Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 10:38 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ہندوستان اور سی اے پریسیڈنٹ الیون کے درمیان میچ رد، پہلے ٹسٹ کے منسوخی کے امکانات

 

ہیلمٹ کے باوجود رواں سال میں تین کھلاڑی چوٹ کا شکار

سڈنی،27 نومبر (یو این آئی)آسٹریلیا کے نوجوان کرکٹر فلپ ہیوز کے انتقال کے سبب ہندوستان اورکرکٹ آسٹریلیا پریسیڈنٹ الیون کے درمیان ایڈلیڈ میں کھیلے جانے والے دو روزہ پریکٹس میچ کو رد کردیا گیا ہے۔چار دسمبر سے ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان چار میچوں کی ٹسٹ سیریز کا آغاز ہونا ہے۔ لیکن اس سے قبل 28 اور 29 نومبر کو ایڈلیڈ میں دوسرا پریکٹس میچ کھیلا جانا تھا۔اسی گراؤنڈ پر پہلا دو روزہ پریکٹس میچ کھیلا گیا تھا۔ ایسی بھی قیاس آرائیاں ہیں کہ آسٹریلیا اور ہندوستان کے درمیان کھیلا جانا والا پہلا ٹسٹ میچ رد کیا جاسکتا ہے۔ آسٹریلیا میں فلپ ہیوز کے انتقال کے بعد پہلا ٹسٹ میچ رد کئے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔سمجھا جاتا ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا بھی اس کا باضابطہ اعلان کرسکتا ہے۔آسٹریلیا کے سابق ٹسٹ بلے بازڈین جانس نے ملبورن ریڈیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ انہیں لگتا ہے کہ آسٹریلیا کا کوئی بھی کھلاڑی موجودہ حالت میں کھیلنے کے حق میں ہے۔اس لئے ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹسٹ میچ رد کردینا چاہئے۔واضح رہیکہ اس حادثے کے بعد کرکٹ آسٹریلیا نے شیفلڈ شیلڈ کے دوسرے راؤنڈ کے تمام میچ بھی رد کردیئے ہیں۔
دوسری جانب جولائی میں کریگ کیزویٹر، اگست میں اسٹورٹ براڈ، نومبر میں احمد شہزاد اور اب فلپ ہیوز کا سنگین ترین واقعہ دنیا بھر کے ہیلمٹ ساز اداروں کی نیندیں حرام کرنے کے لیے کافی ہے۔ ابتدائی تینوں کھلاڑیوں نے ہیلمٹ پہن کر کھیلنے کے باوجود سخت چوٹیں کھائیں، کیزویٹر کی آنکھ ضائع ہوتے ہوتے بچی، براڈ کی ناک کی ہڈی بری طرح ٹوٹی، احمد شہزاد کی کھوپڑی میں فریکچر ہوا جبکہ ہیوز سر پر چوٹ لگنے کے بعداسپتال میں دم توڑ گئے ۔گزشتہ روز سڈنی میں کھیلے جا رہے شیفیلڈ شیلڈ کے مقابلے میں بالر شان ایبٹ کا ایک باؤنسر 25 سالہ فلپ ہیوز کے سر پر جا لگا اور وہ کچھ دیر کھڑے ہونے کے بعد منہ کے بل زمین پر گرگئے اور بے ہوش ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر مقامی اسپتال لے جایا گیا جہاں آئندہ دو دنوں کو ان کی زندگی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ واقعے کے وقت فلپ ہیوز کے سر پر برطانوی ادارے ماسوری کا تیار کردہ ہیلمٹ تھا، جس کا کہنا ہے کہ فلپ نے ادارے کا بنایا گیا جدید ترین ہیلمٹ نہیں پہن رکھا تھا۔ماسوری کا کہنا ہے کہ اب تک سامنے آنے والی فوٹیج سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گیند فلپ کے سر کے پچھلے حصے میں بائیں جانب لگی ہے جو جالی کی پشت پر اور ہیلمٹ کے خول کے نیچے کا علاقہ ہے۔ سر اور گردن کی اس جگہ کا پرانے ہیلمٹ مکمل طور پر احاطہ نہیں کرتے۔ فلپ نے اس میچ کے دوران ماسوری کا اوریجنل ٹیسٹ ماڈل کا ہیلمٹ پہن رکھا تھا جبکہ ادارے کا کہنا ہے کہ نیا وژن سیریزکا ہیلمٹ اس جگہ کو اضافی حفاظت فراہم کرتا ہے۔ ادارے نے مزید وڈیو فوٹیج اور تصاویر طلب کی ہیں تاکہ اس پر مزید غور کیا جا سکے۔انتہائی مہنگے اور جدید ترین ہیلمٹ ہونے کے باوجود ایک ہی سال میں ہیوز کی موت اور کئی کھلاڑیوں کا بری طرح زخمی ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ان کی تیاری میں کچھ بنیادی خامیاں ہیں، جنہیں فوری طور پر دور کرنے کی ضرورت ہے ورنہ نجانے کتنے مزید کھلاڑی شدید زخمی ہوں گے ۔اس ہلاکت سے کئی دہائیوں سے جاری یہ بحث ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی ہے کہ نوے میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والی ساڑھے پانچ اونس کی بال سے بلے بازوں کے سر کو بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جانا ضروری ہیں۔کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ جیمز سوتھرلینڈ نے جمعرات کے روز اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ اس سلسلے میں مسلسل نظرثانی کی جاتی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا تاہم اس بارے میں کوئی شک نہیں رہنا چاہیے کہ بلے بازوں کی جان کے تحفظ کے لیے مزید اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔اس حادثے کے وقت ہیوز نے برطانوی کمپنی ماسوری کا ہیلمٹ پہن رکھا تھا۔ کرکٹ میں بلے بازوں کے تحفظ کے لیے اشیاء تیار کرنے والے ادارے ماسوری کا کہنا ہے کہ ہیلمٹ سر کو تحفظ دیتا ہے جب کہ بال ہیوز کی گردن میں لگی۔ یہ انتہائی حساس جگہ ہے کیوں کہ ہیلمٹ بلے باز کی تیز رفتار حرکت کی وجہ سے گردن کو پوری طرح تحفظ نہیں دیتا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment