھ، مہیش پرساد شامل ہیں۔ مہیش پرساد اور کنور پال سنگھ کے علاوہ تمام ملزم عدالت میں موجود تھے اور ضمانت پر رہا ہیں۔عدالت نے اس سے پہلے 22 جنوری کو آخری دلیلوں کو سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ خاص لوک پراسیکیوٹر ستیش ٹمٹا نے کہا کہ پی اے سی جوان 22 مئی 1987 کوآئے تھے اور وہاں ایک مسجد کے باہر جمع 500 میں سے تقریبا 50 مسلمانوں کو اٹھا کر لے گئے تھے۔ پراسیکیوٹرز نے کہا کہ متاثرین کو ملزمان نے گولی مار دی اور ان کی لاش ایک نہر میں پھینک دئے۔نسل کشی میں 42 لوگوں کو مردہ قرار دیا گیا۔ اس واقعہ میں پانچ افراد زندہ بچ گئے، جنہیں پراسیکیوشن نے گواہ بنایاحالانکہ یہ پانچ گواہ ملزمان کو شناخت نہیں کرپائے کیونکہ انھوں نے ہلمٹ پہن رکھے تھے اور رات کا وقت تھا۔اس معاملے میں اہم عدالتی مجسٹریٹ، غازی آباد کے سامنے 1996 میں چارج شیٹ دائر کی گئی تھی۔ اس میں 19 افراد کو ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا اور ان میں سے 16 کے خلاف 2006 میں یہاں کی عدالت نے قتل، قتل کی کوشش، ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور سازش کے الزام طے کئے تھے۔ ستمبر 2002 میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر معاملہ دہلی منتقل کیا گیا، جن 16 ملزمان کو بری کیا گیا وہ اب بھی زندہ ہیں۔سماعت کے دوران 19 میں سے تین ملزمان کی موت ہو گئی۔لیکن یہاں جو بات سب کے دماغ میں بار بار آتی ہے کہ جب ان پولیس والوں نے ان 42 مسلمانوں کو موت کے گھاٹ نہیں اتارا تو آخر کار اتنی بڑی تعداد میں قتل عام کیسے ہوا؟ آخر کون تھا اس قتل عام کے پیچھے یہ سب جانچ کا موضوع ہے لیکن کچھ ایسے نقطہ ہیں جن پر غور کیا جا سکتا ہے جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ آخر کیوں اس معاملے میں ملزم بنائے گئے تمام افراد کو کورٹ نے بری کیا ؟۔
ہاشم پورہ سانحہ، آزادی کے بعد ملک میں حراست میں موت کا سب سے سنگین معاملہ بن کر سامنے آیا تھا جس کی مثال دنیا میں اگر کہیں ملتی ہے تو جرمنی کی تاریخ میں جہاں یہودیوں کو ہٹلر نے بری طرح روند ڈالا تھا۔ اس واقعے نے خاکی وردی کو داغدار کردیا تھا اور مسلمانوں کے دلوں سے ہمیشہ کے لئے اس کا احترام ختم کردیا تھا۔ان کے ذہنوں میں آج بھی خاکی کی تصویر کسی ہلاکو اور چنگیز سے کم نہیں ہے۔اس کا خوف آج تک ہاشم پورہ ہی نہیں بلکہ میرٹھ کے لوگوں کے دل و دماغ پر سایہ کی طرح چھایا ہوا ہے۔
غوث سیوانی، نئی دہلی

 

عام آدمی پارٹی کا بحرا ن غیر متوقع نہیں تھا

مکرمی!

کانگریس کے ہندو رہنماؤں میں مہاتما گا ندھی واحد ایسے ہندو رہنما تھے جن پر مسلمانوں نیاعتماد کیا ،اور بیشک انہوں نے آخری وقت تک ہندوستانی جمہوریت میں مسلمانوں کے شکستہ اعتماد کو بحال کرنے کی ناکام کوشش بھی کی ،شاید یہی وہ اعتماد تھا جسکی وجہ سے مسلمان تقریبا آدھی صدی تک کانگریس کے فریبی سیکولر کردار سے دھوکہ کھاتا رہا ہے۔ افسوس کہ جسٹس مارکنڈے کا ٹجو نیجواہر لال نہرو کی سوانح حیات کاحوالہ دیتے ہوئے ہندوستانی تا ریخ کے اس واحد سنہرے کردار کو بھی بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ داغدار کر نے کی ناکام کوشش کی ہے مگر جواہر لال نہرو اور سردار ولّبھ بھاء پٹیل کیجس مشتبہ کردار پر بحث ہونی چاہیے تھی اس کا ذکر تک بھی نہیں کیا گیا۔ جبکہ ہندوستانی جمہوری سیاست کو نیا رخ دینے میں انہیں دونوں شخصیات کا اہم کردار رہا ہے۔انہوں نے اپنی پوری زندگی میں نہ صرف آر ایس ایس اور ہندو شدت پسند تنظیموں کو پنپنے دیا بلکہ بابری مسجد میں تالا لگا نے سے لیکر شیلانیاس اور شہادت تک اس درمیان مختلف فسادات میں ان کی پارٹی کانگریس نے بھی مسلمانوں کے قتل عام پر خا موشی اختیار کی۔جبکہ مہاتما گاندھی جب تک زندہ رہے انہوں نے تقریباّ ہر فساد میں مسلمانوں کے قتل عام پر بھوک ہڑتال کے ذریعے اپنا احتجاج درج کیا۔ سب سے پہلے تو ہمیں یہ بات بھی سمجھ میں نہیں ا?ئی کہ اس بے وقت کی راگنی کا مطلب کیا تھا ؟اگر جسٹس مارکنڈے کا ٹجو نے کسی کے اشارے پر ملک کے موجودہ نازک حالات پر پردہ ڈالنے کے لئے گاندھی کو مجرم ٹھہرانیکی ناپاک جراْت کی ہے تو وہ خود بیوقوف ہیں۔عوام اب اتنے بیوقوف بھی نہیں رہے۔ اگر مہاتما گا ندھی اپنی سخت مذہبی ذہنیت کی وجہ سے غلطی پر تھے تو اس غلطی کی انہیں سزا بھی مل چکی تھی! سوال یہ ہے کہ بعد میں حکومت کے اہم عہدے پر کون تھا آخرجواہرلال نہرو اور ولّبھ بھا ء پٹیل سے لیکر تمام کانگریسیوں کو کس نے روکا تھا کہ وہ گاندھی کی غلط مذہبی روایت کو درست نہ کریں۔ کانگریس اور کاٹجو کے تعلق سے ہماری اس تمہید کا اصل مدعا یہ ہے کہ ہندوستان کا مسلمان ایک زمانے سے سیاست کی بھول بھلیوں میں بھٹک رہا ہے اور اب ایک بارے پھر سے عام آدمی پارٹی اور کیجریوال سے دھوکہ کھانے کے لیے تیار ھے ! ہو سکتا ہے ہم غلط پربھی ہوں مگر دلی کے الیکشن میں اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد نہ صرف کیجریوال کے ساتھی اسی طرح انا اور تکبر کے شکار ہو گئے ہیں ،جیسے کہ آزادی کے بعد گاندھی کے بیشتر ساتھیوں کے مزاج اور رخ میں تبدیلی واقع ہو چکی تھی۔ یہاں پر تو خود محترم اروند کیجریوال کی چال ڈھال میں بھی نمایاں فرق محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پر شا نت بھو شن اور یوگیندر یادو سے غلط فہمی کی بنیاد پر کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہوں جس کے ذمہ دار خود کیجریوال بھی ہیں جنھوں نے بعد میں شامل ہونے والے ممبران سے زیادہ قربت بڑھا کر پارٹی کے ان دونوں سینئر لیڈران کو نظرانداز کرنے کی حماقت کی ہے۔ بعد میں خود بھی ضد پر اڑے رہے کہ وہ انکی موجوگی میں پارٹی کا کام دوبارہ نہیں سنبھال سکتے جبکہ انہیں ایک پارٹی کاسربراہ ہونے کی حیثیت سے اپنے رویے میں لچک پیدا کرنی چا ہیے تھی اور ان دونوں لیڈران سے بار بار مل کر انہیں اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔یہاں پر مسلمانوں کیلیے غور کرنے کی بات یہ ہے کہ فی الحال ابھی جو لوگ کیجریوال کے ساتھ ہیں مسلمانوں کے تئیں ان کا اپنا نظریہ بہت واضح نہیں ہے اگر کیجریوال مسلمانوں کے لئے گاندھی بھی ثابت ہوتے ہیں تو بھی مسلمانوں کو اس دوسرے گاندھی سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔اور جیسا کہ ہم اپنے پچھلے مضمون ’’عام آدمی کے ادھورے انقلاب کے جشن ‘‘میں یہ لکھ چکے ہیں کہ جس طرح آزادی کے بعد آر ایس ایس نے کانگریس میں اپنے تربیت یافتہ افراد کو شامل کر کے اس کا رخ موڑ دیا عام آدمی پارٹی کا حشر بھی وہی ہو سکتا ہے۔مسلمانوں کے لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھتے ہوئے اگر ممکن ہو سکے تو اپنے امام اور اپنی سیاسی قیادت کو خود مضبوط کریں۔ ورنہ بار بار کے یہ گاندھی ہمیں ہماری عبادت اور اقامت الصلوٰۃ کے معنی اور مفہوم سے بھی محروم کر دیں گے۔
عمر فراہی
جوگیشوری،ممبئی موبائل: 9699353811
 

 

قرعہ اندازی تقریب ایک فضول خرچ تقریب!

مکرمی!

دہلی میں ہونے والی قرعہ اندازی کی تقریب کو عوامی سطح پر اس بار ختم کردیا گیا،کیونکہ مرکزی حج کمیٹی کمپوٹرائز طورپر قرعہ اندازی کے عمل کو انجام دیتی ہے، صوبائی حج کمیٹیوں کا کام صرف اس کو مشتہر کرنا ہوتا ہے، جس سے حج درخواست گزار کو مطلع کیا جاسکے،وہ یہ کام کسی خصوصی تقریب کا انعقاد کئے بغیر اپنے دفاتر سے بہ خوبی انجام دے سکتی ہے، اس سال مرکزی حج کمیٹی کے جو اعداد شمار دستیاب کئے گئے ہیں اس کے مطابق اس کو 3لاکھ 83ہزار درخواستیں دستیاب ہوئیں،اس سال سعودی حکومت کی جانب سے 94 ہزار کا کوٹہ ابھی تک ملا ہے،جس سے 2لاکھ 79 کی درخواستیں ردّ کی کی ٹوکری میں جائیں گی، جوحج درخواستیں ردّی کی ٹوکری میں ڈالی جائیں گی،ان ردّ درخواستوں سے مرکزی حج کمیٹی کو تقریباً 8کروڑ 37 لاکھ کا فائدہ ہوا،یہ رقم تقریباً اتنی ہے اس رقم سے( اگر دہلی وقف بورڈ اپنی ماتا سندری گوردوارے کے پاس پڑی خالی جگہ ملت اسلامیہ کو دے)، تو اس جگہ پر دہلی میں ایک شاندار حج ہاؤس، اور ایک اردوہائرسکنڈری اسکول تعمیر کیا جاسکتا ہے، فی الوقت اگر دہلی کی بات کی جائے تو دہلی میں

 (1)کُل 8875 حج درخواستیں موصول ہوئیں
 (2)دہلی کا کوٹہ صرف 1163 کا ہے،

 (3)ان میں سترسالہ لوگوں کی درخواستیں 263ہیں

 (4)جبکہ چارسالہ والے 1133افراد ہیں

 (5)یہ تعدادکل 263+1133))1396=ہے،

 (6)اس لئے قرعہ اندازی کا کوئی جواز تھا ہی نہیں۔
مذکورہ اعداد شمار سے پتہ چلتا ہے کہ رضا کارتنظیمیں جو عازمین حج کی خدمت پر مامور ہوتی ہیں، ان سے عازمین حج کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا زیادہ فائدہ مرکزی حج کمیٹی کو ہوتا ہے ۔قرعہ اندازی تقریب ایک فضول خرچی پر مبنی ہوتی ہے،اب سوال یہ ہے کہ جب مرکزی حج کمیٹی کومطلوبہ حج درخواستیں موصول ہوئیں، توپھر درخواست فارموں کی تاریخ کیوں بڑھائی جاتی ہے،بات عازمین حج کا کوٹہ میں بڑھانے کی ہے، یہ حج کوٹہ سعودی حکومت کی طرف سے مقرر ہوتا ہے،جس کی پابندی ہر ایک کوکرنی ہوتی ہے،تو پھر مقرر کوٹہ کے حساب سے ہی حج درخواستیں وصول کی جائیں،جس سے ایک بڑی تعداد کوپریشانی بچایا جاسکتے،ہاں اگر عازمین حج کی اضافی رقم جو مرکزی حج کمیٹی کے پاس جمع ہوتی ہے یا جمع شدہ ہے وہ رقم ملت اسلامیہ کے تعمیراتی کاموں میں لائے جاتی ہے،تو اس سلسلے کو جاری رکھا جائے، اگر ایسا نہیں ہے تو پھراس پر نظر ثانی کی جائے،فی الوقت موجودہ طریقہ کار عازمین حج کیلئے پریشانی کاسبب زیادہ ہورہا ہے۔بہرحال مسلمانوں کے مذہبی لیڈران کو حج کوٹہ میں اضافہ کیلئے سعودی حکام سے بات کرنی چاہئے،ان کو ہندوستانی عازمین حج کا درد ان کے سامنے رکھنا چاہئے،اضافہ کا مسئلہ وہی حل کراسکتے ہیں، ان کو سیاسی معاملات کے بجائے مذہبی معاملات میں زیادہ توجہ دینی چاہئے،
ایاز محمود
ایس ایل ہاؤس، نزدحج منزل، ترکمان گیٹ،دہلی۔2

 

انصاف ظالموں کی حمایت میں جا ئے گا

مکرمی !

گذشتہ دنوں ہاشم پورا ملیانہ قتل عام کا جو فیصلہ آیا اس فیصلے نے ان لوگوں کے زخم پھر سے ہرے کر دیئے جو لوگ پچھلے28 سالوں سے اپنے زخموں کی نمائش نہ کر تے ہو ئے مسلسل عدلاتوں کے چکر لگا رہے تھے اس امید پر کہ انہیں ہندوستان کی عدلیہ سے انصاف ملے گا مگر جب جج صاحبان ۱۹ پی اے سی کے نوجوانوں کو یہ کہ کر با عزت بری کر دیتے ہیں کہ کو ئی ایسے ٹھوس ثبوت نہیں ہیں جن کے بنیاد پر انہیں خطاوار ٹھرایا جا سکے ۔عدالت کے اس فیصلے کے بعد ایک بار پھر ہندوستان کے ان مظلومین اور متاثرہ افراد کا اس ملک کی عدلیہ پر سے بھروسہ اٹھ چکا ہے اور اب تو ہاشم پور ملیانہ کے مظلومین کو یو ں محسوس ہو نے لگا ہے کہ اب تو نا ممکن ہے کہ انہیں انصاف ملے ۔ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ42معصوموں کے قاتلوں کو 28 سال بعد بھی سزا نہیں ملی اور وہ با عزت بری ہو گئے ۔اب اس وقت ملک کی تمام تنظیمیوں و سیاسی پارٹیاں ہاشم پورہ متاثرین کے ساتھ ہمدردی جتا رہے ہیں اور انہیں سپریم کورٹ سے انصاف دلانے کا دلاسہ دے رہے ہیں ۔کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں28۔28سال تک مقدمے چلتے ہیں اور اس کے بعد مجرم با عزت بھی بری ہو جاتے ہیں ۔ہاشم پورہ کے لوگ اس انتظار میں تھے کہ انہیں انصاف ملے گا اور انتظار کرتے کرتے28 سال گذر گئے اور اسی درمیان 19میں سے 3 لوگوں کا انتقال بھی ہو جاتا ہے ۔اور مجھے پورا یقین ہے کہ اس معاملے کو لے کر سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے آتے جو16 ملزمان زندہ ہیں وہ بھی مٹی میں دفن ہو جائیں گے اگر جرم ثابت نہیں ہوتا ہے تو کو ئی بات نہیں لیکن اگر وہ مجرم ثابت ہوتے ہیں تو کیا ہندوستان کی عدلیہ و حکومت ان کے روحوں کو سزا دے گی ۔آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ
انصاف ظالموں کی حمایت میں جا ئے گا
یہ حال ہے تو کون عدالت میں جا ئے گا
آصف آر این

اشرف پور ،اسرہٹا ،پوسٹ شاہ گنج ،ضلع جونپور ،اتّر پردیش

 


’’آپ ‘‘نے بی جے پی کی امیدوں پر جھاڑو پھیردیا
مکرمی!
الیکشن 2015 میں سبھی پارٹی نے ایڑی چوٹی کا زور لگایالیکن جب نتیجہ سامنے آیا تو بی جے پی کو مایوسی کا سا منا کرنا پڑا اچھے دن لانے کا وعدہ کرکے عوام کو چاند ہتھیلی پر دکھاتی آئی ہے عوام پر یشان ہے۔ کسان خودکشی کررہے ہیں۔ LBT قانون نے کارخانہ داروں کی کمرتوڑ دی ، مہنگائی آسمان چھورہی ہے عوام میں بہت دم خم ہے وہ چاہے تو وعدہ خلا ف پارٹی کو منہ کے بل گرا دے اور چاہے تو عام آدمی پارٹی کی طرح عزت وقار عطا کرے ۔ آپ کے ممبرآف پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ استقبالیہ جشن اور مبارکباد کے بجائے کام میں لگیں مسلمانوں سے سوتیلا سلوک کرنے والی زعفرانی پارٹی اور کانگریس جو مسلمانوں کو ریزرویشن دینا ہی نہیں چاہتی دونوں سے ہی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اگر آپ کی کارکردگی بہتر رہی تو انشاء اللہ ہرریاست میں ہرالیکشن میں عام آدمی کی جیت ہوگی۔
آصف پلاسٹک والا
آگری پاڑہ ممبئی ۔11

 

سیاسی ایمانداری اور ایمان

مکرمی!
دہلی میں نووارد عام آدمی پارٹی کا وجود بد عنوانی کیخلاف احتجاج درج کرانے سے ہوا۔دنیا شاہد ہے کہ جب بدعنوانی پر لگام لگانے کا مطالبہ اور لوک پال و سوراج کا مطالبہ کیا گیا تو خود سیاسی پارٹیوں نے کجریوال سے کہا کہ اگر آپ کرپشن ختم کرنا چاہتے ہیں اور لوک پال کے ذریعے سوراج لانا چاہتے ہیں تو انتخاب لڑیں اور پارلیمنٹ یا اسمبلی میں آکر از خود اس کام کو انجام دیجئے ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب جب بدعنوانی کیخلاف کسی نے آواز اٹھائی کسی نہ کسی صورت میں اس کی سزا اسے ملی ۔یہ بات تمام سیاسی لیڈروں کے علم ہے اور اسی لئے انہوں نے کہا کہ ملک سے بدعنوانی ختم کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے ۔ایسے ناگفتہ بہ حالات میں کجریوال کی ٹیم نے دم خم دکھاتے ہوئے نا صرف ان کا جواب دیا بلکہ انہوں انا ہزارے کی مرضی کیخلاف پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا اور با ضابطہ اس کا اعلان بھی کیا ۔حالانکہ بدعنوانی کیخلاف تحریک کے روح رواں انا ہزارے سیاسی میدان کو گندگی سے تعبیر کرتے آئے ہیں اور انہوں نے کبھی بھی اس کی تائید نہیں کی لیکن حالات کے مطابق انہوں نے گاہے بگاہے کجریوال کی تائید اور حوصلہ افزائی کرتے رہے ۔بہر کیف بہت کم وقت میں کجریوال نے وہ کامیابی حاصل کی جس کی نظیر مشکل سے ملتی ہے ،خاص کر سیاسی میدان میں اتنی تیزی سے کوئی آگے پیش رفت نہیں کر سکتا ہے لیکن کجریوال نے یہ کر دکھا دیا ۔پہلی بار جب ان کا کوئی نام و نشان نہیں تھا انہوں نے ۲۸؍سیٹیں لاکر سب کی توجہ کا مرکز بنے اور جب انہیں احساس ہو گیا کہ جب کسی کو امید ہی نہیں تھی تب اتنی سیٹیں جیت کر حکومت بنا لی ہے تو اب جب ان کے کام اور فکر سے دنیا واقف ہو چکی ہے اور انہیں جتنی پذیرائی ملنی تھی مل گئی ہے تو انہوں نے لوک سبھا الیکشن میں حصہ لیا ۔یہ الگ بات ہے کہ پارٹی پورے ہندوستان میں چار سو سے زائد سیٹ جیتنے کے با وجود محض چار سیٹوں پر سمٹ گئی ۔لیکن سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ پارٹی کی شاخیں ہر ضلع میں قائم ہو گئی اور اس پارٹی کی پہچان قومی سطح پرہونے لگی ۔بہر کیف انہوں نے دہلی میں دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیا اور پھر الیکشن ہوا جس کے نتائج سب کے سامنے ہے کہ عام آدمی پارٹی نا صرف اپنی جیت درج کرائی بلکہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری اور سب کو پچھاڑ دیا ۔اس غیر معمولی کامیابی سے جہاں عام آدمی پارٹی کے حوصلے بلند ہوئے ہیں وہیں فرقہ پرست اور وعدہ خلاف پارٹیوں کے ہوش اُڑگئے ۔ان سب کامیابی کے پیچھے کون سی چیز کارفرما تھی وہ کیا بات تھی جس کے بل بوتے پر اتنی بڑی کامیابی ملی اور آج وہ پارٹی دنیا میں بھر میں مشہور و معروف ہو کر دہلی جیسے راجدھانی میں حکومت کر رہی ہے ۔یہ امت مسلمہ کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔جب ایک شخص ایماندار ی کی بات کہہ کر اتنی بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے ۔جب ایمانداری کی دہائی دیکر کوئی شخص دہلی میں پرچم لہرا سکتا ہے تو وہ قوم جس کے پاس ایمان جیسی طاقت ہے وہ کیوں کر ناکام ہو سکتی ہے ۔جب ایک شخص جس کے پاس خوفِ خدا بھی نہیں ہے اور ناکوئی نظریہ حیات ہے اور نہ کوئی ایسی فکر ہے جو اس کو ابدی ابدی جنت اور دوذخ کی بشارت دے اس کے باوجود عوام اس کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں ۔ٹھیک جب ماضی میں مسلمان اور علماء کرام ایمان کی دولت لیکر دنیا کے سامنے پیش کیا اور خود اللہ کے رسول اللہ نے ایسے زمانے میں ایمان کو پیش کیا جب ہر خیر ناممکنات میں شامل تھی ۔ظلم و جبر اور فحش کا بازار گرم تھا ہر جگہ ناک کی لڑائی چھڑی تھی کوئی کسی کو داماد بنانے کیلئے راضی نہ تھا بلکہ اس کے خوف سے ہی اپنی لاڈلی بیٹی کو زندہ درگور کر دیتا تھا ،ایسے حالات میں اللہ کے رسول ؐ نے ایمان کی دولت سے پورے عرب معاشرہ کی کایا پلٹ دی ۔اس کے بعد دنیا نے وہ دن بھی دیکھا جب بنو امیہ کے ایک خلیفہ نے کہا تھا کہ’’ ائے بادل توجہاں بھی جائے گا وہاں کا خراج میرے پاس آئے گا ۔یعنی دنیا کا کوئی ایسا کونہ نہیں تھا جہاں اسلامی سلطنت میں سورج غروب ہوتا ہو پوری دنیا میں اسلامی حکومت قائم تھی ۔آخر وہ ایمان کی ہی دولت تو تھی جس کے سہارے مسلمانوں نے پوری دنیا میں بے مثال حکومت قائم کر کے دکھا دیا اور بڑی تعداد میں بندگان خدا اسلام کی آغوش میں آتے رہے اور اس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے چونکہ حق غالب ہونے کے لئے ہی آیا ہے اور وہ غالب ہو کر رہے گا ۔ہندوستانی مسلمان ذرا ان پہلوؤں پر غوروفکر کریں آخر وہ کون سی بات تھی جس کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا میں ذلت و رسوائی کا سامنا کر رہے ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارا ایمان ختم ہو گیا ہو اور ہم آسمان سے زمین پر پٹخ دےئے گئے ہیں ۔سوچئے جو لوگ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ اب ایماندار ی سے ترقی نہیں کر سکتے یا پھر آج ایمان سے کیا ہوگا آج اس تیز رفتار دنیا میں ترقی کیلئے ایمان ہونا اور ایمان داری کی بات کرنا فضول ہی نہیں بلکہ اپنی ترقی کو تنزلی میں بدلنے کے مترادف ہے لیکن مسٹر کجریوال نے تو ایمانداری کی قسم کھا کر دہلی کی کرسی حاصل کر چکا ہے تو بتائے اگر دنیا کے سامنے ایمان پیش کی جائے تو کیا کیا حاصل ہو سکتا ہے ۔ایمان اور ایمانداری کی اہمیت کل بھی تھی اور آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے ایمان کی طاقت کو پہچان لیں اور دنیا کے سامنے ایمان پیش کریں تو وہ وقت دور نہیں کہ پھر سے اسلام کا سورج پوری دنیا میں چمکے گا اور دنیا کا کوئی کونا ایسا نہیں ہوگا جہاں سورج غروب ہو جائے ۔جب ایمانی فیصلہ ہوتا ہے تو دنیا دیکھتی رہ جاتی ہے کہ انقلاب کیسے آتا ہے اور اسلام دشمن طاقتیں کیسے شکست سے دوچار ہو تی ہیں ۔اگر ہم کامیابی چاہتے ہیں اور فرقہ پرستی پر لگام لگانا چاہتے ہیں تو ہمیں برادران وطن کے سامنے حق کو پیش کرنا ہوگا اور اپنے ایمان کا جوہر دکھا کر ان کے دلوں میں خوف خدا پیدا کرنا ہوگا ،ان کیساتھ معاشرہ میں معاملات ایمان کیساتھ کریں ان سے محبت کریں اور فائدہ یا نقصان کا ذمہ صرف اس خدائے واحد پر چھوڑ دیں جس کے قبضہ قدر میں ساری دنیا ہے اور وہی سب کا نگہہ بان ہے ۔
فلاح الدین فلاحی 
شاہین باغ ،جامعہ نگر اوکھلا نئی دہلی ،9211382663

 

ہاشم پورہ کے مظلوموں کو انصاف کی امید

مکرمی!

ہندوستان میںآبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صو بہ یوپی کے ضلع میرٹھ میں12 مئی 1987 ء کو رمضان کے مہنے میں جب لوگ اپنے دینی اجتماع میں مصروف تھے تبھی پی اے سی کمانڈر سریندر کمار کی قیادت میں19 نوجوان کا قافلہ ہاشم پورہ پہونچااور تھانہ لے جانے کے بہانے ان میں سے 50 کو گاڑی میں بھر کر ایک مخصوص مقام پر لے جاکر ان کو گولیوں سے بھون دیا گیااور ان کی لاشوں کوگنگ نہر میں ڈال دیاگیا اس کے تھوڑی ہی فاصلے پر پولیس اسٹیشن بھی واقع ہے ۔جب پی اے سی کے نوجوان گولیوں سے ان کے جسم کو چھلنی کر رہے تھے اور گولیوں کی آواز سناٹوں کو چیر کر خاموشی کی منہ نوچ رہی تھی ،تبھی اس پولیس اسٹیشن کے انچارج بی بی سنگھ کو گولیوں کے ساتھ انسانوں کے چینخ وپکار سنائی دی تو وہ موٹر سائیکل پر دوساتھیوں کے ساتھ اس سمت گئے تو تنگ راستے سے پی اے سی کا ایک ٹرک ملاجس پر ۴۱ ویں بٹالین لکھاہواتھاکچھ دور چلے تو انہیں انسانوں کا تازہ خون کے دھبے دیکھائی دئے جن سے یہ صاف ظاہر ہورہاتھا کہ ان کاقتل ان نوجوانوں نے کیاہے جو ابھی گاڑی سے جارہے تھے اس کے بعد یہ خبر ضلع کلکٹر نسیم زیدی کو دی گئی فورا وہاں ضلع کے افسران پہونچ گئے اور سب نے اس انسانیت سوز ،درندگی کے منظرمشاہدہ کیا ، جس کے نظارہ سے ایک حیوان بھی شرماجائے اس منظر کو دیکھ کر دل دھل جائے ذہن ودماغ ماؤف ہوجائے،آنکھیں از خود اشک بار ہو جائے۔
معصوم لوگوں کوانصاف اور مجرموں کو جرم کی سزادلانے کے لئے عدالت کادروازہ کھٹکھٹایاگیاسب سے پہلے معاملہ غازی آباد کے کورٹ میں زیر سماعت رہی پھرحکومت کے پشت پناہی اور بے مداخلت کے پیش نظر اس معاملہ کو تیس ہزاری کورٹ میں2002 میں منتقل کردیاگیا جہاں اس معاملہ کی سنوائی۱۳ سال تک ہوتی رہی لوگوں کی ا میدیں اس پر قائم رہی کہ ایک نہ ایک دن ان مجرموں کو ضرور سزا ملے گی۔ لوگوں کی آنکھیں اس عدالت کی کرسی پر بیٹھے جج پر تھی جو عدال و انصاف کارکھوالہ ہے جو اپنی قلم سے عارضی تقدیر لکھتاہے جن کے ایک جملے سے کسی کی زندگی بدل سکتی ہے ،مگر وہ کیاکرے وہ گواہوں اور شواہد کو دیکھ کر ہی فیصلہ کرتاہے ۔لوگوں کے لئے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگئی اور فیصلہ کادن آیا،مگر جج کی زبان سے غیر متوقع فیصلہ سنایا گیا،ان کے خلاف کو ٹھوس ثبوت نہ ہونے کو بنیاد بنا کر ان19 مجرموں کو کلین چٹ دے کر دوڑتی دنیا کو حیران کردیا۔یہ حقیقت ہے کہ22مئی1987ء کو24لو گوں کو بے رحمی سے قتل کیاگیاتھا،سوال یہاں یہ ہے ان لوگوں کو قتل کس نے کیا توجواب یہ ہے کہ ان کا قاتل پی اے سی کے لوگ ہیں اس بات کو ثابت کرنے کے لئے عینی گواہ بھی ہے اور وہ بھی ہیں جن کو گولی ماری گئی ان میں سے بعض ابھی تک زندہ ہیں ،ان کے علاوہ پورے گاؤ ں والے ہیں جن کے سامنے سے پی اے سی والے ان لوگوں کو اٹھاکر لے گئے تھے ،عینی گواہ بی بی سنگھ انچارج ہین جنہوں نے اس ٹرک کو اس موت کی جھاڑی سے جاتے دیکھاتھا،ان چار لوگوں کی آب بیتی جن کو گولی مار کرنہر میں ڈال دیاتھا آخر وہ اپنے قاتل کو کیسے بھول سکتے ہیں ،ان گاؤں والوں نے پی اے سی کے نوجوانوں کو دیکھاہے جو ان کے لڑکے ،بھائی، باپ کو اٹھاکر لے گئے تھے ،کیا انچارج بی بی سنگھ کی گاڑی کانمبر بتانا اور بتاناکہ اس گاڑی میں پی اے سی کے نوجوان ہی تھے ،گواہی کے لئے کافی نہیں ہے ۔کیاباب الدین ( جو ان میں سے زندہ بچ گیاتھا) کی گواہی ناقابل قبول ہے جو اپنے قاتل کو بتارہاہے کہ یہی وہ جلاد ہیں جنہوں نے ان پر گولیان چلائی تھی ،کیااس گاؤں والوں کی گواہی پختہ نہیں ہے جو یہ کہ رہے ہیں کہ ان پی اے سی کے نواجونوں نے ہمار ے ۵۰ لوگوں کو ہمارے سامنے سے لے گئے تھے ۔کیاسب باتیں جھوٹی ہیں کیاان کی گواہی بے بنیاد ہیں کیاباب الدین پر بیتے ہوئے موت کے نظارہ ایک خواب ہے ،ہر گز نہیں ہر گز نہیں ،آخرکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔
مزید سوال یہ ہے کہ جب غازی آباد میں اس وقت کے آئی پی ایس وبھوتی نرائن رائے نے اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا اور تفتیش کرنے لگے تو اس کے بعد چند گھنٹوں میں ہی انہیں کیوں روک دیاگیا؟اورکیوں اس کی زمہ داری سی آئی ڈی افیسر کو دے دی گئی ؟مسٹر رائے نے کہاکہ ’’عمومی طور پر اس فیصلہ پرکوئی شخص سوال نہیں کرسکتاہے کہ کیوں کہ سی آئی ڈی کے پاس وافر ذرائع ہوتی ہیں اور زیادہ بہتر طریقے سے تفتیش کرسکتی ہے لیکن اس معاملے میں ایسا کچھ نہیں ہوابلکہ اس کہ تفتیش بے دلی اور غیر ذمہ دارانہ طور پر کی گئی اس سے صاف ظاہر ہورہاہے اس سے اس کیس کے اصل مجرموں کو بچایاگیاہے ‘‘مسڑرائے کے قول کے مطابق یہ بات ظاہرہوتی ہے کہ ا بھی تک اس معاملہ کی جانچ نہیں ہوئی ہے ،اس سے یہ بھی ثابت ہوگیاکہ اس میں کسی بڑے سیاست داں کاہاتھ ہے جو ان کے پیچھے ان کی پشت پناہی کررہاہے ۔
اسلئے ہماری درخواست ہے ان حق کے لئے لڑنے والے مجاہدین ہاشم پورہ والوں سے کہ وہ اس معاملہ کو سپرم کورٹ تک لے جائیں اور عدالت سے یہ التجاہے کہ ان تین سبک دوش آئی پی ایس افسران کے ذریعہ از سر نو اس معاملہ کی تفتیش کرائیں،تاکہ اس قتل کے حقیقی قاتل کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایاجائے اگر آپ نے ان آلہ کو چھوڑدیا ہے جس کے ذریعے 54 لوگوں کی جان لی گئی ہے تو ہمیں آپ سے صحیح ملزم کو پھانسی تک پہونچاکے فیصلے کا انتظارہے ،کیوں کہ ہماری آنکھیں انصاف کے لئے بیتاب ہیں۔،
شاہد اقبال
ماس میڈیا جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی

 

تین سو دنوں میں اچھے د ن آسکتے ہیں مگر

مکرمی!
لوگوں نے کانگریس کی حکومت کو دیکھا اور اس سے پیچھاچھڑانے کیلئے پوری کوشش کی اور بی جے پی کو بر سر اقتدار لایا اس امید سے کہ وہ ملک کی حالت کو درست کرے گی،یہاں سے رشوت گھوٹالہ کاخاتمہ کرے گی منہگائی پر کنٹرول کرے گی اور عوام کے لئے اچھے دن لائے گی لیکن اس وقت ملک کی حالت اور بھی زیادہ خراب ہوگئی ہے منہگائی سر چھڑکر بول رہاہے ،غریب کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے وہ دو وقت کی روٹی کے لئے تڑپ رہاہے ،بے روز گاری کو دور کرنے کے لئے اب تک کوئی خاص قدم نہیں اٹھایاگیالوگ اب بھی نوکرے کی تلاش میں در بدر پھر رہے ہیں۔نریندر مودی سب کاساتھ اور سب کاوکاس کے نعرہ کے ساتھ تو حاکم بن گیاہے مگراب تک بھی جز پر عمل نہیں کر پارہاہے ،سب کو جوڑنے کی بات تھی لیکن اس وقت ان کے بڑے بڑے لیڈران لو جہا کے ناپر، تو کبھی غیر ملکی کہ کر تو کبھی ان کی عبادت گاہوں کوتوڑنے کی بات کہہ کر، تو کبھی گھر واپسی کا بے بنیاد موضوع لیکر عوام کے درمیان اتحاد توڑنے کاکام کررہے ہیں ۔یہ بات ہر ایک کو معلوم ہے کہ ملک کی تعمیر وترقی گارے ،مٹی ،سمینٹ یا اینٹ سے نہیں ہوتی بلکہ ملک کی تعمیر اتحا دو اتفاق اور یکجہتی سے ہوتی ہے اس لئے ہم حکومت وقت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اب جو ہواسو ہوااس پر مٹی ڈالئے اور ہر اس فردکوکڑی سے کڑی سزادی جئے جو ء اپنی نفرت آمیز بیان سے اپنی تحریرسے ہندوستان کی فضا کو مکدر کرکے فرقہ پرستی کو فروغ دے رہاہے اور اس ملک کو تنزلی کی طر ف لے جاناچاہتاہے ایسے افراد چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان چاہے کانگریسی ہو یابی جے پی کا لیڈر ان سے انکی بولنے کی طاقت چھین لیں ان سے ان کا قلم ضبط کرلیں کر اس طرح سزا دیں کہ وہ اس طرح کے بیان دینے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچے ،اگر آپ نے ایساکیاتو یقیناًبہت ہی کم عرصے میں ہماری تمام پریشانیاں دور ہوجائیں گی ممکن ہے کہ آپ تین سو ساٹھ دنوں میں تمام بولنے والوں کے زبانوں پر تالہ لگاسکتے ہیں ورنہ آپ اگر ۱۰ سال بھی حکومت کریں گے تب بھی آپ اس ملک کو بربادی کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتے۔
شاہد اقبال
معہدالدراسات العلیاء بٹلہ ھاوس نئی دہلی
 

 

افسوسناک فیصلہ
مکرمی!
21مارچ2015ء رات10بجے لکھنؤسے دہلی آرہا تھا ٹرین سے اترکرایک ہندی کا اخبار’’نوبھارت ٹائم‘‘خریدااورجیسے ہی اس کی ہیڈنگ پر نظرپڑی کہ ’’ہاشم پورہ کے قاتلوں کوتیس ہزاری کورٹ نے باعزت بری کردیا‘‘توبہت ہی زیادہ مایوسی اورافسوس ہواکہ عدالت نے ان42نوجوانوں کے قاتلوں کوشواہد نہ ہونے کے سبب باعزت بری کردیا اورظاہرہے کہ28سالوں سے امیدکی آس لگائے ان 42مسلمانوں کے گھروالوں کومجھ سے کہیں زیادہ مایوسی ہوئی ہوگی جس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔چونکہ عدالت نے شواہد کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنایا ہے اس لئے ہم عدالت کے فیصلے کااحترام کرتے ہیں لیکن یہ حکومت کی لاپرواہی کی انتہا ہے کہ حکومت نے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ثبوتوں کو اکٹھانہیں کیا۔
واضح رہے کہ28سال قبل پی اے سی کے جوانوں نے ایک ٹرک میں بھرکران مقتول مسلم نوجوانوں کوگنگ نہر کے کنارے لے جاکر گولیوں سے چھلنی کردیا اوران میں چندافراد کسی طرح بچ کرنکل بھاگنے میں کامیاب ہوگئے ان کے ذریعہ اس واقعہ کی خبرملی اب تک ان مقتول کے ورثہ ماں باپ،بھائی بہن، بیٹے بیٹیاں،بیوہ اپنے مقتول کے انصاف کی امیدلئے بیٹھے تھے کہ آخر ایک نہ ایک دن انھیں عدالت سے ضرورانصاف ملے گا ۔عدالت کے اس فیصلے نے پھرسوچنے پر مجبورکردیا کہ ہمارے آباء واجداد جب حکومت کرتے تھے توان کی نگاہ میں مجرم مجرم ہوتا تھا قاتل قاتل ہوتا تھا اوران کو سزاملتی تھی ان کے ساتھ کسی طرح کی رعایت نہیں ہوتی تھی کہ یہ مسلمان ہے اس لئے اس کو معاف کردیا جائے اوریہ غیر مسلم ہے اس لئے اس کو چھوڑدیا جائے۔اسلام میں عدل وانصاف کے بہت سے واقعات ہیں ان میں سے ایک واقعہ جس کوبطورنمونہ یہاں پیش کیا جارہا ہے کہ ایک بارایک صحابی اللہ کے رسول کے پاس آئے اورچوری کے مجرم کی سفارش کرنے لگے تواللہ کے رسول ﷺنے فرمایاکہ ’’اگرآج اس جگہ پر میری اپنی پیاری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تومیں اس کے بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا‘‘اس سے معلوم ہوا کہ انصاف میں سب برابرہیں یہاں نہ بیٹا دیکھاجاتاہے نہ بھائی دیکھا جاتاہے ،نہ امیر دیکھا جاتاہے نہ غریب دیکھا جاتاہے بلکہ عدل وانصاف کاجوفیصلہ ہوتاہے اس کو دیکھا جاتاہے چاہے وہ اپنوں کے لئے ہویاغیروں کے لئے ۔کیونکہ ناانصافی سے پورے معاشرے پراس کا برا اثرپڑتاہے۔
اس لئے جہاں آج لوگ مہنگائی بے روزگاری سے پریشان ہیں وہیں عدالت کے بعض فیصلے سے بھی اب لوگوں کواحتجاج کرنے کا موقع ملتاہے عدلیہ کواپنا شفاف اورصحیح موقف اختیارکرنا چاہیے چاہے اس میں کسی کوبھی تکلیف ہو۔عدالت کا تقاضاہے کہ وہ بغیر کسی دباؤاورپریشرکے فیصلہ کرے اوراپنے ذہن ودماغ سوجھ بوجھ کوسامنے رکھ کرفیصلہ کرے ۔اس کے فیصلے سے لوگوں کو انصاف ملنا چاہیے ناانصافی نہیں ۔انصاف انصاف ہوتاہے۔اوروہ لوگ جوعدالت کی کرسی پربیٹھے ہیں وہ بہت قابل اعتماد ہیں اوربھروسے مند ہیں آج بھی عوام،امیر،غریب سب کو یہ اعتمادہے کہ عدالت سے ہمیں انصاف ملے گا۔اللہ عدلیہ کے عہدیداروں کونیک اورصالح بنائے اوران کے ذہن ودماغ سے تعصب ، نفرت،مسلک، مذہب ،ذات پات کے بھیدبھاؤ سے پاک رکھے اورانھیں صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق بخشے۔آمین
ابوفرحان عبدالواحد بلرامپوری
چمن وہار، لونی غازی آباد، یوپی

 

باتیں سہیل انجم جیسے لکھنے والوں کی!

مکرمی!
جناب کیا آپ مسلمان ہیں، داڑھی رکھتے ہیں، ٹوپی پہنتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، کسی مدرسے سے فارغ بھی ہیں تو تنقید کا نشانہ بننے کے لئے تیار ہو جائیں ،ناچیز کا ماننا ہے کہ زعفرانی حکومت ہے، اس لئے اب ہندی و انگریزی اخبارات کے ساتھ ساتھ اردو اخباروں میں بھی نامور صحافی کو مسلمانوں کے اوپر چھینٹہ کشی کرنے کے لئے موٹی رقم دی جانے لگی ہے جو بلا ججھک یہ لکھنے کو تیار ہو جاتے ہیں کہ’’نمازیوں میں برائیاں کچھ زیادہ ہی نظر آتی ہیں‘‘۔۔۔جو شکل و شباہت سے جتنا زیادہ مسلمان دکھتا ہے، اس کے اندر اتنی ہی برائیاں نظر آتی ہیں۔۔۔اس سے کوئی سودا نہیں کرنا، اس لئے کہ وہ مسلمان ہے۔ فلاں شخص داڑھی رکھتا ہے اس لئے وہ بے ایمان ہے۔۔۔، مسلمان ہے، نماز بھی پڑھتا ہے تو دھوکہ دے دیگا۔نامور صحافی سہیل انجم کی یہ رائے ہے کہ مسلمان بے ایمان ہیں، دھوکے باز ہیں، عہد شکن ہیں، بد عہد ہیں اور بے ایمانی کرنے والے ہیں۔گزشتہ روز دہلی کے مختلف اخباروں میں سہیل انجم صاحب کی آرٹیکل’’باتیں ایک آٹو رکشا ڈرائیور کی!‘‘ میں جناب مسلمانوں سے اس قدر خائف ہیں، داڑھی اور ٹوپی کی چبھن وہ برداشت کرنے کو تیار ہی نہیں، نمازیوں کے سجدے سے بھی انہیں اتنی تکلیف پہنچ رہی ہے کہ وہ ہر نمازی کے سینے کو چاک کرکے دیکھنا چاہتے ہیں کہ ایمان کی دولت باقی ہے کہ نہیں،وہیں ہندؤں کی اس قدر تعریف کر رہے ہیں کہ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ سہیل انجم صاحب زعفرانی حکومت سے سانٹھ گانٹھ کر گھر واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔ایک دو ٹکے کا آٹو ڈرائیورنے جب بولنا شروع کیا تو پہلا جملہ اسکا یہی تھا کہ لوگوں کا دماغ خراب ہو گیا۔۔۔اور جناب چائے خانہ میں بیٹھے بیکار لوگوں کی طرح چسکیاں لے لے کر باتیں سننے لگے۔۔۔آگے ڈرائیور باتیں کرتا ہوا مسلمانوں کا حال بیان کرنے لگا اور باتوں ہی باتوں میں کہہ گیا’’ جس کی داڑھی جتنی لمبی اتنی ہی زیادہ برائیاں۔۔۔‘‘دوسری مثال جناب نے جو پیش کی ہے وہ ایک مسلمان پنکچر جوڑنے والے کی ہے اور اسی سے انہوں نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ مسلمان بے ایمان ہیں، دھوکے باز ہیں، عہد شکن ہیں، بد عہد ہیں اور بے ایمان ہیں۔جناب کو معلوم ہونا چاہئے کہ میرے تجربات میں جتنی بھی مساجد دنیا بھر میں ہیں کم از کم ایک نمازی ہر ایک مسجد میں ایسا ہوتا ہے جس کی اﷲ تعالیٰ سُنتا ہے، آ پ مسجد میں وقت دیں۔۔۔، شہر کی مساجد کے علاوہ دیہات کی مساجد میں چلے جائیں جہاں دو یا تین نمازی ہی ہیں، ان کے اندر بھی تقویٰ آپ کو ضرور ملے گا۔شہر کی بات اگر کریں تو یہاں ہر انسان کے پاس وقت نہیں کے برابر ہوتا ہے، زیادہ تر لوگ جلدی میں ہوتے ہیں، سبھی کی اپنی اپنی مشغولیات ہیں، کوئی بیوی بچّے کے فرائض ادا کرنے میں لگا ہوا ہے، تو کوئی روزگار سے جڑا ہوا ہے، تو کوئی اپنے کاروبار کو ترقی دینے میں لگا ہوا ہے، ان حالات میں جب مؤذن حی علی الصلاح کی صدا بلند کرتا ہے تو سبھی نمازی مسجد کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور سبھی نمازی صف بندی کر کے ایک اﷲ کی عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں۔اب رہی بات اخلاقی گراوٹ کی تو جناب ایک پرانی کہاوت ہے کہ جس جگہ خالی برتن رہیگا تو وہ آواز کریگا ہی۔ میں خوب اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ آپ نے کن علاقوں کی بات کی ہے ،اور اِس سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل کو ٹھیس پہنچائی ہے۔میں ا بھی جس جگہ رہ رہا ہوں اچھے و برُے سبھی طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتاہے، تقریباََ بیس سال مجھے اپنا وطن دربھنگہ چھوڑے ہو گیا، میرا بچپن بھی جس ماحول میں گزرا ہے اسے یاد کر نے پر بہت اچھا لگتا ہے لیکن آج جس ماحول میں ہم جی رہے ہیں اس کا ایک الگ انداز ہے ہم اگر اِن دبے کچلے، ان پڑھ جاہل لوگ جنہوں نے فٹ پاتھ پر اپنی ساری زندگی گزار ی ہے اور اب پیسہ کی فراوانی اور اس کے تکبّر سے اچھے کپڑے، مہنگے فلیٹ، عمدہ گاڑیوں میں چلنے لگ گئے ہیں تو ان جیسے لوگوں سے پوری دنیا کے مسلمانوں کی برابری کرنا کسی عقلمند کی شان نہیں سمجھ سکتے۔نماز دین کا ستون ہے اسلام کی بنیاد جن پانچ چیزوں پر ٹکی ہوئی ہے ان میں ایک نماز کا قائم کرنا بھی ہے،اورجس طرح نماز کا ترک کرنا کافرانہ عمل ہے اسی طرح نمازیوں کو بُرا بھلا کہنا، نمازیوں کا مذاق اڑانا بھی کافرانہ عمل ہے۔
شاہد سلام
جامعہ نگر، نئی دہلی۔110025،موبائل: 9810132408

 

عبادت گاہی سیاست:کہیں پر نگاہیں ، کہیں پر نشانہ !

مکرمی!

اس حقیقت کے باجود بھی کہ ہندوستان میں شدید مذہبی تناؤ کے بعد بھی اکثرسیکولرزم اور جمہوریت پسند وں کو ہی پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا، آئے دن بے سروپا بیان سے ماحو ل کو کشیدہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہیں ۔ اسی طرح مذہبی تشدد کے پس منظر میں ہمارے ملک کی شبیہ عالمی سطح پر مجروح ہورہی ہے ، اس کے باوجود بھی’ محب وطن ‘ عناصراپنی عادتوں سے بازنہیں آرہے ہیں ۔ عادت سے مجبورافراد کے کردار سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید پرتشددبیانات ہی دراصل ملک کی فلاح وبہبود کے ضامن ہیں ۔بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی اور ان ہم خیالوں کے حالیہ تمام بیانات کواسی ضمن میں دیکھاجاسکتا ہے ۔پے درپے ایسے بیانات سے ان کا منشا کیا ہے اور بی جے پی ہمیشہ ان کے بیان کو ذاتی کہہ کر کیوں ٹال دیتی ہے، اپنے آپ میں یہ سب بڑے سوال ہیں؟اوباما کی نصیحت پر ہوش کے ناخن لینے کے بعد وزیراعظم مودی نے ایک طرف جہاں مذہبی تشدد کم کرنے کی وکالت کی ، وہیں اُن کے محبو ب اور چہیتے لیڈربے تکے بیان کی ریس میں بازی لے جانے میں مصروف ہیں ۔کبھی مسجد تو کبھی گرجا گھر کے ایشوز پر ہنگامہ بپا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سبرامنیم سوامی نے گوہاٹی میں انہدام مسجداورعبادت گاہوں کے متعلق جو بیان دیا ہے، وہ فرقہ پرستی پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ مکمل طورپر کم علمی اور حالات سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔کیوں کہ انھوں نے جو دلائل پیش کیے ہیں ، ان کاثبوت نہیں ملتا یا پھر ایسے معاملات ہیں بھی تو یہ نظیر اور مثال بننے قابل ہی نہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ مسجد اور چرچ عبادت گاہ نہیں ہیں ،جب چاہیں اسے منہدم کردیں۔ مسجد کے عبادت گاہ نہ ہونے کا راگ الاپنے میں شاید انھوں نے سپریم کورٹ کے اس قول کا سہارا لیا ہے ، جسے1994میں بابری مسجد معاملے میں کہا تھا کہ مسجد مذہب اسلام کا ضروری حصہ نہیں ہے اور امریکہ سمیت دیگر ممالک میں گرجا گھروں کی خرید وفروخت ہوتی ہے، اس لیے گرجا گھر عبادت گاہ نہیں ہے۔ اسی طرح انھوں نے راستے میں آنے والی مسجدوں کے انہدام کے متعلق سعودی عرب کے معاملے کو بھی اچھالا ہے ۔ گرجا گھر کے مذہبی تقدس اور اس کی ابدیت سے قطع نظر مساجد کے پس منظر میں سوامی کے بیان کو کئی پہلو سے دیکھا جاسکتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ اسلام کی نگاہ میں مساجد کی کیا اہمیت ہے ، اس سے قطعاً انھیں کوئی واقفیت نہیں ، چنانچہ انھیں یہ حق نہیں پہنچتاکہ مساجد کے عبادت گاہ ہونے یا نہ ہونے کافیصلے کرنے لگ جائیں ۔ ہوسکتا کہ ان کی نگاہ میں مساجد عبادت گاہ نہ ہوں، نہ ہی سہی ،مگر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں مساجد کی بالکل وہی اہمیت ہو، جو ان کے نزدیک ہے ۔اس لیے انھیں اپنے اوپر قیاس کرتے ہوئے جمہوری ملک میں ایک طبقہ کی دلآزادی کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟ انھیں جمہوریت پسند اور صاحب کیسے عقل کہا جاسکتا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسلامی قانون میں جائز طریقے سے ایک جگہ مسجد قائم کردینے سے تاصبح قیامت وہاں مسجد ہوتی ہے۔ اس حقیقت کی موجودگی میں معمولی معمولی چیزوں کو مسئلہ بناکر شہادت مسجد کا معاملہ اچھالنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔ اس لیے خالص مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی اجازت کیسے مل سکتی ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ سعودی میں کب راستہ کی کسی مسجد کے انہدام کا مسئلہ پیش آیا ؟اگر کبھی شدید ضرورت کے تحت کوئی ایسا واقعہ پیش آیا بھی ہو تو یہ دیکھنا پڑے گاکہ حالات کیسے تھے ؟ عوام کے فلاحی مسئلہ کے حل کی صورت کے لیے یہ ناگریز قدم اٹھایا گیا ہوگا ۔ ا س اقدام میںیہ مسئلہ قطعاً نہیں ر ہا ہوگا کہ مسجد عبادت گاہ نہیں ہے یا اسلامی نظام میں مسجد کی کوئی اہمیت نہیں۔ا سی طرح وہاں نہ ہندوستانی فرقہ پرستی کا کوئی معاملہ ہے ۔لہذا فقط وہاں کے حالات کی نظیر پیش کرنا کافی نہیں ، بلکہ مکمل صورتحال سے با خبری بھی ضروری ہے۔ بغیر تفصیلی وضاحت کے شہادتِ مسجد کو سعودی سے جوڑکر سبرامنیم نے نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی دلآزاری اور درپردہ کسی منظم مہم کی شروعات کی ہے ، بلکہ اسلامی ملک کو نشانہ بناکر اسلامی قوانین کا تمسخر بھی اڑایا ہے۔ ساتھ ہی دبے لفظوں میں اسلامی قانون کے لچک کو کسی بڑے مسئلہ کے پیش خیمہ کے طو رپر استعمال کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستانی منفی رویوں کے پوجاریوں کی نگاہ اپ فقط ہندوستانی مسلمانوں پر ہی نہیں، بلکہ عالم اسلام کی شبیہ مسخ کرنے پر بھی مرکوز ہوگئی ہے۔اس لیے ان مسلم قائدین سے گذارش کی ہی جاسکتی ہے ( جودینی حمیت میں اکثر اصولی مسئلہ کو فراموش کرجاتے ہیں )کہ ایسے بے سروپابیان والے دینے والوں سے معافی تلافی کرکے ہی خاموش نہ ہوجائیں ، بلکہ جن حقائق کو نظیر بناکر پیش کیا گیا ہے ، انھیں منظر عام پر لانے کا دباؤبنایا جائے ۔اس لیے دینی حمیت کاثبوت دیتے ہوئے سوامی سے اس کی وضاحت کروائیں کہ کب سعودی میں ایسا معاملہ پیش آیا اور کن صورتوں میں؟ یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ اس طرح کے بیان میں میں جہاں فرقہ پرست عناصروں کو مضبوط کرنے کی کوشش پوشیدہ ہے ، وہیں بھولے بھالے برادران وطن کے دلوں میں تشدد پسندی کا زہر گھولنے کی مہم بھی۔ اس مہم کی کامیابی کے لیے کبھی عدالتی فیصلے تو کبھی اسلامی ممالک کی نظیر پیش کی جارہی ہے ۔اس لیے یہ کہنا بجاہے کہ ایسے فرقہ پرستوں کی نگاہیں کہیں اور ہوتی ہیں اور نشانہ کہیں اور، ساتھ ہی ساتھ آسام میں سیاسی بساط بچھنے لگی ہے تو لامحالہ یوپی کی طرح ہی حالات خراب کرنے کے لیے بی جے پی ایسے لیڈروں کا سہارا لے گی ہی ۔یہ الگ بات ہے کہ ہمیشہ ان کے بیان کو ذاتی کہہ کر ہلکا بنانے کی کوشش بھی کی جائے گی ۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ سوامی جیسے بے سرو ...


Advertisment

Advertisment