Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 01:44 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

گیل کے ایک اور دھماکے سے ویسٹ انڈیز کی تاریخ ساز فتح

 

کرس گیل اور مارلن سیموئلس کی طوفانی شراکت کے سامنے پھیکی پڑی افریقی کپتان کی سنچری،ٹی 20سیریز پر کیریبین کا قبضہ
جوہانسبرگ،12 جنوری(یو این آئی)مارچ 2006 میں جوہانسبرگ کے اسی وینڈررز اسٹیڈیم میں تاریخ کے یادگار ترین ون ڈے مقابلوں میں ایک کھیلا گیا جب آسٹریلیا نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے صرف چار وکٹوں پر 434رنز بنائے لیکن جنوبی افریقہ نے ایک تاریخی تعاقب میں آخری اوور میں ہدف کو جا لیا۔ آج تقریباً 9سال بعد اسی میدان پر ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ کا ایک یادگار مقابلہ کھیلا گیا ہے جہاں ویسٹ انڈیز نے 232 رنز کے ہدف کو حاصل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے ۔کرس گیل اور مارلون سیموئلز کی بلے بازی سے ایسا ظاہر ہو رہا تھا کہ اینٹ کا جواب پتھر نہیں بلکہ گولے سے دیا جا رہا ہے ۔ 19رنز پر پہلی وکٹ گرنے کے بعد ان دونوں بلے بازوں نے محض 71گیندوں پر 152 رنز جوڑ کو جیت کی بنیاد رکھی اور ویسٹ انڈیز کو اس مقام تک پہنچا دیا کہ پے در پے اوورز میں چار وکٹیں گنوانے کے باوجود وہ ہدف تک پہنچ گیا۔پہلے ٹی ٹوئنٹی میں صرف 31 گیندوں پر 77رنز بنانے والے گیل نے یہاں ایک اور طوفانی اننگز کھیلی اور اس بار صرف 41گیندوں پر 7چھکوں اور 9چوکوں کی مدد سے 90رنز بنائے ۔ جبکہ ان کے ساتھی سیموئلز 39گیندوں پر 60رنز بنانے میں کامیاب رہے ۔ جنوبی افریقہ نے کیرون پولارڈ، آندرے رسل اور ڈیرن براوو کو جلد از جلد ٹھکانے لگا کر اننگز کی بساط لپیٹنے کی کوشش کی لیکن ڈیرن سیمی نے ان کی سعی کو ناکام بنا دیا اور آخری اوور کی دوسری گیند پر ایک شاندار چھکے کے ذریعے مقابلے کا خاتمہ کردیا۔232رنز کا کامیاب تعاقب نہ صرف بین الاقوامی بلکہ ٹی 20 کرکٹ کی تاریخ میں بھی دوسری اننگز کا سب سے بڑا اسکورہے ۔ ویسٹ انڈیز نے جولائی 2014 میں اسسیکس کاؤنٹی کا بنایا گیا 226رنز کا ریکارڈ بھی توڑا اور بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میں فروری2010میں آسٹریلیا کا 214رنز کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔ آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کے خلاف کرائسٹ چرچ کے مقام پر 214رنز بنا کر مقابلہ ٹائی کردیا تھا اور سپر اوور میں نیوزی لینڈ نے مقابلہ جیت کر سیریز برابر کردی تھی۔گیل اور سیموئلز نے فف دو پلیسی کی اس یادگار سنچری کو گہنا دیا جس نے جنوبی افریقہ کو 231رنز تک پہنچایا۔ 21رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد فف نے بہترین قائدانہ اننگز کھیلی اور 8اوورز میں ہی100سے زیادہ رنز کا اضافہ کر ڈالا۔ 26گیندوں پر 47رنز بنانے والے ملر کے رن آؤٹ ہونے کے ساتھ ہی اس اننگز کا خاتمہ ہوا جبکہ فف نے پہلے صرف 23گیندوں پر نصف سنچری اور بعد ازاں 46گیندوں پر اپنی پہلی ٹی ٹوئنٹی سنچری مکمل کی۔جنوبی افریقہ نے مقررہ 20اوورز میں 7وکٹوں پر 231رنز جوڑے اور ویسٹ انڈیز کو ایک بہت بڑا ہدف دیا، لیکن کالی آندھی کے سامنے اس کی ایک نہ چلی۔ مرکزی گیندباز کائل ایبٹ کے چار اوورز میں 68، مرچنٹ دے لانگے کے 3.2اوورز میں 42جبکہ ڈیوڈ ویز کے 4اوورز میں 43رنز لوٹے گئے ۔ اسپنرز آرون فانگیسو اور عمران طاہر نے بالترتیب 3اور 4 اوورز میں 33اور 29رنز کھائے جبکہ جسٹن اونٹونگ کے واحد اوور میں انہیں 17رنز رسید کیے گئے ۔ دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے بالرز کا حال بھی کچھ کم خراب نہیں رہا۔ سلیمان بین نے 3اوورز میں 42اور شیلڈن کوٹریل نے 47رنز کھائے ۔ نئے ایک روزہ کپتان جیسن ہولڈرز کو 4اوورز میں 40، آندرے رسل کو 39اور ڈیرن براوو کو 32رنز پڑے ۔یوں مجموعی طور پر اس مقابلے میں 39.2اوورز میں 467رنز بنے جو ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے ۔ اگست 2013ء میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ٹی ٹوئنٹی میں دونوں ٹیموں نے 457رنز بنائے تھے ، لیکن اب یہ ریکارڈ قصہ پارینہ بن چکا ہے ۔ویسٹ انڈیز کے 236رنز ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کی تاریخ کا چوتھا سب سے بڑا اسکور ہے ۔ ٹی ٹوئنٹی میں سب سے طویل اننگز کھیلنے کا آغاز سری لنکا کو حاصل ہے جس نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007ء کے دوران کینیا کے خلاف 20اوورز میں 260رنز بنائے تھے ۔عالمی کپ سے پہلے ویسٹ انڈیز کے لیے ایسی فتوحات، چاہے وہ کسی بھی طرز کی کرکٹ میں ہوں، بہت حوصلہ افزاء ثابت ہوں گی کیونکہ اس جیت کے نتیجے میں جنوبی افریقہ کو اس کی سرزمین پر ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست دے چکا ہے ۔ تیسرا مقابلہ 14 جنوری کو ڈربن میں ہوگا اور ابتدائی دونوں مقابلوں کے انتہائی دلچسپ ہوجانے کے بعد اب شائقین کی بھی پوری توجہ تیسرے مقابلے پر ہوگی۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment