Today: Thursday, November, 22, 2018 Last Update: 02:00 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ہندوستان کو بیرون ملک میں زیادہ کرکٹ کھیلنے کی ضرورت

 

آسٹریلیا کیخلاف ٹسٹ سیریز میں 2۔0سے کراری شکست کے بعد راہل دراوڈ نے گیند بازی خیمے سے مایوسی ظاہر کی ہے

نئی دہلی، 13 جنوری (یو این آئی) ہندوستان کے سابق کرکٹر راہل دراوڑ نے آسٹریلیا کے خلاف ٹسٹ سیریز میں 2۔0 سے ہندوستان کی کراری شکست کے بعد گیند بازی خیمے سے مایوسی ظاہر کی ہے ۔ مسٹر دراوڑ نے کہا ہے کہ غیر ملکی زمین پر اچھی کارکردگی کرنے کے لیے ٹیم کو ملک کے باہر زیادہ کھیلنے کی ضرورت ہے ۔ آسٹریلیا کے خلاف چار میچوں کی ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد ہندوستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں رینکنگ گرکر ساتویں نمبر پر آ گئی ہے ۔ کرکٹ انفو کو دیئے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا ‘‘ ہم ساتویں یا پانچویں نمبر پر ہوں۔ میرے لیے اس میں کوئی بہت بڑا فرق نہیں ہے ۔ ہم غیر ملکی زمین پر زیادہ نہیں کھیلے ہیں۔ اگر ہم ملک کے باہر زیادہ سے زیادہ کھیلیں گے تو مجھے یقین ہے کہ ہماری درجہ بندی میں بھی بہتری ہوگی’’۔
دراوڑ نے کہا ‘‘ ہم ملک میں کھیلنے کے دوران اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ٹیم کا بیٹنگ خیمہ بہت بہتر ہے اور اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ بہترین اسپنر بھی موجود ہیں جو ایسے حالات میں بھی اچھا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ ہم یہ گفتگو قریب دو سال بعد کر رہے ہیں اور اس دوران ہم نے غیر ملکی زمین پر بہت زیادہ میچ نہیں کھیلے ہیں ’’۔ انہوں نے کہا ‘‘ ہندوستانی ٹیم نے بیٹنگ لائن بنانے پر محنت کی ہے اور ہم اس میں مہارت حاصل کرنے کے بہت قریب پھچ گئے ہیں اور اب ہر صورت میں ہمارے بلے باز بہتر مظاہرہ کر سکتے ہیں لیکن غیر ملکی زمین پر گیند بازوں کی کارکردگی میں اصلاح کی ضرورت ہے اور اس پر محنت کرنے کی کافی ضرورت ہے ’’۔دراوڑ نے کہا ‘‘ بالنگ سے زبردست مایوسی ہوتی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اگر آپ مسلسل خراب بولنگ کر رہے ہیں اور آپ کی ٹیم میں عالمی معیار کے اسپنر اور فاسٹ بولر نہیں ہیں تو ظاہر ی طور پر آپ کی درجہ بندی میں کمی آئے گی کیونکہ ایسے میں آپ نتائج نہیں دے سکتے ہیں ’’ ہندوستان کے سابق بلے باز نے کہا ‘‘ بے شک ٹیم کا موجودہ گیند بازی خیمہ کئی غیر ملکی دوروں میں ناکام رہا ہے اور اچھا مظاہرہ نہیں کر سکا ہے لیکن ہندوستان کے پاس اس وقت یہ اہم گیندباز کہے جا سکتے ہیں جنہوں نے گھریلو کرکٹ میں بہترین نتائج دیئے ہیں’’۔ انہوں نے کہا ‘‘ یہ بہت مشکل ہے ۔ میں نے ہندوستان میں رنجی ٹرافی کرکٹ اور بین الاقوامی کرکٹ دیکھا ہے اور ان کھلاڑیوں میں بہترین دم خم ہے ۔ اگرچہ بولنگ خیمہ امید کے مطابق مظاہرہ نہیں کر پا رہا ہے لیکن امید ہے کہ آنے والے چھ ماہ یا آٹھ مہینوں میں حالات ضرور سدھریں گے ’’۔ دراوڑ نے کہا ‘‘مجھے پوری امید ہے کہ چیزیں ضرور بدلیں گی اور ٹیم کو نوجوان بولر ملیں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم آسٹریلیا دورہ سے پہلے بہت جوش میں تھے ۔ ہمیں امیش یادو، آرون جیسے 2،3 نوجوان کھلاڑی ملے تھے جو 140 کلومیٹر فی گھنٹے بھی زیادہ کی رفتار سے گیند بازی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیم میں ایشانت شرما اور بھونیشور کمار جیسے تیز گین دباز پہلے سے موجود تھے جنہوں نے کئی میچوں میں اچھا مظاہرہ کیا ہے ’’۔
ڈراوڑ نے کہا ‘‘ اس لئے میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ان کھلاڑیوں میں صلاحیت نہیں ہے ۔ یہ ان کے لیے پڑاؤ ہیں جن سے انہیں سیکھنے کی ضرورت ہے اور کئی شعبوں میں کام کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ اگر آپ انہی گیند بازوں کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں اور انہوں نے گیند بازی پر محنت کی ہو تو یہ آپ کی ٹیم کے لئے سب سے بہترین بولر ثابت ہو سکتے ہیں ’’۔ وراٹ کوہلی کو کپتان بنائے جانے پر دراوڑ نے کہا ‘‘ وراٹ ہندوستان کے لیے اور اس کے ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے سب سے زیادہ مناسب کپتان بن سکتا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ وراٹ کیلئے ابتدائی دن ہیں لیکن انہوں نے بہترین کرکٹ کھیلا ہے اور یہ ثابت ہے کیا ہے کہ وہ ٹیم کی قیادت کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں سب سے بڑا پلس پوائنٹ ان کیلئے یہ ہے کہ اس ٹیسٹ سیریز میں انہوں نے بہترین مظاہرہ کیا ہے ’’۔ انہوں نے کہا ‘‘ وراٹ کو اس وقت پردے کے پیچھے بہت کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر وراٹ وہ سب کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں تو ظاہرہے کہ وہ اچھے نتائج لا سکتے ہیں۔ کیونکہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں بہت سے لوگ اس کھیل میں شامل ہوں۔ وہاں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے بس اسے تلاش کرکے نکالنے اور سامنے لانے کی ضرورت ہے ۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment