Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 02:22 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

کرکٹ کو زندگی مانتے تھے فلپ ہیوز

 

دو روزکی جدو جہد کے بعد زندگی کی جنگ ہار گئے

سڈنی، 27 نومبر (یو این آئی)آسٹریلوی کرکٹر فلپ ہیوز دو روز موت و زندگی کی جنگ لڑتے ہوئے آج اسپتال میں انتقال کر گئے۔ وہ 25 نومبر کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں شیفیلڈ شیلڈ کے میچ میں باؤنسر لگنے کے بعد بے ہوش ہوگئے تھے اور انتہائی نازک حالت میں اسپتال لائے گئے تھے۔مذکورہ مقابلے میں جب وہ 63 رنز پر کھیل رہے تھے تو حریف بالر شان ایبٹ کے باؤنسر کو ہک کرنے کی کوشش ناکام ثابت ہوئی اور گیند ان کے سر پر لگی۔ حالانکہ وہ ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود ضرب ایسی جگہ پر لگی جسے ہیلمٹ محفوظ نہیں بناتا۔ تھوڑی دیر کھڑے رہنے کے بعد وہ اچانک منہ کے بل زمین پر گرے اور اس کے بعد سے انتقال تک ہوش میں نہیں آئے۔آسٹریلیا کے ٹیم ڈاکٹر پیٹر بروکنر نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ مجھے یہ افسوسناک ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ میں آپ کو مطلع کروں کہ فلپ ہیوز اب ہم میں نہیں رہے۔ جمعرات کے روز آسٹریلوی ٹیم کے ڈاکٹر پیٹر بروکنر نے بتایا کہ گردن میں آنے والی چوٹ کی وجہ سے ان کی ایک رگ پھٹ گئی تھی، جس کی وجہ سے ان کے دماغ میں خون کا رساؤ ان کی موت کا سبب بن گیا۔شاٹ پچ بال کو پْل کرنے کی کوشش میں بال نے ان کی گردن کی رگ پھاڑ ڈالی اور ہیلمٹ کے باوجود وہ بچ نہ پائے۔ اس کے فورا بعد وہ بے ہوش ہو کر اپنی جگہ پر ہی گر گئے اور ڈاکٹروں کے مطابق کومے کی حالت ہی میں ان کی وفات ہو گئی۔پیٹر بروکنر نے کہا کہ یہ انتہائی تکلیف دہ حادثہ ہے کیوں کہ بال نے ان کی گردن میں رگ کو پچکا دیا اور ان کا دماغ مفلوج ہو کر رہ گیا۔بروکنر نے کہا کہ آج تک کرکٹ کی تاریخ میں کھلاڑیوں کے شدید زخمی ہونے کے صرف سو واقعات سامنے آئے ہیں اور اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب کھلاڑیوں کے لیے تحفظ کی مصنوعات بنانے والوں اور ڈاکٹروں کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ وہ کس طرح مستقبل میں ایسے اقدامات کریں کہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ ہمیں یقینی طور پر تحفظ کے عوامل اور آلات کا ازسرنو جائزہ لینا ہو گا۔ منگل کو زخمی ہونے کے بعد وہ ایک مرتبہ بھی ہوش میں نہیں آئے، حتی کہ موت سے پہلے بھی ان میں تکلیف کے آثار تک نہ دکھائی دیے۔ اس موقع پر ان کے اہل خانہ اور قریبی دوست احباب موجود تھے۔ کرکٹ برادری کی طرف سے ہم ان کی افسوسناک موت پر اہل خانہ اور دوستوں سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔اس حادثے کے بعد نہ صرف شیفیلڈ شیلڈ کے تمام مقابلے منسوخ کردیے گئے بلکہ تمام دنیائے کرکٹ شدید صدمے میں آگئی۔ یہاں تک کہ آج ہیوز کے انتقال کی خبر ملتے ہی شارجہ میں جاری پاکستان اور نیوزی لینڈ کے تیسرے ٹیسٹ کا کھیل بھی ایک دن کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے کرکٹ بورڈز نے غم کے اس موقع پر کھیل کر جاری نہ رکھنے کا متفقہ فیصلہ کیا اور اب دوسرے دن کا کھیل کل کھیلا جائے گا۔ان دو دنوں میں کئی کھلاڑیوں نے سڈنی کے سینٹ ونسنٹ اسپتال کا دورہ کیا، جہاں فل زیر علاج تھے۔ ان کھلاڑیوں میں کپتان مائیکل کلارک، رکی پونٹنگ، ڈیوڈ وارنر، بریڈ ہیڈن، آرون فنچ، اسٹیون اسمتھ، شین واٹسن، ناتھن لیون، بریٹ لی، پیٹر سڈل، جارج بیلی،ایڈ کووان اور جسٹن لینگر سمیت کرکٹ آسٹریلیا کے اعلیٰ عہدیداران اور فلپ ہیوز کے رشتہ دار، دوست اور احباب شامل تھے۔فلپ ہیوز نے 2009ء میں ٹیسٹ کیریئر کے آغاز کے ساتھ ہی عالمی شہرت سمیٹی تھی۔ انہوں نے جنوبی افریقہ جیسے سخت حریف کے خلاف انہی کے ملک میں ابتدائی دو ٹیسٹ مقابلوں میں 75، 115 اور 160 رنز کی شاندار اننگز کھیلیں اور ایک ہی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے والے تاریخ کے کم عمر ترین بلے باز بھی بنے۔
البتہ اس کے بعد ملی جلی کارکردگی کی وجہ سے وہ ٹیم میں مستقل جگہ حاصل نہ کرسکے۔ مجموعی طور پر فلپ ہیوز نے 26 ٹیسٹ مقابلوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی اور 3265 کے اوسط کے ساتھ 1535 رنز بنائے۔ اس میں 3 سنچریاں اور 7 نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔ انہیں 25 ایک روزہ مقابلوں میں بھی آسٹریلیا کی نمائندگی کا شرف حاصل ہوا، جس کا آخری مقابلہ انہوں نے ابھی ایک ماہ قبل پاکستان کے خلاف ابوظہبی میں کھیلا تھا۔ ان 25 مقابلوں میں فلپ ہیوز نے تقریباً 36 کے اوسط کے ساتھ اور دو سنچریوں اور 4 نصف سنچریوں کی مدد سے 826 رنز بنائے۔ اپنے کیریئر کا واحد ٹی ٹوئنٹی مقابلہ بھی انہوں نے پاکستان کے خلاف حالیہ سیریز میں کھیلا جہاں آسٹریلیا نے باآسانی 6 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔آسٹریلیا کی قومی ٹیم میں مستقل جگہ نہ رکھنے کے باوجود اپنی شاندار بیٹنگ صلاحیتوں کی وجہ سے فلپ ہیوز مستقل کا ایک اثاثہ تھے، جو آسٹریلیا نے میدان ہی میں کھو دیا۔ ان کی اچانک موت نے میدان میں بلے بازوں کی حفاظت کے معاملے پر بھی بحث ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔

دوسری جانب ایک چھوٹے سے گاؤں سے نکل کر آسٹریلیا کے قومی کرکٹ ٹیم تک کا سفر کرنے والے پچیس سالہ فلپ ہیوز کرکٹ کو اپنی زندگی مانتے تھے۔ہیوز ساؤتھ ویلس کے کیلے کی کھیتی کے لئے مشہور علاقے میکس ولے میں فلپ ہیوز 30 نومبر 1988 کو پیدا ہوئے۔ اپنے جوش و جنون کے دم پر اٹھارہ سال کی عمر میں انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کو قائم رکھا۔سال 2009 میں انہو ں نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے کرکٹ کے سرکردہ کھلاڑیوں کو اپنی جانب راغب کیا۔ فلپ ہیوز تکنیک اور بالخصوص شارٹ پچ گیندوں کو کھیلنے میں مہارت رکھتے تھے۔انہیں ناقدین کی سخت نکتہ چینی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ جس کی وجہ سے وہ قومی ٹیم میں اپنا مستقل مقام نہیں بناپائے تھے۔ ہیوز انڈین پریمیر لیگ میں ممبئی انڈینس ٹیم کا حصہ بھی رہے تھے۔ آسٹریلوی کرکٹر فلپ ہیوز اپنی سالگرہ سے تین دن پہلے پچیس سال کی عمر میں چل بسے۔ فلپ ہیوز تیس نومبر انیس سو اٹھاسی کو آسٹریلوی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں پیدا ہوئے۔ اکیس سال کی عمر میں پیشہ ورانہ کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا۔ آسٹریلیا کی جانب سے پہلا ٹیسٹ فروری دو ہزار نو میں کھیلا۔ پانچ سال پر محیط اپنے بین الاقوامی کیریئر میں ہیوز نے آسٹریلیا کی چھبیس ٹیسٹ میچ، پچیس ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ میں نمائندگی کی۔ ٹیسٹ میچوں میں آسٹریلوی اوپنر نے بتیس اعشاریہ چھ پانچ کی اوسط سے پندرہ سو پینتیس رنز اسکور کئے۔ جس میں ایک سو ساٹھ انکا سب سے زیادہ اسکور رہا۔ کھیل کی اس طرز میں انہوں نے تین سنچریاں، سات نصف سنچریوں کے علاوہ پندرہ کیچ بھی پکڑے۔ پچیس ایک روزہ میچوں میں ہیوز نے پینتیس اعشاریہ نو ایک کی اوسط سےآٹھ سو چھبیس رنز جوڑے جس میں دو سنچری اور چار نصف سنچریاں شامل تھیں۔ کیریئر کے واحد بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان کیخلاف وہ صرف چھ رنز بنا سکے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment