Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 09:56 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ٹیم انڈیا کے پاس واپسی کا آخری موقع،باکسنگ ڈے ٹسٹ آج سے

 

ٹیم انڈیا میں ردو بدل کا امکان، رینا کی ہوسکتی ہے واپسی ،کنگارؤں کی نظر سیریز جیت پر
میلبورن، 25 دسمبر (یو این آئی) ابتدائی شکست، ڈریسنگ روم کے تنازعہ اور تال میل میں خرابی جیسے تمام چیلنجوں کے ساتھ ہندوستانی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا کے خلاف جمعہ سے یہاں سیریز کے تیسرے ٹیسٹ کے لیے اترے گی تو اس کے پاس مقابلے میں واپسی کا آخری موقع ہوگا۔چار ٹسٹ میچوں کی سیریز میں صفر۔ دو سے پچھڑ چکی ہندوستانی ٹیم پہلے ہی دباؤ میں ہے اور اگر وہ تیسرا ٹیسٹ ہارتی ہے تو اس کے ہاتھ سے سیریز بھی نکل جائے گی۔ لیکن اگر فیصلہ مہمان ٹیم کے حق میں رہتا ہے تو اس کے پاس آسٹریلیا کے ہاتھوں سے جیت چھین کر سیریز ڈرا کرانے کا موقع رہے گا۔ہندوستانی ٹیم کے لیے بولنگ اور بیٹنگ دونوں ہی شعبوں میں تال میل کی کمی نظر آرہی ہے۔ اچھی شروعات کے باوجود جہاں نچلے آرڈر کے بلے باز ٹیم کو جیت نہیں دلا پا رہے ہیں تو وہیں گیند باز بھی مہنگے ثابت ہو رہے ہیں۔ ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی اگرچہ ڈریسنگ روم میں وراٹ کوہلی اور شکھر دھون کے درمیان ہوئی کہا سنی کو مذاق بتا رہے ہوں لیکن اس سے بلے بازی پر اثر پڑ سکتا ہے۔سیریز میں اب تک وراٹ ، سلامی بلے باز مرلی وجے اہم ثابت ہوئے ہیں جبکہ چتیشور پجارا اور اجنکیا رہانے نے بھی رن جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن شکھر دھون اپنے اوپننگ اسپاٹ پر مکمل طور پر کھرے نہیں اترے ہیں اور انہوں نے گزشتہ دو میچوں میں اپنی چار اننگز میں 75ء34کے اوسط سے 139 رن ہی بناسکے ہیں۔ مرلی 323 رن اور وراٹ 276 رن کے ساتھ رن بنانے میں سب سے او پر ہیں۔ آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے سامنے ہندوستانی بلے بازوں کے لیے بڑا اسکور اہم ہے۔ خود کپتان دھونی نے برسبین ٹیسٹ کے بعد کہا تھا کہ ان کی ٹیم آخری وقت میں 60 سے 70 رن پیچھے رہ گئی۔ نچلے آرڈر کے بلے باز شراکت داری ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور یہیں سے میچ میں ہر بار فرق پڑا ہے۔ نوجوان تیز گیند باز بھونیشور کمار کی ٹیم میں واپسی نے حالانکہ کچھ امیدیں ضرور پیداکی ہیں لیکن وہ پوری طرح فٹ نہیں ہیں اور ان کے ٹخنے میں چوٹ ہے لیکن انہوں نے با سنگ ڈے ٹیسٹ سے پہلے نیٹ پر گیندبازی اور بلے بازی دونوں میں پریکٹس کی ۔ واضح رہے کہ بھونیشور نے انگلینڈ کے دورہ پر نچلے آرڈر پر بلے بازی کرتے ہوئے 247 رن بنائے تھے جبکہ 19 وکٹ لے کر وہ ٹیم کی شکست کے باوجود مین آف دی سیریز رہے تھے۔ایسے میں نچلے آرڈر پر رن بنانے کے معاملے میں بھونیشور کی موجودگی سے کپتان دھونی کی فکر ضرور کم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ تجربہ کار آف اسپنر روی چندرن اشون بھی آل راونڈر کارکردگی ادا کرنے کے اہل ہیں۔ دوسرے ٹیسٹ میں دو اننگز میں انہوں نے 54 رن بنائے تھے۔حالانکہ دھونی اینڈ کمپنی کے لیے میلبورن میں بھی چیلنج کم نہیں ہوں گے۔ پہلے ہی پریکٹس پچوں پر ناراض دھونی کیوریٹروں اور انتظامیہ سے اپیل کر چکے ہیں تو وہیں میلبورن کی پچ بھی ٹیم انڈیا کے لیے چونکانے والی ہوسکتی ہے۔ دھونی نیکہا کہ ہمارے لیے اچھا کرکٹ کھیلنا ضروری ہے اور ہم وہی کر رہے ہیں لیکن پانچ دن کے کھیل میں جو ضروری ہوتا ہے ہم فی الحال وہاں تک نہیں پہنچ پائے ہیں اور با سگ ڈے ٹیسٹ پر اس سمت میں ہم بہتری کی کوشش کریں گے ۔ آسٹریلیا کی تقریباً ہر پچ کا انداز مختلف ہے اور میلبورن میں گابا کی طرح اچھال اور تیزی کم ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پچ تیزگیند بازوں کے لیے مددگار ہوتی ہے اور دن کا کھیل آگے بڑھنے کے ساتھ اس کا مزاج بھی مختلف ہوتا ہے۔ میلبورن کرکٹ گراؤنڈ کے کیوریٹر ڈیوڈ سینڈکسکی نے پچ کے سلسلے میں کہا کہ یہاں گابا کی طرح اچھال نہیں رہتی ہے لیکن شروع میں تیزگیندبازوں کو اس پر مدد ملے گی۔ دن کا کھیل بڑھنے کے ساتھ بلے بازوں اور اسپنروں کو بھی اس پر فائدہ ہو سکتا ہے ۔کپتان دھونی کی قیادت میں نوجوان ہندوستانی ٹیم پر ایم سی جی میں 33 سال بعد جیت کا قحط ختم کرنے کابھی چیلنج ہوگا۔ ہندوستان نے فروری 1981 میں کپِل دیو کی کپتانی میں 143 رن کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے آسٹریلیا کو 59 رن سے شکست دی تھی۔ گریگ چیپل کی قیادت والی میزبان ٹیم کی دوسری اننگز میں ہندوستان کے کرسان گھاوری نے دو وکٹ، دلیپ دوشی نے دو وکٹ اور کپِل نے پانچ وکٹ لے کر آسٹریلیا کو 83 کے اسکور پر آوٹ کرکے یہاں جیت درج کی تھی۔ ایسے میں پچ کے مزاج کو ذہن میں رکھ کر ہی دھونی کے لیے حکمت عملی تیار کرنا اہم ثابت ہو سکتا ہے اور اس طرح سے ٹاس کا اہم کردار ہو تا ہے کیونکہ یہاں بعد میں بلے بازی کرنے والی ٹیم کو فائدہ ملے گا۔ کرو یا مرو کے اس میچ میں مڈل آرڈر میں تبدیلی کئے جانے کے اشارے ملے ہیں ایسے میں آؤٹ آف فارم چل رہے روہت شرما کی جگہ سریش رینا کو موقع دیا جا سکتا ہے۔تیزگیند بازوں میں بھونیشور کی واپسی اہم ہوگی لیکن اگر وہ کھیلنے نہیں اترتے ہیں تو ایشانت شرما ، امیش یادو اور ورون آرون پر اضافی ذمہ داری ہوگی۔ رینا کو پارٹ ٹائم گیندباز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ اشون پر اسپن گیند بازی کی کمان ہوگی۔ امیش نے دو میچوں میں اب تک پانچ جبکہ ایشانت نے سات وکٹ لیے ہیں۔ آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ ٹیم سے چوٹ کی وجہ سے باہر ہیں اور ان کی جگہ نوجوان آف اسپنر اکشر پٹیل کو شامل کیا گیا ہے۔ اگرچہ آخری الیون میں انہیں اتارے جانے کی بہت امید نہیں ہے۔ دوسری طرف برتری کے بعد سیریز پر قبضہ کرنے کے مقصد سے آسٹریلیائی ٹیم پراعتماد نظر آرہی ہے۔ اگرچہ کپتان مائیکل کلارک باہر ہوں لیکن نوجوان قائم مقام کپتان اسٹیون اسمتھ اس ذمہ داری کو اچھی طرح سنبھال رہے ہیں اور بلے بازی کی کمان اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر کے مضبوط کندھوں پر ہے جبکہ بولنگ میں جوش ہیزل وڈ، مشیل جانسن اور ناتھن لیون اب تک ہندوستانی ٹیم کو کافی نقصان پہنچا چکے ہیں۔ اسمتھ نے میچ سے پہلے اپنے ارادے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چار۔صفر سے سیریز میں جیت اہم ہوگی لیکن ابھی ہماری توجہ ایک وقت میں ایک میچ پر ہی ہے ۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment