Today: Wednesday, September, 26, 2018 Last Update: 09:51 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

پہلے ٹیسٹ میں کھیلنا آسان نہیں :ریان ہیرس

 

برسبین ، 02 نومبر (یو این آئی) آسٹریلیا کے تیزگیند ریان ہیرس اپنے ساتھی کھلاڑی فلپ ہیوز کو کھو دینے کے بعد صدمے میں ہیں اور ان دنوں باونسروں کی مشق کرنے میں بھی گھبراہٹ محسوس کر رہے ہیں ۔ ایسے میں خود ہیرس کا خیال ہے کہ ہندوستان کے خلاف ٹسٹ میں کھیلنا ان کیلئے سخت چیلنج ہوگا۔ ہیوز کے سر پر باونسر لگنے سے موت کے بعد آسٹریلیائی کھلاڑیوں نے ہندوستان کے خلاف چار دسمبر سے شروع ہونے والے پہلے ٹسٹ میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد میچ کو ملتوی کیا گیا تھا۔ لیکن موجودہ صورتحال بھی کافی علاحدہ نظر آ رہی ہے جس میں ٹیم کے اب بھی بہت سے کھلاڑی اس المناک حادثے کے بعد فوری طور کھیلنے کے لئے تیار نظر نہیں آرہے ہیں۔گھٹنے کی چوٹ پر قابو پانے کے بعد ٹیم میں شامل کئے گئے تیز گیند باز ہیرس نے بھی کہا ہے کہ وہ ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں کھیلنیکے لئے آرام دہ محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ ہیرس نے منگل کو کوئنس لینڈ میں گیندبازی کی مشق کی۔ لیکن 60 گیندوں میں انہوں نے ایک بھی باونسر نہیں پھینکی ۔ ہیرس نے تسلیم کیا کہ یوز کی میدان پر کھیلنے کے دوران حادثاتی موت سے کرکٹ پر کافی اثر پڑا ہے۔ ہیرس نے ہندوستان کے خلاف میچ کی تیاریوں پر کہا کہ باونسر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ میں نے پہلے بھی باونسر پھینکے ہیں اور اس سے کئی کھلاڑی زخمی ہوئے ہیں۔ یہ کھیل کا حصہ ہے لیکن اس میں اب تھوڑا بہت شبہ ضرور رہے گا۔ مجھے یقین ہے کہ کھلاڑی اس صورتحال سے وقت کے ساتھ باہر نکل آئیں گے۔ اگرچہ جارحیت کو لے کر ہم تھوڑا زیادہ توجہ دیں گے ۔ہیوز کی آخری رسومات کے کچھ دیر بعد میدان پر اترنے کے بعد انہوں نے کہا کہ میں بھی اس کے بارے میں غور کررہا ہوں۔ میں اس کیبعد میں بھی غور کروں گا۔ اس سے پہلے میری والدہ کا انتقال ہوا تھا تب بھی میں صدمے میں تھا اور اس وقت میرے والد اور بھائی نے مجھے کھیلنے کے لئے ترغیب دی تھی جس سے مجھے کافی مدد ملی تھی۔ ہر شخص الگ ہوتا ہے لیکن میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ تمام کھلاڑیوں اور میرے لئے یہ بہت ہی مشکل ہوگا۔ ہیرس نے کہا کہ میں ا یڈیلیڈ میں جب جاوں گا تو اس وقت ہی فیصلہ لوں گا کہ کیا میں کھیلنے میں آرام دہ محسوس کر رہا ہوں یا نہیں۔ میں باہر آ کر کچھ بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ پریکٹس کرنے سے مجھے خود کو مصروف رکھنے میں مدد ملی ہے اور اس سے میں آگے میچ کے بارے غور و خوض کررہا ہوں۔ ہر شخص مختلف ہے ۔ میں تو کھلاڑیوں سے اس بارے میں بات بھی نہیں کر پایا کیونکہ مجھے نہیں پتہ کہ وہ کس حالت سے گزر رہے ہیں ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment