Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:02 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

Khabro ki khabar

قوم پرستی کی آڑ میں مسلمانوں کو سیاسی طور پر بے حیثیت کردینے کی مہم!

23اگست کو بی جے پی کی کور کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ میں جو کہ اترپردیش اور پنجاب کے الیکشن کے تناظر میں ہوئی وزیراعظم نے کہا کہ قوم پرست توہمارے ساتھ ہیں اب ہمیں دلتوں او رپسماندہ طبقات کو اپنے ساتھ لانا ہے۔آرایس ایس یا بی جے پی کے نزدیک قوم پرستی کی جو تعریف ہے اس پر وہی لوگ کھرا اترسکتے ہیں جو آرایس ایس کی آئیڈیا لوجی سے اتفاق کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہی لوگ بی جے پی کے بھی ساتھ ہیں۔ نریندر مودی جی نے وزیراعظم کے طو رپر یہ بات کہی یا پارٹی کے ایک لیڈر کے طور پر اس کا تجزیہ کرنا ضروری نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے قوم پرستوں کو اپنا حامی کہا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ نکالا جائے کہ جو لوگ بی جے پی کے ساتھ نہیں ہیں وہ قوم پرست نہیں ہیں؟ بی جے پی کو عام طو رپر اعلیٰ ذات کے لوگوں کی نمائندہ کہا جاتا ہے۔ دلتوں او رپسماندہ طبقات کو جوڑنے کی کوششیں ہوئی ضرور ہیں لیکن گزشتہ پارلیمانی الیکشن کو اگر چھوڑ دیں تو دلت اور پسماندہ طبقات کے ووٹنگ کا رجحان بی جے پی مخالف ہی رہا ہے۔ خبریں ہیں کہ اس میٹنگ میں اس بات پر بھی لیڈروں نے تشویش کا اظہار کیا کہ پارٹی میں دلت اور قبائلی لیڈروں کے ہونے کے باوجود دلت اور قبائل بی جے پی کو اپنی پارٹیوں کیوں نہیں مانتے؟2011کی مردم شماری کے مطابق ملک کی کل آبادی125کروڑ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد پہلی بار ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر مردم شماری کروائی گئی لیکن اسے ایک ساتھ عام نہیں کیاگیا بلکہ اب ٹکڑوں میں انہیں عوامی کیا جارہا ہے۔ اس مردم شماری کے مطابق ملک میں ہندوﺅں کی آبادی کا تناسب79.8فیصد ہے یعنی ان کی تعداد96.63کروڑ ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 14.25فیصد ہے یعنی ان کی کل آبادی17.22کروڑ ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ ملک میں کوئی ایسی مذہبی اقلیت نہیں ہے جس کی آبادی کل آبادی کا ڈھائی فیصد ہو۔ مرکزی سرکار نے2001کی مردم شماری کے اعداد وشمار ذات اور مذہب کی بنیاد پر جاری نہیں کئے چنانچہ2007یں نیشنل سیمپل سروے آرگنائمیشن کے اعداد وشمار سے تھوڑی مدد لی جاسکتی ہے۔ جس کے مطابق ملک میں دیگر پسماندہ طبقات کی آبادی40.49فیصد ہے۔19.59فیصد دلت اور 8.63فیصد قبائل ہیں۔ ان ان اعداد وشمار پر سوال اٹھائے گئے تھے کیونکہ1979میں منڈل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پسماندہ طبقات کی آبادی کا تناسب 52فیصد قراردیا تھا اس میں مسلمانو ںکی بھی کئی برادریاں شامل ہیں۔ اس تناظر میں اگر دیکھیں اور پسماندہ طبقات دلت اور مسلمانو ںکی آبادی کو ملک کی آبادی کوایک کردیں تو بی جے پی کے حصہ میں جو قوم پرست آئیں گے ان کا تناسب کیا ہوگا؟ اب اگر وزیراعظم کی بات کو سچ مان لیں تو پھر یہ اعتراف بھی کیا جانا چاہئے کہ بی جے پی کے ساتھ بہت کم لوگ ہیں۔ وزیراعظم نے دلتوں اور پسماندہ طبقات کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں بلکہ انہیں جوڑنے کی بات کہی ہے۔ بی جے پی کے نظریہ کی روشنی میں اگردیکھیں تو مسلمان قوم پرستوں کی تعریف میں نہیں آتے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ چند فیصد قوم پرستوں کو اپنے ساتھ ہونے کی بات کہہ کر آخر وزیراعظم کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ انہو ںنے مسلمانو ںکا کوئی ذکر نہیں کیا حالانکہ ان کی کابینہ میں مختار عباس نقوی اور ایم جے اکبر جیسے لوگ شامل ہیں اب اگر اس کے بعد بھی وزیراعظم پسماندہ طبقات اور دلتوں کا ہی ذکر کریں اور مسلمانوں کو فراموش کردیں تو اس کا یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کے نزدیک مسلمانوں کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے کیونکہ پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کوجو غیر معمولی کامیابی ملی اس نے مسلم ووٹ کی طاقت کا بھرم توڑ دیا۔بی جے پی شاید آئندہ بھی اسی مشن پر گامزن رہنا چاہ رہی ہے تاکہ ملک کی سیاست میں مسلمانوں کو بے حیثیت کرکے رکھ دیا جائے ۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر مسلمانوں کو اپنے سیاسی رویہ پر اب نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

 

اب اقلیتی امیدواروں کو آئی اے ایس بننے سے روکنے کی سازش!
ایسا لگتا ہے کہ مودی سرکار تمام ایجنڈوں اور ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کے نعرہ کو چھوڑ کر صرف اور صرف آرایس ایس کے ایجنڈے کو ہی لاگو کرنا چاہتی ہے۔ تعصب اور امتیاز کی وجہ سے سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی تعداد پہلے ہی دال میں نمک کے برابر ہوگئی ہے مگر اب ایک ایسی سازش کا آغاز ہوا ہے جس کے تحت اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کو سول سروسز کا امتحان پاس کرنے کے باوجود نوکری سے محروم کردیا جاسکتا ہے۔ جی ہاں مودی سرکار اس سازش کو ’کریمی لیئر‘کی آڑ میں نہ صرف انجام دینا چاہ رہی ہے بلکہ ذہین بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرتے ہوئے کریمی لیئر کی آڑ میں اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے 120 امیدواروں کو وہ نااہل بھی قرار دے چکی ہے۔ گزشتہ دنوں وقفہ صفر میں اس دھاندھلی اور ناانصافی کے خلاف متحدہ جنتا دل کے ممبر رام ناتھ ٹھاکر نے احتجاج کیا تو ان کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کانگریس اور دوسری پارٹیوں کے ممبروں نے بھی ایک آواز میں مطالبہ کیا کہ ان امیدواروں کو منتخب کئے جانے کے بعد انہیں سرکار جس طرح نااہل قرار دینے کی سازش کررہی ہے اسے ختم کیا جانا چاہئے۔ قابل ذکر ہے کہ یوپی ایس سی کے اہم امتحان میں1078طلباءکامیاب ہوئے تھے جس میںسے120اقلیتی امیدواروں کو ریزرویشن کی پالیسی میں تبدیلی کرکے ”کریمی لیئر“ کی آڑ میں نااہل قرار دیدیا گیاہے۔ پارلیمنٹ میں رام ناتھ ٹھاکر نے یہ الزام بھی لگایا کہ آرایس ایس سربراہ کے اشارے پر سرکار ایسا کررہی ہے اس پر ایوان کے نائب چیئرمین پی جے کورئین نے کہا کہ اگر مسٹر ٹھاکر کی بات صحیح ہے تو یہ حساس معاملہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ اس معاملہ کی جانچ کرائے اس پر پارلیمانی امور کے وزیرمملکت مختار عباس نقوی نے صفائی دی کہ ریزرویشن پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اس پر کچھ ممبروں نے ان سے یہ سوال کیا کہ پھر کیا وجہ ہے کہ یوپی ایس سی کے آخری امتحان میں پاس ہونے کے بعد ان اوبی سی امیدواروں کو آئی اے ایس کی ٹریننگ کے لئے کیوں نہیں بھیجا جارہا ہے؟ قابل ذکر ہے کہ جب منڈل کمیشن لاگو ہوا تھا اس کے بعد ہی سے ”کریمی لیئر“ یعنی پسماندہ طبقات میں سے وہ لوگ جو خوشحال ہیں انہیں”ریزرویشن“ کی مراعت سے الگ کرنے کا مطالبہ ہوتا آیا ہے یہ بات بڑی حد تک سچ ہے کہ پسماندہ طبقات میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ہر طرح سے خوشحال ہیں مگر انہیں ریزرویشن کا فائدہ مل رہا ہے۔ دوسری طرف اعلیٰ ذات کے لوگوں میں ایسے بہت سے غریب خاندان ہیں جن کے لئے دووقت کی روٹی مہیا کراپانا بھی مشکل ہورہا ہے مگر انہیں ریزرویشن کا فائدہ اس لئے نہیں مل سکتا کیونکہ ان کاتعلق اعلیٰ ذات سے ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ”کریمی لیئر“ کو ریزرویشن کی حد سے باہر کرنے کا جب بھی مسئلہ اٹھا ہے۔ پسماندہ طبقات کے لیڈروں نے نہ صرف اس کی مخالفت کی ہے بلکہ ایسا کرنے کی صورت میں وہ سڑکوں پر اترنے کی دھمکی بھی دیتے آئے ہیں۔ چنانچہ کریمی لیئر کو ریزرویشن سے باہر کرنے کا مسئلہ اب بھی طے نہیں ہوسکا ہے ایسے میں مودی سرکار نے یہ فیصلہ کیسے کرلیا ہے کہ اس بار سول سروسز کا امتحان اوبی سی کے جن طلباءنے پاس کیا ہے وہ ”کریمی لیئر“ کی حد میں آتے ہیں؟ ظاہر ہے اس اعلیٰ ترین امتحان کے لئے انہیں ریزرویشن کا کوئی فائدہ نہیں ملا ہوگا بلکہ دوسرے طلباءکی طرح انہوں نے بھی تیاری میں محنت کی ہوگی اور اپنی راتوں کو قربان کیا ہوگا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان120امیدواروں میں سے کتنے مسلمان ہیں ظاہر ہے ان کی تعداد بہت معمولی ہوگی لیکن جس طرح اہل طلباءکو کریمی لیئر کی آڑ میں آئی اے ایس بننے سے روکنے کی کوشش ہورہی ہے ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ دہلی میں آرایس ایس کی حمایت سے جو اکیڈمی سول سروسز کی کوچنگ فراہم کررہی ہے اس کے دعوے کے مطابق امسال کے کامیاب طلباءمیں سے چھ سو سے زائد امیدواروں نے اسی اکیڈمی سے کوچنگ لی تھی۔ نااہل قرار دیئے گئے ان120امیدواروں میں سے اس اکیڈمی کے کتنے امیدوار شامل ہیں اس کا بھی خلاصہ ہونا چاہئے اگر ان 120امیدواروں میں اس اکیڈمی کا کوئی امیدوار شامل نہیں ہے تو پھر ہم بھی یہ سمجھنے پر مجبورہوں گے کہ یہ سب کچھ آرایس ایس کے اشارے پر ہورہا ہے اور ایسا کرکے ذہین طلباءکے مستقبل کو تاریک کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں احساس کمتری میں مبتلا رکھنے کی سازش ہورہی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ”کریمی لیئر“ کی زد میں اقلیتی امیدواروں کو ہی کیوں لایاگیا ہے۔ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے دوسرے امیدواروں کو اس سے الگ کیوں رکھا گیا ہے؟ کیا یہ تعصب اور امتیاز کی بدترین مثال نہیں ہے؟
 

...لیکن ہمارے حکمرانوں کو آخر کب نظر آئے گا ’’ہاشم پورہ کا سچ‘‘؟

واجد علی اس وقت 16برس کا تھا ‘ ۔اسے بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ پولس اور پی اے سی کے لوگ پولس لائن لے گئے تھے ۔اس سے جب 22مئی کی کہا نی پوچھی گئی تو اس نے سر سے ٹوپی اتارکر وہ زخم دکھایا جو اسے اس روز لگا تھا ۔اس نے بتایا’’ وہ لوگ مجھے مردہ سمجھ کر سول لائن میں چھوڑ گئے تھے ، انہوں نے میرے سر پر راڈ سے وار کیا تھا‘‘ ،واجد علی جو ایک پاور لوم میں کام کرتا ہے سوالیہ انداز میں کہتا ہے کہ اگر پی اے سی کے جوانوں نے یہ نہیں کیا تو کسی نہ کسی نے تو ضرور اس قتل عام کو انجام دیا ‘ تو کیا وہ اس کا پتہ نہیں لگا سکتے ؟ ۔پروین جین محمد ریاض الدین کو جب ایک تصویر دکھا تے ہیں تو وہ انگلی کے اشارے سے ایک نوعمر بچے کی طرف اشارہ کرکے کہتاہے ،’’ ہاں یہ میں ہوں،‘‘ وہ کریدنے پر بتاتا ہے ’’ میں بانسی پورہ (ایک ہندو اکثریتی علاقہ)کے قریب واقع مسجد کے پاس رہتا تھا جو ہاشم پورہ سے متصل آبادی ہے ۔22مئی سے چند روز قبل سیکورٹی فورسیز نے اسی علاقہ کی طرف سے ہم پر فائرنگ کی تھی جس میں میرا بھائی ماراگیا تھا ‘ اس کے بعد ہمارا خاندان اس گھر میں آگیا تھا ،‘‘ ریڈ جب شروع ہوئی تو ریاض الدین کو بھی اس کے دو چچا اور والد کے ساتھ گھر سے باہر نکالا گیا لیکن بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا ۔اس کے آگے کی کہانی بیان کرتے ہوئے وہ کہتا ہے ،’’ مجھے پولس لائن لے جایا گیاوہاں سے پولس لائن تھا نہ جہاں مجھے دوسرے لوگوں کے ساتھ خوب ماراپیٹا گیا ۔17روز تک فتح گڑھ جیل میں بند رکھنے کے بعد مجھے چھوڑ دیاگیا۔اس قتل عام سے زندہ بچ جانے والوں میں ذوالفقار ناصر بھی ہیں۔وہ ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بابری مسجد کا تالا کھلنے کے بعد میرٹھ اور آس پاس کے اضلاع میں زبردست کشیدگی پھیلی ہوئی تھی ۔میرٹھ میں کچھ تشدد کی واردات بھی ہوئی تھی جس کے بعد فوج اور پی اے سی کو طلب کرلیا گیا تھا ، اس سے قبل اپریل میں شب برات کے موقع پر ایک جلوس پر پتھراؤہوگیاتھا۔ذوالفقار ناصر کے بقول 22مئی کو ہاشم پورہ میں جب ریڈ ڈالی گئی تو اس پورے علاقہ کو سیل کردیا گیا تھا۔ناصر نے بتایا کہ مجھے بھی ریڈ کا علم ہوگیا تھا لیکن میں مطمئن تھا کہ عام دنوں کی طرح کی تلاشی ہوگی کوئی خاص بات نہیں ہے ۔دوپہر بعد اچانک ریڈ ڈالی گئی اور نوجوانوں کو ایک لائن میں کھڑا ہونے کاحکم دیا تھا۔اس تلاشی مہم میں پی اے سی ہی نہیں‘ پولس اور فوج کے جوان بھی شامل تھے ۔وہ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کررہے تھے گویا ہم کوئی پیشہ ور مجرم ہوں، ناصر آگے بتاتے ہیں کہ 10سال سے کم عمر کے کسی نوجوان کو نہیں چھوڑا گیا ۔دوسرے عینی شاہدین نے گفتگوکے دوران بتایا کہ فوج کے جوانوں نے ہمیں پی اے سی کے حوالہ کیا تھا ، بعد میں ان میں سے لوگوں کو چھانٹا گیا ، نوجوانوں اور تندرست لوگوں کو ایک طرف کیا گیا اور بقیہ لوگوں کو ٹرک میں بھر کر پہلے پولس لائن اور میں سول لائن تھانہ بھیج دیا گیا جہاں انہیں ٹارچر کیا گیا بعد میں جیل کی راہ دکھائی گئی ۔ناصر کے بقول ‘ اچانک حکم دیا گیا تھا کہ سارے نوجوان اپنے ہاتھ اوپر کرلیں ۔وہ کہتے ہیں کہ تب ہمیں امید پیدا ہوئی کہ شاید ہماری عمروں کو دیکھ کر ہمیں بھی چھوڑ دیا جائے گا لیکن نہیں ہمیں ایک پیلے رنگ کے پی اے سی کے ٹرک پر چڑھنے کا حکم ہوا،یہ حکم بھی ہوا کہ ہم اپنے گھٹنوں میں اپنے سر کو جھکالیں اور نگاہ زمین میں گڑائے رکھیں ۔اس کے بعد ٹرک روانہ ہوگیا ۔اس کے آگے کی کہا نی سے سب واقف ہیں ۔ناصر کہتے ہیں’’ میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکاکہ آخر اس قتل عام کے لئے ہاشم پورہ کا ہی انتخاب کیوں ہوا؟ ہاشم پورہ میں کبھی کوئی فساد نہیں ہوا ‘ یہا ں تک کہ اس وحشیانہ واقعہ کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا‘‘ ناصر کے دائیں ہاتھ میں ا یک گولی لگی تھی ‘ پی اے سی والوں نے انہیں بھی مردہ سمجھ لیا تھا ۔ناصر اور دوسرے عینی شاہدین کی گفتگو سے یہ افسوسناک سچائی بھی سامنے آگئی کہ قتل عام کی اس سازش میں تنہا پی اے سی کا ہی رول نہیں تھا ، پی اے سی کے جوانوں نے تو وہی کیا جس کا حکم انہیں دیا گیا تھا ‘ ورنہ اس میں ضلع انتظامیہ کے ساتھ پولس اور فوج بھی شامل تھی ،ظاہر ہے اگر قتل عام سے زندہ بچ جانے والوں کی گواہی کی بنیاد پر ہی ایف آئی آر درج ہوئی تو انہوں نے وہ سب کچھ بتایا ہوگا کہ کس طرح انہیں اٹھا یا گیا اور تلاشی میں کون کون لوگ شامل تھے ۔ناصر کے بقول یرغمال بنائے گے لوگوں کو فوج اور پولس نے پی اے سی کے حوالے کیا تھا گویا تلاشی مہم میں پولس اور فوج کے جوان شامل تھے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قتل عام میں پی اے سی کے رول پر تو خوب بحث ہوئی اور انہیں ہی ملزم بھی بنایا گیا لیکن انتظامیہ کے افسران ‘ پولس اور فوج کو چھوڑ دیا گیا ‘ اس سے ریاستی حکومت کی مسلم دشمنی اجاگر ہوجاتی ہے اور یہ کہ وہ روز اول سے قاتلوں کو بچانا چاہتی تھی لیکن اس کے باوجود اگرہمارے ملی قائدین اور بلند وبانگ دعوے کرنے والی ملی تنظیموں نے اس اہم مقدمہ کی تمام تر ذمہ داری ریاستی حکومت پر چھوڑ کر مطمئن ہوگئیں چنانچہ اس معاملہ میں اگر انصاف کا خون ہوا ہے اور متاثرین کو انصاف نہیں مل سکا تو اس کے لئے وہ بھی برابر کی قصووار ہیں!!
)
جاری(

 

...لیکن ہمارے حکمرانوں کو آخر کب نظر آئے گا ’’ہاشم پورہ کا سچ ‘‘ ؟

سراج الدین اس وقت محض13برس کا تھا اور اب اس کی عمر43سال کی ہوچکی ہے۔ پروین جین اسے جب ایک تصویر دکھاتے ہیں جس میں ایک جوان ایک معصوم بچے کی طرف رائفل تانے کھڑا ہے تو وہ فوراً اعتراف کرتا ہے کہ یہ اس کی تصویر ہے۔ اس کے پاس ان تمام اخبارات کی کٹنگ موجود ہے جن میں یہ تصویریں یا ہاشم پورہ کے بارے میں رپورٹیں شائع ہوئی ہیں وہ جب ان تصویروں کو دیکھتا ہے جس میں اس کے والد اور چچا وغیرہ پی اے سی کے ذریعہ یرغمال بنائے جاچکے ہیں تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ جاتی ہیں۔ 1990 میں سراج الدین ہاشم پورہ والا مکان چھوڑ چکا ہے اس کے بعد اب اس گھر میں چچا رہتے ہیں۔ وہ خود اپنے بیوی بچوں کے ساتھ صدیق نگر میں رہتا ہے اور کپڑے کا کاروبار کرتا ہے۔سراج الدین پرانے زخموں کو کریدتے ہوئے بتاتا ہے کہ اس روزہ وہ اپنے مکان کے باہر ایک کھمبے کے پاس کھڑا تھا پیچھے اس کے دوسرے بھائی اور چچا کے لڑکے تھے۔ سراج الدین کے سرپر ایک جوان نے رائفل تان رکھی تھی۔ اس سے پہلے اس کے باپ چار چچاؤں اور کچھ مہمانوں کو پولس اور پی اے سی کے جوان تلاشی کے دوران گھر سے لے جاچکے تھے۔ سراج الدین کو خدشہ تھا کہ اب اسے بھی یہ لوگ اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ اسے اس روز کا ایک ایک واقعہ آج بھی یاد ہے۔ آج بھی اگر شہر میں کہیں فساد ہوتا ہے تو وہ خوف سے کانپ اٹھتا ہے۔ اسے22مئی1987 کا دن یاد آجاتا ہے۔ وہ گلوگیر لہجہ میں کہتا ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ جس سانحہ سے میں گزرا ہوا میرے بچوں کو اب ایسے سانحے سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ انوری بیگم اس وقت42سال کی تھیں اب بوڑھی ہوچکی ہیں لیکن ان کے آنکھ کے آنسو اب بھی خشک نہیں ہوئے ہیں۔ اس روز جب ان کے شوہر کو پی اے سی والے زبردستی گھسیٹ کر اپنے ساتھ لے جارہے تھے تو انوری بیگم اپنے10بچوں کے ساتھ گھرکی بالکونی پر بے بسی کی تصویر بنی کھڑی تھی۔ اس کے شوہر پڑوس کے مکان میں چھپ گئے تھے لیکن جوانوں نے انہیں تلاش کرلیاتھا۔ وہ گفتگو کے دوران ہچکیوں میں ڈوب جاتی ہیں اور کہتی ہیں۔’’جب وہ انہیں کھینچ کر لے جارہے تھے میں ان سے کچھ کہہ بھی نہیں سکی‘‘۔ انوری بیگم اب بھی اسی گھر میں اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کا چھوٹا بیٹا سمیر تب چار برس کا تھا اب وہ کڑھے ہوئے کرتے کا کاروبار کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے۔‘‘’’والد صاحب کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ ہاشم پورہ اور اس کے باہر کافی جائیدادیں تھیں لیکنان میں سے زیادہ تر کو فروخت کردینا پڑا۔ مجھے اسکول چھوڑ دینا پڑا۔ سمیر ہر پیشی پر تیس ہزاری کورٹ آتا تھا اس حوالہ سے وہ کہتا ہے ’’جب پی اے سی والے مسکراتے ہوئے وہاں آتے تھے تو انہیں دیکھ کر میرا خون کھول اٹھتا تھا۔ ان لوگوں نے ہمیں توڑ کر رکھ دیا۔‘‘ محمد حنیف جب اپنی28برس پرانی تصویر دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ بہت بدل گیا ہوں۔ اب وہ53برس کا ہے۔ اس روز کی کہانی سناتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ گھر کے پیچھے میرے ایک رشتہ دار بیمار تھے میں انہیں دیکھنے گیاتھا جب کچھ لوگوں سے ’ریڈ‘ کے بارے میں سنا تھوڑی دیر بعد ہی کچھ جوانوں نے اس گھر پربھی دھاوا بول دیا۔ انہو ں نے ہمیں گھر سے باہر نکلنے اور گلی میں قطار بنا کر کھڑے ہوجانے کا حکم دیا۔ جولوگ پہلے سے وہاں لائن میں کھڑے تھے میں نے دیکھا کہ ان میں میرے تین بھائی بھی تھے۔ ہمیں مین روڈ پر لے جایاگیا۔ وہاں سے بسوں کے ذریعہ پولس لائن بھیج دیاگیا۔ بعد میں تھانہ سول لائن پہنچادیاگیا جہاں ہمیں زدوکوب کیاگیا۔‘‘اپنے ماتھے کے بال ہٹاتے ہوئے محمد حنیف ایک نشان دکھاتا ہے پھر کہتا ہے کہ یہاں سارے لوگ زخم خوردہ ہیں اور اب جو فیصلہ آیا ہے اس نے ہمیں یقین دلادیا ہے کہ ہمارے یہ زخم کبھی مندمل نہیں ہوسکتے۔
)جاری(

 

’’ریزرویشن‘‘کے سوال پر یہ دوہرا پیمانہ کیوں؟

جمہوریت میں بلاشبہ عوام کو رائے کی اہمیت حاصل ہے الیکشن کی حد تک ہندوستان میں اس بات کو درست کہا جاسکتا ہے لیکن دوسرے معاملوں میں جمہوری قدروں اور اصولوں کی پامالی آج کی سیاست کا معمول بن گئی ہے۔ ٹھیک اسی طرح اب آئین کو بھی ہمارے حکمراں اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق استعمال کرنے لگے ہیں۔ وہ آئین جو سب کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے اور جس کی ہدایت کے مطابق کسی بھی شہری کے خلاف مذہب، نسل اور ذات کی بنیاد پر امتیاز نہیں ہوسکتا۔ سب کے ساتھ یکساں سلوک کی بات بھی آئین میں درج ہے۔ لیکن اکثریت کی بالادستی کو برقرار رکھنے کی اندھی ہوس سے مغلوب ہوکر ہمارے حکمراں اور لیڈر اب قدم قدم پر آئین کی پامالی بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کے تعلق سے آئین کی ہدایات کے یکسر خلاف نظریہ یوں تو آزادی کے بعد سے ہی اسٹیٹ پالیسی کا حصہ بن گیا ہے لیکن اب تو سیاسی مفاد کے لئے آئین میں ترمیم اور توڑپھوڑ حکمرانوں کا پسندیدہ شوق بن چکا ہے۔ چنانچہ ہم یہ لکھنے پر مجبور ہیں کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں ’’آئین‘‘ بس ایک ڈھال کی طرح ہے ورنہ یہاں ہر طرف صرف اور صرف طاقت کی حکمرانی ہے۔ یہ طاقت کا ہی کمال ہے کہ مہاراشٹر میں مراٹھا جیسی سیاسی سماجی اور تعلیمی طور پر مضبوط اور خوشحال مراٹھا برادری اور راجستھان، پنجاب، ہریانہ اور اترپردیش کے کچھ حصوں میں آباد جاٹ برادری کو ریزرویشن کا تحفہ مل جاتا ہے اور مسلمانوں کو اگر ریزرویشن کے نام پر بھیک بھی ملتی ہے تو اسے بھی چھین لی جاتی ہے۔ اترپردیش میں گزشتہ اسمبلی الیکشن سے قبل جلد بازی میں یوپی اے سرکار نے مسلمانوں کو ریزرویشن کی بھیک دی تھی بعد میں جاٹ برادری کو بھی ریزرویشن کا تحفہ دیدیا گیا۔ اسی طرح مہاراشٹر اسمبلی الیکشن سے قبل ایک آرڈیننس جاری کرکے مراٹھا برادری کو بھی ریزرویشن کا تحفہ دیدیاگیا۔ اسی طرح مہاراشٹر اسمبلی الیکشن سے قبل ایک آرڈیننس جاری کرکے مراٹھا برادری اور مسلمانوں کو اس وقت کی کانگریس این سی پی سرکار نے بھی ریزرویشن دیاتھا۔ اسے عدالت میں چیلنج کردیاگیا۔ عدالت نے فوراً اس پرروک لگادی تاہم تعلیمی اداروں میں اس نے مسلمانوں کے لئے ریزرویشن کی مراعات جاری رکھی۔ الیکشن کے بعد جب بی جے پی شیوسینا سرکار آئی تو اس نے مذکورہ آرڈیننس کو قانونی شکل دیتے ہوئے مراٹھا کو تو یاد رکھا لیکن مسلمانوں کو اس سے الگ کردیا گیا۔ دلیل دی گئی کہ آئین میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی گنجائش نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مراٹھا کو ریزرویشن دینے میں مذہب حائل نہیں تھا؟ آخر انہیں کس بنیاد پر ریزرویشن کا حق دار قراردیاگیا جبکہ اس سے قبل انہیں اس بنیاد پر ریزرویشن کے دائرے سے باہررکھا گیاتھا کہ وہ ہرمیدان میں آگے اور خوشحال ہیں اس لئے انہیں پسماندہ طبقات میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن چونکہ مہاراشٹر میں ان کی آبادی زیادہ ہے اور وہ سیاسی طو رپر بھی بااثر ہیں اس لئے آئین وقانون کو نظر انداز کرکے مہاراشٹر سرکار انہیں بہرصورت ریزرویشن کی مراعات فراہم کروانے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے۔ اب کچھ ایسا ہی جاٹ برادری کے تعلق سے بھی ہورہا ہے۔ ان کی آبادی بظاہر چار ریاستوں میں بکھری ہوئی ہے لیکن مسلمانوں کے مقابلہ ان کی آبادی کہیں زیادہ کم ہے لیکن سیاسی پارٹیوں کو ان سے ہمدردی اس لئے ہے کہ ان کے پاس طاقت ہے۔ ریزرویشن کو لے کر وہ پرتشدد مظاہرے بھی کرتے رہے ہیں۔ اب ان کے ریزرویشن کو سپریم کورٹ رد کرچکی ہے۔ اپنے فیصلہ میں عدالت عالیہ نے کئی اہم سوال بھی کھڑے کئے ہیں۔ یوپی اے سرکار نے جاٹوں کو ریزرویشن دینے سے قبل پسماندہ کمیشن کی رائے لی تھی۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں صاف لفظوں میں کہا کہ یہ برادری ہر طرح سے خوشحال ہے اس لئے اسے پسماندہ طبقات میں شامل نہیں کیا جاسکتا لیکن اس رپورٹ کو نظر انداز کرکے اسے ریزرویشن دیا گیا۔ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد سے جاٹ برادری مشتعل اور تحریک چلانے کے موڈ میں ہے۔ ان کے نمائندے سیاسی طو رپر سرگرم ہیں۔ پچھلے پارلیمانی الیکشن میں اس برادری کا مکمل ووٹ بی جے پی کو ملاتھا چنانچہ بی جے پی انہیں ریزرویشن کسی بھی قیمت بھی دینا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے عدالت میں حلف نامہ داخل کرکے انہیں ریزرویشن دیئے جانے کودرست ٹھہرایا تھا۔ پچھلے دنوں جاٹ لیڈروں نے نریندر مودی سے ملاقات بھی کی ہے۔ وزیراعظم نے انہیں قانونی دائرے میں ریزرویشن دلوانے کی یقین دہانی کرائی ہے اب اطلاع ہے کہ مودی سرکار فیصلہ پر نظر ثانی کی رٹ بھی دائر کرسکتی ہے دوسری طرف مسلمان ہیں جو ریزرویشن کے ہر طرح سے حقدار ہیں لیکن ان کے لئے کسی طرف سے بھی آواز نہیں اٹھ رہی ہے۔ مختار عباس نقوی ، سید شاہنواز حسین اور ظفر سریش والا جیسے لوگ موجود تو ہیں لیکن وہ مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کو لے کر آواز اٹھانے اور ان کے مسائل کو حل کرانے کی جگہ مسلمانوں کو مودی نواز بنانے کی مہم میں مصروف ہیں۔ خود کو سیکولر کہنے والی پارٹیاں بھی چپ ہیں اور وہ قائدین بھی جن کے سیاسی قدکو بلند کرنے میں مسلمانوں کا اہم رول رہا ہے۔

آخر کار رنگ لے آئی راہل گاندھی کی ناراضگی

حالیہ الیکشن میں شکست کے بعد سے کانگریس جیسی بڑی پارٹی میں جس طرح کا انتشار اور بداعتمادی کی فضا دیکھنے کو ملی یہاں تک کہ بعض لیڈروں نے براہ راست پارٹی قیادت پر حملے بھی کئے۔ اس سے بہر حال یہ اشارہ ملا کہ وقت بدلنے کے ساتھ سیاسی لیڈروں کے رویہ اور سوچ دونوں میں تبدیلی آچکی ہے۔ اب لوگ جدوجہد اور عوام کے مسائل اور حقوق کی لڑائی نہیں لڑنا چاہتے بلکہ اقتدار کے نزدیک رہنا یا پھر خود اقتدار حاصل کرنا ان کی اولیت ہوگئی ہے کانگریس کے ساتھ یہی مسئلہ ہے۔دس برس کے بعد اقتدار سے وہ کیا بے دخل ہوئی پارٹی سے جڑے اقتدار پرست لیڈر مینڈھک کی طرح اپنا رنگ بدلنے لگے۔ نائب صدر راہل گاندھی آج کل چھٹی پر ہیں وہ ہیں کہاں اس کے بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ اگرچہ کانگریس کی طرف سے وضاحت کی جاتی رہی ہے کہ وہ چھٹی منانے گئے ہیں لیکن باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بعض لیڈروں کے رویہ سے نالاں ہیں۔ وہ اس بات کو لے کر بھی خفا بتائے جاتے ہیں کہ انہوں نے تنظیمی سطح پر جو اصلاحات کی تھیں یا جو مشورے دیئے تھے ان پر عمل نہیں ہورہا ہے۔ بہر حال اگر کانگریس قیادت کے بعض حالیہ فیصلوں کو دیکھیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ راہل گاندھی کی ناراضگی رنگ لا رہی ہے۔ پچھلے دنوں کچھ ریاستوں کے صدور بدلے گئے اور ان کی جگہ جن لوگوں کی تقرری ہوئی کہا جاتا ہے کہ انہیں راہل کی حمایت حاصل ہے۔ اب تازہ اطلاع یہ ہے کہ راہل کو خوش کرنے کی غرض سے تنظیمی سطح پر الیکشن کرانے کا فیصلہ بھی کیاگیا ہے۔ اندر سے آنے والی خبروں پر اگر یقین کریں تو آئندہ جولائی میں پارٹی کے اگلے صدر کاباقاعدہ انتخاب بھی کرلیا جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ تنظیمی سطح پر اس بار یہ الیکشن بلاک، ضلع، ریاستی سطح پر کرائے جائیں گے اور پھر ان لوگوں کے ذریعہ ہی آل انڈیا کانگریس پارٹی اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبروں کا انتخاب بھی ہوگا۔ کانگریس کے آئین میں یہ بات درج ہے کہ ورکنگ کمیٹی کے12ممبروں کا باقاعدہ انتخاب ہوگا اور تقریباً اتنے ہی ممبروں کی نامزدگی کا اختیار پارٹی صدر کو ہوگا۔ اس کے برخلاف اب تک ہوتا یہ آیا ہے کہ اجتماعی طور پر تمام ممبروں کے انتخاب کی ذمہ داری لوگ پارٹی صدر پر ہی چھوڑ دیا کرتے تھے جو اپنی مرضی سے ان ممبروں کی نامزدگی کردیتاتھا۔ کانگریس کے ایک لیڈر نے نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس بار پارٹی صدر کے عہدہ کے لئے بھی الیکشن ہوسکتا ہے۔ مذکورہ لیڈر نے یہ تو نہیں کہا کہ یہ سب کچھ راہل گاندھی کی مرضی کے مطابق ہورہا ہے البتہ اس نے یہ ضرور کہا کہ ایسا پارٹی کو زمینی سطح پر مضبوط کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ درحقیقت راہل گاندھی یہی چاہتے تھے کہ پارٹی عہدیداروں کا انتخاب بھی کسی ایک شخص کی مرضی یا رضا مندی سے نہ ہوکر سب کی پسند اور مرضی کے مطابق ہوکیونکہ اس سے تنظیم میں جمہوری سیٹ آپ مضبوط ہوگا۔ کانگریس کا المیہ یہ ہے کہ اس میں ان لیڈروں کی بھرمار ہے جن کی عمریں بھی زیادہ ہوچکی ہیں اور جو اب اپنی افادیت بھی کھوچکے ہیں۔ راہل کا مشن ابتداء ہی سے یہی تھا کہ نئے لوگوں کو آگے لایا جائے اور لیڈروں کی ایک نوجوان نسل تیار کی جائے۔ طلباء کی تنظیم این ایس یو آئی میں اس کاکامیاب تجربہ ہوچکا ہے مگر تنظیمی سطح پر اس کو نافذ کیا جاتا اس سے قبل ہی کانگریس میں اندرونی جنگ شروع ہوگئی۔ درحقیقت پارٹی کے عمررسیدہ لیڈروں کو اس بات کا خطرہ پیدا ہوگیا کہ اگرراہل کا فارمولہ پارٹی کے اندر بھی لاگو ہوگیا تو وہ بے روزگار ہوسکتے ہیں۔ جنگ کچھ اتنی شدت اختیار کرگئی کہ پارٹی میں باقاعدہ دوگروپ صاف نظر آنے لگے تھے۔ ایک گروپ بزرگ لیڈروں کا تھا تودوسرے گروپ میں نوجوان لیڈر شامل تھے۔ سونیا گاندھی کو اس صورت حال کا علم تھا اور شاید اسی لئے اس الیکشن کو ٹالا جارہاتھا لیکن پارلیمانی الیکشن میں پارٹی کی شکست کے بعد کانگریس لیڈروں نے جس طرح ایک دوسرے پر الزام تراشی کی یہاں تک کہ راہل کی ٹیم کو لے کر بھی بعض لیڈروں نے منفی تبصرے کئے۔اس سے لیڈروں کی بالادستی کی اس جنگ میں شدت آگئی۔ راہل یہ سب خاموشی سے برداشت کررہے تھے لیکن برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور جب یہ حد ٹوٹی تو وہ خاموشی سے چھٹی گزارنے کے نام پر کہیں نکل گئے لیکن اب ان کی یہ ناراضگی رنگ لے آئی ہے۔ ان کی منشاء کے مطابق کچھ فیصلے پہلے ہوچکے ہیں اور اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو آئندہ14مئی تک ممبرشپ کا فارم بھرنے کا عمل بند ہوجائے گا اور تنظیمی عہدوں کے لئے10جولائی سے الیکشن کا باقاعدہ آغاز بھی ہوجائے گا۔ چنانچہ اب جلد ہی راہل گاندھی کی واپسی کی توقع کی جاسکتی ہے۔

 

اترپردیش میں بی جے پی کی طبقاتی جنگ کو ہوا دینے کی کوشش

بی جے پی کے کہنے اور کرنے میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔قوم پرستی کے رنگ میں ڈوبی یہ پارٹی اصولوں اور آدرشوں پر چلنے کا دعویٰ بھی کرتی ہے لیکن جب سیاسی مفاد کی بات ہو‘تو پھر یہ نہ کوئی اصول دیکھتی ہے اور نہ آدرش ۔یہ آرایس ایس کا سیاسی ونگ ہے اور آرایس ایس خود کو بہ ظاہر ایک شناختی تنظیم کہتی ہے لیکن اس کا اصل مقصد ہندتوا کے نظریہ کا فروغ اور ملک کو ہندوراشٹر بنانا ہے ۔اس کے لئے مذہبی شدت پسندی کوبڑھاوا دینے کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں ، رام مندر کا مسئلہ بھی اسی لئے اٹھایا گیا تھا تاکہ اکثریتی فرقہ کو متحد کیا جاسکے اور اب ’’گھر واپسی ‘‘اور’’ بیٹی بچاؤ‘‘مہم بھی اسی کاحصہ ہے ۔آرایس ایس ہندتواکے جن اصولوں پر عمل پیراہے اس کی بنیاد منواسمرتی کے فلسفے پر ٹکی ہوئی ہے جس میں طبقاتی نظام کو اولیت دی گئی ہے ۔ اس نظام میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو ہی سارے حقوق اور اختیارات دیئے گئے ہیں اور ان پر بھی برہمنوں کی بالادستی قائم رکھی گئی ہے ‘ منواسمرتی میں پسماندہ طبقات اور دلتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، اسے وقت کی ستم ظریفی کہئے کہ جو آرایس ایس اپنی تنظیم میں بھی طبقاتی نظام کو اولیت دیتی ہے اور برہمن کے علاوہ کسی دوسرے کو سربراہ کے طور پر قبول کرنے کو تیار نہیں ہےاقتدار اور فرقہ وارانہ صف بندی کے لئے اب ان طبقات کو اپنی طرف راغب کرنے کی کو شش کررہی ہے جن کی بہ ظاہر (منواسمرتی کے فلسفہ کے مطابق)کوئی سماجی حیثیت نہیں ہے ۔گذشتہ دنوں ناگپور میں آرایس ایس کا جواہم اجلاس ہوا ‘ اس میں زور دیا گیا کہ پسماندہ طبقات اور دلتوں کو قریب لانے کی کوششیں کی جائیں، چنانچہ اس سے تحریک پاکر اب بی جے پی اترپردیش میں طبقاتی جنگ کو ہوا دینے کی تیاری کررہی ہے ۔حال ہی میں بنارس کی ایک ریلی میں پارٹی صدر امت شاہ نے یہ اشارہ دیدیاہے کہ اس بار کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی ذات پات کا کارڈ کھیلے گی ۔بنارس کی جس ریلی میں امت شاہ شریک ہوئے وہ پسماندہ ترین طبقات کی ریلی تھی جس کا اہتمام پسماندہ ترین طبقات کے ایک لیڈر انل راج بھر نے کیا تھا۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ دوسری ذاتوں کے ساتھ پسماندہ طبقات کو اب ایک چھتری کے نیچے لانے کی شروعات ہوچکی ہے ۔یہ اس لئے ضروری ہے کہ ریزرویشن کے باوجود پسماندہ طبقات کو جو مراعات دی گئی ہیں اس کا فائدہ محض ایک برادری کے لوگ اٹھارہے ہیں ۔یہاں ان کا اشارہ یادو برادری کی طرف تھا۔درحقیقت سوشل انجینئرنگ کا نظریہ سب سے پہلے بی جے پی کے نظریہ ساز کہے جانے والے کے این گوونداچاریہ نے شروع کیا تھا ۔1980کی دہائی میں کہ جب نام نہاد رام مندر کا تنازع بھی عروج پر تھا بی جے پی اعلی ذات کے ہندوؤں کے ساتھ پسماندہ اور دلت طبقہ کو اپنے ساتھ لانے میں کامیاب رہی تھی، اس تحریک سے ہی کلیان سنگھ اور ونے کٹیار جیسے لیڈروں کو آگے لایا گیا تھا۔ملک میں یو ں تو ذات پات کی سیاست کا دخل تقریباً ہر ریاست میں ہے لیکن اترپردیش اور بہار جیسی اہم ریاستوں میں اس کا زور زیادہ ہے ۔منڈل کمیشن کے نفاذ کے بعد ،وی پی سنگھ پسماندہ طبقات کے مسیحا بن گئے تھے اور تب ملائم سنگھ یادو اور لالویادو جیسے لیڈروں کو عروج حاصل ہوا۔آرایس ایس کے نظریہ ساز ، پارلیمانی الیکشن کے بعد سے اب تک ان دونوں ریاستوں کے لئے منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔آرایس ایس اچھی طرح جانتی ہے کہ محض اعلی ذات کے ہندوؤں کی حمایت سے بی جے پی ،اقتدار میں نہیں آسکتی اس کے لئے ضروری ہے کہ پسماندہ طبقات او ر دلتوں کے ووٹ میں سیندھ لگائی جائے ۔چنانچہ ناگپور اجلاس میں جو فیصلے ہوئے اس کی روشنی میں بی جے پی آئندہ کے لئے اپنا لائحہ عمل تیارکررہی ہے ۔اس لائحہ عمل میں جہاں ووٹ کی بنیاد کو مضبوط کرنے کے ساتھ اس کو وسعت دینا ہے وہیں پسماندہ طبقات میں توڑ پھوڑ کرنابھی ہے ۔امت شاہ کا کھلے لفظوں میں یہ کہنا کہ پسماندہ طبقات کو ریزرویشن سے ملنے والے تمام تر فائدہ محض ایک برادری (یادو )اٹھاررہی ہے اس بات کا اشارہ ہے کہ آئندہ کچھ دنوں میں پسماندہ طبقات میں پھوٹ ڈالنے اور انہیں آپس میں لڑانے کی کو ششیں بھی ہوسکتی ہیں، اس طبقاتی جنگ سے بی جے پی کو یقینی طور پر سیاسی فائدہ ہوسکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے معاشرہ میں جو بدامنی اور منافرت کا ماحول قائم ہوگا اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی ؟۔

 

حکمرانوں! اب بھی ہرے ہیں ہاشم پورہ کے زخم!

22مئی1987: اس سیاہ تاریخ کو اب بھی ہاشم پورہ کے لوگ نہیں فراموش کرسکے ہیں۔ اس روز42بے گناہ لوگوں کو ظلم اور بربریت کا نشانہ ہی نہیں بنایا گیا تھا بلکہ ایک مظلوم قوم کو حکمرانوں نے غالباً یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ اس لئے انہیں سراٹھاکر نہیں سرجھاکر رہنا چاہئے۔وردیوں میں ملبوس بندوقیں تھامے ہوئے یہ لوگ ان کے محافظ نہیں قاتل ہیں۔ ہاشم پورہ قتل عام انسانی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے اور پولس وپی اے سی کی مسلم دشمنی کا زندہ ثبوت بھی ہے۔ تقریباً ہر فساد اور ہرتشدد میں ان کا یہی مکروہ چہرا مسلسل سامنے آتا رہا لیکن نہ تو پولس کا رویہ بدلنے کی کوئی کوشش ہوئی اور نہ ہی پی اے سی کو ختم کیاگیا۔ ماضی کے واقعات کا احاطہ کریں تو جو تاریخ سامنے آتی ہے وہ یہ کہ بابری مسجد کا تالاکھلنے کے بعد پورے ملک میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ میرٹھ میں بھی احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں اس سے بعض علاقوں میں حالات کشیدہ تھے چنانچہ انتظامیہ نے کرفیو نافذ کردیاتھا کہ22مئی کی وہ سیاہ رات آگئی کہ جب پی اے سی کے قاتلوں نے انتہائی وحشیانہ طریقہ سے ہاشم پورہ کے مسلم نوجوانوں کو ان کے گھروں سے باہر نکالا اور باہر لے جاکر انہیں ایک ایک کرکے گولیاں ماردیں۔ عین ممکن ہے کہ اس سانحہ پر بھی پردہ ڈال دیا جاتا لیکن پانچ ایسے خوش نصیب بھی تھے جو گولیاں لگنے کے باوجود زندہ بچ گئے اور اس طرح پی اے سی کی بربریت کی وہ کہانی سامنے آگئی جسے سن کر اگرہٹلر بھی زندہ ہوتا تو شاید شرم سے اپنا سرجھکا لیتا۔ بعد میں سینئر صحافی نکھل چکرورتی کی قیادت میں جو فیکٹ فائنڈنگ ٹیم ہاشم پورہ کے دورے پر گئی اس میں جسٹس راجندر سچر، بدرالدین طیب جی، کلدیپ نیر اور آنجہانی آئی کے گجرال شامل تھے جو بعد میں ملک کے وزیراعظم بھی ہوئے۔ دورے کے بعد اپنی رپورٹ میں اس ٹیم نے تحریرکیا تھا کہ یہ قتل ٹھیک ویسے ہی ہے جس طرح نازیوں نے یہودیوں کا قتل کیاتھا۔ یہ بھی کہاگیاتھا کہ اس قتل کے پیچھے منشاء یہ ہے کہ اقلیتوں کو خوف زدہ کردیا جائے۔ کمیٹی نے مطالبہ کیاتھا کہ پی اے سی کے ان جوانوں کے خلاف مقدمہ چلایا جائے جنہوں نے وردی کو داغدار کیا ہے۔ جب یہ قتل عام ہوا تو ریاست میں کانگریس کی سرکار تھی۔ مسلمان چیختے چلاتے رہے مگر انہیں طفل تسلیاں دی جاتی رہیں۔ شرمناک کردینے والا پہلو تو یہ ہے کہ سی بی سی آئی ڈی سے اس کی جانچ کرانے کا فیصلہ بھی قتل عام کے آٹھ سال بعد ہوا۔ فروری1994 میں666 مختلف رینک کے پی اے سی جوانوں کی نشاندہی ہوئی۔ بعد ازاں19 افراد کے خلاف معاملہ درج کرکے غازی آبادی کے سی جے ایم کورٹ میں اس کی سماعت شروع ہوئی۔ اگرچہ سی بی سی آئی ڈی نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کرلیا تھا کہ ٹرک نمبر1693 میں اٹھا کر مسلم نوجوانوں کو ماکن پور گاؤں کے قریب ہنڈن نہر پر لے جاکر گولی ماردی گئی تھی۔ اس نے رپورٹ میں یہ بھی کہاتھا کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود پی اے سی کے ان قاتلوں کو گرفتار نہیں کیاگیا۔24مئی2007 کو آر ٹی آئی کے ذریعہ بھی ایک شخص نے جب معلومات حاصل کیں تو بتایاگیا کہ تمام ملزمین نوکری پر تعینات ہیں یہی نہیں سالانہ خفیہ رپورٹ میں بھی انہیں کلین چٹ دی جاتی رہی ہے مگر اب28برس کے بعد جو افسوسناک فیصلہ آیا ہے اس نے ملک کے ہر انصاف پسند شہری کو مایوس اور شرمندہ کردیا ہے۔ حیرت تو یہ ہے کہ واقعہ کے چشم دید گواہ اب بھی زندہ ہیں مگر اس کے باوجود عدالت نے ثبوت کی عدم موجودگی کا جواز پیش کرتے ہوئے جس طرح ملزمین کو بری کئے جانے کا فرمان جاری کیا اس سے ملک کے قانونی نظام کی خامیاں ایک بار پھر اجاگر ہوگئی ہیں۔ لیکن کیا واقعی ہمارے قانونی نظام میں خامیاں ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر ملک کی اقلیتوں کو اس کا فائدہ کیوں نہیں ملتا؟ درحقیقت یہ خامیاں اس امتیازی رویہ کی دین ہیں جو اقلیتوں اور خاص طو رپر مسلمانوں کے خلاف حکومتوں اور انتظامیہ کے ذریعہ اپنایا جاتا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اب کانگریس بھی اس فیصلہ پر گھڑیالی آنسوبہار ہی ہے۔ کانگریس نے ملزمین کی رہائی کے لئے تفتیشی ایجنسی اور قانون کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر پرمود تیواری اب فرماتے ہیں کہ قاتلوں کوخواہ وہ کوئی بھی ہوں سزا ملنی چاہئے لیکن موصوف بھول گئے کہ اس قتل عام کے وقت وہ ریاست میں وزیرتھے اور تب اس قتل عام کو لے کر ایک مقدمہ بھی درج نہیں ہوسکا تھا۔ دوسری طرف بی جے پی نے اس فیصلہ پر رد عمل کا اظہار کتے ہوئے کہا کہ اس وقت کانگریس اقتدار میں تھی اور اب سماجوادی حکومت اس مقدمہ کو لڑرہی تھی چنانچہ اگر ایسا فیصلہ آیا ہے تو اس کے لئے یہی دونوں ذمہ دار ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں نے جس سیاسی پارٹی پر بھروسہ یا تکیہ کرنا چا ہا اس نے ہی ہمیشہ اسے دھوکہ دیا ہے لیکن شاید ہمارے حکمرانوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقت کا مرہم بھی نہیں بھرسکتا اور ہاشم پورہ قتل عام کا زخم ایسا ہی ہے۔ ہمارے حکمراں اس بات کو بھی بھول رہے ہیں کہ

جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

 

42بے گناہ مسلمانوں کے10قاتل اب بھی اترپردیش پولس میں تعینات!
ایک سیاہ اور خوفناک رات میں42بے گناہ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتاردینے والے قاتل دستے کو دہلی کی ایک عدالت نے اس لئے باعزت بری کردیاکیونکہ ان کی شناخت نہیں ہوسکی تھی۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ اس قتل عام میں زندہ بچ جانے والوں کی گواہی کی بنیاد پر ہی ایک کمانڈر سمیت19پی اے سی کے جوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ اب جبکہ عدالت اپنا فیصلہ سناچکی ہے تو ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت بھی سرگرم ہوگئی۔ ان کے بیان دھڑا دھڑ اردو اخبارات میں آرہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ وقتی رویہ ہے۔ چند روزتک یہ سرگرمیاں جاری رہیں گی اس کے بعد پھر ہر چہار جانب خاموشی طاری ہوجائے گی۔ عدالت کا حالیہ فیصلہ ہماری قیادت کی خاموشی کا ہی نتیجہ ہے۔ اس معاملہ میں میرٹھ کے یامین انصاری جب تک حیات رہے انہوں نے اپنے طور پر اس کی پیروی کی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ مقدمہ یتیمی کا شکار ہوگیا۔ فیصلہ پرنقلی آنسو بہانے والے ہمارے قائدین نے مقدمہ کو اترپردیش سرکار کے رحم وکرم پر چھوڑ کر مطمئن ہوگئے۔ حالانکہ آزادی کے بعد سے اب تک کی جمہوری تاریخ گواہ ہے کہ خود کو سیکولر کہنے والی سرکاروں نے کبھی مسلمانو ں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ وہ ان کا جذباتی اور سیاسی استحصال کرکے اقتدار میں تو آتی ہیں لیکن ان کے ساتھ انہوں نے نہ تو کبھی انصاف کیا اور نہ ہی ان سے کئے گئے وعدوں کی ایماندارانہ تکمیل کی۔ لیکن اس کے باوجود ہم ہاشم پورہ قتل عام کے مقدمہ کی ذمہ داری اترپردیش سرکار کو سونپ کر مطمئن ہوگئے کہ اب مظلومین کو یقیناًانصاف مل جائے گا۔ ہمارے کسی لیڈر اور قائد نے اترپردیش سرکار سے یہ جاننے یا پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ پی اے سی کے جن قاتلوں کے خلاف فرد جرم عائد کی جاچکی ہے اب وہ کہاں ہیں اور کیا کررہے ہیں۔ اب تازہ انکشاف یہ ہوا ہے کہ ان قاتلوں میں سے10اب بھی اترپردیش پولس میں تعینات ہیں۔ واضح ہوکہ پی اے سی کے جن19جوانوں کو ملزم بنایاگیاتھا ان میں سے تین مرچکے ہیں۔ سی بی سی آئی ڈی کی رپورٹ آنے کے بعد جب اس معاملہ میں باقاعدہ چارج شیٹ داخل ہوئی تو 2000 میں یعنی قتل عام کے13برس بعد انہو ں نے خود سپردگی کردی تھی لیکن جیسے ہی ان کی ضمانتیں ہوئیں اس کے کچھ ہفتوں کے بعد ہی انہیں ان کے عہدوں پر بحال بھی کردیاگیا۔ ان تمام کا تعلق پی اے سی کی41ویں بٹالین سے تھا۔ بہر حال مقدمہ کے دوران تین مرگئے، چھ ریٹائر ہوگئے یا پھر ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنی مرضی سے نوکری چھوڑ دی۔ اس بٹالین سے تعلق رکھنے والے ہیڈکانسٹبل نرنجن لال نے بھی اعتراف کیا کہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد تمام کو نوکریوں پر بحال کردیاگیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بعد میں ان19لوگوں میں سے کچھ کو پی اے سی سے ہٹا کر اترپردیش پولس میں لے لیاگیاتھا اور انہیں مختلف اضلاع میں تعیناتی کا پروانہ بھی دے دیاگیاتھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق الزام لگنے کے بعد انہیں کچھ عرصہ کے لئے معطل ضرور کردیاگیا تھا البتہ انہیں ترقی دینے کے ایشو پر غور نہیں کیاگیا کیونکہ ان کے خلاف مقدمہ عدالت میں زیرسماعت تھا۔1996 میں جب اس معاملہ میں چارج شیٹ داخل کی گئی تھی تو اس وقت ریاست کے ڈی جی پی وی ایس ماتھر تھے۔ ان کی دلیلہے کہ چارج شیٹ داخل ہونے کامطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ انہیں نوکری سے بھی برخواست کردیا جاتا۔ اترپردیش سرکار کی مسلم دشمنی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان قاتلین کو واقعہ کے10برس بعد1996میں تب معطل کیاگیا جب اترپردیش سی بی سی آئی ڈی نے معاملہ کی تفتیش کے بعد ان تمام کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت ریاستی حکومت سے طلب کی۔ چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد تھوڑی مدت کے لئے انہیں جیلمیں بھی ڈالا گیاتھا۔ قاتلین میں سے جو10اب بھی اترپردیش پولس میں تعینات ہیں ان میں سے ’نرنجن لال، حکم سنگھ اور سمیع اللہ تو اب بھی پی اے سی میں ہیں جبکہ کنور پال سنگھ، بدھا سنگھ، رام ویر سنگھ، ہمبیرسنگھ، شرون کمار، جے پال سنگھ اور مہیش پرساد یوپی پولس میں ہیں۔گزشتہ روز آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے جے پور میں جو پریس کانفرنس ہوئی اس میں جب بورڈ کے اسسٹنٹ سکریٹری عبدالرحیم قریشی سے اس فیصلہ کے تعلق سے جب یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ کیا بورڈ اس فیصلہ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گا توانہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ فسادات بورڈ کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ اس وقت اترپردیش کے ایڈوکیٹ جنرل ظفر یاب جیلانی ان کے پہلو میں موجود تھے۔ چنانچہ صحافیوں نے جب انہیں کریدا تو انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے لئے ہم اترپردیش سرکار سے بات کریں گے گویا ریاستی سرکاروں کے اب تک کے رویہ سے بھی ہماری آنکھیں نہیں کھلی ہیں۔ البتہ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی جانب سے یہ مثبت خبر ضرور آئی ہے کہ اس معاملہ کو لے کر جمعیۃ علماء اعلیٰ عدالتوں میں جانے کے لئے تیار ہے۔ مولانا مدنی نے کہاہے کہ مقامی عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے اس کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جانے کے لئے تیار ہیں کیونکہ یہ ہمارا آئینی حق ہے۔ چنانچہ اب ہم اس معاملہ میں انصاف کی توقع کرسکتے ہیں۔

 

مہاراشٹر وہریانہ میں’یس‘ گوا میں’ نو‘ اب کیوں چپ ہے آرایس ایس؟

مہاراشٹر میں ’’بیف‘‘ پر اقلیتوں سے صلاح ومشورہ کئے بغیر جس طرح پابندی نافذ کردی گئی اور اس کے بعد ہریانہ نے بھی ایک قانون منظور کرلیا اس پر مسلمان اور عیسائی تو خاموش ہیں اور انہیں خاموش بھی رہنا چاہئے اس لئے کہ سوشل میڈیا سے لے کر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک اس پابندی کے خلاف اکثریتی فرقہ کے انصاف پسند لوگ مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔ یہی نہیں ہندو مذہب سے ہی تعلق رکھنے والے دوانصاف پسند شہریوں نے اس پابندی کے خلاف اب عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹادیا ہے۔ انہو ں نے جورٹ ممبئی ہائی کورٹ میں داخل کی ہے اس میں’ مہاراشٹر انیمل پری زرویشن ایکٹ‘ کو چیلنج کیاگیا ہے۔ ایڈوکیٹ وشال سیٹھ اور سائنا سین نے اپنی رٹ میں اس قانون کو بنیادی حقوق کی پامالی سے تعبیر کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم ہندو ہیں اور گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ یہ ہماری خوراک کا حصہ ہے اور ہمارے لئے غذا کا ذریعہ بھی ۔ چنانچہ گائے کے گوشت پر پابندی لگانا اور اس کی فروخت کو جرم قرار دینا شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔ رٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ یہ پابندی آرٹیکل24کے تحت زندگی کے معیار کے حق کی خلاف ورزی کرتی ہے ساتھ ہی آرٹیکل29کی بھی<...


Advertisment

Advertisment