Today: Monday, November, 19, 2018 Last Update: 11:04 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

گواسکر، شاستری، سری کانت اور گانگولی پیشہ وارانہ مفاد رکھنے والوں کی فہرست میں شامل

 

نئی دہلی، 17 دسمبر (یو این آئی) ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے بدھ کو سپریم کورٹ میں پیشہ وارانہ مفادات رکھنے والے کوآرڈی نیٹر اور منتظمین کی فہرست پیش کی جس میں سابق کرکٹر، سنیل گاوسکر، ٹیم انڈیا کے ڈائرکٹر روی شاستری اور سلیکشن کمیٹی میں شامل کرشنما چاری سری کانت ، سوربھ گانگولی اور وینکٹیش پرساد کے نام شامل ہیں۔کئی ہفتہ سے جاری میراتھن سماعت پوری ہونے کے بعد عدالت عظمی نے بی سی سی آئی میں واپسی کرنے کا انتظار کرنے والے این سری نواسن کے پھر سے صدر کے عہدہ کے لئے الیکشن لڑنے اور ان کے چنئی سپر کنگس ٹیم خریدنے سے پیدا ہونے والے مفادات کے ٹکراؤ معاملے پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔خصوصی بنچ نے سری نواسن کے بورڈ کا صدر اور آئی پی ایل میں چنئی سپر کنگس کا مالک ہونے کے ان کے دہرے رول پر سوال اٹھائے تھے۔اس سے قبل بی سی سی آئی نے آئی پی ایل ۔چھ میں اسپاٹ فکسنگ اور سٹہ بازی معاملے کی سماعت کرنے والی جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس ایف ایم آئی کلیف اللہ کی بنچ کی ہدایت کے مطابق ان کوآرڈی نیٹروں اور منتظمین کی فہرست آج پیش کی جن کے آئی پی ایل اور چیمپئن لیگ سے پیشہ وارانہ مفادات وابستہ ہیں۔ اس فہرست میں گاوسکر، شاستری ، سری کانت ، گانگولی، ونکٹیش پرساد کے علاوہ لال چند راجپوت بھی شامل ہیں۔فہرست پر نظر ڈالنے کے بعد عدالت نے کہاکہ سری کانت قومی سلیکٹروں میں شامل ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ سن رائزرس حیدرآباد کے مینٹر بھی ہیں ، یہ کیسے ممکن ہے۔ یاد رہے کہ آئی پی ایل بدعنوانی معاملے میں بی سی سی آئی کے غیرمستقل طورپر معطل کئے گئے صدر این سری نواسن کی جگہ پر سنیل گاوسکر کو آئی پی ایل۔2014 کے انعقاد کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔عدالت عظمی نے کل یہ فہرست اس وقت طلب کی تھی جب بورڈ نے بی سی سی آئی کے ضابطے 4ء2ء6 میں متنازعہ ترمیم کا دفاع شروع کیا۔ اس ضابطے کے تحت کھیل کوآرڈی نیٹروں کے مفادات کے ٹکراؤ کو اصول میں چھوٹ دینے کے ساتھ ہی آئی پی ایل اور چیمپئنس لیگ میں ٹیم خریدنے کی اجازت دی گئی تھی۔بنچ نے منگل کو معاملے پر سماعت کرتے ہوئے اس فہرست کو ظاہر کرنے کا فیصلہ کرنے سے قبل چند تلخ تبصرے کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی سی سی آئی کے عہدیدار ٹیم کے مالک نہیں ہونگے تو آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔عدالت نے کہاتھا کہ اگر بی سی سی آئی کے صدر ٹیم کے مالک نہیں ہوں گے تو اس سے پوراآئی پی ایل منصوبہ برباد نہیں ہوجائے گا اور کیا پیشہ وارانہ مفادات کے بغیر آئی پی ایل کا اہتمام ممکن نہیں ہے۔ آئی پی ایل اس شکل و صورت پر منحصر نہیں ہے کہ کوآرڈی نیٹر پیشہ وارانہ مفادات کے ساتھ ٹیم کا مالک ہوسکتا ہے۔جج نے یہ بھی کہا کہ ہمیں ان تمام معاہدوں کی فہرست دیجئے جو آپ نے بی سی سی آئی کوآرڈی نیٹر اور دیگر ان شخصیات سے کئے ہیں جن کے دوسرے پیشہ وارانہ مفادات ہیں۔ آپ نے کس طرح کے اور کن لوگوں کے ساتھ معاہدے کئے ہیں۔عدالت عظمی نے مفادات کے ٹکراؤ کے تعلق سے کئی سوال کئے تھے اور یہ جاننا چاہا تھا کہ اگر پیشہ وارانہ مفادات سے متعلق معاہدے پر غور کیا جاتا ہے توکون سے کوآرڈی نیٹر متاثر ہوں گے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment