Today: Sunday, September, 24, 2017 Last Update: 05:14 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

   

ایران تکنالوجی کے خفیہ تجربات کررہا ہے : اسرائیل کا الزام

ایران تکنالوجی کے خفیہ تجربات کررہا ہے : اسرائیل کا الزام

 

اسرائیلی انٹیلی جنس کی وزارت کا انکشاف

مقبوضہ یروشلم 25ستمبر( ایجنسیاں)اسرائیل نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے اپنے فوجی اڈے پارچین کو دھماکوں کے خفیہ تجربات کے لیے استعمال کیا ہے۔ اسرائیل کے بقول اس طرح کے خفیہ دھماکوں کی ضرورت صرف جوہری دھماکوں کے لیے پڑتی ہے۔اسرائیل ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ جاری مذاکرات کا سخت مخالف ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ ایران مذاکرات کے ذریعے صرف وقت حاصل کر رہا ہے اور ایران جوہری حوالے سے قابل اعتبار نہیں ہو سکتا۔ایران کی طرف سے یہ انکشاف ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے، جب عالمی رہنما جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک میں جمع ہیں۔ پچھلے سال جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے عالمی برادری کے سامنے کہا تھا کہ ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف اسرائیل کو تنہا بھی کچھ کرنا پڑا تو گریز نہیں کرے گا۔واضح رہے ایران کے لیے جوہری سفارت کاری کے بانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے جنرل اسمبلی سے خطاب سے محض ایک روز پہلے اسرائیلی انٹیلی جنس کی وزارت یہ اطلاعات سامنے لائی ہے۔دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ جوہری بم بنانے کے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں، جبکہ یہ اسرائیل ہے جس کے بارے میں یہ بات ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی بنیاد پر خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔اسرائیلی انٹیلی جنس کے معاملات کو دیکھنے والی وزارت کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ اطلاعات انتہائی قابل اعتماد ہیں۔تاہم وزارت نے اس بارے میں کوئی تفصیل یا وضاحت جاری نہیں کی ہے۔اسرائیل کی طرف سے ان مبینہ خفیہ دھماکوں کی کوئی متعین تاریخ بھی نہیں بتائی گئی کہ ایران نے یہ جوہری تجربہ کب کیا۔ اسرائیل نے صرف یہ کہا ہے دھماکے 2000 اور 2001 میں دھماکوں کے لیے خفیہ جگہ تیار کرنے کے بعد کیے گئے۔ واضح رہے 2011 میں عالمی ادارے آئی اے ای اے نے بھی اسی طرح کی ایک رپورٹ دی تھی جس میں اس شک کا اظہار کیا گیا تھا کہ ہو سکتا ہے ایران نے خفیہ دھماکے کیے ہوں۔ایران جو کہ چھ بڑی طاقتوں امریکا، روس، چین، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے پچھلے 24 نومبر کو ایک ابتدائی معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ البتہ اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکراتی عمل جاری ہے۔عالمی جوہری ادارے نے 2011 میں اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی تھی کہ  " ایران جوہری ہتھیاروں کی تحقیق سے متعلق پروگرام رکھتا تھا لیکن ایران پر دباو بڑھا تو اس نے 2003 میں اسے روک دیا تھا۔ " اس رپورٹ کے مطابق ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے جن 12 پہلووں کو دیکھنے کی ضرورت ہے ان میں نہوٹران انیشی ایٹر بھی ہے، جس کی مدد سے جوہری بم کا دھماکہ کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔

...


Advertisment

Advertisment