Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 11:41 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

کنگاروؤں کوہندوستانی کھلاڑیوں نے دیا منہ توڑ جواب،مقابلے میں ہندوستان کی واپسی

 

وراٹ کوہلی کی وراٹ سنچری سے ہندوستان نے آسٹریلیا کے517رنوں کے جواب میں4وکٹ کے نقصان پر ٹھونکے 369 رن،

کپتانی ڈیبو میں سنچری بنانے والے چوتھے ہندستانی بنے وراٹ

پجارا نے نوجوان بلے بازو ں کی تعریف کی

کوہلی کو باؤنسر لگتے ہی میدان پر مچی کھلبلی

ایڈیلیڈ ،11 دسمبر (یو این آئی) آسٹریلیا کے خلاف گیند بازوں کی ناکامی کے بعد قائم مقام کپتان وراٹ کوہلی کی 115رن کی سنچری اور مرلی وجے،چیتشور پجارا اور اجن یا رہانے کی تین نصف سنچریوں کی بدولت ہندوستان نے پہلے ٹیسٹ کے تیسرے دن جمعرات کو اپنی پہلی اننگز میں 369 کا مضبوط اسکور بنا لیا ہے۔ آسٹریلیا نے میچ کے تیسرے دن اپنی پہلی اننگز کل کے 120 اوورز میں سات وکٹ پر 517 رن کے اسکور پر ڈکلئیر کر دی۔ لیکن میزبان ٹیم کے بڑے اسکور کے سامنے ہندستانی بلے بازی کہیں بھی ڈگمگائی نہیں اور دن کا کھیل ختم ہونے تک ایک سنچری اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے ہندوستان نے 97 اوورز میں پانچ وکٹ پر 369 کا اسکور کھڑا کر اپنی پوزیشن کو مضبوط بنا لیا۔ہندوستان اب میزبان ٹیم کے اسکور سے 148 رن پیچھے ہے اور اس کے پانچ وکٹ باقی ہیں۔ بلے باز روہت شرما (33) اور ردھمن ساہا (01) ناٹ آؤٹ کریز پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ہندوستان کی جانب سے کپتان وراٹ نے زبردست کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے چوتھے نمبر پر کھیلتے ہوئے سب سے زیادہ 115 رنز کی اننگز کھیلی۔ وراٹ نے 184 گیندوں میں 12 چوکے بھی لگائے۔ وراٹ نے رہانے کے ساتھ مل کر چوتھے وکٹ کے لیے 101 رنز کی مضبوط پارٹنرشپ کی۔ دن کی دوسری بڑی شراکت داری دو جوڑیوں نے کی۔ اوپنر مرلی نے پجارا کے ساتھ دوسرے وکٹ کے لیے 81 اور پھر پجارا نے وراٹ کے ساتھ تیسرے وکٹ کے لیے 81 رنز کی شراکت نبھا ر اسکور 300 کے پار پہنچا دیا۔میچ میں ہندوستانی بلے بازوں نے کافی سنبھل کر مظاہرہ کیا۔ اوپنر مرلی نے ٹیم کو اچھی شروعات دلائی اور 88 گیندوں میں تین چوکے اور دو چھکے لگا کر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ ان کے جوڑی دار شکھر دھون دیر تک میدان پر ٹک نہیں سکے حالانکہ شکھر نے اپنی مختصر اننگز کافی زبردست شروع کی اور 24 گیندوں پانچ چوکو ں کی مدد سے ہی یہ اسکور بنایا۔ لیکن آسٹریلوی بولر ریان ہیرس کے ہاتھوں وہ بولڈ ہو کر ہندوستان کا پہلا شکار بنے۔شیکھر کے آؤٹ ہونے کے بعد قابل اعتماد کھلاڑی پجارا نے اپنی موجودگی کو بامعنی بنایا۔ عالمی کپ ٹیم سے باہر رکھے گئے پجارا نے 135 گیندوں میں نو چوکے لگا کر 73 رنز کی مفید اننگز کھیلی۔ انہوں نے اوپنر مرلی کے ساتھ اہم شراکت نبھائی لیکن پھر حریف ٹیم کے فاسٹ بولر مچل جانسن نے ہندوستان کا دوسرا وکٹ نکالا۔ مشیل نے بریڈ ہیڈن کے ہاتھوں مرلی کو کیچ کراکر پویلین بھیجا۔آسٹریلوی اسپنر ناتھن لیون نے پجارا کو بولڈ کیا لیکن قائم مقام کپتان وراٹ اور رہانے کریز پر ڈٹے رہے اور چائے کے وقفہ تک ہندوستان کے اسکور کو تین وکٹ کے نقصان پر 223 تک لے گئے۔ دونوں بلے بازوں نے 101 رنز کی سب سے بڑی شراکت کی لیکن لیون نے ایک بار پھر کامیابی حاصل کی اور گیند بازوں پر بنے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کر کے رہانے کے طور پر ہندستان کا بڑا وکٹ نکالا۔رہانے چوتھے وکٹ کے طور پر 293 کے اسکور پر آؤٹ ہوئے۔ پانچویں نمبر پر بلے بازی کر نے والے ہندوستانی بلے باز نے 76 گیندوں میں 10 چوکے لگا ر 62 رنز کی بہترین کھیلی ۔ لیکن لیون نے انہیں آل راؤنڈر شین واٹسن کے ہاتھوں کیچ کراکر وراٹ کے ساتھ ان کی شراکت پر بریک لگایا۔آسٹریلوی فاسٹ بولر جانسن نے وراٹ کو ہیرس کے ہاتھوں آؤٹ کر کے ہندوستان کو دن کا کھیل ختم ہونے سے پہلے سب سے بڑا جھٹکا دیا۔ اوپننگ آرڈر کے آؤٹ ہو جانے کے بعد ون ڈے میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ اپنے نام کرنے والے روہت شرما نے چھٹے نمبر پر اترکر بلے بازی کی کمان سنبھالی۔ دن کا کھیل مکمل ہونے تک روہت نے 61 گیندوں میں چار چوکے لگا کر ناٹ آؤٹ 33 رنز بنائے۔ ان کے ساتھ ردھمن 16 گیندوں میں 01 رنز بنا کر فی الحال کریز پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے وراٹ نے روہت کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے 74 رنز کی شراکت کی۔ ٹیسٹ میں پہلی بار کپتانی کرنے والے وراٹ ہندوستان کے چوتھے کھلاڑی ہیں جنہوں نے کپتانی ڈیبو میں سنچری لگائی ہے۔ اس سے پہلے سنیل گواسکر، وجے ہزارے اور دلپ وینگسر ر یہ کامیابی اپنے نام کر چکے ہیں۔آسٹریلوی فلپ یوز کے انتقال کے بعد کھیلے جا رہے اس میچ میں ایک وقت دونوں ٹیمیں وراٹ کو لے کر اس وقت فکر میں پڑ گئیں جب تیز گیند باز جانسن نے وراٹ کا استقبال شارٹ بال سے کیا جو براہ راست ہندوستانی بلے باز کے ہیلمیٹ پر جاکر لگی۔سر پر باؤنسر لگنے سے یوز کی موت کی یادیں سب کیذ ن میں تازہ ہیں اور اسی فکر سے کھلاڑی وراٹ کی طرف بھاگے جبکہ آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک نے جانسن کو دلاسہ دیا۔ اگرچہ اس واقعہ کے بعد جانسن کافی فکر مند دکھائی دئے۔ فی الحال ہندوستانی ٹیم آسٹریلیا کے بڑے اسکور سے 148 رن پیچھے ہے اور اس کے پاس پانچ وکٹ باقی ہیں۔

ایڈیلیڈ: آسٹریلوی بلے باز فلپ یوز کی موت کا حادثہ اب بھی آسٹریلوی کھلاڑیوں کے دلوں دماغ پر حاوی ہے اور اس کا نظارہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب پہلے ٹیسٹ کے تیسرے دن ہندستان کے قائم مقام کپتان وراٹ کوہلی کے ہیلمٹ پر مچل جانسن کا باؤنسر لگنے پر تمام فیلڈرس دوڑتے ہوئے ان کا حال پوچھنے پہنچ گئے ۔جانسن نے ہندوستانی کھلاڑی کی طرف پہلی گیند باؤنسر ڈالی جو ان کے ہیلمٹ پر جاکر لگی۔ کوہلی کو باؤنسر لگتے ہی ڈیوڈ وارنر، بریڈ ہیڈن، کپتان مائیکل کلارک، کرس روجرس اور خود جانسن ان کے پاس یہ جاننے پہنچے کہ کیا وہ ٹھیک ہیں۔ یہ واقعہ مظہر ہے کہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کی ذہنی کیفیت میں گزشتہ دنوں کتنی تبدیلی ہوئی ہے۔یہ وہی فیلڈرس اور گیند باز ہیں جنہوں نے فاف ڈو پلیسس کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا تھا۔ اس وقت جانسن نے پلیسس کو کہا تھا کہ اب وہ اپنے ہاتھ کے ٹوٹنے کیلئے تیار رہیں۔ لیکن اس بار وہ حریف کھلاڑی کو باؤنسر لگنے سے فکر مند نظر آئے اور نہ ہی انہیں نقصان پہنچانے کی دھمکی دی۔واضح رہے کہ ایک گھریلو میچ کے دوران سین ایبوٹ کے باؤنسر سے ہی یوز کی موت سے آسٹریلوی کھلاڑی صدمے میں تھے جس کی وجہ سے ہندستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کو ٹال دیا گیا تھا۔ یوز حادثے کے بعد باؤنسر کو لے کر ایک لمبی بحث چل پڑی تھی۔وراٹ کو باؤنسر لگنے سے نہ صرف کھلاڑی بلکہ منتظمین اور پرستار بھی پریشان ہو گئے۔ چاروں طرف سے آسٹریلوی کھلاڑیوں سے گھرے کوہلی نے چھ سیکنڈ کے لئے ہیلمیٹ اتارا اور سر کو ہلایا۔اس کے بعد ہندستانی کپتان نے ہاتھ سے امپائر کو کھیلنے کا اشارہ کیا اور جانسن گیند بازی کے لئے چل پڑے۔ وراٹ نے میچ میں جانسن کی مہلک گیندبازی کے باوجود شاندار 115 رن بنائے۔ اگرچہ دن کی اننگز ختم ہونے سے چار اوور پہلے ہی وراٹ جانسن کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

ایڈیلیڈ:ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سرکردہ بلے باز چتیشور پجارا نے آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹسٹ کے دوران ہندوستانی نوجوان بلیبازوں کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم کے نوجوان بلے بازوں نیاپنے آپ کوثابت کیا ہے ۔واضح رہے کہ آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگ میں سات وکٹ پر 517 رن پر ڈکلیر کردی تھی۔ لیکن میزبانی ٹیم کے ہمالیائی اسکور کے سامنے ہندوستانی بلے بازوں نے ذمہ دارانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور کھیل ختم ہونے تک پانچ وکٹ پر 359 رن بنالئے تھے۔پجارا نے میچ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے آسٹریلیا کے ہمالیائی اسکور کا سامنا کرنے کی حکمت عملی پرغوروخوض کیا تھا۔ مجموعی طور پر تمام بلے بازوں نے اپنی ذمہ داری کو بخوبی انجام دیا۔

ایڈیلیڈ: قائم مقام کپتان وراٹ کوہلی ٹیسٹ کرکٹ میں کپتانی ڈیبو میں سنچری بنانے والے چوتھے ہندستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔وراٹ نے آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹسٹ کے دوسرے دن 115 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ مہندر سنگھ دھونی کے زخمی ہونے کی وجہ سے وراٹ کو ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں ٹیم انڈیا کی کپتانی کرنے کا موقع ملا اور انہوں نے بہترین سنچری لگا کر خود کو ثابت کیا۔کپتانی ڈیبو میں سنچری بنانے کی کامیابی اس سے پہلے سنیل گواسکر، دلیپ وینگسر ر اور وجے ہزارے کو حاصل تھی۔ وراٹ کی یہ ساتویں ٹیسٹ سنچری تھی اور ان کا تیسرا بہترین اسکور تھا۔ ان سات سنچریوں میں ان کا بہترین اسکور 119 رنز ہے جو انہوں نے دسمبر 2013 میں جوہانسبرگ میں جنوبی افریقہ کے خلاف بنایا تھا۔وراٹ کی سات سنچریوں میں چار غیر ملکی زمین پر بنی ہیں اور تین ہندستانی زمین پر بنی ہیں۔ آسٹریلیا کے خلاف ان کا یہ تیسری ا یڈیلیڈ میں دوسری سنچری تھی۔ وراٹ نے جنوری 2012 میں ایڈیلیڈ میں ہی 116 رن بنائے تھے۔ وراٹ اب ٹیسٹ کرکٹ میں 2000 رن پورے کرنے سے صرف 30 رن دور رہ گئے ہیں۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment