Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 03:06 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

اسمتھ ٹیم کی قیادت اور خطاب سے مطمئن

 

ٹیم انڈیا کے نوجوان کھلاڑیوں نے خود کو ثابت کیا : وراٹ
سڈنی ،10 جنوری (یو این آئی)اپنے غیر معمولی قائدانہ مظاہرے کی بدولت مین آف دی سیریز اور مین آف دی میچ کے اعزاز حاصل کرنے والے آسٹریلوی نوجوان کپتان اسٹیون اسمتھ نے ہفتہ کو آخری ٹیسٹ ڈرا رہنے کے بعد کہا کہ وہ ٹیم کی کپتانی اور ٹرافی جیتنے سے کافی خوش ہیں۔مائیکل کلارک کے زخمی ہونے کے بعد ٹیم کے کپتان بنائے گئے 25 سالہ بلے باز اسمتھ نیکہا کہ میرے لیے یہ ایک بہترین سیریز رہی۔ ہمارے لئے یہ سب سے اہم بات ہے کہ ہم نے خطاب اپنے نام کیا ۔ آسٹریلیا نے 2۔0 سے بارڈرگاوسکر ٹرافی جیتی، اگرچہ سیریز کے دو میچ ڈرا رہے۔سڈنی میچ سے متعلق مین آف دی میچ اور مین آف دی سیریز اسمتھ نے کہا کہ ہمارے لئے یہ کافی مشکل دن رہا۔ ہم پچ پر جس طرح کے اچھال کی توقع کر رہے تھے وہ ہمیں یہاں دیکھنے کو نہیں ملی۔ ہم نے کئی مواقع پر کیچ چھوڑے اور اس سے بھی ہمیں تھوڑا نقصان ہوا ۔اگرچہ اسمتھ نے ٹیم انڈیا کو اس کے بہترین کھیل کے لیے کریڈٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ٹیم انڈیا کو اس کے بہترین کھیل کے لیے کریڈٹ دینا چاہتا ہوں۔ انہوں نے میچ کے آخری دن جس طرح سے کھیلا اس کیلیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن میں نے اس سیریز کا مکمل لطف لیا ۔اسمتھ نے کہا کہ یہا ں کی پچ کافی سپاٹ تھی اور مجھے اس پر بلے بازی کرکے بہت مزا آیا۔ ایک سیریز میں چار سنچری لگا کر میں مطمئن ہوں۔ اس کے علاوہ آسٹریلوی ٹیم کی کپتانی اور سیریز جیتنے سے میں کافی اچھا محسوس کر رہا ہوں ۔ ہندستانی کپتان کی طرح ہی اسمتھ کو بھی تجربہ کار کلارک کے ہٹنے کے بعد ٹیسٹ کپتانی ملی اور انہوں نے بھی اپنی ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ رن بنائے۔
دوسری جانب آسٹریلیا کے خلاف آخری ٹسٹ ڈرا رہنے کے ساتھ سیریز گنوانے کے باوجود نوجوان ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی کا خیال ہے کہ ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں نے اپنی طرف سے کافی جدوجہد کی اور یہ دکھایا کہ ان میں لڑنے کی صلاحیت ہے۔ٹیم انڈیا کی جانب سے چار ٹسٹ میچوں کی سیریز میں سب سے زیادہ رن بنانے والے ہندوستانی بلے باز اور مہندر سنگھ دھونی کے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کے بعد کپتان بنے وراٹ نے سیریز کا آخری میچ ڈرا رہنے کے بعد ٹیم انڈیا کے نوجوان کھلاڑیوں کا دفاع کیا۔ زبردست فارم میں چل رہے وراٹ نے میچ کے بعد کہا کہ ہمارے لیے یہ سیریز چیلنج سے بھری رہی۔ ہم یہاں پر حریف ٹیم کو چیلنج دینا چاہتے تھے ،لڑنا چاہتے تھے اور وہی ہمارے کھلاڑیوں نے کیا ۔ موجودہ سیریز میں چار سنچری اور آسٹریلیائی سر زمین پر سب سے زیادہ رن بنانے کے معاملے میں راہل دراوڑ کو پیچھے چھوڑنے والے وراٹ نے کہا کہ ایڈیلیڈ میں ہم جیت کے قریب تھے اور سڈنی کے میچ میں بھی ہم جیت کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن آسٹریلیا نے مسلسل میچ پر دبدبہ بنائے رکھا جس کی وجہ سے ہم جیت حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔وراٹ نے حریف ٹیم کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ فلپ ہیوز کی موت کے بعد جس طرح سے آسٹریلیائی ٹیم نے کرکٹ کھیلا وہ قابل تعریف ہے۔ بلے باز نے کہا کہ کے آؤٹ ہونے کے بعد مجھے لگا کہ کیوں نہ خطرہ اٹھا کر دیکھا جائے۔ اگر ہم اس میں کامیاب نہیں ہوتے تو نہ ہوتے۔ لیکن ضروری ہے کہ نوجوان ٹیم کس طرح سے کھیل رہی ہے اور کس طرح کی صلاحیت کی کارکردگی پیش کر رہی ہے ۔ کوہلی نے کہا ہماری نوجوان ٹیم نے بہترین کھیلا کا مظاہرہ پیش کیا اور لڑنے کی صلاحیت بھی دکھائی۔ انہوں نے یہ دکھایا کہ وہ بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کھیلنے کے اہل ہیں، خاص طور پر راہل نے خراب فارم کے بعد اگلے میچ میں سنچری بنائی۔ میں جانتا ہوں کہ آسٹریلیا میں کھیل پانا آسان نہیں ہوتا ہے۔ میں نے بھی پہلے اس بات کا تجربہ کیا ہے۔ ہندوستانی ٹیم بارڈر گاوسکر ٹرافی 2۔0 سے ہار گئی لیکن اس نے میلبورن اور پھر سڈنی میں مسلسل دو میچ ڈرا کراکر کلین سویپ سے خود کو بچا لیا۔ خاص طور پر وراٹ کی کارکردگی سیریز میں بہترین رہی اور انہوں نے چار میچوں میں ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ 692 رن بنائے۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment