Today: Wednesday, September, 19, 2018 Last Update: 10:53 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

جانسن کے خطرناک باؤنسر کیلئے تیار رہیں ہندستانی بلے باز : واسن

 

نئی دہلی ،6 دسمبر (یو این آئی) سابق ہندستانی فاسٹ بولر اتل واسن کا خیال ہے کہ آسٹریلوی بلے باز فلپ یوز کی بیشک باؤنسر سے موت ہو گئی ہے لیکن آسٹریلیا کیخلاف نو دسمبر سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں ہندستانی بلے بازوں کو مچل جانسن کے خطرناک باؤنسروں کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ یوز کی حال میں باؤنسر سر میں لگنے سے موت ہو گئی تھی جس کے بعد کرکٹ میں باؤنسروں سے متعلق کافی سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ آسٹریلیا میں موجودہ غمگین حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ آسٹریلوی کھلاڑیوں پر یوز کے انتقال کا صدمہ چھایا رہے گا۔ لیکن پریکٹس سیشن میں لوٹتے ہوئے آسٹریلوی گیند بازوں نے باؤنسر کی جم کر مشق کی۔ہندستان کی جانب سے چار ٹیسٹ اور نو ون ڈے کھیلنے والے سابق تیز گیند باز واسن نے کہا کہ یوز کا انتقال اب گزشتہ وقت کی بات ہو گئی ہے۔ آسٹریلوی بولر خصوصا مشیل جانسن ہندوستانیوں کو ڈرانے کیلئے باؤنسر اور شارٹ پچ گیندوں کا پورا استعمال کریں گے ۔واسن نے کہا کہ یوز کی موت ایک حادثہ تھی۔ باؤنسر کسی بھی تیز گیند باز کا ایک ہتھیار ہے اور وہ خود کو اپنے ہتھیار سے دور نہیں رکھ سکتا ہے ۔سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر مرو یوز نے بھی ا ہے کہ میرا خیال ہے کہ پہلی ہی گیند سے سب کچھ صاف ہو جائے گا کہ ٹیسٹ میچ میں کیا ہونے جا رہا ہے۔ میں تو یہ تک مانتا ہوں کہ پہلی بال باؤنسر ہونی چاہیے جس سے یہ پیغام جائے گا کہ سب اپنے کام پر توجہ دے رہے ہیں ۔بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز مشیل جانسن نے سال 2013۔14 میں گھریلو ایشیز سیریز میں اپنے خطرناک باؤنسر اور شارٹ پچ گیندوں سے انگلینڈ کے بلے بازوں کو ایسا ڈرایا تھا کہ انگلینڈ پانچ میچوں کی سیریز 0۔5 سے ہار گیا تھا۔ جانسن نے سیریز میں 1397 کے اوسط سے 37 وکٹ لئے تھے۔واسن نے ساتھ ہی ا کہ ہندستان کے پاس روہت شرما، شکھر دھون، اجن یا رہانے، سریش رینا اور وراٹ کوہلی کے طور پر ایسے بلے باز ہیں جو آسٹریلوی تیز گیند بازوں کا آسانی کے ساتھ سامنا کر سکتے ہیں ۔انہیں صرف خود پر بھروسہ دکھانا ہوگا کہ وہ لڑ سکتے ہیں اور اس بھروسے سے ہی غیر ملکی زمین پر گزشتہ کچھ برسوں کا خراب ریکارڈ تبدیل ہو سکتا ہے ۔سابق فاسٹ بولر نے ای بھی اچھی بات ہے کہ ہندوستان کے پاس چار ایسے فاسٹ بولر ہیں جو لگاتار 140 کلومیٹرفی گھنٹے کی رفتار سے گیند ڈال سکتے ہیں۔ ان میں بھی باؤنسر ڈالنے کی صلاحیت ہے اور یہ مخالف ٹیم کو منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ہندوستانی تیز گیند باز آسٹریلوی کنڈیشنز کا کس طرح استعمال کرتے ہیں ۔

...


Advertisment

Advertisment