Today: Tuesday, September, 25, 2018 Last Update: 06:23 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ہیوز کو سرکاری اعزازسے نوازا جائے گا

 

ٹیکنالوجی اور ہیلمیٹ کو لے کر چھڑی بحث

سڈنی، 28 نومبر (یو این آئی) آسٹریلوی کرکٹر فلپ یوز کو سرکاری اعزاز سے نوازا جائے گا۔ یوز کی سر پر باؤنسر لگنے سے موت واقع ہو گئی تھی۔ یوز کو سرکاری اعزاز اگلے ہفتے سڈنی کرکٹ میدان پر دیا جائے گا۔ یہ وہی اسٹیڈیم ہے جہاں گزشتہ منگل کو یوز کو سر پر باؤنسر سے چوٹ لگی تھی۔ یوز کا جمعرات کو انتقال ہو گیا تھا۔سرکاری اعزاز عام طور پر سیاسی شخصیات کو دیا جاتا ہے۔ لیکن نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر مائیک بئیرڈ نے جمعہ کو کہا کہ یوز کو یہ اعزاز دیا جائے گا۔ یوز کی موت کے بعد آسٹریلیا غم میں ڈوبا ہوا ہے اور دنیا بھر سے ان کے انتقال پر تعزیتی پیغام آ رہے ہیں۔بئیرڈ نے ایک بیان میں کہا کہ فلپ کے خاندان کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد اس کرکٹر کو یہ اعزاز دیا جائے گا۔ یہ پورے کمیونٹی کے لیے اپنے چہیتے کرکٹر کو خراج عقیدت دینے کا موقع ہوگا ۔

دوسری جانب آسٹریلوی بلے باز فلپ یوز کی باؤنسر سے موت کے بعد ہیلمیٹ سے حفاظت اور بلے باز کی ٹیکنالوجی کو لے کر اچھی خاصی بحث چھڑ گئی ہے۔ یوز کی موت کے بعد ہیلمیٹ کے معیار کو لے کر جہاں سوال اٹھائے جا رہے ہیں وہیں سابق کرکٹروں کا خیال ہے کہ بلے باز اپنی ٹیکنالوجی کو مضبوط بنانے پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ویسٹ انڈیز کی خطرناک پیس بیٹری کا بغیر کسی ہیلمیٹ کے سامنا کرنے والے سابق اوپنر سنیل گواسکر کو ٹیکنالوجی میں ہمیشہ انتہائی مضبوط سمجھا جاتا تھا۔ اپنی ٹیکنالوجی کی وجہ گواسکر نے اپنے پورے کیریئر میں کبھی ہیلمیٹ نہیں پہنا تھا۔ گواسکر کے معاصر گنڈپا وشوناتھ بھی بغیر ہیلمیٹ کے ہی کھیلتے تھے۔انگلینڈ کے سابق کپتان تونی گریگ نے عالمی میچ کے دوران ایک ایسا ہیلمنٹ پہن کر بلے بازی کی تھی جو موٹر سائیکل جیسا ہیلمٹ لگ رہا تھا۔ تاہم آہستہ آہستہ ہیلمیٹ کو بلے بازو ں کے عین مطابق بنایا جانا لگا اور اسے ہلکا بھی کردیا گیا۔دراصل ہیلمٹ میں بڑے پیمانے کی تبدیلی اس بنیادپر کی گئی کہ بلیبازوں کو اپنا سر گھمانے اور اپنے شارٹ کھیلنے میں پریشانی نہ ہوں۔ لیکن جس طرح ہیوز کے کان کے پیچھے گرد ن پر گیند سے ضرب لگی اس سے ہیلمٹ سے متعلق سوال اٹھنے لگے ہیں۔جیسی بائیکاٹ کا کہنا ہے کہ بلے بازوں کو اپنی تکنیک پر سخت محنت کرنی چاہئے۔ تاکہ وہ صرف ہیلمٹ کے بھروسے نہ رہیں۔ انہو ں نے کہاکہ ہیلمٹ پہننے کے بعد بلے باز کوایسا لگتا ہے کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور وہ لاپرواہ ہوکر کھیلنے لگتے ہیں۔بائیکاٹ کا ماننا ہے کہ میچوں کے دوران انجری کو روکا نہیں جاسکتا۔ لیکن ہیلمٹ اور دیگر حفاظتی سازوسامان میں سدھار کی سخت ضرورت ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment