Today: Thursday, September, 20, 2018 Last Update: 02:08 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

نم آنکھوں کے ساتھ ہزاروں مداحوں نے ہیوز کو آخری وداعی دی

الوداع فلپ ہیوز

نم آنکھوں کے ساتھ ہزاروں مداحوں نے ہیوز کو آخری وداعی دی

ہیوز کو 63 بلوں کی سلامی*شاید ہیوز مجھے اس وقت ’’روندو‘‘بلا رہے ہوں گے*مودی اور سچن کا ہیوز کو خراج عقیدت

میکسویل، 03 دسمبر (یو این آئی) کرکٹ کو زندگی تسلیم کرنے اور پھر کھیل کے میدان سے ہی دنیا کو الوداع کہنے والے 25 سالہ فلپ ہیوز کے جنازہ میں بدھ کو کرکٹ کھلاڑیوں ، ہزاروں پرستار نم آنکھوں سے خراج عقیدت پیش کرنے پہنچے۔کیلے کی کاشت کے لیے معروف چھوٹے سے علاقے میکسویل میں کرکٹ کا خواب لے کر بڑے ہوئے ہیوز اچانک ہی دنیا کو چھوٹی سی عمر میں الوداع کہہ گئے اور اپنے پیچھے یادوں کا انبار چھوڑ گئے جس نے ان کے چاہنے والوں کو اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یوز کے آبائی شہر میکسویل ہائی اسکول میں جمع ہوئے آسٹریلیائی کرکٹر، خاندان، دوست، رشتہ دار اور مداحوں کی بھاری بھیڑ نے کرکٹ کے اس دیوانے کھلاڑی کو پوری عقیدت سے رخصت کیا۔ ہیوز کے آخری رسومات کو ان کے چاہنے والوں نے کسی تقریب کی طرح منایا۔ گزشتہ اتوار 30 نومبر کو ہی اپنی زندگی کے 26 سال میں قدم رکھنے والے یوز زندگی کو آگے جی تو نہیں سکے لیکن وہ ہماری یادوں میں ہمیشہ رہیں گے۔اس دوران ان کے ٹیم کے ساتھی اور خاص دوست مائیکل کلارک ایک بار پھر اپنے صبر کا باندھ کھو بیٹھے اور ان کی لاش کو کندھا دینے والے آسٹریلیائی کھلاڑی اپنے دوست کو آخری الوداعی دیتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔اسکول کے ہال میں جمع ہزاروں مقامی مداحوں کی بھیڑ کے درمیان آسٹریلیا کے وزیر اعظم ٹونی ایبوٹ بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے اور نم آنکھوں کے ساتھ بے حد جذباتی دکھائی دیے۔اس دوران شین وارن، رکی پونٹنگ، میک گرا، برائن لارا، رچرڈ ہیڈلی، وراٹ کوہلی اوردیگر کرکٹ کھلاڑیوں نے بھی ہیوز کو الوداع کہا۔ یوز کے والد اور بھائی کے علاوہ لار ، آرون فنچ اور ٹام کوپر نے بھی ان کے تابوت کو اٹھا کر کندھا دیا۔ہیوز کی تدفین کو حادثہ والے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ سمیت آسٹریلیا کے کئی شہروں میں بڑی بڑی اسکرین پر دکھایا گیا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی چینلوں پر بھی اس کا راست نشر کیا گیا ۔ گزشتہ منگل کو ہیوز سڈنی گراؤنڈ پر ہی شیفیلڈ شیلڈ میچ کے دوران سین ایبوٹ کے باونسر سے بری طرح زخمی ہو گئے تھے اور کوما میں جانے کے دو دن بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔آسٹریلیائی ٹیم میں کبھی مستقل جگہ نہیں بنا پائے نوجوان بلے باز ہیوز طویل عرصہ بعد قومی ٹیم میں واپسی کرنے والے تھے اور ہندوستان کے خلاف ٹسٹ سیریز کے پہلے مقابلے میں وہ زخمی کلارک کی جگہ لینے والے تھے۔ اگرچہ قسمت کو شاید یہ منظور نہیں تھا اور اپنے آخری میچ میں ناٹ آؤٹ 63 رن بنا کر ہیوز دنیا کو ہی چھوڑ گئے۔سال 2009 میں ٹسٹ کرکٹ میں قدم رکھنے والے ہیوز آسٹریلیا کے 408 ویں کھلاڑی تھے۔ انتہائی کم عمر میں انتقال کی وجہ سے لوگوں کو ہیوز کے جانے کا دکھ زیادہ ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال کے بعد سے ہی دنیا بھر سے لوگ ہیوز کوخراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ ان کے اعزاز میں آسٹریلیا میں کئی لوگوں نے اپنے گھروں ، دفتروں اور اسپورٹس گراؤنڈ کے باہر بلے رکھے ہیں۔آخری دیدار کیلئے رکھے ہیوز کے تابوت کے پاس بھی ان کا بلہ رکھا گیا ۔ گزشتہ ہفتے مشہور گلوکار ایلٹن جان نے میونخ میں ایک کنسرٹ کے دوران ہیوز کے اعزاز میں 147 ڈونٹ لیٹ دی سن گو ڈاؤن آن می148گانا گایا۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے کپتان مائکل کلارک نے اپنے دوست فلپ ہیوز کے جنازہ کے دوران انتہائی جذباتی الفاظ میں یہ کہا کہ اس وقت اگر ہیوز مجھے دیکھ رہے ہوں گے تو یقیناً وہ مجھے 147 روندو کرائی بیبی 148 کہہ کر بلا رہے ہوں گے ۔ ہر وقت مجھے یہ احساس ہو رہا ہے کہ وہ کسی کونے سے میرے پاس آجائیں گے۔خاص دوست اور ساتھی کھلاڑی کی زندگی کے دو دن تک جاری جنگ سے لے کر ان کے دو گز زمین میں سما جانے تک کلارک نے ہیوز کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ کئی مواقع پر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے کلارک جب میکسویل اسکول ہال میں یوز کے جنازہ کے موقع پر موجود ہزاروں کی بھیڑ کو خطاب کر رہے تھے تب بھی ان کے صبر کا باندھ ٹوٹ پڑا۔انتہائی جذباتی کلارک نے 25 سالہ بلے باز کی تدفین کے موقع پر ہیوز کیلئے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید اس وقت ہیوز دیکھ رہے ہوں گے تو وہ مجھے روندو بلا رہے ہوں گے جو مسلسل رو رہا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ عجیب ہے لیکن ہر لمحہ مجھے احساس ہو رہا ہے کہ وہ کسی کونے سے باہر نکل کر آئیں گے اور مجھے آواز دیں گے ۔کلارک نے اشاید اسی کو روح کہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہیوز کی روح ہمیشہ میرے ساتھ رہے گی اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ کبھی میرا ساتھ نہیں چھوڑے گی ۔ہیوز کا 27 نومبر کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں میچ کے دوران سر پر گیند لگنے سے انتقال ہو گیا تھا۔33 سالہ کلارک نے نیو ساؤتھ ویلز میں ان کے آبائی شہر می سولیمیں ہیوز کے والد اور بھائیوں کے ساتھ مل کر اپنے دوست کے جنازہ کو کندھا دیا۔ ہیوز کی موت کے دن سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں اپنے دورے کا ذکر کرتے ہوئے آسٹریلیائی کپتان نے کہا کہ میں گھٹنے کے بل جھکا اور میں نے گھاس کو چھوا۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ ہیوز وہیں تھے۔گھریلو کرکٹ میں ہیوز کو بین الاقوامی کرکٹ کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے کلارک نے کہا کہ ہیوز نے مجھے اٹھا لیا اور دیکھا کہ کیا میں ٹھیک ہوں یا نہیں۔ پھر میچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چائے کے وقفہ تک ٹک کر رن بنانے ہوں گے۔ ہیوز نے پھر مجھے میرے خراب شاٹ کے بارے میں کہا اور پھر ہم اس رات کون سی فلم دیکھیں گے یہ باتیں کرنے لگے۔ اچانک ہماری باتوں کا موضوع بدلا اور ہم گایوں کے بارے میں بے فضول کی بحث کرنے لگے ۔اپنے ساتھی کھلاڑی کی بات کرتے ہوئے نم آنکھوں کے ساتھ کلارک نے اس رات ہیوز کی روح کے ساتھ گزارے ہوئے لمحوں کو یاد کرتے ہوئے ا کہ ماری باتوں کے بعد میں نے ہیوز کو دوسرے سرے پر جاتے اور گیند باز پر ہنستے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے تیز آواز میں مجھ سے رن لینے کو کہا کہ کار پارکنگ میں کھڑا کوئی شخص بھی انہیں سن سکتا تھا ۔کپتان نے کہا کہ آسٹریلیا میں ہر کوئی روح پر یقین رکھتا ہے اور ہر شخص اپنی زمین سے جڑا رہتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ان کی روح وہیں سڈنی گراؤنڈ پر تھی۔ ان کی روح وہیں رہے گی اور میرے لیے سڈنی گراؤنڈ ہمیشہ ہی سب سے مقدس گراؤنڈ رہے گا ۔کلارک نے ساتھ ہی کہا کہ ہیوز کی موت دنیا بھر میں ر کٹ کے ساتھ ہمارے رشتے کو اور مضبوط کرے گی۔انہوں نے کہاکہ فلپ کی روح اب ہمارے کھیل کا حصہ بن چکی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ وہ ہمارے کھیل میں ایک رہنما کا کردار ادا کرے گی جسے ہم ہمیشہ محبت کریں گے۔ ہم ان کی بات سنیں گے اور یاد رکھیں گے ۔آسٹریلیائی بلے باز نے پھر اکہ م ہمیشہ کیریز پر جمے رہیں گے اور چائے تک رن بناتے رہیں گے۔ میرے دوست تمہاری روح کو سکون ملے۔ میرے چھوٹے بھائی ، ان الفاظ کے ساتھ جیسے ہی کلارک نے اپنا خطاب ختم کیا ایک بار پھر کلارک آنسووں کے سیلاب میں ڈوب گئے اور اس احساس کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر پھر سے رو پڑے کہ یہ اپنے دوست کو دیکھنے کا ان کے پاس آخری موقع ہے ۔

دریں اثناء سڈنی کرکٹ میدان میں اپنی آخری اننگز میں 63 رن بنانے والے آسٹریلیائی بلے باز فلپ ہیوز کو اسٹیڈیم کے اندر 63 بلے رکھ کر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اسی میدان پر گزشتہ 27 نومبر کو ایک گھریلو میچ کے دوران سین ایبوٹ کا باونسر لگنے کے دو دن بعد ہیوز نے دنیا کو الوداع کہہ دیا تھا۔مسولے میں بدھ کو ہیوز کے جنازہ کو دیکھنے کے لئے سڈنی میدان میں بڑی بڑی اسکرینوں پر براہ راست نشریات کا انتظام کیا گیا۔اس میدان پر ہیوز کی آخری اننگز 63 رن کی تھی۔ سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ یہ اسکور پر ریٹائرڈ ہرٹ ہوئے تھے لیکن ان کے انتقال کے بعد کرکٹ آسٹریلیا نے اسکوربورڈ میں تبدیلی کرتے ہوئے ان کے اسکور کو ناٹ آؤٹ 63 رن کر دیا تھا۔دنیا کو الوداع کہنے والے ہیوز کی یاد میں قطار سے 63 بلوں پر اور ان کے اوپر کیپ کو لگایا گیا۔ ان تمام بلوں پر ہیوز کے اعزاز میں کوئی نہ کوئی پیغام لکھا ہوا تھا۔ آخری بلے پر لکھا تھا 147 فلپ آپ ہمیں چھوڑکر چلے گئے لیکن آپ ہماری یادوں سے کبھی نہیں جائیں گے۔ بالخصوص سڈنی کرکٹ گراونڈ سے یوزکو بدھ کو ان کے خاندان، دوست اور ٹیم کے ساتھیوں کی موجودگی میں جذباتی خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔

دوسری جانب آسٹریلیائی بلے باز فلپ ہیوز کی آخری رسومات کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی اور عظیم کرکٹ کھلاڑی سچن تیندولکر سمیت دنیا بھر کے لوگوں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹیوٹر پر کہا کہ آسٹریلیائی کھلاڑی کی آخری رسومات ۔فلپ ہیوز ہم آپ کو یاد کریں گے۔ آپ کے کھیل سے پوری دنیا میں آپ کے مداح ہیں۔ آپ کی روح کو سکون ملے۔سابق ہندوستانی کرکٹ کھلاڑی سچن نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ فلپ ہم آپ کو ہمیشہ یاد کریں گے۔ آپ کا کھیل کے تئیں جذبات اور سیکھنے کا جنون سب سے زیادہ متاثر کرنے والا ہے۔ سچن نے 2013 میں آئی پی ایل کی ٹیم ممبئی انڈینس کے کھلاڑی رہے فلپ ہیوز کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی انٹرنیٹ پر پوسٹ کی ہے۔ میکسویلے میں ہیوز کی تدفین کو دیکھنے کے لئے سڈنی کرکٹ گراونڈ، ایڈیلیڈ اوول، گابا اور ڈبلیو سی اے میں لوگوں نے نم آنکھوں سے آسٹریلیائی بلے باز کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مقامی اور بین الاقوامی ٹی چینل پر لائیو ٹیلی کاسٹ کے باوجود ہزاروں لوگ سیکڑوں میل کا سفر طے کرکے یہاں پہنچے۔ سابق کپتان انل کمبلے نے بھی نوجوان کرکٹ کھلاڑں کو آخری بار الدواع کہا اور لکھا کہ 147 فل کی روح کو سکون ملے148۔اے ایس جی سے کین جانسن نے کہا کہ ایک کرکٹ پرستار ہونے کے ناطے میں اپنے آپ کو بہت مجبور محسوس کر رہا ہوں ۔ ہیوز کے آخری میچ میں ناٹ آؤٹ 63 رن کے اعزاز میں اے ایس جی کے میدان پر 63 بیٹ رکھے گئے تھے اور اے ایس جی کے اس وربورڈ پر ناٹ آؤٹ 63 لکھا ہوا تھا۔ ینبرا سے اپنے خاندان کے ساتھ سڈنی پہنچے سمون ساوتھویل نے کہا کہ بہت سارے لوگ جو کریئر میں خراب کارکردگی پیش کر رہے ہوتے ہیں وہ کرکٹ چھوڑ دیتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ واپسی کرتے تھے۔ مجھے ان کا کھیلنے کا انداز بہت پسند ہے۔ بلے بازی کرنے کی ان کی صلاحیت ناقابل یقین تھی ۔وہیں ایڈیلیڈ اوول میں بھی اپنے ہیرو کرکٹر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تقریباً تین ہزار مداح پہنچے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کے گوشے گوشے سے گزشتہ ایک ہفتے سے ہیوز کے لئے آ رہے پیغامات کا سلسلہ ان کی آخری وداعی تک جاری ہے۔

...


Advertisment

Advertisment