Today: Wednesday, September, 26, 2018 Last Update: 11:01 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

فیفا نے ولاسو پر لگا ئی تین سال کی پابندی

 

نئی دہلی، 28 نومبر (یو این آئی) بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن(فیفا) نے کل ہند فٹ بال فیڈریشن (اےآئی ایف ایف ) کے سابق جنرل سکریٹری البرٹو ولاسو پر رشوت کے الزام میں تین سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔فیفا نے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ولاسو نے سال 2009 میں محمد بن حمام کی ایگزیکٹو کمیٹی کی سیٹ کے لئے ہوئے انتخابات میں رشوت لی تھی۔ ان انتخابات میں بن حمام نے بحرین کے خلیفہ شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کو 23۔21 کے قریبی فرق سے شکست دی تھی حالانکہ دونوں ہی امیدواروں پر ووٹ خریدنے کے الزامات لگے تھے۔فیفا نے بتایا کہ ولاسو اس وقت ہندستان کی جانب سے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نمائندے کے طور پر شامل ہوئے تھے۔ پولنگ کوالالمپور میں ہوا تھا اور ولاسو پر بدعنوانی اور رشوت کے الزام لگے تھے۔

عالمی تنظیم نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ ولاسو نے مئی 2009 میں فیفا انتخابات میں ووٹ کے بدلے رشوت لی تھی۔ انہیں فیفا کے قوانین 13 اور 18 کی خلاف ورزی کا مجرم پایا جاتا ہے جس کے تحت انہوں نے ضابطے توڑے اور تعاون اور پرائیویسی کے قوانین کی خلاف ورزی کی۔ اس کے علاوہ ضابطہ 20 کی خلاف ورزی کے تحت انہوں نے رشوت اور دیگر تحفے قبول کئے جبکہ ضابطہ 21 کی خلاف ورزی کے تحت انہیں بدعنوانی اور رشوت کا مجرم پایا جاتا ہے ۔شیخ سلمان نے آخر کار فیفا بورڈ کی سیٹ مئی میں 2013 میں جیتی جبکہ بن حمام پر تادیبی کمیٹی نے ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن میں مالی گڑبڑی کے الزامات میں تا عمر پابندی عاید کر دی تھی۔ ولاسو اے آئی ایف ایف کے پہلے پروفیشنل جنرل سکریٹری تھے اور دو مدت تک عہدے پر رہنے کے بعد 2009 میں وہ ریٹائر ہو گئے تھے۔

اگرچہ ولاسو نے اپنی صفائی میں کہا ہے کہ انہیں اے آئی ایف ایف نے نمائندے کے طور پر شامل کیا تھا اور حمام کو ووٹ دینے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ اے آئی ایف ایف کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فیفا میں انتخابات کا حصہ بننے کے لیے ہندستان کی طرف سے اے آئی ایف ایف نے منتخب کیا تھا اور کسے ووٹ دینا ہے یہ میرا نہیں اے آئی ایف ایف کا ہی فیصلہ تھا ۔ اس درمیان اے آئی ایف ایف کے صدر پرفل پٹیل نے کہا کہ ی بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ اے آئی ایف ایف کا ایک رکن ایسے تنازعہ میں ملوث پایا گیا ہے۔ ہمیں اس کے بارے میں کوئی سابق معلومات نہیں تھیں۔ اگر ہمیں پتہ ہوتا تو ہم اسی وقت قدم اٹھا لیتے ۔ پٹیل اس وقت اے آئی ایف ایف کے عبوری صدر تھے۔

...


Advertisment

Advertisment