Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 12:38 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ہندوستان کو اپنے اسی بالنگ اٹیک کو برقرار رکھنا چاہئے:فلیمنگ

 

سڈنی12جنوری(آئی این ایس انڈیا)آسٹریلیا کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں 0-2کی شکست کے دوران ہندوستانی بولنگ اٹیک کو بھلے ہی چوطرفہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو لیکن آسٹریلیا کے سابق تیز گیند باز ڈیمن فلیمنگ نے زور دے کر کہا کہ کھلاڑیوں کے موجودہ گروپ کو برقرار رکھنے سے ایک عرصے بعد فائدہ ملے گا۔فلیمنگ نے کہا کہ میں اس گیند بازی یونٹ کو ایک ساتھ رکھنا چاہتا ہوں جس سے کہ وہ سیکھتے رہیں،ایسا لگ رہا ہے کہ ایشانت شرما کی کارکردگی میں تسلسل آ رہا ہے۔امیش یادو اور ورون آرون کے طور پر ان کے پاس دو ایسے بالر ہیں جو 90میل فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے بولنگ کر سکتے ہیں اور ساتھ ہی گیند کوبھی سوئنگ کرا سکتے ہیں۔دنیا میں زیادہ ایسے بالر نہیں ہیں جو ایسا کر سکتے ہیں،اس لئے میں ان سے زیادہ کھلانا چاہوں گا۔اس تیز گیند باز نے کہا کہ محمد سمیع مؤثر ہے لیکن وہ کافی تیز رفتار سے گیند نہیں کرتا اور نہ ہی گیند کو زیادہ موو کرتا ہے۔ہندوستان کے ساتھ بھونیشور کمار بھی ہے جسے سوئنگ بولنگ کا تحفہ ملا ہے اورموافق حالات میں ہندوستان اسے کھلا سکتا ہے۔فلیمنگ کا خیال ہے کہ محمد سمیع اور آف اسپنرروی چندرن آشون جیسے بالر کچھ مواقع پر وکٹ لے سکتے ہیں لیکن اس کے لئے قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور وقت آ گیا ہے کہ یہ دونوں اپنی کارکردگی کو بہتر کریں۔
کرکٹر سے کمنٹیٹر بنے فلیمنگ نے کہا کہ بولنگ میں تسلسل کی اتنی کمی ہے کہ اس سے ٹیم کی پوری حکمت عملی متاثر ہوتی ہے،مجھے لگتا ہے کہ ان کے گیند باز ذہنی طور پر مضبوط نہیں ہیں،ان کی گیند بازی میں ناپختگی نظر آتی ہے،وہ کافی جلد بہت کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور شاید یہ موجودہ کرکٹروں کی نسل میں ہی ہے۔ہندوستانی گیند باز نے چار ٹیسٹ کی سیریز کے دوران نہ صرف کافی رن لٹائے بلکہ وہ آسٹریلیا کے 20وکٹ بھی چٹکانے میں ناکام رہے اور فلیمنگ کا خیال ہے کہ مہمان ٹیم کے گیندبازوں کو میزبان ٹیم کے گیند بازوں سے سبق لینا چاہئے۔فلیمنگ نے کہا کہ ہندوستانی گیند بازوں کی لائن لینتھ میں اصلاح کی ضرورت ہے،مثال کے طور انہیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ریان ہیرس نے زیادہ تر گیندیں کہاں ڈالی ہیں اورانہیں مسلسل اسی مقام پر بولنگ کرنی ہوگی،وہ بلے باز کو کافی گیند کھیلنے کے لئے مجبور کرتا ہے اور ہندوستان کو بھی اس بات کویقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ آف اسٹمپ پر گیند بازی کریں ۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور ہندوستان ایسے کھلاڑیوں کا گروپ ہے جو گھریلو سرزمین پر آسانی سے جیت سکتا ہے لیکن انہیں غیر ملکی سرزمین پر جیتنے کے لئے بہتر کھیلنا سیکھ جائے گی اورآسٹریلیا سمیت کرکٹ دنیا اب یہی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ہندوستانی گیند بازوں نے سڈنی میں چوتھے اور آخری ٹیسٹ کے چوتھے دن بھی مایوس کیا جب انہوں نے ایک سیشن میں 213رنز لٹا کے آسٹریلیا کو جیت کے لئے کوشش کرنے کا موقع دے دیا تھا۔ٹیسٹ سیریز میں دو کپتانوں نے ہندوستان کی قیادت کی اور نتیجہ مایوس کن رہا۔فلیمنگ کا خیال ہے کہ کپتانی اور حکمت عملی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں مہندر سنگھ دھونی کے کچھ فیلڈروں کو کھڑا کرنے کو لے کرمتحیرتھا،اس نے ٹیسٹ کرکٹ کو لے کر جلد تبدیلی نہیں کی۔وراٹ کوہلی جیسا شخص ایسا کر سکتا ہے کیونکہ وہ کافی جارحانہ ہے اور کسی خاص حالت میں رد عمل دینا پسند کرتا ہے۔فلیمنگ نے کہا کہ اور یہیں قیادت اور کوچنگ عملے کو بہتر بنانے کے عمل میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔انفرادی کھلاڑی کے طور پر آپ کے پاس حکمت عملی ہونی چاہئے۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment