Today: Thursday, November, 22, 2018 Last Update: 02:13 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

حالیہ کوچ کے انتخاب میں کوہلی کی سنی جانی چاہئے:ڈین جونس


میلبور ن14جنوری(آئی این ایس انڈیا)آسٹریلیا کے سابق بلے باز ڈین جونس کا خیال ہے کہ ہندوستان کے نئے کوچ کے انتخاب میں ٹیسٹ کپتان وراٹ کوہلی کو بھی شامل کیا جانا چاہئے،حالیہ کوچ کا انتخاب اگلے ماہ سے شروع ہو رہے کرکٹ ورلڈ کپ کے بعد کیا جانا ہے۔ہندوستان کے سبکدوش ہونے والے کوچ ڈنکن فلیچر کا معاہدہ 29مارچ کو ختم ہو رہے ورلڈ کپ کے ساتھ ختم ہو جائے گا اور ان کے ممکنہ اختیارات کو لے کر کچھ امیدواروں کا نام پہلے ہی دوڑ میں ہے۔ خصوصی بات چیت کے دوران ٹیم ڈائریکٹر روی شاستری پہلے یی اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ ورلڈ کپ کے بعد ٹیم انڈیا کے ساتھ مستقل کردار کے خواہش مند ہیں۔مائیکل ہسی کے نام کی بھی قیاس آرائی لگا جا رہی تھی لیکن یہ کرکٹر فی الحال خود کو اس دوڑ سے الگ کر چکا ہے۔جونس نے کہا کہ وراٹ کوہلی اب ٹسٹ کپتان ہے اور آئندہ وقت میں وہ ون ڈے اور ٹی 20کپتان بھی بنے گا،اس لئے اسے ایسا شخص ملنا چاہئے جس کے ساتھ وہ آرام دہ ہو اور ایک ساتھ مل کر وہ ہندوستانی کرکٹ کی بہتری کے لئے کام کر سکے۔انہوں نے کہا کہ ٹیم کے اندرموجودپریشانیوں سے باہر آنے کی ضرورت ہے اور حالیہ جارحانہ کپتان کو حالیہ کوچ کے ساتھ مل کر ایسا کرنا چاہئے۔ورلڈکپ اور آئی پی ایل کے بعد مناسب کوچ منتخب کرنے کے لئے ان کے پاس کافی وقت ہے،اچھے انتخاب پرفیصلہ کرنے کے لئے ان کے پاس تین سے چار ماہ کا وقت ہے۔ہندوستان تازہ ترین آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں ساتویں نمبر پر کھسک گیا ہے اور اس سے نیچے صرف ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش اور زمبابوے ہے ۔جونس نے ہندوستان کے کوچنگ عملے سے وابستہ سوال کے جواب میں کہا کہ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا پیسے سے حاصل کیا جانے والا بہترین کوچنگ عملہ ان کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا ان کے پاس اس وقت بہترین عملہ ہے،واضح طور پر نتائج ایسا نہیں کہتے۔ہندوستان نے انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز میں 1-3کی شکست کے بار اپنا معاون عملہ بدل دیا تھا۔جو ڈاویس اور ٹریور پینی کو برخواست کرکے ان کی جگہ شاستری، آر سریدھر اور بی ارون کو لایا گیا تھا۔جونس نے کہا کہ بار بار عملے کو بدلنا حل نہیں ہے اور یقینی طور پر میں اس کی تائید نہیں کروں گا لیکن کیا انگلینڈ سے لے کر آسٹریلیا میں کارکردگی میں کچھ فرق آیا بالخصوص گیندبازوں کی کارکردگی میں۔انہوں نے انگلینڈ میں شارٹ اور باہر گیندیں ڈالیں اورآسٹریلیا میں بھی انہوں نے شارٹ اور باہر گیندیں پھینکیں اور مسابقتی کرکٹ کھیلنے کے باوجود ہندوستان نے دونوں سیریز گنوا دی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو جس چیز کی ضرورت ہے اور جسے بی سی سی آئی آسانی سے لا سکتا ہے وہ ہے مناسب بولنگ کوچ،کسی کو ہمیشہ ان نوجوان گیندبازوں سے بات کرنے کی ضرورت ہے، میچ سے پہلے، میچ کے بعد اور وقفے کے دوران ،اسسٹنٹ عملہ صرف اتنا ہی کر سکتا ہے۔ جونس نے کہا کہ مناسب بولنگ کوچ، ایک بڑا نام، ایک سابق کرکٹرشایدان نوجوان گیندبازوں کی بہتر طریقے سے مدد کر سکے گا۔ان کے پاس رفتار اور گیند کو سوئنگ کرانے کی صلاحیت ہے، ان کے پاس قابلیت ہے۔انہیں بس اس کا استعمال کرنا نہیں آتا۔جونس نے اس کے علاوہ ہندوستانی کرکٹ کو آگے بڑھانے کے لئے ایک نیا فارمولہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے لئے مسئلہ بالکل صاف ہے ،وہ 20وکٹ حاصل نہیں کرسکتے اگروہ چار گیندبازوں سے ایسا نہیں کر سکتے تو انہیں پانچ گیند بازوں کے ساتھ کرنا چاہئے۔آر اشون کو دیکھئے،وہ ٹھیک ٹھاک بلے بازی کر لیتا ہے۔

...


Advertisment

Advertisment