Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 12:38 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

سہواگ، ظہیر،گمبھیر ،یوراج اور ہربھجن ممکنہ کھلاڑیوں کی لسٹ سے باہر

 

سنجو سیمسن، اکشر پٹیل، موہت شرما اور کیدارجادھو جیسے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع 10 بلے بازوں ، 9تیزگیندبازوں، 7اسپنروں اور4 وکٹ کیپربلے بازوں کو فہرست جاری

 

30ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست

مہندر سنگھ دھونی، شکھر دھون، روہت شرما، اجنکیا رہانے، رابن اتھپا، وراٹ کوہلی، سریش رینا، امباٹی رایڈو، کیدار جادھو، منوج تیواری، منیش پانڈے، ردھمن ساہا، سنجو سیمسن آر اشون، پرویز رسول، کرن شرما، امت مشرا، رویندر جڈیجہ، اکشر پٹیل، ایشانت شرما، بھونیشور کمار، محمد شمی، امیش یادو، ورون آرون، دھول کلکرنی، اسٹورٹ بنی، موہت شرما، اشوک ڈنڈا، کلدیپ یادو اور مرلی وجے۔

 

ممبئی ،04 دسمبر (یو این آئی) ہندستانی کرکٹ کے جارحانہ سلامی بلے باز وریندر سہواگ، آل راؤنڈر یوراج سنگھ، گوتم گمبھیر، ہربھجن سنگھ اور ظہیر خان سال 2011 کی ورلڈ کپ فاتح ہندستانی کرکٹ ٹیم کا اہم چہرہ تھے لیکن وقت بدلتے ہی ان سینئر پر نوجوان اس قدر حاوی ہو گئے کہ اگلے سال ہندوستان کے خطاب کی دفاعی مہم کیلئے منتخب کئے گئے ممکنہ کھلاڑیوں میں بھی انہیں جگہ نصیب نہیں ہوئی۔ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ(بی سی سی آئی) کے سلیکٹروں نے یہاں جمعرات کو سال 2015 میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جانے والے آئی سی سی عالمی کپ کے لیے 30 ممکنہ کھلاڑیوں کو منتخب کیا۔ امید کی جا رہی تھی کہ گزشتہ عالمی کپ کے کچھ چہروں کو ایک بار پھر موقع دیا جائے گا لیکن بورڈ نے تجربہ کے بجائے نوجوان چہروں پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے سینئر کو باہر کا راستہ دکھا دیا۔حال ہی میں یوراج اور سہواگ نے ایک بار پھر عالمی کپ ٹیم میں جگہ بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ سہواگ ہی نہیں کئی اور پرانے بڑے کھلاڑی بھی 2015 کے ورلڈ کپ میں اترنا چاہتے تھے۔ اگرچہ پانچوں ہی تجربہ کار کھلاڑی گزشتہ کافی وقت سے ٹیم سے باہر چل رہے ہیں جبکہ گھریلو کرکٹ میں بھی ان کے خراب کھیل کی بدولت سلیکٹروں نے انہیں ٹیم میں واپس شامل کرنے پر کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ ایک طرف جہاں تجربہ کار کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا وہیں سلیکٹروں نے سنجو سیمسن، اکشر پٹیل، موہت شرما اور کیدار جادھو جیسے نوجوان اور حالیہ چہروں کو عالمی کپ کے لیے ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل کر کے نئی ٹیم کی تشکیل کا اشارہ ضرور دے دیا۔سندیپ پاٹل کی صدارت میں بی سی سی آئی کی پانچ رکنی سلیکشن کمیٹی نے گزشتہ چمپئن ہندوستانی ٹیم کے خطاب بچانے کے مہم کو ذہن میں رکھ کر نوجوان کھلاڑیوں پر زیادہ توجہ دی۔ منتخب کئے گئے ممکنہ کھلاڑیوں میں کم تجربہ کار لیکن سیمسن جیسے کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کو جگہ دی گئی ہے۔ اگرچہ ممکنہ کھلاڑیوں کے انتخاب پر نظر ڈالیں تو اس میں ا نہیں نہ کہیں کپتان دھونی کا اثر زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ اپنی کپتانی میں ورلڈ کپ دلا نے والے دھونی کے علاوہ وراٹ کوہلی ،سریش رینا اور روی چندرن اشون صرف چار ایسے کھلاڑی ہیں جنہیں ایک بار پھر عالمی کپ ٹیم کا حصہ بننے کا موقع ملا ہے۔لیکن بھجی، ویرو، گوتی اور ظہیر کو باہر کئے جانے سے ان کھلاڑیوں کے عالمی کرکٹ کریئر کو لے کر ضرور سوال کھڑا ہو گیا ہے۔ گزشتہ عالمی کپ کا اہم چہرہ رہے 36 سال کے سہواگ نے ہندستان کی جانب سے اپنا آخری میچ پاکستان کے خلاف 2013 میں ون ڈے کھیلا تھا جبکہ 36 سالہ ظہیر سری لنکا کے خلاف سال 2012 میں ٹیم کا حصہ رہے تھے۔گمبھیر انگلینڈ کے خلاف 2013 اور یوراج سال 2013 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے تھے۔آف اسپنر ہربھجن کی حالت بھی جدا نہیں ہے اور وہ تو ویسٹ انڈیز کے خلاف سال 2011 میں آخری بار ٹیم کا حصہ رہے تھے اور اس کے بعد ہی وہ قومی ٹیم میں واپسی نہیں کر سکے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں عمر کے ساتھ سینئر کھلاڑیوں کے مظاہرے پر بھی کافی اثر پڑا اور گھریلو ر ٹ میں بھی ان کا کھیل متاثر کن نہیں رہا۔آل راؤنڈر یوراج گھریلو کرکٹ میں بھی آؤٹ آف فارم چل رہے ہیں اور حال ہی میں وجے ہزارے ٹرافی میں صرف ایک نصف سنچری لگا پائے تھے جبکہ دیودھر ٹرافی میں نارتھ زون کی جانب سے بھی ان کا مظاہرہ مایوس کن رہا۔ ایسے میں نوجوان آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ اور اکشر پٹیل کی موجودگی سے یووی کو نظر انداز کیا جانا تقریبا طے ہی لگ رہا تھا۔آسٹریلیا کی کنڈیشنز میں سہواگ جیسے بلے باز اچھے ثابت ہو سکتے تھے لیکن وہ گزشتہ طویل عرصے سے آؤٹ آف فارم چل رہے ہیں جبکہ دہلی کے گمبھیر اور ویرو کے اوپننگ پارٹنر نے بھی گھریلو کرکٹ میں بلے سے کچھ خاص کمال نہیں کیا جس کا نتیجہ ہے کہ دونوں ہی کھلاڑیوں نے خود کو دیودھر ٹرافی سے ہٹا لیا تھا۔گزشتہ کافی وقت سے سلیکٹروں کی نظروں سے بے حد دور رہے آف اسپنر ہربھجن کی جگہ پچھلی عالمی کپ فاتح ٹیم کا حصہ رہے روی چندرن اشون کو فوقیت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گیندبازوں میں ایشانت شرما، بھونیشور کمار، محمد شمی، ورو آرون، کرن شرما، امیش یادو، پرویز رسول، امت مشرا کو شامل کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ نئے چہروں میں سنجو سیمسن، کیدار جادھو، موہت شرما، ردھمن ساہا نے بھی جگہ بنائی ہے لیکن چونکانے والی بات ہے کہ چتیشور پجارا جیسے ٹیم کے بھروسیمند بلے باز کو عالمی کپ ممکنہ کھلاڑیوں میں جگہ نہیں ملی ہے۔ اگرچہ پہلے سے طے مانے جا رہے روہت شرما، وراٹ، سریش، شکھر دھون، رویندر جڈیجہ، رابن اتھپا اور مرلی وجے ٹیم کے اہم کھلاڑیوں کے طور پر شامل ہیں ۔بنگال کے بلے باز منوج تیواری دیودھر ٹرافی کے سیمی فائنل میں ایسٹ زون کی جانب سے 151 رنز کی اہم اننگز کھیلنے کے بعد ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل کیے جانے کے لیے امیدوار کے طور پر ابھرے تھے جبکہ سلیکٹروں نے ممبئی رنجی ٹرافی کے کپتان سوریہکمار یادو،مینک اگروال، بابا اپراجت اور سوراشیش لا ہڑی جیسے گھریلو کھلاڑی بھی دیودھر ٹرافی میں اپنے کھیل کی بدولت ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل کیے جانے کے لیے امیدواروں کے طور پر ابھرے تھے لیکن وہ عالمی کپ ممکنہ کھلاڑیوں کیلئے ٹیم میں جگہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment