Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 12:32 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ہاکی چیمپیئنز ٹرافی ٹورنامنٹ 2014

 

پاکستان کے خلاف ایشیاڈ جیسی کامیابی دہرانے اترے گا ہندوستان

آسٹریلیا اور جرمنی میں دلچسپ مقابلے کی توقع

بھونیشور، 12 دسمبر (یو این آئی) ایشیائی کھیلوں کی طلائی تمغہ یافتہ اور اس وقت زبردست فارم میں چلنے والی ہندوستانی ہاکی ٹیم جب روایتی حریف اور تین بار کی چیمپئن پاکستان کے سامنے ہفتہ کو چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے پہلے سیمی فائنل کیلئے اترے گی تو اسے پہلی بار فائنل میں پہنچنے کے لئے ایشیاڈ کی کارکردگی کو ہر حال میں دہرانا ہو گا۔انچیون ایشیائی کھیلوں کے فائنل میں پاکستان کو شکست دے کر خطاب جیتنے والی ہندستانی ہاکی ٹیم کے ذ ن میں وہ یادیں ضرور تازہ ہوں گی۔ لیکن اسے چیمپئنز ٹرافی میں خطاب کی خشک سالی ختم کرنے کے لیے اس کامیابی کو ہر حال میں دہرانا ہو گا۔ چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان 1978، 1980 اور 1984 میں تین بار خطاب جیت چکا ہے جبکہ اس ٹورنامنٹ میں ہندستان خطاب تو کیا فائنل میں بھی کبھی نہیں پہنچا ہے۔ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے میں ہندستان نے ہالینڈ جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دی تھی جبکہ وارٹرفائنل میں اس نے بیلجیم کو 4۔2 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی ہے۔ لیکن پاکستان اس معاملے میں کافی خوش قسمت رہا اور گروپ مرحلے کے تمام میچ ہارنے کے بعد اس نے وارٹرفائنل میں ہالینڈ کو 4۔2 سے شکست دیکر سیمی فائنل کا ٹکٹ حاصل کر لیا۔چمپئنز ٹرافی کے ریکارڈ کو دیکھیں تو ہندوستان اور پاکستان نے پانچ بار تیسرے سے چوتھے نمبر کے لئے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا ہے جس میں ہالینڈ میں سال 1982 میں صرف ایک بار ہندستان تیسرے مقام اور پاکستان چوتھے نمبر پر رہا تھا۔ اس کے بعد سال 2002، سال 2003، سال 2004 اور 2012 میں بھی دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے سے تیسرے اور چوتھے مقام کے لیے مقابلہ کیا لیکن ہر بار جیت پاکستان کی ہی ہوئی۔دوسری طرف ہندستان نے چمپئنز ٹرافی کے فائنل تک میں کبھی جگہ نہیں بنائی ہے۔ اگر ہندستان سیمی فائنل میچ میں پاکستان کو شکست دے دیتا ہے تو نہ صرف وہ پہلی بار ٹورنامنٹ کے فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے گا بلکہ اس کے پاس پہلی بار خطاب جیتنے کا بھی موقع ملے گا۔

ایشیاڈ میں طلائی جیتنے کے بعد نمبر ون آسٹریلیا کو اسی کے میدان پر ٹیسٹ سیریز میں شکست دے کر ہندوستان کے حوصلے کافی بلند ہیں۔ کپتان سردار سنگھ کی قیادت میں ہاکی ٹیم نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے اور وہ صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ٹیم کے کپتان سردار سنگھ کے علاوہ ڈریگ فل ر روپندر پال سنگھ، ایس اتھپا،آ اشدیپ سنگھ، دھرم ویر سنگھ اور رگھوناتھ ٹیم انڈیا کے سب سے اہم اور تجربہ کار کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن پر پاکستان جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دینے کی ذمہ داری رہے گی۔بیلجیم کے خلاف وارٹرفائنل مقابلے میں ان کھلاڑیوں نے گول کر کے ٹیم کو سیمی فائنل کا ٹکٹ دلایا تھا۔ ہندوستان کے لیے اگرچہ چیمپئنز ٹرافی کے پرانے ریکارڈ کو توڑنے اور خطاب کی خشک سالی ختم کرنے کا دباؤ رہے گا۔ لیکن تجربہ کار ہندستانی ٹیم اسی فارم کو جاری رکھتی ہے تو اس کے لیے یہ مشکل نہیں ہو گا۔خود ہندستانی کپتان سردار نے مانا کہ اب بھی ٹیم کو کھیل میں بہتری کی ضرورت ہے۔ وارٹرفائنل میں ہندستان نے دو گول سے پچھڑنے کے بعد واپسی کی تھی لیکن پاکستان کے خلاف کسی بھی وقت غفلت یا غلطی مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔ سردار نے ا م جانتے ہیں کہ ہندستانی ٹیم کو اب بھی کئی شعبوں میں بہتری کرنا ہے۔ پاکستان کے خلاف ہمیں اپنی حکمت عملی پر کام کرنا ہوگا۔ وہ ٹورنامنٹ کی مضبوط ٹیم ہے اور ہم اسے کمزور نہیں سمجھ سکتے ہیں اور پاکستان کے خلاف کسی قیمت پر غفلت نہیں برتی جا سکتی ہے ۔چیف کوچ ٹیری والش کے چیمپئنز ٹرافی سے پہلے ٹیم کا ساتھ چھوڑ دینے کے بعد رولینٹ اولٹمنس ہندستانی ٹیم کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ لیکن اولٹمنس بھی پاکستان کی ا میت کو سمجھتے ہیں۔ پاکستان سے مقابلے کو لے کر انہوں نے ا کہ میں اب پاکستان کا سامنا کرنا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ کتنی بہترین ٹیم ہے ۔اولٹمنس نے کہا کہ م جانتے ہیں کہ پاکستان ا یسی ٹیم ہے اور ہمیں ان کے خلاف بہت ہی مضبوطی اور جارحیت کے ساتھ کھیلنا ہوگا۔ ان کا ڈیفنس اور اٹیک دونوں ہی بے مثال ہیں اور ہندستان کو اسے زیر کرنے میں سخت محنت کرنی ہوگی۔ ہم ٹورنامنٹ جیتنا چاہتے ہیں اور ضروری ہے کہ ہم پاکستان کے خلاف اسی جیت کے سلسلے کو بنائے رکھیں۔ اس سے پہلے پاکستانی ہاکی ٹیم کے کوچ شہناز شیخ نے بھی ہندستان کے ساتھ سیمی فائنل کو لے کر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ا کہ م جانتے ہیں کہ اب ہمیں ہندستان کے خلاف کھیلنا ہے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کیونکہ اس سے دونوں ممالک کی ہاکی میں بہتری آئے گی۔ عالمی کپ کی چاندی کا تمغہ فاتح ہالینڈ کو شکست دے کر سیمی فائنل میں پہنچی پاکستان نے میچ میں زبردست مظاہرہ کیا تھا اور مسلسل جارحانہ کھیل جاری رکھا۔ ٹورنامنٹ کے چار میچوں میں سب سے زیادہ گول کر نے والے محمد عرفان، محمد عمران، محمد عمر بھٹ ہندوستان کے لیے مشکلیں کھڑی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پنالٹی ارنر کو گول میں تبدیل کرنے میں پاکستانی ہاکی کھلاڑیوں کو مہارت حاصل ہے۔ ایسے میں ہندستان اور پاکستان کے درمیان یہ ائی وولٹیج مقابلہ دلچسپ اور چیلنجنگ رہے گا۔

بھوبنیشور:مسلسل پانچ مرتبہ اور مجموعی طور پر تیرہ مرتبہ چمپئن کا خطاب حاصل کرنے والی آسٹریلیا کی ٹیم چمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل مقابلے میں اپنی بہترین کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جرمنی کی نوجوان ٹیم کے خلاف جیت کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔دفاعی چمپئن آسٹریلیا نے حالانکہ ٹورنامنٹ میں اچھی شروعات نہیں کی تھی اور افتتاحی میچ میں اسے انگلینڈ سے تین۔ ایک کی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن اس ہار کے بعد آسٹریلیا نے بلجیم سے ایک۔ایک سے ڈرا کھیلا اور اس کے بعد پاکستان کو تین۔صفر سے ہرادیا۔دوسری جانب جونیر عالمی کپ جیتنے والی نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل جرمنی کی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں شاندار شروعات کرتے ہوئے ہندوستان کو ایک۔صفر سے ہرایا تھالیکن بعدکی دونوں میچوں میں اسے ہالینڈ اور ارجنٹینا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرناپڑا تھا۔

9مرتبہ کی چمپئن جرمنی اپنے پول میں چوتھے مقام پر رہی تھی۔ لیکن کوارٹر فائنل میں اس نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کو دو۔صفر سے ہراکر سیمی فائنل میں رسائی حاصل کی تھی۔سیمی فائنل سے قبل جرمنی کے کپتان ٹوبائی ہاک نے کہاکہ آسٹریلیا کے خلاف ہم پورے اعتماد کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ اس سے قبل ہم آسٹریلیا کو پانچ مرتبہ شکست دے چکے ہیں۔ہماری ٹیم کے اسٹرائکر اور نوجوان کھلاڑی اچھے کھیل کا مظاہرہ کررہے ہیں اور انہیں سیمی فائنل میں اپنی ٹیم کی جیت کا یقین ہے۔دوسری جانب آسٹریلیا کے کپتان اینڈی اوکنڈن نے کہاکہ ٹیم نے اپنی جیت کی پٹری حاصل کرلی ہے اور سیمی فائنل میں پوری کوشش رہے گی کہ حریف ٹیم کو شکست دے کر فائنل میں داخلہ حاصل کیا جائے۔جرمنی کے کوچ مارکس ووگس نے بھی سیمی فائنل مقابلے میں بہترین کھیل کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نیکہاکہ اس مقابلے کے لئے آسٹریلیا کے خلاف اپنی کھیل حکمت عملی تیار کرلی ہے۔کھلاڑیوں کو اب میچ کا انتظار ہے۔




 

...


Advertisment

Advertisment