Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 03:21 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

دھونی نے صحیح وقت پر لیا ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

 

کرسی کے لالچی منتظمین کیلئے ہے سبق:کپل دیو
کولکاتہ14جنوری(آئی این ایس انڈیا)مہندر سنگھ دھونی کے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے سابق ہندوستانی کپتان کپل دیو نے کہا کہ اس وکٹ کیپر بلے باز نے اپنے دانشمندانہ فیصلے سے کرسی کیلئے لالچی منتظمین سمیت ہر ایک کو سخت پیغام دیا۔کپل نے دی ٹیلی گراف کے چوتھے ٹائیگر پٹودی میموریل لیکچر کے دوران کہا کہ دھونی آرام سے 100ٹیسٹ میچ کھیل سکتے تھے،اس نے کرکٹ کو یہ کہتے ہوئے ا لوداع کہدیا کہ میں نے اپنا بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اب اگلی نسل کو اپنا کام کرنے دو، جو کام اس نے کیا وہ ہم نہیں کر پائے،اس لئے میں کہتا ہوں شاباش دھونی! میں آپ کا قائل ہوں۔انہوں نے کہا کہ دھونی آپ عظیم ہو!آپ نے ملک کی بہت اچھی طرح سے خدمت کی ہے۔کئی لوگ کہہ رہے ہیں کہ انہیں کم سے کم 100ٹیسٹ میچ کھیلنے چاہئے تھا،مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے ہمیں نئی سوچ دی،آپ تاعمر نہیں کھیل سکتے ہو،آپ کو اس وقت ریٹائرمنٹ لے لینا چاہئے جب آپ کو لگے کہ اگلی نسل آ رہی ہے۔کپل نے آسٹریلوی قدآور کھلاڑی گریگ چیپل کی با ت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بات کہی تھی جس سے میں متفق ہوا کہ کوئی کرکٹر جو اپنے وقت سے طویل کھیلتا ہے وہ تین نسلوں کو ختم کرتا ہے،یہ خیال قابل ستائش ہے۔کرکٹ منتظمین کی کھنچائی کرتے ہوئے کپل نے کہا کہ امید ہے کہ کرکٹ میں انتظامیہ سے وابستہ لوگ اس سے سبق لیں گے اور اپنی کرسیوں پر 30سال یا تاعمر نہیں چپکے رہیں گے۔کپل نے اس کے ساتھ ہی دھونی کی ٹیم کو آسٹریلیا اورنیوزی لینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ کیلئے نیک خواہشات بھی دیں۔انہوں نے کہا کہ میں آپ کو ایک اور جیت کیلئے نیک خواہشات دیتا ہوں،امید ہے کہ آپ اچھا مظاہرہ کروگے،یہ ہر چار سال میں ایک بار ہوتا ہے،اگلے چار سال تک انتظار کرنا زخم دیتا ہے۔کپل نے 1983کی جیت کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت فخر اور خوشی محسوس کرتا ہوں کہ میں 1983کی ٹیم کا حصہ تھا،کپتانی کو بھول جاؤ،اس عمل کا حصہ بننا بڑی بات ہے جو ہم نے اپنے ملک میں شروع کیاتھا۔انہوں نے کہا کہ اعتماد سے ہی آپ کرکٹ ہی نہیں کسی بھی کھیل میں کچھ حاصل کر سکتے ہو،ہم نے خود پر یقین کرنا شروع کیا کہ ہم کچھ حاصل کر سکتے ہیں اور 1983میں سب سے اچھی بات ہوئی، میری ٹیم آپ کی ٹیم بھی ہے۔کپل نے اس کے ساتھ ہی بی سی سی آئی سے طویل چھوٹے فارمیٹ کے میچوں کیلئے الگ الگ کپتان مقرر کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیسٹ کھلاڑی ٹی 20کا اچھا کپتان نہیں ہو سکتا ہے اور ہر ایک ٹی 20کا کپتان ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنے کیلئے اچھا نہیں ہو سکتا،یہ کافی مشکل ہے کیونکہ ٹیسٹ میچوں میں آپ کو سوچنا پڑتا ہے،مجھے امید ہے کہ میرا ملک اور کرکٹ بورڈ اس پر غور کرے گا اور دو یا تین مختلف کپتان رکھے گا،اس سے ہمارے کھیل کو مدد ملے گی۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment