Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 06:05 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

دھونی کی قیادت میں نئی توانائی کیساتھ میدان میں اتریگاہندوستان

 

مائیکل کلارک کی عدم موجودگی سے آسٹریلیائی ٹیم شدید دباؤ میں، نوجوان کھلاڑی اسٹیون اسمتھ کی قائدانہ صلاحیتوں کا ہوگا امتحان
گابا پر پرانے ریکارڈ کا ہم پر کوئی دباؤ نہیں:دھونی

برسبین،16 دسمبر (یواین آئی)آسٹریلیا کے ہاتھوں پہلا ٹسٹ ہارنے والی ہندوستانی کرکٹ ٹیم بدھ سے شروع ہونیوالے گابا ٹسٹ میں اصل کپتان مہندر سنگھ دھونی کی قیادت میں نئی توانائی اور نئی حکمت عملی کے ساتھ جیت کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔چوٹ کی وجہ سے طویل عرصے کے بعد ٹیم میں واپسی کرنے والے مہندر سنگھ دھونی کے سامنے جہاں گابا میں ہندوستان کو جیت کی پٹری پر لانے کا چیلنج ہوگا وہیں مائیکل کلارک کے پوری طرح فٹ نہ ہونے کی وجہ سے آسٹریلیائی ٹیم کی کپتان سنبھالنے والے نوجوان کھلاڑی اسٹیون اسمتھ پرکپتان کی حیثیت سے اپنے پہلے ٹسٹ میں فاتحانہ آغاز کرنے اور خود کو ثابت کرنے کا دباؤ ہوگا۔امید کی جاسکتی ہے کہ دونوں ٹیمیں اپنے نئے کپتانوں کے ساتھ دوسرے ٹسٹ میں نئی توانائی اور نئے حکمت عملی کے ساتھ میدان پر جیتنے کے ارادے سے اتریں گے۔آسٹریلیا ایڈیلیڈ ٹسٹ جیت کر پہلے ہی چار ٹسٹوں کی سیریز میں ایک۔صفر کی سبقت حاصل کرچکا ہے۔ ہندوستان کو قائم مقام کپتان وراٹ کوہلی کی قیادت میں اس مقابلے میں جیت کی دہلیز پر پہنچنے کے باوجود اڑتالیس رنوں سے شکست کھانی پڑی تھی۔لیکن اب ٹیم کے کامیاب اور تجربہ کار کپتان دھونی کی واپسی سے سیریز کو ایک۔ایک سے برابر کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔دھونی کی واپسی جہاں مثبت اشارہ ہے وہیں آسٹریلیائی ٹیم نئے کپتان سمیت کچھ نئے چہروں کے ساتھ میدان پر اترے گی۔ آسٹریلیائی ٹیم میں گابا ٹسٹ کے لئے جاش ہیزل ووڈ اور مشیل اسٹارک کو شامل کیا گیا ہے، جو اس کے تیز گیند بازی کو مزید جارحانہ شکل دیں گے۔اس کے علاوہ کلارک کی جگہ شان مارش کو بلایا گیا ہے۔کپتان دھونی کے پاس کافی وقت کے بعد ٹیم میں واپسی کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ پچھلے مقابلے میں کھلاڑیوں کی غلطیوں اور حکمت عملیوں سے اچھی طرح واقف ہوں گے اور خود بھی پوری توانائی اور تازگی کے ساتھ میدان پر اتریں گے۔آسٹریلیائی بلے بازی فلپ ہیوز کی موت کے بعد سیریز پروگرام میں ہوئی تبدیلی سے ہندوستانی کھلاڑیوں کو آسٹریلیا کے ماحول میں ڈھلنے کا زیادہ وقت نہیں ملا ہے اور اس کا نقصان کسی حد تک ٹیم انڈیا کو ہوسکتا ہے۔لیکن پچھلے میچ کو دیکھیں تو بلے بازی اور گیند بازیدونوں ہی شعبوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں نے غلطیاں کی ہیں جس میں سدھار کی ضرورت ہے۔ایڈیلیڈ ٹسٹ کی دونوں اننگز میں افتتاحی بلے باز شیکھر دھون کی کارکردگی مایوس کن رہی جبکہ دوسری اننگ میں جیت نزدیک آنے کے باوجود لور آرڈر نے مایوس کیا۔ بلے باز وراٹ کوہلی نے چوتھے نمبر پر بلے بازی کرتے ہوئے دونوں اننگز میں سنچریاں لگاکر فارم میں واپسی کا اعلان کیاتو دوسری طرف سلامی بلے باز مرلی وجے کی کارکردگی بھی قابل تعریف رہی۔وراٹ نے دونوں اننگز میں مجموعی طور پر 256 اور مرلی نے 152 رن بنائے ۔لیکن انہیں شیکھر دھون، اجنکیا رہانے اور روہت شرما سے کوئی مدد نہیں ملی۔ایک روزہ میچوں میں سب سے زیادہ ایڈیلیڈ کی دونوں اننگز میں صرف 49 رن جوڑے۔ جبکہ رہانے نے دونوں اننگز میں باسٹھ رن بنائے۔ا بتدائی بلے بازوں اور لور آرڈ ر کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے جیتا ہوا میچ ہندوستان کے ہاتھوں نکل گیا اور دھونی کے لئے اس سمت میں سدھار کرنا ضروری ہوگا۔کپتان کے لئے نمبر تین پر کسی مضبوط کھلاڑی کو اتارنا بھی بے حد ضروری ہوگا۔ تاکہ ٹیم شروع میں ہی ایک بڑے اسکور کی بنیاد ڈال سکے۔بلے بازی میں کمزور کڑی شکھر کے علاوہ گیند بازی کے شعبے میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔ تیز گیند باز ایشانت شرما تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور ان سے آسٹریلیا میں بہتر کارکردگی کی امید تھی لیکن فی الحال وہ ایڈیلیڈ ٹسٹ میں بالکل کامیاب نہیں رہے۔ایشانت نے پہلے مقابلے میں 126 کے اوسط سے دونوں اننگز میں کل اکتالیس اووروں میں 126 رن دیکر صرف ایک وکٹ حاصل کیا۔امید یہی ہے کہ دھونی ٹیم کے تیز گیند باز حملے میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔ البتہ اسپن شعبے میں تجربہ آف اسپنر روی چندرن اشون کو جگہ دی جاسکتی ہے۔اشون لور آرڈر میں رن بنانے کے بھی اہل ہیں اور ایڈیلیڈ ٹسٹ کے بعد لور آرڈر میں رن بنانے کے لحاظ سے ان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔کرن شرما ایڈیلیڈ میں بہت مہنگے ثابت ہوئے تھے اور انہوں نے دو اننگز میں 238 رن دے کر چار وکٹ لئے تھے۔ توقع ہے کہ گابا کی پچ ہمیشہ کی طرح اچھال والی رہے گی، جو تیز گیند بازوں کے لئے فائدہ مند ہوگی۔ یہاں پر کافی گھاس ہے اور ایسی اچھال والی پچوں پر میزبان ٹیم ہندوستان پر حاوی ہوسکتی ہے۔ ہندوستان نے گابا میں کبھی کوئی ٹسٹ نہیں جیتا ہے۔ جبکہ آسٹریلیا کا یہاں بہترین ریکارڈ رہا ہے اور آخری بار چھبیس سال پہلے میزبان ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں یہاں شکست کھائی تھی۔ جبکہ ہندوستان نے 2003 میں یہاں میچ ڈرا کرایا تھا۔ ہندوستان جہاں سیریز میں برابری کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا تو وہیں آسٹریلیا اپنے نوجوان کپتان اسمتھ کی قیادت میں نئی سوچ کے ساتھ میدان میں اترے گا اور گابا میں اپنے زبردست ریکارڈ کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا۔
دوسری جانب ہندوستانی ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے کہاکہ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ گابا میں ہندوستان کا پچھلا ریکارڈ کیسا رہا ہے۔ بلکہ انہیں امید ہے کہ یہاں کی اچھال بھری پچوں پر مہمان ٹیم کے کھلاڑی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔انگوٹھے کی چوٹ کی وجہ سے پچھلے کچھ عرصے سے ٹیم انڈیا سے باہر چل رہے کپتان دھونی نے دوسرے برسبین ٹسٹ سے پہلے گابا میں ہندوستان کی اچھی کارکردگی کا یقین دلایا ہے۔ ٹیم انڈیا کے قائم مقام کپتان وراٹ کوہلی کی قیادت میں ایڈیلیڈ ٹسٹ 48 رن سے ہارکر ہندوستان چار ٹسٹ میچوں کی سیریز میں صفر۔ایک سے پچھڑ گیا ہے۔برسبین کے گابا اسٹیڈیم میں جہاں ہندوستان کا ریکارڈ کافی مایوس کن رہا ہے اور اس نے کبھی بھی یہاں کوئی ٹسٹ نہیں جیتا ہے تو دوسری طرف آسٹریلیا نے چھبیس سال پہلے یہاں ویسٹ انڈیز کے خلاف صرف ایک ٹسٹ میچ میں شکست کھائی ہے۔جب 1988 میں وویون رچرڈ کی قیادت میں ویسٹ انڈیز نے میزبان ٹیم کو نو وکٹ سے ہرایا تھا۔ہندوستان کو اس پچ پر 2003 میں صرف ایک بار میچ ڈرا کرانے میں کامیابی ملی ہے۔ ایسے میں جیت کی پٹری پر لوٹنے کا ہدف لے کر چل رہی ٹیم انڈیا کے لئے ابھی سے دباؤ پیدا ہوگیا ہے۔مگر ٹیم انڈیا کے سب سے کامیاب کپتان دھونی اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتے انہو ں نے میچ سے قبل کہاکہ مجھے اچھال بھری اور تیز پچوں سے کوئی دقت نہیں ہے۔اگر آپ ریکارڈ کو دیکھیں تو یہ صحیح ہے کہ ہم نے گابا میں میچ نہیں جیتا ہے لیکن جہاں تک بات تیز پچوں کی ہے تو ہم جوانسبرگ اور پرتھ کی اچھال بھری پچوں پر کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔کپتان نے کہاکہ ہمارے لئے یہ نیا چیلنج ہے۔ کیونکہ ہماری ٹیم میں نوجوان کھلاڑی ہیں اور امید ہے کہ نئے کھلاڑیوں کے پاس یہاں سیکھنے کا موقع ہوگا جس سے وہ فائدہ اٹھائیں گے۔ وکٹ کیپر بلے باز نے ایڈیلیڈ ٹسٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے آخری دو یا تین سیریز میں اسی مسئلے کا سامنا کیا ہے کہ ہم میچ میں جیت کی دہلیز تک تو پہنچیں لیکن پھر فتح حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment