Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 05:00 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

صدر بنا تو آئی پی ایل کے معاملات سے دور ر ہوں گا :سری نواسن

 

نئی دہلی 10 دسمبر (یو این آئی) انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل ) کے چھٹے ایڈیشن میں سٹے بازی اور اسپاٹ فکسنگ کے معاملے میں ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر کے عہدے سے برطرف کئے گئے این شری نواسن نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ دوبارہ بورڈ سربراہ منتخب کئے جانے پر وہ آئی پی ایل کی گورننگ کونسل اور بی سی سی آئی کی میٹنگ سے خود کو دور رکھیں گے۔ سری نواسن کی جانب سے معاملے کی پیروی کررہے سینئر وکیل اور سابق وزیر قانون کپِل سبل نے جسٹس ٹی اے ٹھاکر اور جسٹس ایف ایم آئی خلیف اللہ کی بنچ کو یقین دلایا کہ ان کے موکل اگر بی سی سی آئی کے صدر کے عہدہ پر دوبارہ منتخب ہوتے ہیں تو مفادات کے ٹکراؤ سے جڑے سوال پر کمیٹی کا فیصلہ آنے تک وہ آئی پی ایل گورنرننگ کونسل سے دور رہیں گے۔مسٹر سبل نے دلیل دی کہ سری نواسن آئی پی ایل اور اپنی فرنچائیزی ٹیم چنئی سپر کنگس کے مابین جاری مبینہ مفادات کے ٹکراؤ پر لیگ کی گورننگ کونسل اور آئی پی ایل سے متعلق بی سی سی آئی کی میٹنگ میں اس وقت تک مداخلت نہیں کریں گے جب تک مجوزہ کمیٹی مفادات کے ٹکراؤ معاملے میں انہیں کلین چٹ نہیں دے دیتی۔انہوں نے کہا کہ اگر عدالت بی سی سی آئی انتخاب کی اجازت دیتا ہے اور اگر میں (سری نواسن) اس میں صدر کے عہدہ کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور جیتتا ہوں تو پھر میں گورنگ کونسل سے دور رہوں گا ۔ ساتھ ہی میں آئی پی ایل سے وابستہ سبھی میٹنگوں سے دوری بنائے رکھوں گا۔قابل ذکر ہے کہ کرکٹ ایسوسی ایشن آف بہار (سی اے بی) کی جانب سے ایک عرضداشت دائر کی گئی ہے جس بی سی سی آئی کے صدر کے عہدے سے سری نواسن کو برخواست کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ چنئی سپر کنگس کے مالک اور ملک میں ر کٹ کے سب سے بڑے ادارے بی سی سی آئی کا سربراہ ہونے کے ناطے سری نواسن کے مفادات کے ٹکراؤ کے کافی آثار ہیں۔آئی پی ایل چھ میں بدعنوانی معاملے کی تفتیش مکمل ہونے تک بورڈ سے عارضی طور پر معطل کئے گئے شری نواسن نے عدالت سے ایک بار پھر بی سی سی آئی کے صدر کے عہدے کا انتخاب لڑنے کی اجازت بھی طلب کی۔اس درمیان بی سی سی آئی نے سپریم کورٹ کی طرف سے مجوزہ اعلی اختیاری کمیٹی پر اپنی ناراضگی درج کرائی۔ بی سی سی آئی نے کہا کہ عدالت کے اس فیصلے سے اس کی خود مختاری داؤ پر لگ جائے گی۔مجوزہ کمیٹی سری نواسن کے داماد گروناتھ میئپن سمیت آئی پی ایل کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سزا کا تعین کرے گی۔ کمیٹی میں ریٹائرڈ ججوں کو رکھے جانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی سٹے بازی اور اسپاٹ فکسنگ میں سری نواسن کے کردار کی بھی جانچ کرے گی۔ ساتھ ہی سزا کی مدت کے بارے میں بھی فیصلہ لے گی۔عدالت نے معاملے کی سماعت کے دوران حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کیوں اس معاملے میں بی سی سی آئی صرف تادیبی کارروائی کی بات کر رہی ہے بلکہ اسے احتیاطاً اقدامات اٹھانے چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لالچ کو ہی ختم کیا جا سکے۔سپریم کورٹ نے ایک بار پھر اسپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کے اس معاملے کے سامنے آنے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر لوگوں کا اعتماد اس میں بنائے رکھنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو کرکٹ کا کھیل مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔یہ دوسری بار ہے جب عدالت نے کرکٹ میں شفافیت اختیار کرنے اور اس کی ساکھ کو بچانے کے لئے سخت قدم اٹھانے پر زور دیا ہے۔
اس سے قبل منگل کو معاملے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے بی سی سی آئی سے اس معاملے میں سٹے بازی کے قصوروار پائے گئے شری نواسن کے داماد میئپن کے خلاف کارروائی کرنے اور سزا طے کرنے کے ہدایات دیئے تھے۔ عدالت نے کرکٹ بورڈ کو چار اختیارات بھی دیئے تھے جس میں انہوں نے شری نواسن کو بورڈ سے الگ ہونے اور بی سی سی آئی کی ایگزیکٹو کمیٹی کو میئپن کے خلاف سزا طے کرنے کی بات کہی تھی۔عدالت نے ساتھ ہی شری نواسن کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں میئپن کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کا بھی قصوروار بتایا تھا۔ شری نواسن نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ اپنے داماد کے خلاف کسی بھی جانچ سے دور رہیں گے۔ خیال رہے کہ شری نواسن بی سی سی آئی کے موجودہ صدر ہیں لیکن عدالت کی ہدایات کی وجہ سے وہ بورڈ کی سرگرمیوں سیدور ہیں ۔ ان کا دور اقتدار جلد ہی ختم ہو رہا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ دوسری بار بورڈ کے صدر کا انتخاب لڑنا چاہتے ہیں جس کے لئے فی الحال عدالت نے انہیں اجازت نہیں دی ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment