Today: Tuesday, September, 25, 2018 Last Update: 06:31 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ڈریسنگ روم پر فلم بنانی چا ہئے: دھونی

 

میلبورن، 25 دسمبر (یو این آئی ) ہندوستانی کپتان مہندر سنگھ دھونی نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے دوران وراٹ کوہلی اور شکھر دھون کے مابین ہوئے ڈریسنگ روم تنازعہ کو سرخی بنانے پر کہا کہ اس پر تو فلم بنا دینی چاہیے۔برسبین ٹیسٹ کے چوتھے دن مبینہ طور پر ٹیم انڈیا کے ڈریسنگ روم میں وراٹ اور شکھر کے مابین جھگڑے کی خبریں آئی تھیں ۔اس پر سابق آسٹریلیائی سلامی بلے باز میتھیو ہیڈن نے بھی ہندوستانی ٹیم کی مذمت کی تھی جبکہ میڈیا میں بھی اس خبر کو کافی اچھالا گیا۔ اگرچہ پریس کانفرنس میں اس بارے میں دھونی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وراٹ اور شکھردھون کے مابین لڑائی ہوئی تھی اور وراٹ نے چاقو نکالا اور دھون کو مار دیاجب وہ اس سے ٹھیک ہوئے تو ہم نے انھیں بلے بازی کرنے بھیج دیا ۔ واضح رہے کہ میڈیا میں خبر آئی تھی کہ دوسرے ٹیسٹ کے چوتھے دن دھون اور وراٹ کے درمیان بلے بازی کرنے پر بحث ہوئی تھی اور وراٹ نے دھون پر ڈر کر میدان چھوڑنے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے بعد تنازعہ اتنا بڑھ گیا کہ ٹیم ڈائریکٹر روی شاستری کو مداخلت کرنی پڑی۔ کپتان دھونی نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ ایسی کہانیاں کہاں سے آتی ہیں۔ یہ ایک شاندار تصور ہے اور شاید ٹیم کے ہی کسی کھلاڑی نے یہ اطلاع دی ہوگی ۔ بہتر ہوگا کہ آپ مجھے اس کا نام بتا دیجئے کیونکہ ایسے کھلاڑی کی ہمارے ڈریسنگ روم میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ اس سے پہلے دوسرے ٹیسٹ میں ٹیم کی شکست کے بعد دھونی نے ہار کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیم انڈیا کے ڈریسنگ روم میں کچھ پریشانی ہے اور تال میل کی کمی کی وجہ ٹیم میچ ہاری۔ لیکن دھونی نے دونوں بلے بازوں کے تنازعہ کو حقیقت کے برعکس قرار دیا۔ وکٹ کیپر بلے باز نیکہامجھے لگتا ہے کہ مارول اینڈ برادرس کو اس کہانی کو لینا چاہیے اور ایک فلم بنا دینی چاہیے۔ اگر آپ کی ٹیم کے ہی کسی کھلاڑی نے یہ بتایا ہے تو اس کا تصور بہترین ہے اور اسے وارنر برادرس کیلئے کام کرنا چاہیے۔ اخبارات کے لیے اس طرح کی خبریں اچھی ہوتی ہیں لیکن جہاں تک حقیقت کا سوال ہے تو ایسا کچھ نہیں ہے ۔ اس دوران حریف ٹیم کے کپتان اسٹیون ا سمتھ کے ہندوستانی ڈریسنگ روم کے بیان پر دھونی نے کہا کہ میں اسمتھ کے بیان پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ ویسے مجھے لگتا ہے کہ کھلاڑیوں کے درمیان تھوڑی بہت نوک جھونک اچھی ہوتی ہے جو کھیل کو دلچسپ بنا دیتی ہے۔ چاہے وہ ہندوستان کے کھلاڑی ہوں یا آسٹریلیا کے جب تک قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے اس میں کوئی برائی نہیں ہے ۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment