Today: Monday, November, 19, 2018 Last Update: 10:46 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

چنئی سپرکنگ کی منظوری کو کیوں نہ رد کردیا جائے:سپریم کورٹ

 

نئی دہلی، 27 نومبر (یو این آئی)سپریم کورٹ نے جمعرات کو انڈین پریمیر لیگ کے چھٹے ایڈیشن میں میچ فکسنگ اور سٹے بازی کے الزامات کی سماعت کرتے ہوئے دریافت کیا ہے کہ چنئی سپرکنگ کی ٹیم کی منظوری کو کیوں نہ کررد کردیا جائے کیونکہ اس کے ایک ٹیم عہدیدار گروناتھ میپن سٹے بازی میں ملوث پائے گئے ہیں۔انڈین پریمیر لیگ کے فکسنگ اور سٹے بازی معاملے میں سپریم کورٹ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے چنئی سپرکنگ کے مالک انڈیا سیمنٹس کے چیئرمین این سری نواسن سے ٹیم کی ملکیت میں اپنے خاندان کی حصہ داری سے متعلق تمام تفصیلات طلب کئے ہیں۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ این سری نواسن تحریری طور پر جانکاری دیں کہ ٹیم کی ملکیت میں ان کے خاندان کی کتنی حصہ داری ہے۔ واضح رہے کہ انڈیا سیمنٹس چنئی سپرکنگ کی مالک ہے۔ عدالت عظمی نے ساتھ ہی کہا ہیکہ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کو اپنے جاری تمام تنازعات کو ختم کرتے ہوئے نئے بورڈ کی تشکیل دینی چاہئے۔ انہو ں نے کہاکہ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے نئے انتخابات کرائے جاسکتے ہیں۔ تاہم مکل مڈگل کی رپورٹ میں جن لوگوں کے نام درج ہیں انہیں چناؤ اور بورڈ سے علیحدہ رکھا جائے اور نیا بورڈ آئی پی ایل۔6 میں بدعنوانی کی تحقیقات اور کارروائی کرے۔عدالت نے مزید کہاکہ مڈگل جانچ کمیٹی کی رپورٹ کے بارے میں کسی طرح کی نرمی نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے بورڈ کے صدر کے عہدے سے ایک طرف کئے گئے این سری نواسن کے داماد گروناتھ میپن کے کردار پر بھی کئی سوال اٹھائے ہیں۔عدالت نے کہاکہ میپن ٹیم کے مالک نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کی ٹیم پر مکمل گرفت تھی۔ قابل ذکر ہے کہ سری نواسن خود بھی پورے معاملے میں مفادات کے ٹکراؤ کے سوالات کا سامنا کررہے ہیں۔گذشتہ سماعت کے دوران جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس فقیر محمدابراہیم خلیف اللہ کی بنچ نے سری نواسن کی سخت سرزنش کی تھی۔ انہو ں نے سری نواسن کے کردار پر بھی سوال اٹھائے تھے۔ ہندوستانی کرکٹ بورڈکے صدر کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری بنتی ہیکہ وہ انڈین پریمیر لیگ میں شفافیت کو یقینی بنائیں اور اس ٹورنامنٹ کو صاف طریقے سے منعقد کریں ۔ لیکن ٹیم کے مالک ہونے کے ناطے آپ صرف جیتنا چاہتے ہیں ایسے میں مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہونا ہے اور اس سے بچا نہیں جاسکتا۔

...


Advertisment

Advertisment