Today: Thursday, November, 22, 2018 Last Update: 02:04 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ورلڈ کپ میں جانے سے پہلے انضمام الحق سے ملاقات کروں گا

 

نوجوان کرکٹرصہیب مقصودعظیم بلے بازسے بیٹنگ کے ٹپس سیکھنے کے خواہاں
کراچی، 16؍جنوری(آئی این ایس انڈیا )انضمام الحق اگرچہ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہوچکے ہیں اور اب ان کا زیادہ تر وقت دینی سرگرمیوں میں گزر رہا ہے لیکن آج بھی نوجوان کرکٹرز یہ خواہش رکھتے ہیں کہ انھیں انضمام الحق سے کچھ سیکھنے کا موقع مل سکے۔یہ خواہش ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی صہیب مقصود کی بھی ہے۔صہیب مقصود چاہتے ہیں کہ ورلڈ کپ میں جانے سے پہلے ان کی ملاقات انضمام الحق سے ہوجائے اور وہ ان سے بیٹنگ کے گرُ سیکھ سکیں۔میری انضمام الحق سے باقاعدہ ملاقات نہیں رہی ہے۔میں جب کرکٹ میں آیا تو وہ ریٹائر ہو چکے تھے۔ ملتان میں آئی ڈی پیز کے میچ کے موقع پر میں ان سے ملا تھا اور کافی مشورے ان سے لیے لیکن میں چاہتا ہوں کہ ورلڈ کپ میں جانے سے قبل ان سے ملوں۔ ان کے بھتیجے میرے بہت ہی اچھے دوست ہیں ان کے توسط سے ان سے ملوں گا تاکہ ان سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی وکٹوں پر بیٹنگ کے بارے میں رہنمائی لے سکوں۔صرف ورلڈ کپ کھیلنا ہی بڑی بات نہیں ہے اس میں اچھی کارکردگی بھی ضروری ہے اور کوشش یہی ہوگی کہ سنہ 1992میں پاکستان نے آسٹریلیا نیوزی لینڈ میں جس طرح عالمی کپ جیتا تھا اس تاریخ کو دوہرائیں۔ میں اب ٹیم میں نیا نہیں ہوں۔سال ڈیڑھ سال سے تقریباً تمام سیریز کھیلتا رہا ہوں تو اب مجھ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ میں مڈل آرڈر میں اچھی بیٹنگ کرکے ٹیم کے کام آسکوں۔صہیب مقصود اور انضمام الحق میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں کا تعلق ملتان سے ہے اورصہیب مقصود جس کلب سے کھیلتے ہیں انضمام الحق وہیں آ کر نیٹ پریکٹس کیا کرتے تھے لیکن صہیب مقصود یہ تسلیم کرتے ہیں کچھ بھی ہو انضمام الحق تک پہنچنا آسان نہیں۔انضمام الحق میرے فیورٹ کرکٹر ہیں اور میں نے انھیں ہمیشہ اپنا آئیڈیل رکھا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک ہی شہر کے ہونے کے ناطے اور ایک قد کاٹھ کی وجہ سے مجھے اپنے کریئر کے شروع میں لوگ ان سے ملتا جلتا کہتے تھے لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کے نام تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔صہیب مقصود ورلڈ کپ کی ٹیم میں شمولیت پرخوش ہیں لیکن انھیں اس بات کا بخوبی اندازہ بھی ہے کہ یہ ایک بہت بڑا امتحان ہے۔صرف ورلڈ کپ کھیلنا ہی بڑی بات نہیں ہے اس میں اچھی کارکردگی بھی ضروری ہے اور کوشش یہی ہوگی کہ سنہ 1992 میں پاکستان نے آسٹریلیا نیوزی لینڈ میں جس طرح عالمی کپ جیتا تھا اس تاریخ کو دوہرائیں۔ میں اب ٹیم میں نیا نہیں ہوں۔ سال ڈیڑھ سال سے تقریباً تمام سیریز کھیلتا رہا ہوں تو اب مجھ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ میں مڈل آرڈرمیں اچھی بیٹنگ کرکے ٹیم کے کام آسکوں۔صہیب مقصود کچھ عرصے سے کلائی کی تکلیف میں مبتلا تھے لیکن اب وہ خود کو مکمل فٹ محسوس کرتے ہیں۔فٹ ہونے کے بعد میں نے پنٹنگولرکپ کے میچز کھیلے جو میرے لیے اچھا تجربہ رہا اور میرا اعتماد بھی واپس آیا ہے۔صہیب مقصود ماضی میں متعدد مرتبہ فٹنس مسائل سے دوچار رہے ہیں اور یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ کرکٹ چھوڑنے کے ڈر سے انھوں نے تعلیم بھی مکمل کرتے ہوئے ایم بی اے کیا لیکن پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب بیرون ملک ملازمت ان کی منتظر تھی لیکن انھوں نے کرکٹ کواس پر ترجیح دی کیونکہ وہ یہی سوچا کرتے تھے کہ کرکٹ کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے۔

...


Advertisment

Advertisment