Today: Wednesday, September, 19, 2018 Last Update: 10:58 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

پاکستان کودوسرے ونڈے میں شکست دیکر نیوزی لینڈ کی برابری

 

شارجہ، 13 دسمبر (یو این آئی)کین ولیمسن (ناٹ آؤٹ70)کی کپتانی اننگ کی بدولت نیوزی لینڈ نے پاکستان کو دوسرے ون ڈے میچ میں چار وکٹ سے شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز میں ایک۔ایک سے برابری دلادی ہے۔پاکستان نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے محمد حفیظ (76)کی شاندار اننگ کی بدولت اڑتالیس اعشاریہ تین اوور میں 252 رن کا قابل دفاع اسکور کیا۔ لیکن نیوزی لینڈ نے چھیالیس اوور میں چھ وکٹ کے نقصان پر 255 رن بناکر جیت اپنے نام کرلی۔مین آف دی میچ ولیمسن نے اکیانوے گیندوں میں سات چوکوں کی مدد سے ناٹ آؤٹ 70 رن کی اننگز کھیلی۔ہدف کا تعاقب کرنے میں گھبراہٹ، پہلے بلے بازی کے ناقص فیصلے، اہم بلے بازوں کی غیر ذمہ داری اور پھر نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن کی شاندار قائدانہ اننگز پاکستان کی 4 وکٹوں سے شکست کے اہم ترین اسباب رہے۔پاکستان کے تیز گیندباز 253 رنز کے بڑے اسکور کا بھی دفاع نہ کرسکے اور بری طرح ناکام ثابت ہوئے۔شارجہ کے میدان پر، جہاں پاکستان نے تاریخ میں کبھی نیوزی لینڈ کے خلاف کسی ایک روزہ مقابلے میں شکست نہیں کھائی تھی، پاکستان نے ٹاس جیتا اور شام میں اوس پڑنے کے خطرے کے باوجود خود بلے بازی کا فیصلہ کیا۔پہلے ہی اوور میں احمد شہزاد وکٹوں کے پیچھے کیچ دے گئے اور پھر یونس خان کو ایل بی ڈبلیو کے ایک قریبی معاملے سے بچنے کے باوجود سلپ میں کیچ دے کر چلتے بنے۔ اس بھیانک آغاز میں جو کسر باقی رہ گئی تھی، وہ اسد شفیق کے کلین بولڈ سے پوری ہوگئی۔ پاکستان پانچویں اوور میں صرف 20 رنز پر اپنے تین اہم ترین بلے بازوں سے محروم ہوچکا تھا۔اس مرحلے پر محمد حفیظ اور حارث سہیل نے ذمہ دارانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور چوتھی وکٹ پر 77 رنز جوڑ کر پاکستان کی اننگز کو مکمل تباہی سے بچا لیا۔ حارث کو نیوزی لینڈ کے تیز بالرز کی جانب سے ابتداء میں سخت امتحان سے گزرنا پڑا، جنہوں نے بارہا شارٹ گیندیں پھینک کر بائیں ہاتھ کے بلے باز کو پریشان کیا۔ لیکن پھر حارث ان پر حاوی ہوگئے۔ 45 گیندوں پر ایک چھکے اور دو چوکوں کی مدد سے 33 رنز تک پہنچے تھے کہ ایک غلط شاٹ نے ان کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔دو تجربہ کار محمد حفیظ اور کپتان مصباح الحق نے 66 رنز جوڑے اور پاکستان کو بیٹنگ پاور پلے تک پہنچا دیا۔ یہاں اگر پاکستان میٹ ہنری کے ہاتھوں پے در پے دونوں بلے بازوں کی وکٹیں نہ گنواتا تو شاید اس کی اننگز 252 رنز تک محدود نہ رہتی۔ لیکن پہلے حفیظ 76 رنز کی باری کھیلنے کے بعد ایک بڑا شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوئے۔ ہنری کی اٹھتی ہوئی گیند پر ایک خوبصورت پل کھیلا لیکن گیند ڈیپ مڈ وکٹ پر کھڑے ٹام لیتھم سے آگے نہ جا سکی اور سیدھا ان کے ہاتھوں میں پہنچ گئی۔ حفیظ نے 92 گیندیں کھیلیں اور ایک چھکے اور 9 چوکوں کی مدد سے 76 رنز بنا کر میدان سے واپس آئے۔ ہنری نے اگلے ہی اوور میں پاکستان کو ایک اور ضرب لگائی جب مصباح امپائر رچرڈ النگورتھ کے ایک فیصلے، اور پھر ریویو لینے کے باوجود تیسرے امپائر کی جانب سے ان کی تائید، کا نشانہ بن گئے۔ باؤنسر پر مصباح ہک کرنے کے لیے گئے تھے لیکن ناکام رہے لیکن صرف وکٹ کیپر کی اپیل پر امپائر نے انہیں آؤٹ قرار دیا۔ ان کی اننگز 47 رنز پر مشتمل رہی، جس میں دو چھکے اور دو ہی چوکے شامل تھے۔شاہد آفریدی گزشتہ مقابلے میں ذمہ داری سے کھیل چکے تھے، لیکن آج جب پاکستان کو ان کی شدید ضرورت تھی، ایک مرتبہ پھر جارح مزاجی کے سبب 27 رنز سے آگے نہ بڑھ سکے۔ انہوں نے 14 گیندوں پر 31 رنز بنائے، جس میں 3 چھکے اور ایک چوکا شامل تھا۔ اب سرفراز احمد ہی رہ گئے تھے جو اننگز کو 49 ویں اوور تک لے گئے اور جہاں ان کے آؤٹ ہوتے ہی سہیل تنویر بھی ایک چوکا لگا کر پویلین سدھار گئے اور پاکستان کی اننگز 49 ویں اوور میں 252 رنز پر مکمل ہوگئی۔
نیوزی لینڈ نے ابتدائی 18 اوورز ہی میں مقابلے پر ایسی گرفت حاصل کرلی کہ پھر سر توڑ کوشش بھی اسے میچ میں واپس نہ لاسکی۔نیوزی لینڈ کے افتتاحی بلے بازوں انتون ڈیوکچ اور ڈین براؤنلی نے 103 رنز کی بہترین شراکت داری قائم کی۔ سہیل تنویر، وہاب ریاض اور محمد عرفان پر مشتمل پاکستان کی مثلث ان دونوں کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔ جنہوں نے عمدہ رن اوسط کے ساتھ پاکستان کے ہر حربے کو ناکام بنایا۔ پاکستان کو ہدف کے دفاع میں پہلا دھچکا تو اس وقت لگا جب تیسرے ہی اوور میں کپتان مصباح الحق ران کا پٹھا کھنچ جانے کی وجہ سے میدان سے باہر چلے گئے۔ اس کے بعد بقیہ پوری اننگز میں قیادت کے فرائض شاہد آفریدی نے انجام دیے، جنہوں نے کہیں جا کر 19 ویں اوور میں پاکستان کو پہلی وکٹ دلائی۔ اس کے کچھ دیر بعد حارث سہیل مقابلے پر چھا گئے۔ انہوں نے پہلے انتون ڈیوکچ کو رن آؤٹ کیا اور پھر روس ٹیلر، ٹام لیتھم اور کوری اینڈرسن کی وکٹیں حاصل کرکے مقابلے کو برابری کی سطح پر کھڑا کردیا۔ نیوزی لینڈ جیت سے 86 رنز کے فاصلے پر تھا اور پاکستان دو وکٹیں سمیٹ کر کم از کم ایک اینڈ کو ضرور غیر محفوظ بنا سکتا تھا۔ لیکن کپتان کین ولیم سن نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ ان کی 70 رنز کی ناقابل شکست اننگز نے پاکستان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا جبکہ اس مقصد میں ان کا بھرپور ساتھ وکٹ کیپر لیوک رونکی نے دیا۔ دونوں نے چھٹی وکٹ پر 58 رنز کا اضافہ کیا اور پاکستان کی رہی سہی امیدوں کا بھی خاتمہ کردیا۔کین ولیم سن کو شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ سیریز کا تیسرا اور اہم مقابلہ شارجہ ہی کے میدان پر اتوار کو کھیلا جائے گا، جہاں پاکستان کو ایک مرتبہ پھر برتری حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اگر مصباح الحق کی انجری شدید نوعیت کی ہوئی تو یہ پاکستان کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے، جو کمزور بیٹنگ لائن اپ کی وجہ سے ویسے ہی پریشانی سے دوچار ہے۔

...


Advertisment

Advertisment